کوویڈیا بالم پدھارو مارے دیس

تحریر: وسعت اللہ خِان

خرابی کہہ لیں کہ خوبی کورونا وائرس کی اپنی دنیا، اپنے روپ، اپنی چالیں، اپنے بھیس اور اپنے اوقات ہیں۔ یہ کہاں سے نمودار ہوا ؟ کیوں ہوا ؟ پہلے کہاں تھا ؟ اب کہاں جا رہا ہے اور ہمیں بھی لے کر جا رہا ہے ؟ اس کے ہم زاد ، ممیرے، چچیرے کون ہیں، کتنے ہیں، ان کی شکلیں، واردات کے طریقے اور اگلے منصوبے کیا کیا ہیں؟

ہم سب فی الحال اندھیرے میں آنکڑوں کی لاٹھی ہی گھما سکتے ہیں۔ کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے ۔سوائے یہ کہ کوویڈ کا وجود ایک حقیقت ہے اور ایک مدت تک یہ حقیقت کولہے سے کولہا ٹکا کر رہنے آئی ہے۔

کوویڈ کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ دیگر وائرسوں کے برعکس یہ سرحدی لکیروں، کالے گورے پیلے، عربی عجمی، برہمن و شودر ، ظالم و مظلوم، امیر غریب ، جمہوری، آمری، فسطائی، مارکسی ، ملحد، مسلم، بت پرست، سکھ عیسائی کی تمیز، سائنسی و روحانی تقسیم، عورت، مرد ، ہم جنس ، نامرد میں فرق، وزیرِ اعظم، نائب قاصد، جنرل، اردلی، جج اور پیش کار کی شکل یاد نہیں رکھ سکتا۔ گویا نپٹ جاہل و بے مروت وائرس ہے ۔ پر کیا کریں؟ ہے تو مہمان ۔۔۔

چنانچہ کوویڈ اگر واپس اپنی دنیا میں لوٹنا بھی چاہے تو ہم ہرگز ہرگز اتنی جلدی اور آسانی سے لوٹنے نہیں دیں گے۔ ہماری تہذیبی روایت ہے کہ مہمان ہو کہ مرض آتا اپنی مرضی سے ہے اور جاتا ہماری رضا سے۔

پولیو وائرس کو ہی لے لیں۔ یہ کب کا کرہِ ارض چھوڑنے کو سامان باندھے بیٹھا ہے۔ سب قوموں نے اسے ہنسی ِخوشی رخصت بھی کر دیا۔ مگر کچھ افغان اور پاکستانی اسے خدا حافظ کہنے پر ہرگز تیار نہیں۔

میں نے جب بھی کہیں جانے کی اجازت چاہی

اس نے بڑھ کر میرا سامانِ سفر کھول دیا

( شاہدہ حسن )

یہی رویہ ہم دیسیوں کا کوویڈ کے ساتھ بھی ہے۔اتیتی یعنی مہمان خدا کی رحمت ہے لہذا گھر آئے مہمان کا دل رکھنے اور جیتنے کے لیے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ شروع شروع میں ہم میں سے بہت سوں نے کوویڈ کو وائرس سمجھنے سے ہی انکار کر دیا اور اسے ایک افسانہ، عالمی سازش اور دوا ساز کمپنیوں کا ایک اور جیب تراش ہتھکنڈہ قرار دے دیا۔پھر ہم نے کوویڈ کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ یہ پرہیز گار اور صاف ستھرے لوگوں کو متاثر نہیں کرتا لہذا شریف آدمی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ جب کچھ کچھ یقین آنے لگا کہ شاید یہ کوئی خطرناک وائرس ہے تو ہم نے فوراً کام آدھا آدھا بانٹ لیا۔

یعنی مشرق چونکہ دنیا کا روحانی امام ہے اس لیے وہ آسمان کی طرف ہاتھ جوڑ کر یا پھیلا کر مناجات و دعا کرے گا۔ مغرب چونکہ ملحد و مادیت پرست ہے لہذا وہ اپنی سائنس لڑا کر دوا کرے گا۔

سو ہم نے دعا کی اور انھوں نے دوا۔

یوں امید ہو چلی کہ کوویڈ اب خود ہی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رخصت مانگ لے گا۔ کئی ممالک سے کوویڈ کا مرحلہ وار انخلا شروع ہو بھی گیا۔ مگر ہم دیسی چونکہ فطری اور متشدد طبع مہمان نواز ہیں لہذا کوویڈ کا جو جو بھی ہم شکل جس جس ملک سے نکلا ہم نے اسے یوں گلے لگایا گویا وائرس نہ ہو فارمولا ون ریسنگ کار کا نیا ماڈل ہو اور مفت میں مل رہا ہو۔اس قدر دانی اور عزت افزائی کے ہوتے بھلے کوویڈ کا نیا برازیلین ماڈل ہو کہ انگلش ماڈل کہ جنوبی افریقی ماڈل یا پھر اب سری لنکن ماڈل۔ سب کے سب سیدھے بھارت اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں لینڈ کر گئے۔

اور اب ہم تشکر گزیدہ سوچ رہے ہیں کہ اگر سب نےخدا نخواستہ ماسک لگا لیا، چھ فٹ کا فاصلہ رکھ لیا، سینی ٹائزر کا مسلسل استعمال جاری رکھا، ویکسینیشن پروگرام کے لیے ترجیحاتی بجٹ اور مہماتی توانائی مختص کر دی، آکسیجن کی پیداوار دوگنی کرنے اور ملک کے اندر ہی ویکیسن سازی میں سرمایہ کاری کے بارے میں کوئی طویل المیعاد منصوبہ بنا لیا تو مہمان کہیں ناراض ہو کر چلا ہی نہ جائے۔لہذا ہم اس کی خوشنودی و دل جوئی کے لیے ہر وہ کام کر رہے ہیں جو ایسے موقعوں پر ہمیشہ ہماری روایت رہی ہے۔ مروت میں جان چلی جائے پر مہمان نہ جائے۔

ہر موڑ پے وا ہیں میری آنکھوں کے دریچے

اب دیکھنا یہ ہے کہ تو جاتا ہے کہاں سے

( جاوید صبا )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *