اندرون لاہور کے کوتوال

اندرون لاہور میں ’شاہی گزرگاہ‘ کہلائے جانے والی ڈیڑھ کلومیٹر طویل سڑک پر چند افراد خاکی رنگ کی وردی اور اونچے شملے والی پگڑی پہنے، ہاتھ میں ڈنڈا اٹھائے اور گھٹنوں تک لمبی پتلون کے بیلٹ کے ساتھ پانی کی بوتل لٹکائے گذشتہ چند روز سے گھوم رہے ہیں۔

اُن کا گشت اندرون لاہور میں ’دہلی دروازہ‘ سے شروع ہو کر ’کوتوالی‘ پر ختم ہوتا ہے۔ ڈیڑھ کلومیٹر طویل اس شاہی گزرگاہ پر مسجد وزیر خان، شاہی حمام اور سنہری مسجد سمیت کئی اہم تاریخی عمارتیں قائم ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ اپنے قلعے سے نکل کر اسی راستے سے ہوتے ہوئے شاہی حمام اور جمعہ کے دن سنہری مسجد نماز ادا کرنے کے لیے آتے تھے۔

گئے دور کی ثقافت کی بحالی کے لیے کوشاں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے اِن اجنبی دِکھتے افراد کو ’کوتوال‘ کے طور پر متعارف کروایا ہے۔

اتھارٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر تانیہ قریشی کہتی ہیں کہ ’مقصد یہ ہے کہ ایسے کرداروں کو متعارف کروایا جائے جو مغل، سکھ اور برطانوی عہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ اندرون لاہور نے یہ کردار مختلف ادوار میں دیکھے ہوئے ہیں۔ یہ کوتوال شاہی گزرگاہ پرگشت کرتے ہیں۔ یہ سیاحت کا مرکز ہے اور اس کا اصل ماضی بحال کرنا ہمارا مقصد ہے۔‘

اگرچہ ان اجنبی نظر آنے والے کرداروں کو متعارف کروانے کا مقصد تو ’ماضی کی بحالی‘ ہے مگر سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے صارفین ہیں جو یہ کہتے ہوئے اس اقدام پر تنقید کر رہے ہیں کہ ’کوتوال برطانوی ظالمانہ دور کا نمائندہ کردار ہے۔‘

ضیاالرحمٰن نامی ایک صارف کا کہنا ہے کہ ’انگریز سامراج کب کا ختم ہو چُکا، لیکن غُلامانہ سوچ ابھی بھی نہیں بدلی۔ نہ جانے یہ ذہنی غُلامی کب ختم ہوگی اور کب ہم انگریز اور انگریزی دونوں کے سحر سے باہر آئیں گے۔‘ جبکہ ایک اور صارف یوں گویا ہوئے ’یہ لباس ہزاروں شہیدوں کی توہین ہے جو جنگ آزادی سے لے کر قیام پاکستان تک شہید ہوئے۔‘

مگر کوتوال کے کردار کو متعارف کروانے والی والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے سربراہ کامران لاشاری کا ماننا ہے کہ ’لاہور کا آدھا حصہ غلامی کی یاد ہے۔ مال روڈ پر تمام عمارتیں، تمام ادارے اُسی دور کی یاد ہیں۔ ہم کوئی کلچر تو بدلنے نہیں جا رہے۔ دنیا بھر میں کہیں بھی جائیں سیاحتی مقامات پر پرانے دور کا عکس ملتا ہے جس سے آپ کو تاریخ اور ثقافت سے واقفیت ملتی ہے۔‘اب یہ فیصلہ تو آپ کو کرنا ہے کہ آیا یہ اقدام ہمیں ’ماضی کی یادوں سے جوڑنے‘ میں مدد فراہم کرے گا یا یہ ’غلامانہ سوچ کا عکاس‘ ہے مگر ہم آپ کو یہ ضرور بتا سکتے ہیں کہ ’کوتوال‘ کا عہدہ اصل میں تھا کیا اور اِس منصب پر فائز شخص کتنا طاقتور اور اہم گردانا جاتا تھا، کوتوال تعینات کرنے کا سلسلہ کب شروع ہوا اور کب ختم۔

کوتوال کا لفظ کہاں سے آیا؟

معروف ضرب المثل ’سَیاں بَھئے کوتْوال اَب ڈَر کاہے کا‘ اس موقع پر بولا جاتا ہے جب آپ کا کوئی قریبی عزیز یا جاننے والا کسی بااختیار عہدے پر فائز ہو۔ اس ضرب المثل سے کوتوال کے عہدہ کی اہمیت کا پتا چلتا ہے۔17ویں صدی کی لغت ’برہان قاطع‘ میں کوتوال کی تعریف قلعے اور شہر کے نگہبان کے طور پر کی گئی ہے۔ بعض لوگوں کی رائے میں لفظ کوتوال ہندی الاصل ہے، جسے ہندی لفظ کوٹ (قلعہ) کی وجہ سے فارسی بولنے والوں نے اپنایا۔

ڈاکٹر ایشوری پرشاد اپنی کتاب ’ہندوستان میں مسلم حکم رانی کی مختصرتاریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’کوتوال کے فرائض آئین اکبری میں مفصل بیان کیے گئے ہیں۔ وہ شہر کا پولیس افسر تھا جو بعض معاملات میں عدالتی اختیارات بھی استعمال کرتا تھا۔ وہ شہروں میں امن عامہ کا ذمہ دار تھا اور جس کے ماتحت بہت سے معاون تھے۔ کوتوال کی ذمہ داری تھی کہ وہ قانون شکن افرادکو عدالت میں لائے تاکہ مقدمہ کی فوری کارروائی ہو سکے۔‘

آئین اکبری کے مطابق جب شاہی دربار لگا ہوتا تھا تب کوتوال کو بھی دربار میں موجود رہنا پڑتا تھا۔ وہ روزانہ شہر کی سرگرمیوں کی معلومات چوکیداروں اور اپنے مخبروں کے ذریعے حاصل کرتا تھا۔ضلع کی سطح پر کوتوال کا تقرر مرکزی حکومت کرتی تھی جبکہ ہر صوبے کے دارالحکومت اور اہم شہروں میں بھی مرکزی حکومت کوتوال کا تقرر کرتی تھی۔

کوتوال کے فرائض منصبی کیا تھے؟

کوتوال کی ذمہ داریاں کچھ یوں تھیں: امن و امان برقرار رکھنا، رات کو پہرے کا انتظام کرنا اور اجنبیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا، چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑنا، لوہاروں پر نظر رکھنا کہ وہ چوروں کے لیے تالوں کی چابیاں نہ بنائیں، تفریحی مقامات اور میلوں میں جیب کتروں کو پکڑنا، خانہ بدوشوں کو خبر رسانی کے لیے بھرتی کرنا اور ان سے نزدیکی علاقوں کے اُمور اور عوام کے مختلف طبقات کی آمدنی اور اخراجات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا۔

ان کی ذمہ داریاں یہ بھی تھیں کہ گھروں، سڑکوں، شہریوں اور اجنبیوں کے بارے میں باقاعدہ معلومات رکھنا اور رجسٹروں میں اندراج کرنا، لاوارث مرحومین کی جائیداد کے بارے میں کوائف کا اندراج کرنا اور انھیں اپنی تحویل میں لینا، بھینسوں، بیلوں، گھوڑوں اور اونٹوں کو ذبح کرنے سے روکنا، عورتوں کو ان کی مرضی کے بغیر ستی ہونے سے روکنا، قیمتوں پر کنٹرول رکھنا، معاشرتی برائیوں کو روکنا، طوائفوں، رقاصاؤں، شراب اور نشہ آور اشیا فروخت کرنے والوں کو پکڑنا، ہر محلہ میں تعینات پیادوں سے محلہ میں ہونے والے واقعات کے بارے میں رپورٹ لینا، پہرے داروں، خاکروبوں اور پیادوں سے حاصل شدہ رپورٹوں کا تقابل کرنا اور زمینی صورت حال سے باخبر رہنا اور ضروری ہو تو مناسب کارروائی کرنا۔ماہر سیاسیات آر پی پانڈے کے مطابق مغل دور میں کوتوال امن عامہ کے قیام کے ساتھ ساتھ بعض مقدمات بھی سُنتے تھے مگر قاضی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔دہلی میں پولیس نظام کی شروعات تقریباً آٹھ سو سال پرانی تصور کی جاتی ہیں۔ اس وقت دہلی کی سیکورٹی اور نظامِ قانون کی ذمہ داری کوتوال کی ہوا کرتی تھی۔

دہلی کے پہلے کوتوال

دہلی کے پہلے کوتوال ملک الامراء فخرالدین تھے۔ وہ سنہ 1237 میں 40 سال کی عمر میں کوتوال بنے۔ اپنی ایمان داری کے سبب وہ تین سلطانوں کے دور میں طویل عرصہ تک اس عہدہ پر رہے۔ایک بار ترکی کے کچھ امرا کی ملکیت سلطان بلبن کے حکم سے ضبط کر لی گئی۔ ان لوگوں نے سلطان کے حکم کو بدلنے کے لیے کوتوال فخرالدین کو رشوت کی پیشکش کی۔ کوتوال نے کہا کہ ’اگر میں رشوت لے لوں گا تو میری بات کا کوئی وزن نہیں رہ جائے گا۔‘

مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 1648 میں دہلی کو اپنا دارالحکومت بنانے کے ساتھ ہی غضنفر خان کو نئے شہر شاہجہان آباد کا پہلا کوتوال مقرر کیا تھا۔ غضنفر خان کو بعد میں کوتوال کے ساتھ ہی میر آتش (چیف آف آرٹیلری) بھی بنا دیا گیا۔بعد کے ادوار میں شاید یہ معیار بدل گیا تھا۔

اُردو شاعر مرزا محمد رفیع سودا نے تہذیبی و معاشرتی انتشار پر ہجو ’شیدی فولاد خان کوتوال‘ کے عنوان سے لکھی ہے۔ سودا نے تقریباً 70 برس کی عمر میں 1781 میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

فولاد خان کوتوال کی ہجو میں سودا نے اپنے زمانے کے انتشار اور طوائف الملوکی کا نقشہ بہت عمدہ کھینچا ہے۔’بدقماش چور اُچکے یہاں تک نڈر اور آزاد ہو گئے ہیں کہ کوتوال اُن کی خوشامد کرتا ہے۔ اور وہ خود کوتوال کی پگڑی کی قیمت لگاتے ہیں۔ فولاد خان شہر کی چوریوں میں چوروں کے ساتھ شریک رہتا ہے۔‘چنانچہ بادشاہ کو جب اس کی خبر ملی تو فولاد خان اور اس کا بیٹا عتیق اللہ خان گرفتار ہوئے۔سودا نے اس صورت حال پر یہ ہجو لکھی۔

ان سے رشو ت لیے یہ بیٹھا ہے      اس کے دل میں یہ چور بیٹھا ہے

بازو کا مفسروں کے زور ہے یہ        چور کا بھائی گھٹی چور ہے یہ

فولاد خان چوروں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔

سن لو چورو یہ مختصر قصہ       صبح کو بھیج دیجیو حصہ

’مرزا نوشہ اور چودھویں‘ میں سعادت حسن منٹو لکھتے ہیں کہ ’سنہ 1264 (ہجری) میں مرزا غالب چوسر کی بدولت قید ہوئے۔ اس واقعہ کے بارے میں ایک فارسی خط میں مرزا لکھتے ہیں ‘کوتوال دشمن تھا اور مجسٹریٹ ناواقف، فتنہ گھات میں تھا اور ستارہ گردش میں، باوجود یکہ مجسٹریٹ کوتوال کا حاکم تھا، میرے معاملے میں کوتوال کا ماتحت بن گیا۔ اور میری قید کا حکم سُنا دیا۔‘

کوتوال نظام کا خاتمہ

سنہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا اور اسی کے ساتھ کوتوال نظام بھی ختم ہو گیا اور باقاعدہ پولیس کا نظام متعارف کروایا گیا۔

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دور میں اس وقت پنڈت جواہر لال نہرو کے دادا پنڈت گنگا دھر نہرو دہلی کے آخری کوتوال تھے۔انگریزوں نے دہلی میں قتل عام کیا تو گنگا دھر نہرو اپنی اہلیہ جیو رانی اور چار بیٹوں کے ساتھ آگرہ چلے گئے۔ فروری 1861 میں وہیں ان کی وفات ہوئی۔اگرچہ جنگ آزادی کے بعد اصل مفہوم میں کوتوال کا عہدہ اوراختیارات تو ختم ہو گئے مگر یہ لفظ ‘کوتوال› شہر کے پولیس سربراہ کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ اسی لیے بعد میں آنے والی لغات میں کوتوال کے معانی یہ بھی بتائے گئے ہیں: ’پولیس کا افسر جس کے تحت شہر کا بڑا تھانہ ہو۔‘محقق ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی کے مطابق ’انگریز دور میں بیرون شہر نئی کوتوالی تعمیر کرنے کا سوچا گیا۔ اُس زمانے میں شہر لاہور کے کوتوال میاں غلام رسول مرحوم تھے اور سپرنٹنڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ پرانی کوتوالی کی عمارت کو نہ صرف چھوڑ دیا گیا بلکہ گرا دیا گیا اور بیرون دہلی دروازہ کوتوالی کی نئی عمارت تعمیر ہوئی۔ میں اس زمانے میں نجی طور پر کوتوال شہر میاں غلام رسول کے بچوں کو پڑھاتا تھا۔‘

’انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ کوتوالی کی نئی عمارت میں سنگ مرمر کی ایک تختی لگائی جائے انھوں نے مجھے بتایا کہ خود انھوں نے مطلوبہ اردو اشعار تو لکھ لیے ہیں مگر وہ چاہتے ہیں کہ اس ضمن میں علامہ اقبال سے بھی مشورہ کیا جائے۔ چنانچہ میاں صاحب علامہ کے انارکلی والے مکان میں وہ اشعار لے کر گئے جن میں علامہ نے اصلاح بھی دی اور ان اشعار کا عنوان عمارت فرخ فرجام تجویز فرمایا اور یہ تاریخی عنوان تھا کیونکہ ان الفاظ سے عمارت کی تاریخ تعمیر 1915ء نکلتی تھی افسوس آج نہ وہاں سنگ مرمر کی وہ تختی ہے اور نہ یہ تاریخی نام۔‘

مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں لاہور کے آخری کوتوال (1835-1840) سردار جے مل سنگھ تھے۔انگریز دور میں لاہور کے پہلے کوتوال خدا بخش تھے۔ وہ ککے زئی قوم کے تھے۔ انھیں انگریزسپاہیوں سے شاہی قلعہ کے توشہ خانہ سے چوری شدہ قیمتی اشیا برآمد کرنے پر پانچ ہزار روپے اور 50 تولہ سونا انعام میں دیے گئے۔ پھر چودھری رحمت اللہ کے 1901 میں کوتوال ہونے کا ایک تصویر سے پتہ چلتا ہے۔

محقق ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی کے مطابق ’انگریز دور میں بیرون شہر نئی کوتوالی تعمیر کرنے کا سوچا گیا۔ اُس زمانے میں شہر لاہور کے کوتوال میاں غلام رسول مرحوم تھے اور سپرنٹنڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ پرانی کوتوالی کی عمارت کو نہ صرف چھوڑ دیا گیا بلکہ گرا دیا گیا اور بیرون دہلی دروازہ کوتوالی کی نئی عمارت تعمیر ہوئی۔ میں اس زمانے میں نجی طور پر کوتوال شہر میاں غلام رسول کے بچوں کو پڑھاتا تھا۔‘

’انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ کوتوالی کی نئی عمارت میں سنگ مرمر کی ایک تختی لگائی جائے انھوں نے مجھے بتایا کہ خود انھوں نے مطلوبہ اردو اشعار تو لکھ لیے ہیں مگر وہ چاہتے ہیں کہ اس ضمن میں علامہ اقبال سے بھی مشورہ کیا جائے۔ چنانچہ میاں صاحب علامہ کے انارکلی والے مکان میں وہ اشعار لے کر گئے جن میں علامہ نے اصلاح بھی دی اور ان اشعار کا عنوان عمارت فرخ فرجام تجویز فرمایا اور یہ تاریخی عنوان تھا کیونکہ ان الفاظ سے عمارت کی تاریخ تعمیر 1915ء نکلتی تھی افسوس آج نہ وہاں سنگ مرمر کی وہ تختی ہے اور نہ یہ تاریخی نام۔‘

مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں لاہور کے آخری کوتوال (1835-1840) سردار جے مل سنگھ تھے۔انگریز دور میں لاہور کے پہلے کوتوال خدا بخش تھے۔ وہ ککے زئی قوم کے تھے۔ انھیں انگریزسپاہیوں سے شاہی قلعہ کے توشہ خانہ سے چوری شدہ قیمتی اشیا برآمد کرنے پر پانچ ہزار روپے اور 50 تولہ سونا انعام میں دیے گئے۔ پھر چودھری رحمت اللہ کے 1901 میں کوتوال ہونے کا ایک تصویر سے پتہ چلتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *