”مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو“ یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن (تاریخی پس منظر)

تحریر:ابن قدسی

اٹھارہ سو تہتر کی کساد بازاری نے مزدوروں کے حالات کو ناقابل برداشت حد تک سنگین بنادیا، بھوک و افلاس کا شکار مزدور روٹی، کپڑا اور مکان کے حصول کیلئے مظاہرے کرنے لگے۔امریکہ سے اس کا آغاز ہوا۔ 1880ء کے دوران یورپ،شمالی اور لاطینی امریکہ، جاپان، آسٹریلیا و دیگر ممالک میں بھی مزدور اپنے حقوق کے تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے سرگرم ہو گئے، 1882ء میں جاپان کی ٹراموے ورکرز کی ایک بہت بڑی ہڑتال ہوئی مزدور لیڈر گومبرسنے دنیا بھر کے مزدوروں کو ایک ہو جاؤ مزدوروں کا نعرہ دیا، اس کی فیڈریشن نے اجتماعی جدوجہد کے باقاعدہ آغاز کیلئے 1884ء میں ایک بڑا کنونشن شکاگو میں طلب کیا، اس موقع پر کی جانیوالی ہڑتال دنیا کی پہلی سب سے بڑی عام ہڑتال ثابت ہوئی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ یکم مئی1886ء سے مزدوروں کے اوقات کار 8گھنٹے مقرر کئے جائیں، یہ بھی فیصلہ ہوا کہ اس مطالبہ کو پورا نہ کرنے کی صورت میں یکم مئی 1886ء کو بھی عام ہڑتال ہو گی۔اس منعقدہ کنونشن 1884تا 1886ء کے دوران امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ایک لاکھ سے زائد کارکنوں نے 22ہزار مختلف جگہوں پر3092ہڑتالیں ہوئیں جبکہ صرف امریکہ میں 5ہزار ہڑتالیں کی گئیں، جن میں تقریباً 3لاکھ 50ہزار مزدور حصہ لے رہے تھے، ماسکو میں 1885ء اور فرانس میں 1886ء میں ہونیوالی ہڑتالیں بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھیں مگر اس وقت کی حکومتوں نے مزدوروں کے ان مطالبات کو نہ تو کوئی اہمیت دی بلکہ مزدوروں کے مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے ہڑتالیں ختم کرنے کیلئے ایسے اقدامات اٹھائے کہ جن سے مزدوروں کی اپنے حقوق کیلئے جاری پر امن تحریک اشتعال انگیزی کا شکار ہوتی چلی گئی، یکم مئی 1886ء میں ہڑتال کا آغاز اسکارپک ہاروسٹر کمپنی شکاگو سے ہوا ان دنوں شکاگو ایک بڑا صنعتی شہر ہونے کے باعث مزدور تحریکوں کا مرکزتھا یکم مئی کے اس مظاہرے میں 80ہزار مزدوروں نے حصہ لیا۔سرمایہ داروں نے ہڑتال کو ناکام بنانے کیلئے بھر پور کوشش کی مگر ہڑتال کامیابی سے جاری رہی۔ بالٹی مور، واشنگٹن، نیویارک اور ہیوسٹن جیسے بڑے شہروں میں لاکھوں مزدوروں نے سڑکوں پر  آ کر احتجاجی مظاہرے کرنے کے ساتھ اپنے حقوق کیلئے جلوس نکالے، ان احتجاجی مظاہروں میں سرمایہ داروں اور حکومتی ایماء پر پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی فائرنگ سے متعدد مزدور ہلاک ہوگئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہونیوالے مزدوروں کی بڑی تعداد فوری اور موثر علاج معالجہ نہ ہونے کے باعث معذوربھی ہوئے اس صورت حال کے باوجود سرمایہ دار اور حکمران مزدوروں کو حقوق کی فراہمی کیلئے قطعی تیار نہ تھے اوراستحصال زدہ مزدور طبقہ بھی کسی صورت اپنے حقوق کی جنگ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا، تیسرے روز یعنی 3مئی کو شکاگو میں لاکھوں مزدور احتجاجی اجتماع میں شریک تھے جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کی زد میں آکر 4مزدور ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔اس واقعہ کے خلاف بھی 4مئی کو یوم احتجاج منایا گیاجس کے اختتام پر ایک پولیس آفیسر نے وہاں پہنچ کر احتجاج ختم کرنے اور پرامن منتشر ہوجانے کا حکم دیا بات بنتی دکھائی نہ دی تو پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر احتجاجی اجتماع میں دستی بم پھینکا جس سے پولیس کا اپنا ہی ایک سپاہی مارا گیا بعد ازاں پولیس نے اس واقعہ کو جواز بنا کر مزدوروں کی پر امن ریلی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں شکاگو کی سرزمین ان غریب محنت کش اور نہتے مزدوروں کے خون سے لہو رنگ ہو گئی جبکہ سینکڑوں مزدوروں کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا گیا، ستم بالائے ستم کہ اس واقعہ کی بھی ذمہ داری محنت کشوں پر ڈالتے ہوئے گرفتار شدہ 5مزدور رہنماؤں کو پھانسی اور دو کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، شکاگو کی جیل بے گناہ مزدوروں سے کچھا کھچ بھر گئی، دوران قید مزدوروں پر اس قدر وحشیانہ جسمانی تشدد کیا گیا کہ ایک مزدور تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا جبکہ درجنوں مزدور اپاہج ہو گئے۔

سانحہ شکاگو کی باز گشت پوری دنیا تک پہنچی اور دنیا بھر کے مزدوروں نے امریکی مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جس پر بعدازاں حکومت نے اپنے اٹھائے گئے مذموم اور پر تشدد اقدامات پر مزدوروں سے معافی مانگی اور مزدور رہنماؤں کو پولیس اہلکار کے قتل میں سنائی گئی پھانسی و عمر قید کے فیصلے واپس لے لئے، 1888ء میں ہونیوالی ایک یونین کانفرنس میں 8گھنٹہ یومیہ کام کرنے کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، 1889ء میں کانگرس نے یکم مئی 1890ء کو مزدوروں کے دن کو بین الاقوامی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا، اپریل 1890ء میں چیکو سلواکیہ میں 30ہزار سے زائد کارکن ہڑتال کا حصہ بنے اور تا دم تکمیل مطالبات تک یہ سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، 1890ء میں تاریخ عالم کا پہلا یوم مئی مزدور ڈے کے حوالے سے منایا گیا جس میں دنیا بھر کے لاکھوں مزدوروں نے حصہ لیا اور اپنے بھرپور اتحاد کا مظاہرہ کیا اور اس وقت سے لیکر اب تک یہ دن دنیا بھر کے مزدوریکم مئی عزم اور حوصلہ کے ساتھ مناتے ہیں اس جدوجہد کے نتیجہ میں 1919ء میں آئی ایل او کا وجود عمل میں آیا، اوقات کار روزانہ 8گھنٹے مقرر کئے جانے کیساتھ ساتھ محنت کشوں کے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حقوق بھی تسلیم کئے گئے۔

مزدوروں اور غریبوں کے بارے میں اسلامی تعلیمات

اٹھارویں صدی میں مزدوروں کے حق میں اٹھنے والی اس آواز کو اتنی اہمیت دی گئی مگر اسلام نے اس سے کئی صدیاں پہلے مزدور اور محنت کش کو معاشرے میں غیر معمولی اہمیت دی ہے اور اس حوالے سے تفصیلی ہدایات دی ہیں۔کسی بھی معاشرے میں سب سے کمزورطبقہ ان مزدوروں،محنت کشوں اور غرباء کا ہوتا ہے حالانکہ کسی بھی معاشرے میں ان کے کردار کی اہمیت کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔معاشرے میں تمام لوگ ہی امراء میں شامل ہوجائیں تو وہ یقینا ان پیشوں کو اپنانے سے اجتناب کریں گے جن کے بغیر معاشرے کی خدوخال ہی قائم نہیں رہتی۔وہ تعمیراتی کام ہوں یا بنیادی ضروریات اور عام استعمال کی چیزوں کی فراہمی۔ایک صفائی کے پیشہ کو ہی معاشرے سے نکال دیا جائے تو اس کے بعد پیدا ہونے والی ابتری سے معاشرے کی شکل وصورت ہی بدل جائے گی۔اس کے لیے سب سے پہلے غریبوں کے اندر یہ احساس پیدا کرنا ضروری ہے کہ ان کا بھی معاشرے میں ایک عزت کا مقام ہے اور ان کے اندر موجود احساس محرومی کا مداوا کیا جائے۔پھر ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

رسول کریم ﷺ کی غریب پروری

قرآن کریم اور احادیث میں اس طبقہ کا خیال رکھنے کے متعلق ہدایات موجود ہیں۔رسول کریم ﷺ نے اپنے اسوہ سے عملی رنگ میں ہدایات دیں ہیں۔رسول کریم ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں نورِ نبوت عطا ہوا۔جس وقت آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی اس وقت آپ ﷺحضرت خدیجہ ؓ کے پاس گئے۔آپ ﷺکسی قدر متفکر تھے تو انہوں نے آپﷺ کو ان الفاظ سے تسلی دی۔

”خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا۔آپ ؐ صلہ رحمی کرتے ہیں،کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔جو خوبیاں معدوم ہوچکی ہیں ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،مہمان نواز ہیں،ضروریات حقہ میں امداد کرتے ہیں۔“

(بخاری کتاب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ)

معاشرے میں موجود کمزور طبقہ کا خیال رکھنے کا وصف بعثت سے پہلے ہی آپﷺ میں موجود تھا۔بعثت سے قبل مکہ میں مظلوموں کی امداد کے لیے ہونے والے معاہدہ حلف الفضول میں بخوشی شمولیت بھی اسی وصف کو اجاگر کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبوت ملنے کے بعد آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی اکثریت اسی طبقہ سے تعلق رکھتی تھی۔انہیں جب یہ پیغام دیا گیا کہ ایک خدا ہے جس کی ہم سب مخلوق ہیں اس لیے بحیثیت انسان سب کے حقوق برابر ہیں تو اس بات نے آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں کالے،گورے،امیر،غریب سب کو شامل کر دیا۔غرباء کو مساوی حقوق ملنے پر ان میں عزت نفس قائم ہوئی ان میں آگے بڑھنے اور معاشرے کی تعمیر وترقی میں پہلے سے بہتر کردار ادا کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔یہ صرف کہنے یا سننے کی باتیں نہیں تھیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جہاں ان باتوں کی عملی تصویر دکھائی دیتی ہے۔

ایک غلام کا اپنے والدین پر اپنے آقا کو ترجیح دینا

رسول کریم ﷺ کے زمانے میں غلام محنت کشی کے لیے ہوتے تھے۔ حضرت زید ؓ رسول کریم ﷺ کے غلام تھے۔عمر چھوٹی تھی۔ان کے والد انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور حضرت زید ؓ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔رسول کریم ﷺنے بخوشی ان کے لے جانے پر رضامندی کا اظہار فرمایا۔ لیکن حضرت زید ؓ نے جانے سے انکار کردیا اور رسو ل کریم ﷺ کی غلامی میں زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ایک طرف والدجو ڈھونڈتے ہوئے وہاں آیا اور دوسرے طرف آقا۔ایک غلام کااپنے والد کو چھوڑ کر آقا کو منتخب کرنا بتاتا ہے کہ اس نے اس شفیق آقا میں وہ چیز دیکھی جواسے والد کی شفقت سے زیادہ محسوس ہوئی۔اور آزادی کے بجائے غلامی کو پسند کیااور آقا کی شفقت کو نہیں چھوڑا۔اس دور میں جہاں غلام کو جانوروں سے بدتر سمجھا جاتا تھا اس معاشرے میں غلامی کی اس قدر توقیر قائم کرنا صرف رسول عربی ﷺ کا ہی کام ہے۔دنیا کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اسی زید ؓ کو رسول کریم ﷺاپنالے پالک بیٹا بناتے ہیں۔پھر اسی زید ؓ کے بیٹے اسامہ ؓ کو رسول کریم ﷺنے اپنی وفات سے پہلے ایک ایسے لشکر کا امیر مقرر کیاجس میں کبار صحابہ ؓ شامل تھے۔گویا رسول کریم ﷺ نے ابتداء سے لے کر وفات تک غلاموں کی عزت وتوقیر کو قائم کیا۔

اللہ کے نزدیک تو تو ناقص مال نہیں

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک دیہاتی اکثر آنحضرت ﷺ کے لئے گاؤں کی چیزیں تحفہ کے طور پر لایا کرتا تھا اور آپ ؐ بھی اس کی واپسی پر شہر کی کوئی نہ کوئی سوغات ضرورعنایت کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ ؐ نے فرمایا ”زاہر ہمارے لئے دیہات ہے اور ہم اس کے لئے شہر ہیں“حضور ؐ کو زاہر سے بے حد انس تھا۔زاہر کی شکل وصورت اچھی نہ تھی۔ایک دن وہ اپنا سودا بیچ رہاتھا کہ حضور ﷺ پیچھے سے آئے اور بے خبری میں اس کی آنکھیں موند لیں۔اس نے کہا کون ہے مجھے چھوڑ دے۔مگر جب مڑ کر دیکھا تو آنحضرت ﷺ تھے جس پر وہ اپنی کمر حضور ﷺ کے سینہ مبارک پر ملنے لگا۔آپ ؐ نے فرمایا یہ غلام کون خریدتا ہے۔زاہر کہنے لگا یا رسول اللہ!تب تو آپ مجھے ناقص مال پائیں گے۔آپ ؐ نے فرمایا مگر اللہ کے نزدیک تو تو ناقص مال نہیں ہے۔“(شمائل الترمذی باب فی مزاح رسول اللہ ﷺ)ایک محنت کرنے والے شخص کی یہ عزت کہاں نظر آتی ہے۔

غریب اور محنت کش کی عزت نفس

آپ ﷺ نے معاشرے میں اپنے آپ کو سب سے کمزور سمجھنے والے کی کس طرح عزت نفس قائم فرمائی۔آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ”ہر کمزور اور ضعیف آدمی جنتی ہے“(بخاری)آپ ؐ غرباء کو کھانے وغیرہ کی دعوتوں میں بلانے کی تحریک کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ”وہ دعوت بہت بری ہے جس میں صرف امراء کو بلایا جائے اور غرباء کو شامل نہ کیا جائے۔“(بخاری)حضرت معاویہ ؓ بن حکم نے بکریاں چرانے والی لونڈی کو اس بات پر تھپڑ مار دیا کہ ایک بکری بھیڑیا لے گیا۔رسول کریم ﷺ کے سامنے ذکر ہوا تو آپ ؐ پر یہ بات بہت گراں گزری۔معاویہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اسے آزاد نہ کردوں؟آپ ؐ نے اسے آزاد کرنے کا ارشاد فرمایا۔ (مسلم) غرض کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ کے سامنے کسی مظلوم،غریب،بے کس کا ذکر ہوا تو آپ ؐ جس حد تک بھی ممکن ہو اس کی مدد نہ فرمائی ہو۔بے کس خواہ کسی ملک اور قوم کا ہو اس کی مظلومیت کا حال سن کر آپ ؐ بے چین ہوجاتے تھے۔مہاجرین حبشہ جب مدینہ واپس لوٹے تو نبی کریم ؐ نے اس نے دریافت فرمایا کہ ملک حبشہ میں تم نے کیا کچھ دیکھا۔وہاں کی کوئی دلچسپ بات تو سناؤ ایک نوجوان نے یہ قصہ سنایا کہ ایک دفعہ ہم حبشہ میں بیٹھے تھے۔ایک بڑھیا کا ہمارے پاس سے گزر ہوا۔اس کے سر پر پانی کا ایک گھڑا تھا وہ ایک بچے کے پاس سے گزری تو اس نے اسے دھکا دیا اور وہ گھنٹوں کے بل آگری۔گھڑا ٹوٹ گیا۔بڑھیا اٹھی اور اس بچے کو کہنے لگی اے دھوکے باز بدبخت! تجھے جلد اپنے کئے کا انجام معلوم ہوجائے گا جب اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر جلوہ افروز ہوگا اور فیصلہ کے دن پہلوں اور پچھلوں سب کو جمع کرے گا۔ہاتھ اور پاؤں جو کچھ کرتے تھے خود گواہی دیں گے۔تب تمہیں میرے اور اپنے معاملے کا صحیح علم ہوگا۔رسول اللہ ؐ نے جوش ہمدردی سے فرمایا اس بڑھیا نے سچ کہا اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیسے برکت بخشے اور پاک کرے گا جس کے کمزوروں کو طاقتوروں سے ان کے حق دلائے نہیں جاتے۔(السیرۃ الحلبیہ)

ضرورت مند کو سوال سے بچانے کے لیے رسول کریم ؐ فرمایا کرتے کہ میرے تک مستحقین کی سفارش پہنچا دیا کرو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔باقی اللہ جو چاہے گا اپنے رسول کی زبان پر اس ضرورت مند کے بارہ میں فیصلہ فرمائے گا۔(بخاری)

آپ ؐ کو غریبوں کا بہت زیادہ خیال رہتا تھا۔حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک غریب مسجد میں آیا۔رسول اللہ ؐ نے صدقہ کی تحریک فرمائی کہ لوگ کچھ کپڑے صدقہ کریں۔لوگوں نے کپڑے پیش کر دیئے۔حضور ؐنے دو چادریں اس غریب کو دے دیں۔اس کے بعد آپ ؐ نے پھر صدقہ کی تحریک فرمائی تو وہی غریب اٹھا اور دو میں سے ایک چادر صدقہ میں پیش کر دی۔رسو ل اللہ نے اسے بآواز بلند فرمایا کہ اپنا کپڑا واپس لے لو۔(ابو داؤد)

مقروض کا خیال

انسان کاروبار کرتا ہے۔محنت سے روزی روٹی کا بندوبست کرتا ہے لیکن بعض اوقات کاروبار میں نقصان ہوجاتا ہے اورنقصان  اس قدر ہوتا ہے انسان مقروض ہوجاتا ہے۔ایسے وقت میں اگر اسے سنبھال لیا جائے تو معاشرے کا ایک مفید وجود ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے۔ رسول اللہ ؐ کے زمانے میں ایک شخص نے پھلوں کے کاروبار میں بہت نقصان اٹھایا۔قرض بہت زیادہ ہوگیا۔نبی کریم ؐ نے اس کے لیے صدقہ کی تحریک فرمائی لوگوں نے صدقہ دیا مگر جتنا قرض تھا اتنی رقم اکٹھی نہ ہوسکی۔رسول اللہ ؐنے قرض خواہوں کو فرمایا کہ جو ملتا ہے لے لو۔باقی چھوڑ دو اور معاف کردو۔(احمد)

مزدور اور غریب کا رشتہ

کبھی غربت کسی کو معاشرے کا حصہ بننے میں رکاوٹ ڈال دیتی ہے۔اس طرح کامعاملہ بعض اوقات رشتہ کرتے ہوئے سامنے آجاتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے ایک غریب صحابی جلبیب کے رشتہ کا پیغام ایک انصاری لڑکی کے والد کو بھجوایا۔وہ کہنے لگے میں اس کی ماں سے مشورہ کرونگا۔اس آدمی نے جب بیوی سے مشورہ کیا تو وہ کہنے لگی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم جلبیب جیسے غریب آدمی کو رشتہ دے دیں حالانکہ اس سے پہلے ہم اس سے بہتر رشتہ رد کر چکے ہیں۔لڑکی پردے میں سن رہی تھی کہنے لگی کیا تم رسو ل اللہ ﷺ کے حکم کو موڑو گے،اگر حضور راضی ہیں تو نکاح کر دو۔چنانچہ اس کے والد نے جاکر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ بچی راضی ہے اس لئے ہم بھی راضی ہیں۔یوں آپ ﷺ نے جلبیب کی شادی کروادی۔ (احمد)کئی اور مواقع پر آپ ﷺ نے غرباء کا رشتہ کروایا۔اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید ؓ کا رشتہ اپنے رشتہ داروں میں کروایا۔آپ ﷺ نے یہ بھی تلقین کی کہ رشتہ کرتے وقت دین داری کو ترجیح دو۔

بنیادی سہولیات کی فراہمی کی تعلیم

قرآن میں ایسی تعلیم ہے جس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں محنت کش اور غرباء کا طبقہ بنیادی سہولیات کو بڑی آسانی سے حاصل کر لیتا ہے۔ قرآن کریم نے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا اور یہ حکم صرف ایک دفعہ نہیں دیا بلکہ اسے بار بار دہرایا ہے۔ زکوۃ کیا ہے؟ زکوۃمال داروں سے لی جاتی ہے اور اسے غرباء پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اس طرح دولت چند افراد تک محدود نہیں ہوتی بلکہ جتنا کوئی زیادہ مال جمع رکھتا ہے اسے اتنی ہی زیادہ زکوۃ دینی پڑتی ہے۔دولت کی اس تقسیم سے سب سے زیادہ فائدہ غرباء کو ہوتا ہے۔اگر صاحب نصاب لوگ باقاعدگی اور دیانت داری سے زکوۃ دیتے رہیں تو غرباء کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کا دائرہ بھی بہت وسیع بن سکتا ہے۔

کمزور طبقہ پر مال خرچ کرنے کی اسلامی تعلیم

غریب کا خیال نہ رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اس طبقہ کے ساتھ وابستہ مفادات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ ایک امیر کیوں اپنا مال غریب کو دے۔قرآن کریم نے غرباء کا خیال رکھنانیکی بلکہ بڑی نیکی شمار کیا ہے۔ان سے حسن سلوک کے نتیجہ میں خدا خوش ہوتا ہے۔خدا کے رضا کی خاطر ہونے والے کام میں دنیاوی اغراض معدوم ہوجاتے ہیں۔جس کی وجہ سے انسان دلی خوشی اور بشاشت سے وہ کام کرتا ہے اور اسے اموال کے خرچ کے بعد کسی قسم کا لالچ نہیں ہوتا سوائے خدا کی رضا کے ۔

اسلامی تعلیم کا حسین امتزاج

اسلام کی غریب پروری کی تعلیم میں بڑاہی حسین امتزاج ہے۔ایک طرف توعزت وتوقیر قائم کرتے ہوئے ان کا خیال رکھنے اور ان پر مال خرچ کرنے کی تلقین فرمائی۔اس کا ایک نتیجہ یہ نکل سکتاتھا کہ معاشرہ میں غرباء کی تعداد زیادہ ہوجاتی اور محنت مزدوری ترک کردیتے۔اس لیے اسلام نے غریبوں کی عزت وتوقیر قائم کرنے کے بعدان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور خود اپنی روزی کمانے کی مسلسل تلقین فرمائی تاکہ کوئی بھی طبقہ معاشرے پر بوجھ نہ بنے۔بہت سے لوگ مزدوروں سے ان کی طاقت اور وسعت سے زیادہ کام لیتے ہیں یہ طریقہ بھی پسندیدہ نہیں ہے، اس سلسلے میں اسلام کی ہدایت یہ ہے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان کی وسعت اور طاقت سے زیادہ ان کو کسی کام کا مکلّف مت بناو اور اگر مکلّف کر تو (اس کا م میں) ان کی مدد بھی کیا کرو۔

(صحیح البخاری: 1/52، رقم الحدیث:29)

اسلامی تعلیمات میں مزدوروں،محنت کشوں،غریبوں اور کمزور وں کے بارے میں ایسے حسین تعلیم ملتی ہے جس کا عشر عشیر بھی کہیں اور نظر نہیں آتا۔مزدوروں کے نام سے ایک دن مقرر کر لینے سے ان کے حقیقی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان کا حل اسلام کی حقیقی اور فطرتی تعلیم میں ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *