آئین پاکستان کی دوسری ترمیم

تحریر لطف الاسلام

پاکستان کے مؤرخین جب اس قوم کی تاریخ کے فیصلہ کن مراحل کا ذکر کریں گے تو کوئی سن اڑتالیس کا ذکر کرے گا جب قائد اعظم کی بے وقت وفات ہوئی۔ یا انچاس کا جب قرارداد مقاصد پاس کی گئی۔ یا اٹھاون کا جب ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیا۔ ساٹھ کی دہائی کی جنگ اور ستر کی دہائی کی جمہوریت، آئین سازی اور دوبارہ مارشل لاء سے گزرتے ہوئے ہم اسی کی دہائی کے افغان جہاد اور جمہوریت کی دوسری قسط تک اور اس کے بعد کی دہائیوں کے پر تلاطم سیاسی، سماجی اور خارجہ عوامل کا ذکر پائیں گے۔

پاکستان کے ذمہ دار مورخین سے بصد احترام عرض ہے کہ انہوں نے تا دم تحریر پاکستانی تاریخ کے ایک اہم موڑ کو قابل ذکر نہیں سمجھا۔ یہ کوئی جنگ نہیں تھی، کسی ڈکٹیٹر کا مس ایڈونچر بھی نہیں تھا، بانیان پاکستان کی غلطی یا کسی کلیدی شخصیت کا قتل بھی نہیں تھا۔ یہ معاملہ آئین پاکستان کی تخلیق کے ضمن میں ایک چھوٹے سے حاشیے کے طور پر ہماری تاریخ میں محفوظ ہے۔ اس حاشیے کے کلیدی کرداروں کی سیرت اور ان کے عوامل اور عزائم پر بھی چنداں غور نہیں کیا گیا۔

اس کے دور رس اور تباہ کن اثرات کا ادراک رکھنے والے بھی ایک دو ہی ہیں لیکن وہ بھی دبے لفظوں میں اس کو برا کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں کہ مبادا کوئی ان معتبریت پر انگلی نہ اٹھا لے۔ کچھ ہیں جو اس حاشیے کو ملک کی تاریخ کے معدودے چند درخشاں ابواب میں گنتے ہیں لیکن وہ بھی اس کے اثرات سے بے خبر ہیں۔ قارئین یہ بات ہے پاکستان کے آئین میں دوسری ترمیم کی جو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ملک کے پہلے باقاعدہ آئین کے اجراء کے ایک سال بعد کی جس کی رو سے احمدی غیر مسلم قرار پائے۔

بھٹو کے ناقدین بھی اس ترمیم پر انہیں داد دیتے ہیں۔ جمہوری حکومتیں بہت دفعہ غیر جمہوری اقدام اٹھا لیتی ہیں۔ امریکہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ سلوک، اسرائیل میں فلسطینی حقوق کی پامالی، بھارت کے ہاتھوں کشمیر کا استحصال وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ایسا جدید تاریخ میں کبھی نہیں ہوا جو پاکستانی حکومت نے کر دکھایا۔ ایک پورے گروہ سے ان کا وہ حق چھینا گیا جو چھیننا ناممکن ہے۔ جی، ناممکن ہے۔ آپ زبان بندی کے قانون بنا سکتے ہیں لیکن سوج اور احساسات پر ڈکٹیٹر ہو یا جمہور، کسی کا زور نہیں۔

یعنی ایک مذہبی گروہ کو یہ کہا گیا کہ وہ 7 ستمبر 74 سے وہ مذہب نہیں رکھتے جس کے وہ پیروکار ہیں۔ 6 ستمبر کو جو شخص مسلمان تھا، 7 ستمبر کو اس پر لازم ہوا کہ وہ خود کو غیر مسلم سمجھے۔ اگرچہ کہ اس ترمیم کو قانونی لبادہ اوڑھانے کے لئے جنرل ضیاء نے امتناع قادیانیت آرڈینینس سن چوراسی میں نافذ کیا، لیکن اس ظلم عظیم کی بنیاد کا سہرا بھٹو اور ان کے ہم عصر اسمبلی ممبران کو ہی جاتا ہے۔ اس اسمبلی نے جون تا ستمبر 1974 وہ کام کیا جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔

یعنی تکفیریت کو قومی کردار کا حصہ بنا دیا گیا۔ جس نے ایسے ایسے عفریتوں کو جنم دیا جو بریدہ سروں سے فٹبال کھیلتے، معصوم بچوں کو ذبح کرتے اور مساجد اور معبد کو دین کے نام پر پامال کرتے نظر آتے ہیں۔ اس اسمبلی کے ممبران میں سیکولر لبرل بھی تھے، کمیونسٹ اور قوم پرست بھی۔ اور سب سے آگے علماء اور ان کے ساتھ مقبول اور محبوب بھٹو صاحب۔ اسمبلی کی بند کمرہ کی کارروائی کا ریکارڈ پڑھیں تو نظر آتا ہے کہ علماء نے تکفیر کے وہ تمام طریقے آزمائے جو سب فرقے ایک دوسرے کے خلاف صدیوں سے آزماتے چلے آئے ہیں۔

اور اسمبلی کی اکثریت جو مذہب سے نابلد تھی ان میں سے کچھ نے اعتراض کیا کہ ان سے وہ کام کروایا جا رہا ہے جس کے وہ قابل ہی نہیں۔ کچھ نے یہاں تک پوچھا کہ ایک فرقے کو دائرہ اسلام سے باہر کرنے سے پہلے آپس کے فتاویٰ تکفیر پر بھی علماء کچھ کہہ دیں لیکن ان کو بھی چپ کروا دیا گیا۔ اب بھی ہر بڑے فرقہ کے مولوی دوسروں کو شرم دلاتے نظر آتے ہیں کہ دوسری آئینی ترمیم تو ان کے بس کی بات نہیں تھی کیونکہ ان کے عقائد بھی احمدیوں کی طرح کافرانہ ہیں۔

بس بھلا ہو ان کے مفتی، مولانا یا علامہ کا، انہوں نے ایسے قطعی دلائل دیے کہ اسمبلی کے ممبران کی موٹی عقلوں میں بات آ گئی۔ تکفیریت کا کھیل سرکاری پیمانے پر شروع ہوا۔ اہل تشیع کی زندگی اجیرن ہوئی، پھر ایک ایسا دور آیا جب تکفیری مقررین کی کیسٹیں فلمی گانوں کی البموں کی طرح دکانوں پر بیچی جاتی تھیں۔ ہمارے مورخ اور تبصرہ نگار امریکہ پر انگلی اٹھاتے ہیں اور را اور موصاد کو ہر شنیع فعل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں جو اس ملک کے معصوموں پر روا رکھا جاتا رہا ہے۔ ایسے اندھے مورخین اور تبصرہ نگاروں کو اس پنپنے ہوئے ناسور کا احساس کیوں ہو۔ تہذیبی نرگسیت پر مذہبی شدت پسندی کا بگھار لگا ہے اور عوام کالانعام اسی میں خوش ہیں کہ اس قوم سے بہتر کوئی قوم نہیں۔ سب اچھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *