بھیرہ

تحریر سحر بلوچ

اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ایک چھوٹا سا شہر ’جہاں تاریخ کے کئی راز دفن ہیں

بھیرہ کا نام آپ نے اسلام آباد سے لاہور آتے یا جاتے ہوئے ایک فوڈ جنکشن کے طور پر ضرور سُنا ہو گا۔ مگر اس کی منفرد تاریخ کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

پاکستان کے دو اہم شہروں کو ملانے والی موٹر وے ایم ٹو کے بیچ میں واقع بھیرہ قیام و طعام اس سڑک پر سب سے بڑا ریسٹ ایریا اور فوڈ جنکشن ہے۔ تاہم اس شہر کے بارے میں صرف اتنی ہی معلومات رکھنا اس کی تاریخ سے ناانصافی ہے۔

میں نے بھیرہ کے بارے میں دو سال پہلے سُنا تھا کہ یہاں پر برصغیر کی تقسیم سے پہلے کا ایک قدیم ریلوے سٹیشن موجود ہے جو کافی عرصے سے بند پڑا ہوا ہے۔پہلی بار یہاں آنے پر مجھے پتہ بھی نہیں چلا کہ یہاں ریلوے سٹیشن ہے۔ شہر کے بیچ و بیچ ہونے کے باوجود یہ سٹیشن نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے۔رواں سال وفات پانے والی پاکستانی اداکارہ نیلو کا تعلق بھی بھیرہ سے تھا۔بھیرہ آنے پر پتا چلا کہ ایک پرانا اور ایک نیا بھیرہ ہے۔ گردوارہ، مندر، مسجد اور امام بارگاہ کے علاوہ دیگر مذہبی مقامات بھی ہیں۔تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اتنے چھوٹے سے شہر میں اتنی تاریخ کیسے سمائی ہوئی ہے۔

بھیرہ کا قدیم ریلوے سٹیشن جو ’میوزیم بن سکتا ہے‘

تو پہلے بات کرتے ہیں اس ریلوے سٹیشن کی۔ یہاں ریلوے سٹیشن پہنچ کر سب سے پہلے میری نظر پڑی بھیرہ نام کی تختی پر جو اس سٹیشن کے داخلی راستے کے اوپر لگی ہوئی ہے۔ لیکن یہاں باقاعدہ طور پر کوئی بورڈ نہیں جو بتائے کہ یہ ریلوے سٹیشن کب اور کیوں بنایا گیا تھا۔

پھر ملاقات ہوئی یہاں پر براجمان بھینسوں سے۔ کئی سالوں سے خالی رہنے کی وجہ سے اس جگہ پر اب جانور ہی نظر آتے ہیں۔ جو کمرہ کسی زمانے میں فرسٹ کلاس کے مسافروں کے لیے مختص کیا گیا تھا، وہاں اب صرف گوبر، گندگی اور مکڑیوں کے جالے نظر آتے ہیں۔

تھوڑا آگے جا کر اس سٹیشن کا ٹرن ٹیبل بھی آتا ہے جہاں اب زنگ آلود گاڑیوں کے ڈھانچوں کے علاوہ کچھ نہیں۔

ظاہر ہے یہ جگہ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔ تو پھر اس سٹیشن کی تاریخ کیا ہے، اور یہ کس سال میں کس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا؟اس دوران مجھے بھیرہ کی تاریخ کو یکجا کرنے والے محقق کرنل ریٹائرڈ زاہد ممتاز کے بارے میں پتا چلا۔ زاہد ممتاز خود کسی انسائیکلوپیڈیا سے کم نہیں ہیں۔ان کی اپنی پیدائش بھیرہ کی ہے اور حالانکہ انھوں نے یہاں بچپن تو نہیں گزارا لیکن بڑے ہونے کے بعد ان کا ایک ہی مقصد بن گیا، اس علاقے کی شناخت کو دوبارہ بحال کرنا۔بھیرہ کے اس ریلوے سٹیشن کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ یہ سنہ 1881 میں بنایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر یہاں سے چلنے والی ٹرین بھیرہ، ہزارہ، میانی اور ملک وال کے علاقوں کے درمیان تیس کلومیٹر تک چلا کرتی تھی۔ لیکن بعد میں اس کو بند کر دیا گیا۔

زاہد ممتاز نے کہا کہ ’(عارضی طور پر) کچھ سال چلنے کے بعد اس ریلوے سٹیشن کو سنہ 2005 سے سنہ 2006 کے درمیان بند کر دیا گیا تھا۔ یہاں کے لوگوں کی زندگی پر یہ فرق پڑا کہ وہ جس آسانی سے مال مویشی اس ٹرین کے ذریعے لے جا سکتے تھے وہ اب ممکن نہیں تھا۔ اس ٹرین کی جگہ گاڑیوں نے لے لی جن کے کرائے آسمان سے باتیں کرتے ہیں۔‘

مگر ’اب بھی بات نہیں بگڑی ہے۔‘ زاہد کی تجویز ہے کہ ’آج بھی اس جگہ کی متنوع تاریخ کو یکجا کیا جا سکتا ہے، اگر اس سٹیشن کو میوزیم کی شکل دے دی جائے جس طرح اسلام آباد کے گولڑہ سٹیشن کے ساتھ کیا گیا ہے۔‘اس ٹرین پر آپ دس روپے ٹکٹ میں باآسانی عام سامان کے ساتھ بھیڑ بکریاں لا سکتے تھے۔ لیکن اس کے بند ہونے سے یہاں کے لوگوں کو پھر دوسرا طریقہ کار اپنانا پڑا۔

بھیرہ کی تاریخی مسجد اور مندر

اس ریلوے سٹیشن پر ذرا ٹھہر کر دوبارہ بات کرتے ہیں۔ پہلے ذرا بھیرہ کی تاریخ سمجھ لیں۔

بھیرہ کی اپنی تاریخ بھی خاصی منفرد ہے۔ اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ علاقہ 500 قبلِ مسیح سے یہاں موجود ہے۔اس کی ایک تصدیق تو یہاں پرانے علاقوں کے قدیم طرز سے بنے ٹیلوں سے ہو سکتی ہے۔ ان کے نیچے کیا چھپا ہے، اس پر کبھی تحقیق نہیں کی گئی۔اور نئے بھیرہ کی تاریخ یہ ہے کہ یہاں خلجی، شیر شاہ سُوری اور مغل دور میں بنے مندر، مسجد اور گرودوارہ اس کے ماضی اور ان تمام لوگوں کے بارے میں بھی بتاتے ہیں، جو اب یہاں نہیں رہتے۔لیکن نیا بھیرہ ہو یا پرانا، تاریخ دان اور محقق کہتے ہیں کہ اس علاقے میں ایک وقت تک مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہا کرتے تھے۔

دریائے جہلم کے مغربی اطراف بننے کے بعد بھیرہ کو سولہویں صدی میں دریائے جہلم کے مشرقی جانب قائم کیا گیا تاکہ اسے گزرنے والی افواج کے حملوں سے بچایا جا سکے۔

اس علاقے کے اطراف میں آٹھ دروازے ہیں لیکن ان میں سے اب زیادہ تر یا تو وقت گزرنے کے ساتھ گِر گئے ہیں یا پھر گرنے والے ہیں۔برِصغیر کی تقسیم سے پہلے موجود مختلف محلوں میں سے چند مشہور محلوں میں شیخاں والہ، ننگیان والہ، باؤلی والہ اور خواجگان محلہ شامل ہیں۔ان تمام محلوں میں مختلف مذاہب کی تعمیرات ہیں، جن میں مساجد، مندر، گرودوارے اور حویلیاں موجود ہیں۔ کچھ بالکل خستہ حالت میں ہیں جبکہ کچھ کو تھوڑی مرمت کر کے اب بھی بچایا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے میں نے رُخ کیا جامعہ مسجد کا۔

شیر شاہ سُوری کے دور کی کہلائی جانے والی اس مسجد کی عمارت کے باہر تختی پر اس کی تعمیر سنہ 1540 لکھا ہوا ہے۔ لیکن اس مسجد کا طرزِ تعمیر مغل دور کا لگتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسے مغل دور میں دوبارہ سے بنوایا گیا تھا۔ یہاں ہونے والے رنگ و روغن سے لگتا ہے کہ اسے کئی بار پہلے بھی رنگ کیا جا چکا ہے۔

لیکن اس کے نیچے اب بھی قدیم طرز کا کام دکھائی دیتا ہے۔

اسی مسجد سے تھوڑے فاصلے پر شہر کا مشہور بازار آتا ہے جہاں کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک امام بارگاہ نظر آتی ہے۔

اس امام بارگاہ کے بارے میں مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس سے پہلے گرودوارہ ہوا کرتا تھا جسے شہر کے بیچ و بیچ تعمیر کرایا گیا تھا۔

لیکن برِصغیر کی تقسیم کے بعد جب یہاں سے سکھوں کا جانا ہوا، تو اس گردوارے نے امام بارگاہ کی شکل دے دی گئی۔

دریائے جہلم کے راستے میں باؤلی والا مندر آتا ہے جو شہر سے الگ تھلگ ایک پُرسکون مقام پر ہے۔

اس مندر کے آس پاس جھاڑیوں سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کافی عرصے سے خالی ہے۔ اس مندر کے بارے میں زاہد ممتاز نے کہا کہ اسے اندر سے ٹھیک کروا کر اسے پاکستان میں رہائش پذیر ہندوؤں کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر رہنے والے ہندو تجارت کیا کرتے تھے اور سنہ 1941 تک ہندو یہاں کی بیس ہزار افراد پر مشتمل آبادی کا اکیس فیصد حصہ تھے۔

گھوم پھر کر جب دوبارہ بھیرہ کے ریلوے سٹیشن کی طرف پہنچے تو خیال آیا کہ یہ تمام تر تاریخ اس سے کہیں زیادہ یکجا کی جا سکتی ہے۔

سنہ 1995 میں جب موٹروے بنا تو آس پاس کے علاقوں کو موقع ملا کہ وہ اپنے تاریخی مقامات کے بارے میں بات کرنے لگ گئے، ان کے معاشی حالات بہتر ہو گئے۔ لیکن بھیرہ کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔

بھیرہ اگر آج بھی مشہور ہے تو صرف اس وجہ سے کہ یہاں موٹروے قیام و طعام پر ایک فوڈ جنکشن موجود ہے، جہاں لوگ آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، اور چلے جاتے ہیں۔

لیکن بھیرہ کی تاریخ کو اگر مکمل طور پر محفوظ کیا جا سکتا ہے تو وہ اسی ریلوے سٹیشن کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

جامعہ مسجد کی دیوار پر اہلیان بھیرہ کے نام ایک واضح پیغام ہے۔ ’اس شہر کی عزت اس کی تاریخ سے ہے جس کی عظیم اور قدیم داستانیں اس مسجد کی ایک ایک اینٹ میں دفن ہیں۔ اگر آپ نے ان یادگاروں کو پس پشت ڈال دیا تو تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *