اردو ادباردو

کلامِ گوہر

(مولانا محمد ذوالفقار علی خان گوہر)

نکال ورطۂ بیچارگی سے اے مولیٰ

ہمارا کام ہو اور تیرا نام ہوجائے

ہے کالے کوسوں ابھی منزل مراد مِری

الٰہی میں نہ ہو رستہ میں شام ہو جائے

نہ ہو مقام توکل مقام یہ عالمِ اسباب

سروں سے دور یہ سودائے خام ہوجائے

نگاہِ مست کی ساقی ادھر بھی ایک نظر

ہمارا یہ دلِ وحشی بھی رام ہو جائے

زہے نصیب اگر نامہ بَر ہمارے لئے

کشود راه پیام و سلام ہو جائے

لگاؤ زخم یہاں تک کہ چُور چُور ہو دِل

کہ یہ سیاه ورق لالہ فام ہوجائے

سنا دوں اسکو غمِ دِل کی داستاں ساری

کبھی وہ مجھ سے اگر ہمکلام ہو جائے

غلام سمجھے مجھے بھی خُدا خُدا کرےگوہرؔ

وہ جس کا ایک زمانہ غلام ہوجائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *