سیاستقومی

استحکام کی ضرورت محاذ آرائی نہیں

تحریر: احسن انصاری

پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر قومی فیصلہ براہِ راست معیشت، روزگار اور عوامی فلاح پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، درآمدی اخراجات میں اضافہ اور مہنگائی کے مسلسل دباؤ نے ملکی معیشت کو ایک حساس مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی سرگرمیوں کا حق اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہر سیاسی حکمتِ عملی کے معاشی نتائج کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

جمہوری معاشروں میں احتجاج، جلسے، جلوس اور اختلافِ رائے بنیادی سیاسی حقوق کا حصہ ہیں۔ یہ حقوق کسی بھی جمہوری نظام کی مضبوطی کی علامت ہوتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جب کسی سیاسی سرگرمی کے نتیجے میں کاروبار، ٹرانسپورٹ، تعلیمی سرگرمیاں اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو اس کے معاشی اور سماجی اثرات کا بوجھ کون اٹھاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کی سب سے بڑی قیمت عام شہری ادا کرتا ہے۔

پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی معاشی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کی آمدنی کا انحصار روزانہ کی محنت اور کاروبار پر ہے۔ دیہاڑی دار مزدور، رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور، موٹر سائیکل رائیڈرز، چھوٹے دکاندار اور کم آمدن والے ملازمین اگر ایک دن بھی معمول کے مطابق کام نہ کر سکیں تو ان کی گھریلو معیشت متاثر ہو جاتی ہے۔ اس لیے جب بھی شہروں میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے، اس کے اثرات سب سے پہلے اسی طبقے پر پڑتے ہیں جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

طویل سیاسی احتجاج یا لانگ مارچ کا اثر صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے معاشی اثرات دور رس ہوتے ہیں۔ نقل و حمل میں رکاوٹ پیدا ہونے سے اشیائے ضرورت کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، سپلائی چین میں خلل آ سکتا ہے اور کاروباری لاگت بڑھ سکتی ہے۔ ایک شہر میں پیدا ہونے والی رکاوٹ دوسرے شہروں کی منڈیوں اور تجارتی سرگرمیوں تک اپنا اثر منتقل کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی ماہرین مسلسل کاروباری تسلسل کو اقتصادی استحکام کی بنیادی شرط قرار دیتے ہیں۔

صنعتی اور تجارتی شعبہ خصوصاً ایسی صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ فیکٹریوں کو خام مال کی بروقت فراہمی، تیار مصنوعات کی ترسیل اور برآمدی آرڈرز کی تکمیل کے لیے مسلسل نقل و حرکت درکار ہوتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ متاثر ہو تو پیداواری عمل سست پڑ سکتا ہے اور کاروباری اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگت اور محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں، غیر یقینی حالات میں سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔

پاکستان کو اس وقت سیاسی کشیدگی سے زیادہ سرمایہ کاری، برآمدات اور کاروباری اعتماد کی ضرورت ہے۔ عالمی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے ہمیشہ ایسے ممالک کو ترجیح دیتے ہیں جہاں پالیسیوں میں تسلسل، امن و امان اور معاشی استحکام موجود ہو۔ جب کسی ملک میں بار بار غیر یقینی صورتحال پیدا ہو تو اس کا اثر صرف مقامی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام کو بنیادی عنصر سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ عالمی حالات پاکستان کے لیے پہلے ہی کئی چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال، تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات اور بین الاقوامی تجارتی ماحول میں تبدیلیاں ایسی حقیقتیں ہیں جن پر پاکستان کا براہِ راست کنٹرول نہیں۔ لیکن ملک کے اندر معاشی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ایک ایسا شعبہ ہے جہاں دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعے مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

آج کا عام پاکستانی اپنی محدود آمدن میں گھر کا بجٹ چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک مزدور کی روزانہ کی اجرت، ایک دکاندار کی روزانہ کی فروخت اور ایک ٹرانسپورٹ ورکر کی روزانہ کی کمائی اس کے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں تو ان نقصانات کا فوری ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے سیاسی اختلافات کی قیمت عام آدمی کے روزگار اور آمدنی سے وصول نہیں ہونی چاہیے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سیاسی اختلافات ہر جمہوری معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ تاہم پائیدار جمہوریت صرف احتجاج سے نہیں بلکہ مذاکرات، پارلیمانی عمل، آئینی اداروں اور سیاسی برداشت کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے۔ اختلافِ رائے کا حق برقرار رہنا چاہیے، لیکن ایسے راستوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جو معیشت، کاروبار اور عام شہری کی زندگی پر کم سے کم منفی اثرات مرتب کریں۔

حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سیاسی جماعتوں اور مختلف طبقات کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سنے، مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے اور مسائل کے حل کے لیے مؤثر فورمز فراہم کرے۔ اسی طرح سیاسی قیادت کو بھی اپنے فیصلوں میں قومی معاشی مفاد اور عوامی مشکلات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ جمہوریت کی کامیابی محاذ آرائی میں نہیں بلکہ ایسے سیاسی رویوں میں پوشیدہ ہے جو قومی مفاد کو ترجیح دیں۔

پاکستان اس وقت ایک نازک مگر اہم معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ملک کو روزگار کے نئے مواقع، سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت ہے۔ ایسے وقت میں قومی دانش مندی کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ رہیں، مگر معاشی استحکام کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ مضبوط معیشت ہی وہ بنیاد ہے جس پر سیاسی استحکام، سماجی ترقی اور قومی خوشحالی کی عمارت تعمیر ہو سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو بالآخر ہر پاکستانی کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *