نواز شریف کی وزارت عالیہ کے دور میں

(ثاقب زیروی کی یادیں)

نواز شریف کا دور وزارت عالیہ دراصل ملاؤں کا دور تھا جو ہوم سیکرٹری (پنجاب) کی مدد کرتے تھے اور جنہیں احمدیوں کی ہر حرکت زیرِدفعہ 298 سی نظر آتی تھی۔ ہوم سیکرٹری ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو لکھتے تھے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ متعلقہ تھانے کا لکھتے تھے۔ ایس ایچ او کی کیا مجال کہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کے مطابق ’’ایف آئی آر‘‘ نہ کاٹے۔ چنانچہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کے حکم کی تعمیل میں علامہ نیازفتحپوری (مدیر شہیر ماہنامہ نگار لکھنؤ) کراچی کے ایک مضمون پر 1990ء کے نئے سال کی ابتداء ہی میں ثاقب زیروی (مالک و ناشر ہفت روزہ ’’لاہور‘‘) اور طابع (میاں محمد شفیع عرف م۔ش) کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔ حکم تھا کہ ’’ایف آئی آر‘‘ درج کرکے اس کی نقل ان کے دفتر میں بھجوادی جائے۔ اسی طرح 6 جنوری 1990ء کو ایف آئی آر نمبر 6 (1990ء) زیرِدفعات 295 الف، 298 سی ر ت درج ہوئی جو ’’ لاہور‘‘ کے شماروں (27 مئی 1989ء۔ 3 جون 1989ء۔ 17جون1989ء اور یکم جولائی 1989ء) سے متعلق تھی جن میں ملّاں حضرات کو ان جرائم کا ارتکاب نظر آیا تھا۔

’’لاہور‘‘ چونکہ تنہا نگارِصحافت کا مجلّہ تھا اور م۔ش بیماری کے باوجود مجھ سے تعاون فرمارہے تھے اور پرچہ ہر کھینچاتانی کے باوجود چھاپ رہے تھے اس لئے ان کے لئے بھی وکلاء ضامنوں اور ضمانتوں کا اہتمام مجھے ہی کرنا پڑتا تھا۔ چونکہ ان دنوں اس ہفتہ وار کے ایڈیٹر کو ہراساں کرنے کے لئے ضمانت طلبی کے نوٹسوں کی بھی بھرمار رہتی تھی اور اکثر ہر پندرہویں دن ہم دونوں کو چیف سیکرٹری۔ ہوم سیکرٹری کی خدمت میں حاضر ہونا پڑتا تھا۔ ایک دفعہ جو حاضری ہوئی تو اس کے خاتمے پر ’’م۔ش‘‘ صاحب کو ایک ’’ذاتی گفتگو‘‘ کے لئے روک لیا گیا۔ میری غیرحاضری میں جوبات چیف سیکرٹری صاحب اور م۔ش صاحب میں ہوئی۔ م۔ش صاحب نے مجھے راستے میں بتائی۔ م۔ش صاحب نے بتایا کہ چیف سیکرٹری صاحب مجھ سے کہنے لگے۔

’’مجھے تو شرم آتی ہے کہ آپ کو بار بار بُلواتے ہوئے۔ آپ یہ پرچہ چھاپنا ترک کیوں نہیں کردیتے۔ خواہ مخواہ کیوں اذیت اُٹھارہے ہیں؟ اور مَیں نے جواباً عرض کیا کہ

’’لاہور‘‘ کے معاملہ میں مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ وکیل ایڈیٹر صاحب خود کرتے ہیں ضامن خود تیار کرتے ہیں ضمانت بھی خود کرواتے ہیں۔ اگر کہیں جانا پڑے تو مجھے ٹیوٹا میں بٹھا کر لے جاتے ہیں وہاں مرغ مسلّم سے میری تواضع کرتے ہیں۔ میرا کام تو اخبار اور دیگر دستاویز چھاپنا ہی ہے اس کے برعکس ’’فلاں‘‘ پرچہ میرے ہاں چھپتا ہے اس نے کوئی خط مردان کے کسی خاں کے متعلق چھاپ دیا جس نے ’’ازالہ حیثیت عرفی‘‘ کا استغاثہ دائر کردیا (مردان میں)پولیس آئی اور مجھے اور ایڈیٹر صاحب کو ہتھکڑی پہناکر لےگئی رات سول لائنز پولیس سٹیشن میں کٹی۔ صبح سویرے بس میں بیٹھے ہتھکڑی لگی ہوئی تھی وہ تو اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ مجسٹریٹ مجھے جانتا تھا اس نے فوراً ہماری ضمانت لےلی۔ ضامن بھی خود تیار کیے۔ اب بتائیے میں کس طرح ’’لاہور‘‘ چھاپنا بند کرسکتا ہوں۔‘‘

لوئر مال پولیس سٹیشن والا کیس اے۔ سی (صدر) کے پاس لگا تھا۔ ملاؤں کو تو احمدیوں کی ہر حرکت 298 سی اور 295 الف نظر آتی ہے اس لئے وہ ہوم سیکرٹری صاحب کو یہی مشورہ دیتے تھے اور ہمارے وکلاء کا یہ وطیرہ تھا کہ وہ سب سے پہلے درخواست دیاکرتےتھے کہ صاحب یہ جرم تو بنتا ہی نہیں۔ چنانچہ لوئرمال کے کیس میں بھی ایسی درخواست دےدی گئی کہ میرے ایک مہربان نے مجھ سے ایک دن بڑے تذبذب سے کہا ماڈل ٹاؤن کا ’’اے۔سی‘‘ میرا مہربان ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں ان سے کہوں کہ وہ صدر کے اے۔سی صاحب سے بات کریں۔‘‘ مَیں نے اجازت دے دی۔ دو ایک دن بعد وہ تشریف لائے تو مجھے بتایا کہ اے۔سی (صدر) صاحب نے جواب دیا کہ

’’مقدمے میں تو کچھ نہیں ہے لیکن ثاقب زیروی ایک بڑا معروف احمدی ہے۔ اگر اسے چھوڑ دوں تو میں بھی احمدیوں کے ساتھ بریکٹ ہوجاؤں گا۔ ہوسکتا ہے میں یہ کیس بھی کسی مجسٹریٹ کو منتقل کردوں۔‘‘

اگلے دن ہماری پیشی تھی گیارہ بجے دھوپ نے تنگ کرنا شروع کیا تو مَیں نے مکرم حمیداسلم قریشی صاحب (ایڈووکیٹ) سےکہا کہ ’’بھائی ریڈر کو کچھ دے دلا کر تاریخ ہی لے لو۔ اے۔سی صاحب تو آنے سے رہے۔ وہ کہنے لگے ’’مکرم مرزانصیراحمد صاحب (ایڈووکیٹ) کو آنے دیجئے انہیں ان اہل کاروں سے معاملہ کرنا آتا ہے۔‘‘

مرزا صاحب تشریف لائے تو ان سے ریڈر صاحب کو ملنے کے لئے کہا گیا وہ گئے اور چند منٹ بعد باہر آگئے کہ کیس تو مجسٹریٹ جاویداقبال صاحب کی عدالت میں منتقل ہوگیا ہے اور اے۔سی صاحب قبضہ گروپ والوں کے ساتھ گرفتار کرلئےگئے ہیں۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا ضمیر تھا۔ اٹھائیس دن ضمانت نہیں ہوئی۔ جاویداقبال صاحب ایسے مجسٹریٹ تھے جو علامہ نیاز فتح پوری کا وہ مضمون و عنوان ’’تاریخ اسلام میں کنیزوں کا اقتددار‘‘ شائع شدہ تھا۔ یہی مضمون ’’لاہور‘‘22 جولائی 1989ء میں نقل ہوا تھا جس پر ملّا لوگ تاؤ کھاگئے۔ دوران سماعت ایک ایسا واقعہ بھی ہوا جس سے مجسٹریٹ صاحب کی نیک نیتی ظاہر ہوتی تھی۔ مجسٹریٹ صاحب عدالت میں دس بجے کے قریب آنے کے عادی تھے جبکہ ہمیں ان کی عدالت میں ساڑھے سات بجے پہنچ جانا ہوتا تھا ایک دن جو مَیں کھڑاکھڑا تھک گیا تو حمید اسلم قریشی صاحب ایڈووکیٹ نے مجھے عدالت میں ایک خالی پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ جانے کو کہا مجسٹریٹ صاحب تشریف لائے مقدمات کی سماعت شروع ہوئی یہاں تک کہ ہماری باری آگئی ہمارے وکلاء کے ساتھ ملزموں کو نہ دیکھ کر مجسٹریٹ صاحب نے سوال کیا کہ ’’Accused کہاں ہیں۔‘‘

مَیں اُٹھا اور سامنے آیا تو مجسٹریٹ صاحب بولے کہ ’’آپ ملزم ہیں اور بیٹھ گئے ہیں‘‘

مَیں نے عرض کیا کہ ’’مَیں دراصل کھڑاکھڑا تھک گیا تھا۔ قریشی صاحب کے کہنے پر بیٹھ گیا۔‘‘ اتنے میں مرزانصیراحمد صاحب نے حوالوں کی بوچھاڑ کردی کہ ’’یہ مجرم نہیں ملزم ہیں اور ملزم بیٹھ سکتا ہے۔‘‘

شکر ہے کہ مجسٹریٹ صاحب نہ صرف رام ہوگئے۔ کسی قدر شرمندہ بھی ہوئے اور حکم کے لئے تاریخ بھی دے دی۔ جب ہم پہنچے تو وہ شیعہ کانفرنس میں ڈیوٹی کے لئے گئے ہوئے تھے اور پھر جو تشریف لائے تو 30 ستمبر 1991ء کو ثاقب زیروی اور م۔ش صاحب کو بری کردیا۔

دوسرا مقدمہ ذرا دلچسپ تھا جو نیازی صاحب مجسٹریٹ کی عدالت میں تھا۔ جہاں تیس سیڑھیاں پھلانگ کر جانا پڑتا تھا۔ بیرسٹرمبشرلطیف صاحب نے نواب اوصاف علی خان صاحب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے ضمانتیں کروادیں۔ مگر میرا بڑا لڑکا طاہرمحموداحمد بہت مضطرب تھا۔ اسے کسی نے بتایا تھا کہ ’’مجسٹریٹ نیازی صاحب مولوی عبدالستار نیازی کے عزیز ہیں۔ وہ ش۔ م صاحب کو تو رہا کردیں گے کہ وہ مولوی عبدالستار نیازی کا دوست ہے مگر آپ کو سزا دے دیں گے۔‘‘ میرا ہر دفعہ یہی جواب ہوتا تھا کہ

’’جب اوکھلی میں سردے ہی دیا ہے تو دھمکیوں کا کیا ڈر‘‘

جو لوگ کریمینل مقدمات کی سماعت سے آگاہ ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ دو تین پیشیاں رسمی قسم کی ہوتی ہیں۔ تیسری پیشی پر ہمارے وکلاء یہ درخواست پیش کرنے والے تھے کہ م۔ش صاحب کو حاضری سے مستثنیٰ کردیا جائے کیونکہ وہ بیمار ہیں۔ معلوم ہوا کہ مقدمہ منتقل ہوگیا ہے اور سی ایس پی ’’اے۔سی‘‘ محترمہ ناہید شاہ جیلانی کی عدالت میں لگ گیا ہے۔ وکلاء نے جب باہر آکر یہ بتایا تو میرے منہ سے بےساختہ بلند آواز سے  ’’الحمدللہ‘‘ نکلا۔ جس پر م۔ش صاحب نے کہا۔’’بھائی بڑے زور سے الحمدللہ کہا ہے۔‘‘ مَیں نے جواباً عرض کیا کہ

’’مجھے ’’انجائنا‘‘ کی شکایت ہے اور وہ عدالت سیڑھیوں والی نہیں ہے۔‘‘

ہم اگلی پیشی پر محترمہ ناہید شاہ جیلانی کی عدالت میں جاپہنچے۔ نہ جانے کس شریف النفس کی بیٹی تھیں کہ ایک دفعہ بھی ملزموں کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا۔ ملزمان کے وکلاء نے ضابطہ فوجداری کی 249 الف کے تحت (حسب معمول) درخواست دے رکھی تھی بحث کے دوران ہمارے وکلاء (حمیداسلم قریشی صاحب اور مرزا نصیراحمد صاحب) نے نظائر پیش کئے۔ بالآخر مرزانصیراحمدصاحب نے کہا کہ

’’کسی اخبار یا ہفت روزہ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کے ایڈیٹر اور پبلشر گو احمدی ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ بھی احمدی ہے۔ یہ تو اکثر سکھوں، بوہروں، اسماعیلیوں اور زرتشتیوں کے مضمون چھاپتے رہتے ہیں حالانکہ یہ نہ سکھ ہیں نہ بوہرے نہ اسماعیلی اور نہ زرتشتی پھر دوسرے ملزم (م۔ش صاحب) مسلمان ہیں۔‘‘

انہوں نے شائع شدہ مضامین کے متعلق وضاحت کی دوران سماعت ایک دن مجھے خواب میں نظر آیا کہ میں زیرہ ضلع فیروزپور میں ہوں۔ سڑک ویران ہے اور اس پر ایک لمبا چوڑا ’’سانپ‘‘ چلا آرہا ہے۔ اتفاق سے میرے دونوں وکیل میرے ساتھ ہیں اور مَیں ان سے کہتا ہوں کہ اس سانپ کو ماریں مگر وہ ایک پجیرو پر چڑھ جاتے ہیں اور میری آنکھ کھل جاتی ہے اگلے دن مکرم حمیداسلم قریشی مرحوم مجھے لینے آئے کہ  ’’میں زیادہ چل پھر نہیں سکتا تھا۔‘‘ میں نے انہیں خواب سنائی اور کہا کہ

’’اگر آج محترمہ نے فیصلہ سنایا تو ہمیں ’’جرمانہ‘‘ ضرور ہوگا۔ کیونکہ بہرحال ’’سانپ‘‘ دیکھا ہے اور اس کا خواب میں دیکھنا کوئی اچھی بات نہیں ‘‘ مگر محترمہ نے ہمیں ایک ہفتے کی تاریخ دے دی یہ کہہ کرکہ ’’میں تھک گئی ہوں آج فیصلہ نہیں سنا سکتی۔‘‘

اگلے دن پھر قریشی مرحوم صاحب جب مجھے لینے آئے تو سب سے پہلا سوال کیا کہ کیا کوئی خواب آئی۔ عرض کیا۔خواب آئی ہے اور مَیں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ ہم آج ’’بری‘‘ ہوجائیں گے۔کہنے لگے خواب تو سناؤ۔ مَیں نے کہا۔

’’میں خواب دیکھتا ہوں کہ چند خدام میرے پاس آئے ہیں یہ خواہش لے کر کہ میں ان سے حضرت خلیفةالمسیح الثالثؒ حضرت حافظ مرزاناصراحمد صاحب کی باتیں کروں۔ انہوں نے گو کچھ نہیں کہا یہ میرا احساس ہے اور میں ان سے کہتا ہوں کہ حضرت خلیفةالمسیح الثالثؒ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔’’ثاقب کل تمہارا یومِ پیدائش ہے‘‘ اور میری آنکھ کھل گئی اور میرے منہ سے نکلا کہ کل تو ہماری تاریخ ہے۔ اگلے ہی لمحے میرے دل نے کہا کہ پیدائش کے وقت تو انسان’’معصوم‘‘ ہوتا ہے۔ گویا ہم بری ہوجائیں گے باعزت!‘‘

جب ہم عدالت پہنچے تو اے۔سی صاحبہ نے ہمیں 27؍اکتوبر 1991ء کو بری کردیا۔

اے۔سی صاحبہ شریف النفس تھیں۔ مَیں اکثر رکشہ پر اپنے دفتر جاتا ہوں۔ ایک دن جو میں دفتر جارہا تھا تو سامنے سے ایک چھوٹی کار آرہی تھی جس کی ڈرائیور کوئی خاتون تھیں مَیں نے رکشہ ڈرائیور سے کہا کہ’’تم مجھے یہیں اتار دو بیشتر اس کے کہ اس بی بی سے تمہاری ٹکر ہوجائے۔‘‘مَیں ہائی کورٹ کے ٹرنر روڈ والے دروازے سے ذرا پرے اتر گیا۔ مگر کار بھی رُک گئی اور اس میں سے وہی اے۔سی صاحبہ(ناہیدشاہ جیلانی) نکل آئیں اور مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگیں!’’ثاقب صاحب آج آپ ہائی کورٹ میں پھر رہے ہیں؟‘‘

ان کا خیال تھا کہ آج یہاں بھی ان کی کوئی پیشی ہے! میں نے عرض کیا

’’بی بی یہاں گلیکسی لاء چیمبرز میں میرا دفتر ہے۔ میں اپنے دفتر جارہا تھا۔‘‘تو مَیں نے محسوس کیا کہ ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا ہے۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔

بطن زمیں میں سینکڑوں خورشید ہیں پنہاں

کیوں اپنے دل سے عظمت انساں اٹھائیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *