دینی مواد اسلامیات تک محدود کرنے پر اعتراض کیوں؟

تحریر: محمد بلال غوری

پشاور کا ’’آل سینٹ چرچ‘‘22ستمبر 2013ء کو خودکش حملے سے لرز اُٹھا۔ دو خودکش بمباروں نے عبادت میں مصروف پاکستانیوں کے چیتھڑے اُڑا کر رکھ دیے۔ اس حملے میں 127بےگناہ افراد شہید ہوئے۔ اقلیتی برادری پر ڈھائے گئے ستم نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور تقریباً 16سماعتوں کے بعد اُس وقت کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے 19جون 2014ء کو ایک تاریخی فیصلہ صادر فرمایا۔ اس فیصلے میں تصدق جیلانی صاحب کی نظم ’’انصاف سب کے لئے‘‘ بھی شامل ہے جسے عدالتی نغمہ قرار دیا گیا۔ اس فیصلے میں نہ صرف مسائل کی نشاندہی کی گئی بلکہ ان کے حل کے لئے قابلِ عمل اقدامات بھی تجویز کئے گئے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں ایک ٹاسک فورس، قومی کونسل برائے اقلیتی حقوق، اقلیتی کمیشن اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لئے ایک مخصوص پولیس فورس تشکیل دیے جانے کے علاوہ بیشمار احکامات صادر کئے گئے مگر برسہا برس گزرنے کے باوجود اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ چند ماہ قبل جسٹس(ر) تصدق جیلانی کے گھر ہونے والی گفتگو کے دوران اس فیصلے کا ذکر ہوا تو سابق چیف جسٹس نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ فیصلہ پشاور کے اس چرچ میں جاکر سنانا چاہتا تھا جہاں حملہ ہوا کیونکہ اس کی اپنی علامتی اہمیت ہوتی مگر مجھے بتایا گیا کہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں۔ جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی نے پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سیکورٹی خدشات کو نظرانداز کرکے پشاور چرچ جانا چاہئے تھا۔ 2019ءکے آغاز میں سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ایک بار پھر ازخود نوٹس لیا اور حکومت سے وضاحت طلب کی کہ 19جون 2014ءکے فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3رُکنی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے دیانت داری کے حوالے سے مشہور بیوروکریٹ ڈاکٹر شعیب سڈل کی سربراہی میں یک رُکنی اقلیتی کمیشن تشکیل دیا اور 4رُکنی کمیٹی بنائی گئی جس میں جسٹس (ر) تصدق جیلانی کے صاحبزادے ثاقب جیلانی ایڈووکیٹ بھی شامل ہیں۔ حکومت نے عدالت سے تعاون کرنے کے بجائے ازخود اقلیتی کمیشن کی تشکیل نو کردی اور تحریک انصاف سندھ کے عہدیدار چیلا رام کیولانی جو ہندو کونسل کے سابق سربراہ بھی ہیں، انہیں اقلیتی کمیشن کا چیئرمین تعینات کردیا۔

شعیب سڈل کی سربراہی میں کام کررہا یک رُکنی اقلیتی کمیشن عدالتی سرپرستی کی وجہ سے ابھی تک کام کر رہا ہے اور اقلیتوں کے مسائل سے متعلق کئی رپورٹیں سپریم کورٹ میں جمع کرا چکا ہے۔ اس کمیشن نے عدالتِ عظمیٰ میں جو تازہ ترین رپورٹ جمع کرائی، اس پر اچانک ہنگامہ کھڑا کردیا گیا ہے۔ نہایت محترم صحافی انصار عباسی صاحب نے اس حوالے سے کالم لکھا جس کے بعد مذہبی جماعتیں اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ اس کمیشن نے مبینہ طور پر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ تمام شہریوں کے لئے یکساں نصاب تشکیل دینے کی خاطر اردو، انگریزی، معلوماتِ عامہ اور دیگر مضامین کی کتب سے حمد، نعت اور اس طرز کے دیگر اسلامی مضامین کو حذف کرکے اسلامیات کے مضمون تک محدود کردیا جائے کیونکہ یکساں قومی نصاب میں شامل یہ مذہبی تعلیمات اقلیتی طلبہ کو پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ تاریخ، طبعیات، کیمسٹری، حیاتیات، اردو، انگریزی یا اس نوعیت کے دیگر مضامین اسلامی یا غیراسلامی کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان میں پڑھائے جانے والے مواد کو مبنی بر حقائق اور سب طلبہ کے لئے بلارنگ و نسل اور مذہب و مسلک یکساں طور پر قابلِ قبول ہونا چاہئے۔ مسلمان طلبہ کو اپنا دین، اخلاقیات یا روایات سکھانا مقصود ہیں تو ضرور پڑھائیں یہ سب اسباق لیکن ظاہر ہے انہیں اسلامیات کی کتاب میں یکجا کیا جانا چاہئے۔ ایک ایسا ملک جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، بقول آپ کے جذبہ اسلام ٹھاٹھیں مار رہا ہے وہاں دین سیکھنے کی احتیاج ہوگی تو طلبہ دینیات میں خوب دل لگائیں گے بصورت دیگر آپ سب مضامین میں یہ تعلیمات داخل کرکے جبری طور پر یہ سب ان کے دماغ میں ٹھونسنے کی کوشش کریں گے تو نہ صرف انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اقلیتی طلبہ و طالبات کی بھی حق تلفی ہوگی۔ جس طرح اخبار میں دینی صفحہ ہوتا ہے، ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے الگ الگ عبادت گاہیں ہیں، ویسے ہی اسکول میں اسلامیات کے علاوہ باقی سب مضامین مشترکہ اور یکساں ہونے چاہئیں۔ انگریزی اور اردو میں اسلامی تعلیمات شامل کرنے کا تو یہ مطلب ہوگا کہ ہندو، مسیحی، سکھ، پارسی اور دیگر سب مذاہب کے لوگوں کو کہا جائے کہ آپ مسجد میں آجائیں، وعظ ہوگا لیکن آپ کو مذہبی آزادی حاصل ہے اگر آپ ہمارے طریقے پر نہ چلنا چاہیں تو ایک جانب الگ ہو کربیٹھ جائیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ حوصلہ رکھیں، ظرف پیدا کریں، اگر ملک کو اسلام کا قلعہ سمجھتے ہیں تو عدم تحفظ کا شکار ہونے کے بجائے اقلیتوں کو سانس لینے دیں۔ ان کے سانس لینے سے اسلام کا چراغ نہیں بجھنے والا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *