عمران خان وطن فروش نہیں ہے ۔
تحریر: فاطمہ بھٹو
میرے دادا ذوالفقار بھٹو نے بارھا مرتبہ بتایا تھا کہ ’ پاکستان کے خلاف بہت بڑی عالمی سازش ھو رھی ھے جس میں امریکہ سرمایہ کاری کر رھا ھے میرے سیاسی حریفوں (فضل الرحمان) کے والد مفتی محمود اور نواز شریف کے روحانی باپ جنرل ضیا کے ذریعے مجھے نکال دیا جاے گا۔‘
اس وقت بھی سارے وطن فروش اکٹھے ھوگئے تھے اور امریکی سرمایہ کے نتیجے میں
9 پارٹیوں کا پاکستان نینشنل الائنس بنایا جن کا سربراہ فضل الرحمن کا والد مفتی محمود بنا اور نو ستاروں کے جھنڈے تلے انھوں نے امریکہ کی آشیرباد سے وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کو پھانسی لگوا دی
مگربعد میں جنرل ضیا نے ان وطن فروشوں کو بھی جھنڈی کرا دی اور خود مارشل لا نافذ کرکے صدر بن بیٹھا ۔
البتہ اپنے لے پالک بیٹے نواز شریف کو پہلے وزیر خزانہ بنایا پھر اس کے مرنے کے بعد اسے وزیر اعلی اور پھر وزیر اعظم بنا دیا گیا تا کہ بینظیر کی حکومت نہ بن سکے۔ اسی دوران ضیا نے ایم کیو ایم بھی بنائی ۔
میرے دادا ذوالفقار بھٹو نے کہا تھا ’ویتنام کے اندر امریکہ کی حمایت نہ کرنے اور اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے میں نے عربوں کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے امریکہ مجھے معاف نہیں کرے گا۔
( بالکل یہی صورت حال آج بھی ھے امریکہ ، عمران خان کو یوکرائن کی حمایت اور روس کی مخالفت کرنے کو کہہ رھا ھے)
ایک تقریر میں میرے دادا نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ سائرس وینس کی طرف سے لکھا گیا ایک خط بھی لہرا کے دکھایا تھا جس میں بابا ذوالفقار بھٹو کو جان سے مار دینے اور پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دی گئی تھی ۔
دادا جان نے پبلک سے کہا تھا کہ مجھے ھی نہیں ملک پاکستان کو بھی خطرہ ھے ۔
میرے دادا پر نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا جھوٹا مقدمہ چلایا گیا عدالت میں اپنے بیان میں دادا جان نے کہا کہ ’ان کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ بھٹو نے پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانے کا ارادہ کر لیا تھا اور امریکی وزیر خارجہ ھنری کسنجر کی وارننگ کے باوجود جب میرے دادا نے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ھٹنے سے انکار کیا تو ھنری کسنجر نے واشگاف دھمکی دی۔۔۔ بھٹو تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیا جائے گا ۔۔
پاکستانیو پھر آپ نے دیکھا کہ میرے دادا کو آج کے وطن فروش فضل الرحمان اور نواز شریف کے باپوں نے پھانسی لگوا کر اگلی کئی دھائیوں تک امریکہ کی چاکری کا تمغہ اپنے سینے سے لگا لیا اور آج بھی لگایا ھوا ھے پھر انھیں وطن فروشوں سے مل کر زرداری نے میرے باپ مرتضی بھٹو اور پھوپھی بینظیر کو قتل کرایا تا کہ اس کی دولت اور سیاسی میراث پر جعلی وصیت کے تحت قبضہ کر سکے اور وہ کر چکا ھے ۔
اس سے پہلے بلاول کے نئے رشتہ دار نواز شریف اور فضل الرحمان نے میرے دوسرے چچا میر شاھنواز کو فرانس میں زھر دے کر مروا دیا اور میں اپنے اکلوے بھائی جونئیر مرتضی بھٹو کو بھی قتل ھونے سے بچانے کے لیے پاکستان سے باھر رھنے پر مجبور ھو گئی ۔
عمران خان سے میرے لاکھ سیاسی ، نظریاتی اختلافات سہی مگر میں گواھی دیتی ھوں کہ وہ باقی وطن فروشوں جیسا نہیں ھے۔ خود ایماندار ھے مگر اس کی ٹیم بے ایمان ہے جو باقی پارٹیوں سے بھی ملے ھوئے ھیں ۔
27 مارچ 2022 کے جلسہ میں عمران خان نے جس طرح خط لہرایا وہ سو فیصد سچ ھے جس میں امریکہ نے عمران خان کو دھمکی دی ھے کہ نواز شریف ، زرداری اور فضل الرحمان کے خلاف مقدمات ختم کرے اور نئے الیکشن کا اعلان کرے یا استعفی دے ۔
روس اور چین سے تعلقات توڑ کر امریکہ کو پاکستان میں فضائی اڈے فراھم کرے ورنہ عمران سمیت پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاے گی ۔حرف بہ حرف ویسا ھی خط جیسا میرے دادا ذوالفقار بھٹو کو لکھا گیا تھا۔ بس وقت اور عہدیدار تبدیل ہو چکے ھیں ۔
پاکستانیو کیا آپ تبدیل نہیں ھونا چاھیں گے ؟ امریکہ کے ٹھونسے ھوئے غلاموں کے غلام رھو گے یا ۔۔۔ غیرت مند ایٹمی قوت کے مالک پاکستانی ؟ فیصلہ آپ پر ۔مگر یاد رکھیں دادا ذوالفقار بھٹو کو مروانے میں عدلیہ پیش پیش تھی دعا کریں آج کی عدلیہ وہ غلطی عمران خان پر نہ دہرائے ۔

