درس قرآن کریم

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا؁۵۹

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا ؁۶۰ (سورةالنساء آیات 59 تا 60)

ترجمہ:

یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔ یقیناً بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بہت سننے والا (اور) گہری نظر رکھنےوالا ہے۔1

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی۔ اور اگر تم کسی معاملہ میں (اُولُوالامر سے) اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لَوٹا دیا کرو اگر (فی الحقیقت) تم اللہ پر اور یومِ آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ یہ بہت بہتر (طریق) ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔1:یہاں امانت سے مراد انتخاب کا حق ہے جس کے نتیجہ میں حکومت کا اختیار ملتا ہے۔ پس ووٹ بھی ایک امانت ہے جو اسی کو دینا چاہئے جو اس کا اہل ہو۔ یہی سچی جمہوریت ہے۔اور جب حکومت ملے تو پھر لازماً انصاف سے کام لینا ہے نہ کہ پارٹی بازی کا خیال کرنا ہے۔ آجکل کی جھوٹی جمہوریتوں میں اپنے پارٹی ممبروں کے ساتھ تو انصاف کیا جاتا ہے لیکن مخالف پارٹی سے انصاف نہیں کیا جاتا۔2:اس آیت کریمہ میں اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ میں مِنْکُم کا ترجمہ کرتے ہوئے بعض علماء یہ استنباط کرتے ہیں کہ مسلمانوں ہی میں سے اپنا حاکم بناؤ اور غیرمسلم حاکم کی اطاعت کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک لغو عقیدہ ہے جو عمومی نظر ڈالنے سے ہی غلط ثابت ہوتا ہے۔ سب مسلمان جو غیرمسلم حکومت میں بستے ہیں یا وہاں ہجرت کر جاتے ہیں وہ ان کی حکومت کے قوانین کے پابند ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ جو مسلمان حاکم ہو اس سے کسی معاملہ میں تنازعہ کا کیا سوال ہے جس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹایا جائے۔ یہاں اللہ اور رسول سے واضح مراد قرآنی تعلیم ہے۔ پس کوئی بھی حاکم ہو، مسلم ہو یا غیرمسلم، اگر قرآن کی بنیادی تعلیم کے خلاف عمل کرنے کا حکم دے تو ایسی صورت میں قرآن کی بات ماننا ہوگی نہ کہ حاکم کی۔

تفسیر:

اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَهْلِهَا: خداتعالیٰ کی مخلوق کا انتظام ایسے لوگوں کے سپرد ایسے لوگوں کے سپرد کرو۔ جو اس کے اہل ہوں۔ کمیٹیوں میں ممبروں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرو۔

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو دو شخص آئے کہ ہمیں کام سپرد کیجئے۔ ہم اس کے اہل ہیں۔ فرمایا۔ جن کو ہم حکم فرمادیں۔ خدا اُن کی مدد کرتا ہے۔ جو خود کام کو اپنے سر پر لے۔ اس کی مدد نہیں ہوتی۔ پس تم عہدے اپنے لئے خود نہ مانگو۔اللہ تم کو حکم کرتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو واپس کردو۔يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ: کہا مانو اللہ اور رسول کا اور اپنے حکّام کا۔

الٰہی خلفاء کی اطاعت و انقیاد و فرمانبرداری، سیاست و تمدّن کا اعلیٰ اور ضروری مسئلہ ہے! بلکہ ان کی فرمانبرداری خود الٰہی فرمانبرداری ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ (النساء: 81) اور فرمایا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِمِنْكُمْ ۔

وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ: جہنم والوں کو فرمایا۔ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ۔ کیا رسول دوزخیوں سے ہوں گے۔ پس مِّنْكُمْ سے مراد نوعِ انسانی ہے۔(حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 30)

حدیث:

حضرت محمودبن لبیدؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے ایک دفعہ باہر نکل کر فرمایا:

اے لوگو! شرکِ خفی سے بچو۔ صحابہؓ نے عرض کیا حضورﷺ! شرکِ خفی کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک شخص اس طرح نماز پڑھتا ہے اور اس کی خواہش و کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ مجھے اس طرح نماز پڑھتے دیکھیں اور بزرگ سمجھیں یہی دکھاوے کی خواہش شرکِ خفی ہے۔(الترغیب والترھیب صفحہ 32۔ الترھیب من الریاء بحوالہ ابن خزیمہ فی الصحیح)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *