موت کی دہلیز پر

زندگی لٹکی ہو ئی ہے موت کی دہلیز پر

آگ بھی دہلیز پر ہے خون بھی دہلیز پر

دیں کی خاطر فرقہ بندی تفرقہ فتنہ فساد

بے یقینی ،خوف ، دھوکا دھاندلی دہلیز پر

فصل کاٹو اب مکافاتِ عمل کا دور ہے

آگیا منہ زور طوفاں اب تری دہلیز پر

جتنے باعث تھے عذابوں کے وہ سب یک جا ہوئے

کیوں نہ پھر قہر خدا آتا تری دہلیز پر

کیا ترقی اس طرح کی ہے کسی بھی قوم نے؟

سیم و زر ایواں میں علم و آگہی دہلیز پر

لگ گیا ہے خون منہ کو پڑ گئی پیسے کی لَت

اس لئے اتنی تباہی آ گئی دہلیز پر

چاہئے تیری حفاظت ،تیری نصرت اور رحم

رکھ دیا ہے اپنا سر مولیٰ تری دہلیز پر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امۃ الباری ناصر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *