’’علامہ‘‘ بننے کا شوق

تحریر: حسن نثار

عقل و دانش، فہم و فراست، محنت، مشقت، دیانت، نظم و ضبط، حصولِ علم و ہنر یعنی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو تو ماریں گولی اور بھیجیں ہزار لعنت۔۔۔ اغیار اور کفار تو بہت ہی عام، بہت ہی معمولی بلکہ گھٹیا باتوں میں بھی ہمیں بری طرح پچھاڑ کر بازی لے جا چکے۔

کبھی جدید ترین خوراکوں پر غور کیا جسے وہ خود ’’جنک فوڈ‘‘ کہتے ہیں لیکن اقبال کے شاہین ان کے علاوہ کچھ کھانے کو ہی تیار نہیں۔ کیا ہیں یہ پیزے، برگر، سینڈوچ، پاستے، نوڈلز، نگٹس، WRAPS، برائونیز ڈونڈز وغیرہ۔ کہاں گئے پراٹھے اور پنجیریاں، کڑھیاں اور مونگچیاں، ساگ اور میتھیاں۔ نئی نسل ادھ رڑکے اور کانجیاں بھول کر کولے پیتی ہے اور شلوار کرتے، کھسے، گرگابیاں تیزی سے قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔ ڈھنگ کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم لڑکے لڑکیاں نہ اردو پڑھ سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔ بیشتر ٹی وی پروگرامز مغرب کے اُگلے ہوئے نوالے جن کے نام عنوان تک انگریزی میں ہیں۔ اپنے تہواروں سے دلچسپی نہ ہونے کے برابر اور اگر میں کہوں کہ شہری ایلیٹ کے بچوں میں ویلنٹائنز ڈے وغیرہ کی کہیں زیادہ پذیرائی ہے تو میں زیادہ سے زیادہ کتنا غلط ہو سکتا ہوں؟ کوئی ہے جو سیل فون سے متعلق تمام تر اصطلاحات کا عربی نہ سہی اردو پنجابی زبانوں میں ہی ترجمہ کر کے ثوابِ دارین حاصل کر سکے۔کبھی اپنی موجودہ موسیقی اور گلوکاروں پر غور کریں اور سوچیں کیا یہ واقعی ’’اپنا‘‘ ہے یا اغیار و کفار کے چربوں کے چربے کا چربہ ہے۔ ٹی وی پر کبھی اپنی یوتھ کو آپس میں انٹر ایکٹ انٹر فیس کرتے دیکھیں اور پھر دیانتداری سنجیدگی سے سوچیں کہ یہ کن کی غیرمصدقہ فوٹو کاپیاں ہیں۔ ایسا ایسا جوکر ایسے ایسے حلیے میں دکھائی دیتا ہے کہ کوئلوں پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں نے اپنے اک جاننے والے اینکر نما کو کسی واجبی سے نوجوان کا انٹرویو کرتے دیکھا جس میں وہ اسے بار بار ’’ہارٹ تھروب‘‘ قرار دے رہا تھا۔ میں نے بیزار ہو کر ٹی وی چینل تبدیل کر دیا۔ چند روز بعد اس اینکر نما سے ملاقات ہو گئی تو میں نے بڑی ملائمت سے پوچھا ’’کیا تمہیں ہارٹ تھروب‘‘ کا مطلب معلوم ہے؟‘‘ پھر میں نے اسے وہ ’’انٹرویو‘‘ یاد دلا کر پوچھا کہ ’’تمہارا وہ ونگا چبا سا ہارٹ تھروب تھا کون؟‘‘ اس پر مجھے بتایا گیا کہ وہ ایک مقبول ڈرامہ آرٹسٹ ہے تو میں حیران رہ گیا اور اسے سمجھایا کہ اگر تم نے کبھی سنتوش کمار، درپن، سدھیر، محمد علی، وحید مراد کو دیکھا ہوتا تو تم اسے گن پوائنٹ پر بھی ہارٹ تھروب کبھی نہ کہتے۔ جسے دیکھو WEST کی غیر مصدقہ فوٹو کاپی بنا پھرتا ہے۔ مجال ہے جو کہیں کوئی شے اوریجنل بھی دکھائی دے۔

یہ ساری پسماندگی، پژمردگی، نقالی صرف شوبز تک ہی محدود نہیں۔ ہر جگہ افلاس اپنے عروج پر ہے۔ ہمارا لٹریسی ریٹ شرمناک حد تک کم ہے لیکن قدم قدم پر ’’علامے‘‘ اس کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ گننا مشکل ہے۔ علم سارا ویسٹ میں ہے لیکن دنیا بھر کے علامہ حضرات یہاں پائے جاتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ ہم اتنے علاموں کے ہوتے ہوئے اس بری طرح راندئہ درگاہ کیوں ہیں اور اغیار اتنی جہالت کے باوجود چاند اور مریخ تک کیسے پہنچ گئے۔ پھر خیال آتا ہے شاید ہمارے حکمرانوں نے کبھی ان ’’علاموں‘‘ سے استفادہ ہی نہ کیا ہو جس کی سزا قدرت ان کو اس طرح دے رہی ہے کہ کسی بھی قسم کی ٹیکنالوجی کے لئے انہیں کفار و اغیار کے ہاتھوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ سمندر سے تیل اور ریکوڈک سے سونا نکالنے کے لئے اربوں کھربوں کے ٹھیکے یہ غیر ملکیوں کو کیوں دیتے ہیں؟ ہزار پانچ سو علامہ پکڑ کے ان کے پائوں پکڑ لیں اور چٹکیوں میں سارے مسائل حل کرا لیں۔ جدید اسلحہ کیلئے بھی ہمیں اپنے حریفوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اول تو ’’مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ لیکن اگر جدید ترین اسلحہ اتنا ہی ضروری ہے تو ہم اپنے علاموں سے مدد کیوں نہیں لیتے۔

مجھے آج تک اس تاریخی حقیقت کی سمجھ بھی نہیں آسکی کہ ’’شمس العلماء‘‘ تو سارے کے سارے ہمارے پاس تھے تو ہم لوگ ان کے غلام کیسے ہو گئے جن کے پاس ایک بھی ’’شمس العلماء‘‘ موجود نہیں تھا۔ جدید میڈیکل سائنس میں ساری کونٹری بیوشن غیروں کی جبکہ ہمارے پاس ’’زیدۃ الحکماء‘‘ ختم ہونے میں ہی نہیں آتے۔

آخر میں اپنی جہالت کا اعتراف کہ میں نہیں جانتا ’’علامہ‘‘ کہاں سے تیار ہو کر نکلتے ہیں کیونکہ مجھے بھی علامہ بننے کا بہت شوق ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ اس کیلئے کہاں داخلہ لے کر کیا پڑھنا پڑتا ہے بلکہ کیا کیا کچھ پڑھنا پڑتا ہے۔

’’بڑی مشکل سے ہوتے ہیں چمن میں دیدہ ور پیدا‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *