دانشمند و ریاضی دان ایرانی مسلمان ابو ریحان محمد بن احمد برونی

البیرونی ایرانی مسلمان تھا ۔ اس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہیں لیکن اتنا ضرور اندازہ ہوتا ہے کہ اسے بچپن سے ہی حصول علم کا بہت شوق تھا ۔ مطالعے سے اس کی رغبت و انہماک تمام عمر جاری رہی ۔ کہا جاتا ہے کہ جس وقت اس کا دم نکل رہا تھا اس وقت اس کا ایک دوست اس سے ملنے آیا ۔ البیرونی نے اس وقت بھی اس سے علم الہند کے کسی مسئلے کے حل کے بارے میں دریافت کیا ۔ دوست کو یہ بات سن کر عجیب سا لگا لیکن البیرونی نے اس سے کہا کہ کیا اس کا ایسی حالت میں مرنا اچھا نہ ہو گا کہ وہ اس مسئلے کی حقیقت سے آگاہ ہو چکا ہو ۔۔۔ یہ سن کر اس کے دوست نے وہ مسئلہ بیان کر دیا ۔ وہ دوست جونہی کمرے سے باہر آیا البیرونی نے دم توڑ دیا اور کمرے سے لوگوں کی آہ و زاری  کا شور بلند ہوا ۔۔۔ خلیل جبران نے کہیں لکھا تھا کہ « ہزاروں سال قبل مر چکے ستاروں کی روشنی اب بھی ہم تک پہنچتی ہے ۔ یہی معاملہ عظیم لوگوں کا ہے جو صدیوں پہلے مر چکے لیکن ان کی شخصیت کی شعاعیں اب بھی ہم تک پہنچتی ہیں ۔۔ زندگی کے تمام اسرار دریافت کر لینے کے بعد آپ موت کی خواہش کرتے ہیں کیونکہ یہ زندگی کا ایک اور راز ہے ‘‘

– البیرونی کا علم و فضل ، علم ہیت ، تدبر اور حکمت اپنے آپ میں یکتا اور تازہ دم سہی مگر البیرونی کی علم سے لگن اور رغبت نے اسے آج بھی زندہ و نوجوان بنا رکھا ہے ۔ علم سے محبت کرنے والے اور علم کیلئے اپنی زندگی کو وقف کرنے والے ہمارے خیالوں میں آج بھی ایک نوجوان کی حیثیت سے اپنا مقام برقرار رکھتے ہیں ۔۔۔ وہ ہمارے خیالوں میں بھی کبھی بوڑھا نہیں ہوتے ۔ ان کے ہمیشہ زندہ رہنے  اور ہمارے خیالوں میں ان کے بوڑھا نہ ہونے کی بڑی وجہ ہم تک پہنچنے والی ان کے علم کی شعاعیں ہی تو ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *