انتخاب من التجاء

ساغر صدیقی

پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈُھونڈ رہا ھے

پاگل ہے جو دُنیا میں وَفا ڈُھونڈ رہا ھے

خُود اپنے ہی ہاتھوں سے وہ گھر اپنا جلا کر

اَب سر کو چُھپانے کی جگہ ڈُھونڈ رہا ھے

کل رات کو یہ شخص ضیا بانٹ رہا تھا

کیوں دِن کے اُجالے میں دِیا ڈُھونڈ رہا ھے

شاید کے ابھی اُس پہ زوال آیا ہوا ھے

جُگنُو جو اندھیرے میں ضیا ڈُھونڈ رہا ھے

کہتے ہیں کہ ہر جاہ پہ موجُود خُدا ھے

یہ سُن کے وہ پتھر میں خُدا ڈُھونڈ رہا ھے

اُسکو تو کبھی مُجھ سے محبت ہی نہیں تھی

کیوں آج وہ پھر میرا پتا ڈُھونڈ رہا ھے

کِس شہرِ مُنافِق میں یہ تُم آ گئے ساغر

اِک دُوجے کی ہر شخص خطا ڈُھونڈ رہا ھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *