تعلیم و صحت

ایڈز، چار لفظوں کا خوفناک مرض

تحریر :اسد مفتی

ایک تازہ ترین خبر کے مطابق، 30برس کی تحقیق کے بعد بھی سائنس دان ایڈز کی ویکسین بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ’’امریکن ایسوسی ایشن برائے سائنسی ترقی‘‘ جس کا سالانہ بجٹ تین بلین ڈالرز سے زیادہ ہے ،کے صدر بالٹی مور نے تنظیم کے سالانہ اجلاس میں کہا ہے کہ سائنس دان اس سلسلے میں شدید مایوسی کاشکار ہیں تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سائنس یا سائنس دانوں نے ہار مان لی ہے یا اپنی کوششوں کو ترک کر دیا ہے تاہم ہمیں ایڈز پر قابو پانے کے لئے کچھ نئے طریقے اپنانے پڑیں گے ورنہ یہ موذی مرض ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ ایچ آئی وی ایڈز نے خود کو انسانی جسم کے مدافعتی نظام سے بچائے رکھنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے ،یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ مدافعتی نظام کی بنیاد پر ایڈز کو شکست دینے کے لیے سائنس دانوں کو فطرت کے خلاف لڑنا پڑے گا۔

گزشتہ صدی میں دنیا کو ایک ایسے لاعلاج بھیانک اور خوفناک مرض کے بارے میں آگاہ کیا جس کو ایڈز کا نام دیا گیا۔ ایڈز ان چار لفظوں کا Acquired Immune Deficiency Syndrome کامخفف ہے۔ اس خوفناک مرض نے دریافت ہونے سے اب تک تقریباً تین کروڑ سے زیادہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہےاورآج چار کروڑ سے زائد افراد (HIV.Po) ایچ آئی وی پوزیٹو کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں جن میں سے 50لاکھ افراد کا تعلق جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا سے ہے ، یہ اطلاع عالمی یوم ایڈز کے موقع پر عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے جاری رپورٹ میں دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحارا سے ملحق افریقی علاقوں میں ایک تہائی لوگ 14سے24برس کی عمر کے ہیں جن میں سے بیشتر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس موذی مرض کی جکڑ میں آچکے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ایڈز سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 5لاکھ بتائی جاتی ہے۔ مشرقی یورپ، وسطی افریقہ، مشرقی ایشیا اور خطۂ بحرالکاہل میں ایسے لوگوں کی تعداد 13لاکھ بتائی جاتی ہے، شمالی امریکہ میں 5لاکھ ، مغربی یورپ میں چھ لاکھ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں 5لاکھ اورکریبین علاقوں میں ساڑھے پانچ لاکھ افراد اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میںا یڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے کم ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ مغربی ممالک میں، جن میں امریکہ سرفہرست ہے ،مختلف امراض کے لئے آئے دن نئی دوائیں ایجا د ہوتی رہتی ہیں ، مقامی بازاروں میں چوں کہ ان دوائوں کی بہت زیادہ کھپت نہیں ہے کہ لوگ صحت مند ہیں اور نہ ہی دوا ساز کمپنیاں اپنی مرضی کے مطابق منافع کما سکتی ہیں ،انہیں بیرونی منڈیوں کی تلاش رہتی ہے اس لئے دوسری اور تیسری دنیا کو سب سے بڑی منڈی ہونے کا ’’اعزاز‘‘ حاصل ہے یہاں میں عالمی معاشی نظام وغیرہ کی تفصیلات میں جائے بغیر یہ عرض کرتا رہتا ہوں کہ امریکی دواساز کمپنیاں اپنی سرکاری مشینری اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے اپنے حق میں ماحول کو سازگار بنانے کے لیے اتنا زبردست پروپیگنڈہ کرتی ہیں کہ تھرڈ ورلڈ کے باسیوں کو یقین آجاتا ہے کہ انہیں جو کچھ بتایا جارہا ہے وہی سچ ہے یہی وجہ ہے کہ تپ دق سے لے کر دمہ تک، ملیریا سے لیکر دماغی بخار تک اور برڈ فلو سے لے کر ڈینگی بخار تک میں مبتلا ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد اسی تھرڈ ورلڈ میں پائی جاتی ہے۔ چند برسوں سے جس ایک بیماری کا سب سے زیادہ چرچہ ہے اور جسے کینسر سے بھی زیادہ خطرناک اور مہلک قرار دیا جارہا ہے وہ ہے ایڈز،اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مرض کا کوئی حتمی علاج یا دوا موجود نہیں اور صرف اس کے پھیلنے کو روکنےکے لیے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ ایڈز کوئی متعدی مرض نہیں ہے تاہم یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ 14سے44سال کی عمر کے افراد اس میں تیزی سے مبتلا ہوتے جارہے ہیں ایسے نوجوان جو ’’بے راہ روی‘‘ کی زندگی گزارتے ہیں، اس مرض الموت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مرض موروثی بھی بن چکا ہے ۔ خون کی منتقلی کے دوران خراب خون کے شامل ہو جانے اور انجکشن کے خراب سرنج سے بھی یہ مرض منتقل ہو رہا ہے۔ ایک اچھی اور اہم بات یہ ہے کہ ایڈز کے تعلق سے ان دوسری وجوہات کے منظر عام پر آنے سے وہ لوگ جو شرم کے مارے مرض کو چھپائے پھرتے تھے اب علاج پر مائل ہو رہے ہیں۔ شہرت کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور ایڈز کے مریضوں میں گھل مل جانے سے بھی اس مرض کے تعلق سے غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں پھر بھی ہم مشرقی شہریوں میں کچھ تعداد ایسی ہے جو اس مرض کا انکشاف کرنےکو بُرا محسوس کرتی ہے۔ آخر میں پھر امریکی سائنس دان پروفیسر بالٹی مور کے ایک انٹرویو کا اقتباس پیش کرکے آپ سے اجازت چاہتا ہو،۔ ’’ہمیں ایڈز کو شکست دینے کے لئے کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا جو گزشتہ چار ارب سال کے ارتقاء کے دوران انسانی جسم نے نہ سیکھا ہو، ہم آج کل یہی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *