قومی

لاہور کیلئے سر گنگا رام کی خدمات

 عامر راہداری

دنیا کا چھبیسواں اور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر لاہور بلاشبہ ایک تاریخی شہر ہے۔ باغوں کے اس شہر میں مغل دور میں بہت سے خوشنما باغات اور تاریخی عمارات کی تعمیر کی گئی جس نے اس تاریخی شہر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا۔ لیکن لاہور میں کچھ عمارتیں ایسی بھی ہیں جو نسبتاً جدید ہیں۔ یہ عمارات مغلیہ سلطنت کے بعد یعنی انگریز دور میں تعمیر ہوئیں اور آج تک اپنی اسی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہیں۔ ان عمارات کو ہم ماڈرن لاہورکا آغاز کہہ سکتے ہیں۔

شائد آپکے لیے یہ بات حیران کن ہو کہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں بننے والی لاہور میوزیم، نیشنل کالج آف آرٹس، ایچی سن کالج، جنرل پوسٹ آفس، ہیلے کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس، لاہور کالج آف ویمن یونیورسٹی اور سر گنگا رام ہسپتال وغیرہ جیسی پرشکوہ عمارتوں کا معمار کوئی انگریز نہیں بلکہ ایک عظیم ہندوستانی پنجابی انجینئر تھا۔ جی ہاں یہاں ذکر ہورہا ہے ، معمارلاہور رائے بہادر سر گنگا رام کا جنہوں نے رنگ و نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی اس قدر خدمت کی کہ آج ان کی وفات کے سو سال بعد بھی برصغیر پاک و ہند میں بارڈر کے دونوں طرف انکی بے پناہ عزت کی جاتی ہے۔

ماہر تعمیرات، ماہر زراعت، سماجی کارکن، رائے بہادر سر گنگارام 1851 کو موجودہ ضلع ننکانہ کے ایک گاوں مانگٹانوالا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد وہیں ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں جونئیر سب انسپکٹر تھے۔ گنگا رام نے ابتدائی تعلیم مانگٹانوالہ سے حاصل کی اورپھر کچھ عرصہ بعد والدین کے ساتھ امرتسر آگئے۔ امرتسر سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1869 میں لاہور آ کر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت گورنمنٹ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر لیٹنر (Dr Leitner) تھے جنہوں نے بعد میں پنجاب یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ گنگا رام نے گورنمنٹ کالج لاہور میں انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد 1871 میں تھامسن کالج” روڑکی” میں سکالرشپ کے ساتھ ایڈمیشن لیا۔ 1873 میں گنگا رام نے تھامسن کالج آف سول انجنئیرنگ روڑکی جو آج کل انڈین انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی روڑکی کہلاتا ہے، سے سول انجینئرنگ کی ڈگری ایک اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ اس شاندار کامیابی پر انھیں گولڈ میڈل ملا جو ایک ہندوستانی کے لئے اس وقت ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔

اس شاندار کامیابی پر حکومت ہند نے سر گنگا رام کو لاہور کے ایگزیکٹو انجینئر رائے بہادر کنیہا لعل کے معاون کے طور اسسٹنٹ انجنیئر کے عہدے پر تعینات کر دیا۔ رائے بہادر کنہیا لال اپنے عہد کے انتہائی عالم فاضل انسان تھے جو کہ لاہور کے ایگزیکٹو انجینئر ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ لاہور اور تاریخ پنجاب جیسی شہرہ آفاق کتب کے مصنف بھی تھے۔ لاہور میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد گنگا رام کا تبادلہ ڈیرہ غازی خان ہو گیا جہاں انہوں نے دو سال تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور پھر اس کے بعد انہیں دلی بلا لیا گیا۔ دلی میں انہوں نے ایمپیریل اسمبلیج (Imperial Assemblage) (دہلی دربار) کی بلڈنگ کی تعمیر میں معاون کا کردار ادا کیا۔ یہ وہی دربار ہے جہاں 1877 میں ملکہ وکٹوریہ، 1903 میں ایڈروڈ ہفتم اور 1911 میں جارج پنجم اپنا دربار لگاتے تھے۔ بعد ازاں 1936 میں ایڈورڈ ہشتم کی تاجپوشی کے وقت انڈین نیشنل کانگریس نے اس دربار کا بائیکاٹ کر دیا اور یوں یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ دلی میں سر گنگا رام کے کام کی اعلیٰ ترین مہارت کو دیکھتے ہوئے لارڈ رپن (Lord Ripon) نے ان کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بریڈ فورڈ (انگلینڈ) بھجوا دیا۔ گنگا رام نے اس یونیورسٹی سے شہروں میں پانی کی نکاسی کے جدید نظام کے متعلق مہارت حاصل کی۔

گنگا رام نے یوں تو مختلف شہروں میں اپنی خدمات سرانجام دیں لیکن لاہور کے حوالے سے ان کا تعمیراتی کام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے ابتدائی کام کی بات کی جائے تو لاہور میں تعمیر ہونے والی ہائی کورٹ اور کیتیھڈرل لاہور کی یاد گار عمارتیں ان کے تعمیراتی ہنر کی عمدہ مثالیں ہیں۔ اسی انتھک محنت اور ہنر کی بدولت انہیں جلد ہی ایگزیکٹو انجنیئر لاہور کے عہدے پر تعینات کردیا گیا۔ پھر دو سال بعد لاہور کے چیف انجنیئر نے انہیں ایچی سن کالج کی تعمیر کے لیے سپیشل انجینئر منتخب کیا اور پھر کچھ ہی عرصے بعد گنگا رام کو چیف انجینئر لاہور کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔

اس عرصے میں تعمیراتی دنیا میں سر گنگا رام کی شہرت چاروں جانب پھیل چکی تھی۔ لاہور میں میو سکول آف آرٹس جسے آج کل نیشنل کالج آف آرٹس کہا جاتا ہے، لاہور میوزیم، جنرل پوسٹ آفس، میو ہسپتال کی البرٹ وکٹر برانچ، ایچی سن کالج اور گورنمنٹ کالج لاہور کی کمیسٹری لیبارٹری جیسی یاد گار عمارتیں ان کی کاریگری کا بہترین نمونہ ہیں۔ اس کے علاوہ ماڈل ٹاون لاہور اور گلبرگ لاہور کی جدید ترین ٹاون پلاننگ بھی گنگا رام کی تخلیقی سوچ کی آئینہ دار ہے۔ لاہور کے لئے ان کی مزید خدمات کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ 1875 تک لاہور میں نکاسی آب کا کوئی باقاعدہ مناسب انتظام موجود نہیں تھا۔ گنگا رام نے لاہور شہر کی گلیاں پختہ کرائیں، نکاسی آب کے لیے منصوبے متعارف کروائے اور ملیریا جیسے موذی امراض کے خطرات کو کم کرکے شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا۔

گنگا رام سول انجنئیر کے ساتھ ساتھ ایک سماجی کارکن بھی تھے۔ ان کے دل میں خدمت کا جذبہ ہمیشہ تروتازہ رہتا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں جو بھی کمایا سب کا سب فلاحی کاموں پر لگایا۔ انہوں نے کئی منصوبوں پر اپنی جیب سے خرچ کیا۔ ان منصوبوں میں اولڈ ہیلے کالج کا نام سرفہرست آتا ہے۔ ہیلے کالج کی عمارت سر گنگا رام کی وسیع و عریض رہائش گاہ تھی جو انہوں نے کامرس کی تعلیم کے لئے سر میلکم ہیلے کو عطیہ کر دی تھی۔ اس کے علاوہ جیل روڈ پر ان کا قائم کردہ سرگنگا رام ہائی سکول، تقسیم کے بعد اسی جگہ پر لاہور کالج آف گرلز کا قیام عمل میں آیا جو آجکل لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ معذوروں کے لئے راوی روڈ لاہور پر ہاؤس فار ڈس ایبلڈ ( House for disabled)، مال روڈ پر گنگا رام ٹرسٹ کی خوبصورت بلڈنگ اور لیڈی مینارڈ (Lady Maynard) انڈسٹریل سکول کی بلڈنگ بھی انہی کے عظیم کارنامے ہیں۔

اپنے اسی فلاحی جذبے کے تحت 1921 میں سر گنگا رام نے لاہور کے مرکز واچھو والی (Wachhowali) میں زمین خرید کر سر گنگا رام چیئرٹی ڈسپنسری تعمیر کروائی جس کی تعمیر پر ایک لاکھ اکتیس ہزار پانچ سو روپے لاگت آئی۔ اس ڈسپنسری میں غریب اور نادار مریضوں کا بلا معاوضہ علاج کیا جاتا تھا۔ 1923 میں اس کا چارج ایک ٹرسٹ نے سنبھال لیا اور مزید زمین خرید کر اس کی توسیع کی گئی۔ پھر 1943 میں اندرون شہر سے اس ہسپتال کو اس کی موجودہ جگہ یعنی کوئینز روڈ جسے اب فاطمہ جناح روڈ کہا جاتا ہے، پر منتقل کر دیا گیا۔ یہ ہسپتال جدید آلات سے لیس تھا۔ جہاں ایکسرے، ڈینٹل، خواتین کا شعبہ اور ایک جدید کلینکل لیبارٹری تھی۔ اس ہسپتال کی سب سے خاص بات یہ تھی یہاں بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب تمام مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات میسر تھیں۔ اس ہسپتال کا شمار آج لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں ہوتا ہے جہاں ہر سال تقریباً ایک لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ دنیا آج اس ہسپتال کر سر گنگا رام ہوسپٹل کے نام سے جانتی ہے۔

ان کی وفات کے بعد اسی روڈ پر سر گنگا رام ہسپتال کے ساتھ ہی 1946 میں سر گنگا رام کی فیملی نے ان کے بیٹے بالک رام کے نام سے میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی۔ جسے 1947 کے بعد فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں تبدیل کر دیا گیا جو آج بھی موجود ہے۔

سر گنگا رام کی زندگی کے آخری چند سال ان کی خدمات کے سرکاری اعتراف و اعزازات سے بھرپور تھے۔ انہیں انگریز کی طرف 1922 میں “سر” کا خطاب دیا گیا۔ 1924 میں “پنجاب انجنئیرنگ کانگریس” کی صدارت کا موقعہ ملا۔ 1925 میں انہیں حکومت ہند نے امپیریل بنک آف انڈیا کے گورنر کا عہدہ دیا۔ 74 سال کی عمر میں انہیں بطور زرعی سائنسدان رائل ایگریکلچرل کمیشن کی رکنیت کا سب سے بڑا اعزاز ملا۔ اس کے علاوہ ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یونیورسٹی آف روڑکی نے 1957 کو ان کے اعزاز میں ایک ہاسٹل تعمیر کیا جو کہ سرگنگا رام کے نام سے منسوب کیا گیا۔ انہیں ممبر آف رائل وکٹورین آرڈر (MV0) اور کوم پینیئن آف دی انڈین ایمپائر (companion of the indian empire) کے اعزازات سے بھی نواز گیا۔ انڈیا میں 1951 میں گیارہ ایکڑ کے وسیع رقبے پر نیو دہلی میں ان کے نام سے ہسپتال کی تعمیر کی گئی۔

سر گنگا رام نے اپنی عمر کے آخری ایام انگلینڈ میں گزارے اور 10 جولائی 1927 کو وہیں پر اپنے گھر میں انتقال کر گئے۔ دو روز بعد لاہور میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ماہر زراعت، سول انجئنیر، سماجی کارکن سر گنگا رام کی زندگی کا سفر تمام ہوا لیکن لاہور اور پنجاب پر ان کے احسانات ناقابل فراموش ہیں۔ پاکستان کے کئی عظیم و شان منصوبے آج بھی گنگا رام کی یاد دلاتے ہیں۔ ان کے ڈیزائن کئے گئے شاہکار آج بھی جدید لاہور کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *