رکھتا ہے وہ افطار میں کیا کیا میرے آگے

اطہر حفیظ فراز

اک نعمت عظمیٰ ہے یہ روزہ میرے آگے

میں پیاس کا صحرا ہوں تو دریا میرے آگے

ہر وقت فحش گوئی سے بچنا مجھے لازم

تب جا کے نکلتا ہے نتیجہ میرے آگے

دن بھر جسے چھوڑا ہے فقط اس کی رضا میں

رکھتا ہے وہ افطار میں کیا کیا میرے آگے

منزل پہ تو کلیاں ہیں، شگوفے ہیں، شجر ہیں

گرچہ ہے یہ پرخار سا رستہ میرے آگے

میں کون ہوں، کیا ہوں، کس غرض سے ہوں میں

ہر آن جو رکھتا ہے یہ شیشہ میرے آگے

روزے کے توسط سے جزا خاص. ملے ہے

اے کاش کہ ہو جلوہ مولی میرے آگے

اک یار مہربا.ں پہ ہےقربان سبھی کچھ

یہ جام و سبو، ساغر و بادہ میرے آگے

دل دے کے فراز !! اس کی محبت کو سمیٹا

ہر چند کہ آنکھوں میں تھی دنیا میرے آگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *