غزل

آرہی ہے کہیں سے بو تیری

دل میں اٹھی ہے آرزو تیری

اے حسیں پھول ایک کانٹے نے

دیکھ رکھ لی ہے آبرو تیری

کس کی بخشش ہے یہ بتا سورج

روشنی ہے جو چارسو تیری

یہ حرارت نہ کل رہے شاید

جو رگوں میں ہے اے لہو تیری

تو ملی گا تو میں سنا دوں گا

تجھکو روداد روبرو تیری

کل جو قاتل ملا تھا رستے میں

اس کی صورت تھی ہوبہو تیری

ساز خوش ہو کہ اس سلیقے سے

لوگ کرتے ہیں گفتگو تیری

نسیم ناز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *