اداریہ

نئی طالبان حکومت کو درپیش مسائل کا سامنا

نئی افغان حکومت افغانستان کو سیاسی برتری نے جہاں ان کی کامیابی کی راہ ہموار کی ہے وہیں ان کے بارے میں افغانستان سمیت دنیا بھر میں کئی طرح کے خدشات، خوف اور تحفظات پائے جاتے ہیں وجہ طالبان کا ماضی ہے۔ اب یہ نئی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ حالات اور مستقبل کو کس حکمت عملی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔

ان حالات کے پیش نظر راقم الحروف زمینی حقائق قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہے اور اللہ کرے اس ملک اور خطہ میں حالات کے پیش نظر خوشحالی اور امن نصیب ہو۔ نئی افغان حکومت کو پیش آنے والے مسائل میں ان کا اہم انتخابی نکتہ نظر ہے۔ موجودہ حالت میں ابھی تک افغان سیاستدان کے ساتھ طالبان ڈاکٹر عبداللہ، کرزئی اور گلبدین حکمت یار تک محدود ہیں اور یہ دیگر سیاستدانوں کے نظریہ سے بھی ملتے ہیں۔ پہلے تو امریکہ کی لڑائی طالبان فورسز کے ساتھ تھی اب امریکہ اور نیٹو کی فوج افغانستان سے جاچکی ہے۔ اب پورے افغانستان پر طالبان ہی کا قبضہ ہے۔ طالبان کے لئے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ امن اور سیکورٹی کس طرح قائم کرتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہوا تو ملک میں مایوسی اور بدامنی پھیلے گی۔ 20سالہ افغان جنگ میں امریکہ اور نیٹو فورسز کے ساتھ تو یہ اتحاد اور قوت کے ساتھ لڑیں ہیں لیکن اس صورتحال سے نمٹنا ان کے لئے مشکل ہے۔

امریکی اور نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد نئی افغان حکومت کو درپیش مسائل کے ساتھ اب ان کا امتحان شروع ہوگیا ہے جن میں کئی قسم کے مسائل ہوں گے۔ موجودہ حالات میں (شعبہ ہائے زندگی) میں سیاسی و ملکی استحکام قائم کرنا ملکی معیشت، امن و امان، انتخابی نکتہ نظر کو بحال کرنا، صحت اور تعلیم کا انتظام کرنے کے مشکل مراحل سے طالبان کو اور اس کے ہمدرد ممالک کے لئے یہ اہم ذمہ داری ہوگی۔ دیکھا جائے تو سابق حکومت کے حوالے سے طالبان کا پلڑا بھاری ہے لیکن انہیں اب بھی ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

گزشتہ 20سالہ جنگ اور اب ان کی حکمرانی کے لئے ان کی کوئی تیاری اور منصوبہ بندی نہیں ہے۔ نئی افغان حکومت کے لئے پہلا مسئلہ اور چیلنج جو درپیش ہے وہ حکومت سازی ہے جو کہ تشکیل دیا جاچکا ہے۔ اس ضمن میں ان کو داخلی اختلافات پر قابو پانا ہوگا اور جو ان کے اتحادی ہیں ان کو مکمل اعتماد میں لے کر فیصلے کرنا ہونگے۔ فیصلے کرتے وقت اتحادیوں کی ہمدردیاں اور ان کے مؤقف کا خیال اور احترام کرنا ضروری ہوگا۔

دوسرا اہم چیلنج طالبان کا انتخابی نکتہ نظر ہے۔ فی الحال سیاستدانوں کے ساتھ طالبان آپس میں گفت و شنید کرتے رہتے ہیں جن میں ڈاکٹر عبداللہ، کرزئی اور گلبدین حکمت یار ہیں۔ دریں اثناء سیاست دانوں کی ایک وسیع تعداد افغانستان میں طاقت ور قوتیں ہیں اور مقبول شخصیات طالبان کے مخالف محاذ پر ہیں اور طالبان سے لڑنے کو تیار بھی ہیں۔ اگرچہ طالبان نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر وہ ان کے ساتھ ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ طالبان نے انہیں اپنے مذاکرات میں شامل نہیں کیا ہے۔ اگرچہ ان میں کئی افراد بااثر رہنما ہیں۔ ویسے تو تمام طالبان ملاہیبت اللہ کی قیادت پر متفق ہیں لیکن ایک غیرمرئی تقسیم سیاسی اور نظامی(عسکری) موجود ہے۔ بعض طالبان رہنما سیاسی محاذ پر بہت اہم ہیں لیکن جنگی میدان میں ان کی حیثیت اہم نہیں۔ جبکہ بعض لوگ جنگی محاذ پر کلیدی حیثیت کے حامل تھے لیکن سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ان کے نام زیادہ نمایاں نہیں۔ ملاہیبت اللہ جنہیں طالبان الخطاب باب کہا جاتا ہے نے حالیہ دنوں میں گروپ کی کامیابی پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کے متعلق قیاس اور عام تاثر ہے کہ وہ کچھ عرصہ قبل بیماری کے باعث یا پھر پاکستان میں ایک بم دھماکے میں مارے گئے ہیں اور طالبان ان کی موت کو خفیہ رکھےہوئے ہیں۔ اگر وہ وفات پاچکے ہیں تو طالبان میں اندرونی کشیدگی بڑھ جائے گی اور اگر وہ زندہ ہیں تو طالبان کو متحرک کرسکتے ہیں۔ بصورت دیگر گروپ کی اندرونی کشیدگی جامع مستحکم قیامِ حکومت کے لئے وقت درکار ہوگا اور یہ مسئلہ خود طالبان کے اندرونی چیلنجز میں سے ایک ہے۔

ملا برادر کا تعلق درانی قبیلے سے ہے وہ افغانستان میں اقتدار کی روایتی شکل کو اپنے والد کی میراث کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ایک طویل عرصہ میں یہ کشیدگی طالبان کے درمیان مزید نزاکت اور گروپ کی تقسیم کا باعث بن سکتی ہے۔

نئی افغان حکومت کے لئے دوسرا بڑا چیلنج ان دو قسم کے ایک ہی حکومت میں سمونا اور مطمئن کرنا ہے افغانستان کے جنوب، مشرق اور شمال کے درمیان توازن کو کس طرح لایا جائے۔ کیونکہ طالبان کی زیادہ تر قیادت کا تعلق قندھار (جیسے پشتو میں لوئے قندھار کہتے ہیں) اس کا مطلب قندھار صوبہ نہیں جبکہ مشرق کے تمام صوبے ہیں۔ یاد رہے سراج الدین حقانی کی بدری فورس ہے یہ فورس ان کے بھائی بدرالدین حقانی کے نام سے منسوب ہے۔ چنانچہ یہ چیلنج ہے جو ان کو درپیش ہے اور یہ کہ پکتیا اور قندھار کے درمیان توازن کیسےلایاجائے۔

حکومت سازی کے ضمن میں یہ بھی ایک چیلنج ہے مغرب نہیں بلکہ ایران، پاکستان، روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کا مطالبہ ہے کہ ان پر مشتمل جامع حکومت تشکیل دی جائے۔ جس میں تاجک، ازبک، ہزارہ، خواتین اور سابقہ حکومت کے اہم احباب کو اس میں نمائندگی دی جائے۔ لیکن طالبان میں ایک بڑا طبقہ کا خیال ہے کہ ہم ان کو حکومت میں کیوں شامل کریں جن سے ہم سابقہ جنگ لڑرہے تھے۔ دوسری طرف حامدکرزئی، گلبدین حکمت یار اور ڈاکٹر عبداللہ جیسے بڑے لوگ چھوٹے عہدے نہیں لیں گے اور طالبان ان کو یہ عہدے نہیں دیں گے۔ علاوہ ازیں کئی ایسے گروپ ہیں جو ناخوش ہیں لازمی طور پر ان کے مقاصد پورے نہیں ہوتے تو وہ مغرب یا امریکہ کی طرف دیکھیں گے جس سے طالبان کے لئے مسئلہ ہوگا۔

18 ستمبر کی اشاعت بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار ماجد نصرت کا کہنا ہے کہ مرکزی دھارے کی طالبان لیڈرشپ کے لئے جو جنوب قندھار میں ہے سب سے بڑا چیلنج حقانی نیٹ ورک ہے جو اب زیادہ دلیر ہوچکا ہے اور جس کے روابط غیرملکی جنگجوؤں سے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقی افغانستان کے نصف سے زیادہ حصے پر اس کا کنٹرول ہے۔ اس مسائل کے مجموعے نے طالبان کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کے بارے میں اندرونی اور بیرونی بین الاقوامی خدشات پر اندرونی اتحاد و اتفاق کو ترجیح دیں جوکہ پرانی قیادت پر مبنی ہے اور جس میں سے ملک کی غیرپختون آبادی کو باہررکھا گیا ہے۔ جنگ میں ہاتھ آنے والے مالِ غنیمت پر موجودہ طالبان اختلاف سے ہٹ کر تاریخی قبائل شکوے شکایتیں بھی غیرمحسوس انداز میں زیرِسطح سر اُٹھا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں مشرق اور جنوب کے پختونوں کے درمیان مسابقت پیدا ہورہی ہے۔ نسلی پختون ملک کی آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہے جو دو بڑی شاخوں میں تقسیم ہے۔ درانی اور غلزئی زیادہ تر خانہ بدوش رہے ہیں۔ حقانی لیڈر غلزئی ہیں اور ان کا نیٹ ورک طالبان کا حصہ ہے مگر کارروائی اور مالیاتی لحاظ سے انہیں خاصی خودمختاری حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ان جنگجوؤں اور شمالی افغانستان کے غیرپشتون طالبان سے ان کے قریبی روابط ہیں اور یہ سخت گیر گروہ ہے۔ مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی ISI کے بھی قریب سمجھا جاتا ہے۔ نظریاتی طور پر یہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ خراساں کے بھی قریب ہے۔ افغان امور کے ماہر مائیکل سیمپل جحفون نے بہت برس افغانستان میں کام کیا ہے۔ BBC فارسی ٹی وی سے حال ہی میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کے ساتھ طالبان کی اندرونی لڑائی اور اقتدار پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش نے افغان عوام کی نظر میں پہلے سے ان کی کم قدر میں اضافہ کیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ اب طالبان کا ’’ہنی مون‘‘ ختم ہوگیا ہے۔

ایک اور بڑا چیلنج جو نئی افغان حکومت کو درپیش ہے وہ طالبان کے کئی رہنما جن میں عبدالقیوم ذاکر اور سراج الدین حقانی جیسے لوگ جو امریکہ اور اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں اور یہ درجنوں بلیک لسٹ لوگ امریکہ کی ایما پر بغیر بلیک لسٹ سے باہر نہیں نکل سکتےعلاوہ امریکہ نے ابھی سے افغانستان کے 9 ارب ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کررکھے ہیں۔

متذکرہ بالا چیلنجز اور درپیش مسائل اور ان دو انتہاؤں کے درمیان توازن کو قائم کرنا اور دونوں فریقوں کو مطمئن کرنا نئی افغان حکومت کے لئے بڑے مسائل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *