چین نامہ: جب پہلی بار اکیلے چینی سرزمین پر قدم رکھا

تحریر: تحریم عظیم

مشہور روایت ہے کہ تعلیم حاصل کرو اگرچہ چین جانا پڑے۔ بچپن میں یہ روایت پڑھتے ہوئے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن ہم خود تعلیم کے حصول کی خاطر چین پہنچ جائیں گے۔پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہم نے اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان سے باہر درخواستیں بھیجیں۔ 2، 4 ممالک بشمول چین سے جواب آگیا اور وہ جواب لے کر ہم اپنے والدین کے سامنے پہنچ گئے۔ اسکول سے یونیورسٹی تک وہ ہمیں پڑھائی کی اہمیت بتاتے رہے، لیکن اس دن یہ کام ہم کر رہے تھے۔ ہمارا کہنا تھا کہ خواتین کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی چاہیے، اس سے ان کے اندر مضبوطی آتی ہے، وہ دنیا کو بہتر طور سے سمجھ پاتی ہیں، انہیں روزگار کے اچھے مواقع میسر آتے ہیں اور وہ معاشرے کا فعال رکن بن سکتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے والدین ہر دلیل کے جواب میں ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ پڑھائی مکمل ہونے تک ہماری شادی کی عمر نکل جائے گی۔ہماری ہر دلیل کے جواب میں وہ ہمیں سمجھاتے کہ دیکھو تم پاکستانی ہو۔ یہاں عورت کی شادی کی ایک عمر ہوتی ہے اور کنواری لڑکیاں ایسے ملکوں ملکوں نہیں گھوما کرتیں بلکہ چپ چاپ گھر میں بیٹھتی ہیں، لہٰذا تم بھی بیٹھو۔ ہم اچھا سا لڑکا ڈھونڈ دیتے ہیں، اس سے بیاہ رچاؤ، اس کی خدمت کرو، کسی دن تمہارے حسنِ سلوک سے خوش ہوکر اگر اس نے تمہیں مزید پڑھنے کی اجازت دے دی تو پڑھ لینا ورنہ شوہر کی خدمت کرتی رہنا۔ اس سے زیادہ تم کیا چاہ سکتی ہو؟

ہم نے اپنی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں خود سے اتنی بڑی رکاوٹ لانے سے صاف انکار کردیا۔ ہمارے امی ابو نے بھی ہار مانتے ہوئے ہمیں جانے کی اجازت دے دی، اور یوں ہم نے فوراً چین کی ایک جامعہ کی طرف سے آئی ہوئی آفر قبول کرلی۔ہمیں تو بس پاکستان سے بہتر یونیورسٹی سے پڑھنا تھا۔ وہ چاہے چین میں ہوتی یا امریکہ میں، کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ہم نے چین جانے کی تیاری شروع کردی۔ کسی نے کہا وہاں کھانے پینے کی بہت تنگی ہے، جتنا ہوسکے کھانے کا سامان لے جاؤ۔ ہم نے اپنے بیگ مختلف قسم کی دالوں اور مصالحوں سے بھر لیے۔ جو تھوڑی بہت جگہ بچی اس میں چند کپڑے اور جوتے فٹ کردیے۔بالآخر وہ دن بھی آگیا جب ہمیں اپنے گھر والوں کو الوداع کہہ کر بیجنگ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ ہمیں اس لمحے احساس ہوا کہ اب ہم روزانہ یونیورسٹی سے واپسی پر گھر والوں سے ملاقات نہیں کرسکیں گے۔ چین میں مغرب کے بنائے گئے تمام سوشل میڈیا نیٹ ورکس بھی بند ہیں۔ ہمارے فون میں ایک وی پی این موجود تھا سو تسلی تھی لیکن چین پہنچ کر پتا چلا کہ مفت کے وی پی این بس پاکستان میں ہی کام کرتے ہیں، چین میں ان کی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی ہے۔بیجنگ میں اس وقت صرف ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہوا کرتا تھا، اب 2 ہیں۔ جہاز سے اتر کر بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی عمارت میں داخل ہوئے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ پاکستان میں رہتے ہوئے اتنے ترقی یافتہ چین کا سوچنا ناممکن تھا۔ چینی شاہکار بناتے ہیں اور ایئر پورٹ کی عمارت اس کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ ہر طرف صفائی ستھرائی اور چمک دمک۔ ہر جگہ چینی اور انگریزی زبان میں ہدایات درج تھیں۔ اپنے سے آگے والے مسافروں کے پیچھے چلتے چلتے امیگریشن بھی کروا لی اور سامان بھی اٹھا لیا۔ہمیں ایئر پورٹ سے یونیورسٹی خود جانا تھا۔ ہماری یونیورسٹی میں موجود ایک پاکستانی ہمیں اس حوالے سے معلومات دے چکے تھے کہ ایئرپورٹ سے یونیورسٹی تک کی ٹیکسی کیسے لینی ہے، لیکن کیا کریں اس وقت رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔ ہم نے اپنی زندگی میں رات کے اس پہر کسی بس، ٹرین، ٹیکسی یا رکشے میں سفر نہیں کیا تھا، تب کیسے کرلیتے؟

پاکستان میں اس وقت ایک عورت کا اکیلے ایئرپورٹ سے گھر جانا کتنی بڑی مشکل ہے، یہ عورتیں اور ان کے گھر والے تصور کرسکتے ہیں۔ ہم بھی اسی شش و پنج میں تھے کہ جانے یہاں کا کیا ماحول ہے۔ ابھی یونیورسٹی جائیں یا صبح کا انتظار کرلیں۔ تھوڑا بہت سوچا پھر وہیں کونے میں ڈیرا جما کر بیٹھ گئے۔ایئر پورٹ کے باہر ٹیکسیاں موجود تھیں لیکن ‘جانے کیا ہوگا( کا ڈر ہمیں روکے ہوئے تھا۔ صبح 5 بجے سورج نکلا تو ڈرتے ہوئے ایئر پورٹ سے باہر قدم نکالا۔ ایک ٹیکسی والے کو فون پر یونیورسٹی کا چینی زبان میں نام دکھایا۔ اس نے سرسری سی نظر ڈال کر مجھے سامان گاڑی کی ڈگی میں رکھنے کا اشارہ کیا۔ میں نے اپنے بھاری بھر کم بیگ دیکھے اور پھر اسے دیکھا، پھر خود سے کہا ’چین میں خوش آمدید)۔

ٹیکسی جانے کن رستوں سے گزر کے یونیورسٹی کے مغربی دروازے تک پہنچی۔ ہم نے جانے سے پہلے گوگل پر یونیورسٹی کا مرکزی دروازہ دیکھ رکھا تھا جو ہرگز وہ دروازہ نہیں تھا۔ ہم نے اسے پھر سے یونیورسٹی کا نام دکھایا تو اس نے اسی گیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ کہا۔ ہمیں بس یہی سمجھ آیا کہ ٹیکسی والا ہمیں جہاں بھی لے آیا ہے ہمیں بس اب یہیں اترنا ہے۔لہٰذا کرایہ ادا کیا اور ڈگی سے سامان نکالا۔ ٹیکسی والا شاید اسی انتظار میں تھا۔ وہ فوراً گاڑی بھگا لے گیا۔ ہم اپنے دونوں بیگ سنبھالتے ہوئے گیٹ کی طرف بڑھے۔ گارڈ کو یونیورسٹی کا نام دکھایا تو اس نے تصدیق کی کہ ہم صحیح جگہ پہنچے ہیں۔ اس کا فون لے کر یونیورسٹی میں موجود ایک پاکستانی صحافی اور طالب علم کو فون کیا۔ وہ کچھ ہی دیر میں گیٹ پر آگئے۔ ہمیں اپنے ساتھ ہمارے ہاسٹل تک لے کر گئے، رجسٹریشن کا عمل پورا کروانے کے بعد ہمیں ہمارے کمرے میں چھوڑ کر واپس چلے گئے۔اگلے روز وہ دوبارہ ملے۔ کہنے لگے آؤ کھانا کھانے چلتے ہیں۔ ہم رات کے بھوکے تھے اس لیے چپ چاپ ان کے ساتھ چل دیے۔ وہ ہمیں لے کر ایک قریبی مسلم ریسٹورینٹ پہنچے۔ ہم نے مینیو کارڈ دیکھا اور پھر ان کے سامنے رکھ دیا کہ کچھ گزارے لائق منگوا دو۔ انہوں نے بیف فرائڈ رائس آرڈر کردیے۔ تھوڑی دیر بعد جو ڈش ہمارے سامنے آئی وہ دکھنے میں خاصی مناسب تھی لیکن اس وقت ہم جس ذہنی حالت کا شکار تھے، اس سے بالکل انصاف نہ کرسکے۔ہماری دنیا میں باسمتی کے علاوہ کوئی چاول نہیں تھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ ہم لمبے خوشبو دار باسمتی چاول کے علاوہ کوئی اور چاول دیکھ اور کھا رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *