جابر بن حیان کے بارے جانئے

تحریر پروفیسر یعقوب خان

مشہور مسلمان سائنسدان

جابر بن حیان کا پورا نام ابو موسی جابر ابن حیان ہے مغرب میں البتہ وہ Gaber کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ۔ وہ ایران کے شہر خراسان میں 721 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ وہ دور بنو امیہ کا دور تھا۔ لیکن جابر کے والد  بنو عباس کے حامی ہونے کی وجہ سے امویوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور کمسن جابر کو اسکی والدہ اپنے نانہالی وطن یمن لیکر گئ جہاں اسکی ابتدائ تعلیم و تربیت ہوئ۔ بنو عباس کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ لوگ پھر خراسان واپس آگئے۔ وہ کئ اساتزہ کے علاوہ امام جعفر صادق.ؒ کے بھی شاگرد تھے جنہوں نے جابر کو مذہبی علوم کے علاوہ علم کیمیا کی ابتدائ تعلیم بھی دی۔ حصول علم کیلئے وہ کوفہ چلے گئے جہاں انہوں نے ستاروں کی گلی نامی کوچے میں رہائش اختیار کی اور سائنسی تجربات میں مشغول ہوگئے۔ یہیں پر آپ نے کئ کتابیں بھی لکھیں۔ دنیا میں  علم کیمیا یعنی chemistry کے حوالے سے   بابائے کیمیا کہلائے جاتے ہیں۔ کیمسٹری کے متعلق کوئ بھی تحریر یا تخلیق جابر کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید کا پایہء تخت بغداد میں تھا۔ انہوں نے جابر کو بغداد بلایا لیکن وہاں حالات اپنے موافق نہ پاکر واپس کوفہ چلے آئے۔ جابر بن حیان کے نام پر 600 کے قریب تحریریں مشہور ہوئیں جن میں 215 آج بھی موجود ہیں۔ سب سے زیادہ مشہور انکی چار کتابیں ہیں جن کے نام ہیں

  1. کتب علمائے اثنا عشر۔ اس کتاب میں فن کیمیاء پر بحث کی گئ ہے
  2. کتاب السبعین۔ یہ کتاب کیمسٹری کے موضوعات سے بھری پڑی ہے
  3. کتاب علماء والا ربعتہ والا ربعون۔ یہ کتاب علم کیمیا کی فلسفیانہ اساس پر مبنی ہے۔ اسکا دوسرا نام کتاب الموازین ہے۔
  4. کتاب الخمس

جابر دنیا کا پہلا ماہر کیمیاء ہے جس نے بھاپ کو قطرے کی شکل میں تبدیل کرنا اور عمل تزویب یعنی کسی چیز کو پگھلانے کا عمل اور عمل تحویل یعنی ایک شئے کو دوسری شئے میں تبدیل کرنے کے عملیات کا استعمال کیا ہے۔

علم کیمیاء کے علاوہ جابر بن حیان فلسفہ، ریاضی، فلکیات اور نجوم میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ موجودہ استعمال ہونے والے ہندسوں کے رسم الخط جابر نے ہی ایجاد کئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چاند پر گڈھوں کاعلم سب سے پہلے جابر کو ہی ہوا۔ اسی لئے عربی میں اس دریافت کو حفر ہ جابر کہا جاتا ہے۔  خلیفہ ہارون الرشید کے کہنے پر جابر نے دو کتابیں ’’ الزہرا‘‘ یعنی book of venus on art of Alchemy  اور’’ کتاب الکیمیاء‘‘  تحریر کیں۔

آئیے اب جابر بن حیان کی ایجادات اور دریافتوں پر ایک نظر ڈالیں۔

1 جدید کیمسٹری میں جو عمل اکثر بروئے کار لائے جاتے ہیں اور جو ہم تک بیسویں صدی ٘میں پہنچے ان کی ایجاد جابربن حیان کی مرہون منت ہے۔ یہ عمل حسب ذیل ہیں۔

۱۔ عمل تصعید یعنی sublimation

۲۔ عمل ترقیق(  پگھلاہٹ) یا liquefaction

۳۔ عمل تلقین یعنی crystallization

۴۔ علم تقرید(عرق کشی) یعنیdistillation

۵۔ عمل تطہیر یعنی purification

۶۔ عمل اختلاط یعنی amalgamation

۷۔ عمل تاکید یعنی  oxidation

۸۔ عمل تسکید یعنی evaporation

۹۔ عمل تقطیر( فلٹر کرنا) یعنیfiltration.

  1. ایک ایسا آلہء میزان(ترازو) جو ایک کلو گرام کے 6480 ویں حصے کو تول سکتا تھا۔
  2. وہ کئی دھاتوں کو تیار کرنے کا موجد ہے۔
  3. فولاد steel کو ڈھالنے کا عمل سب سے پہلے جابر نے اپنایا
  4. کیمسٹری کے تجربات میں کام آنے والے کئی آلات جیسے انبعیق alembic جابر نے ایجاد کئے
  5. کپڑے اور چمڑے کی رنگائی کا کام سب سے پہلے جابر نے کیا
  6. کپڑوں کو واٹر پروف بنانے کا عمل جابر کا مرہون منت ہے
  7. شیشے کی بناوٹ کےلئے manganese oxide کا استعمال جابر نے سکھایا۔
  8. لوہے کو زنگ سے بچانے کا عمل جابر کی ایجاد ہے۔
  9. رنگوں اور greese کی نشاندہی جابر کی دریافت ہے۔
  10. سونے کو پگھلانے کیلئے کام میں آنے والا مرکب aqua rigia جابر بن حیان کی ایجاد ہے۔
  11. جابر نے مادے کی classification کیلئے اسکو تین طبقوں میں تقسیم کیا:

اول۔  spirits جو گرم کرنے سے بخارات میں تبدیل ہوجاتے ہیں

دوئم۔  دھات جیسے سونا، چاندی، سیماب، لوہا، تانبا، اور

سوئم۔ حجرات یعنی پتھر جو گھسنے پر ریزہ ہوجاتے ہیں۔

یہی بنیادی عمل جدید کیمسٹری میں مادوں کی classification میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ جدید علم۔کیمیاء یعنی chemistry کی بنیاد جابر بن حیان کی مرہون منت ہے۔

جابر کی وفات بھی عجیب حالت میں ہوئ۔ دراصل خلیفہ hوقت سے کسی بات پر اختلاف ہونے کے نتیجے میں جابر بن حیات کو گھر میں نظر بند کیا گیا جہاں 815 عیسوی میں انکی وفات ہوگئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *