دو پاکستان!

تحریر: عطا ء الحق قاسمی

برادرم کاظم سعید کراچی کے ایک بہت بڑے علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ ان کی کتاب ’’دو پاکستان‘‘ میں نے دو دفعہ پڑھی۔ ایک دفعہ کچھ خامہ فرسائی کی کوشش بھی کی مگر میں نے محسوس کیا کہ انصاف نہیں کر سکا۔ اب اس کتاب کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے، اس میں پیچ در پیچ مسائل اور ان کا حل بیان کیا گیا ہے۔ اب آپ مجھ پر انحصار کی بجائے اپنی رائے قائم کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کریں گے۔ خلاصہ درج ذیل ہے:

اس کتاب میں دو پاکستان کا مطلب محض امیروں کا پاکستان اور غریبوں کا پاکستان اور مراعات یافتہ پاکستان یا غیرمراعات یافتہ پاکستان نہیں ہے کیونکہ اس تفریق سے عمل کے راستے نہیں نکلتے۔ پاکستان کے سوا تین کروڑ گھرانوں میں سے کتنے گھرانے ایسے ہیں جن کی اگلی نسل کے مالی حالات آج سے بہتر ہونے کا قوی امکان ہے، اعدادو شمار کے تجزیے کے ساتھ کاظم سعید کہتے ہیں کہ صرف پندرہ بیس فیصد گھرانوں کے بارے میں یہ بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے۔ یعنی اسی پچاسی فیصد پاکستانی مغل دور میں قلعے کے باہر رہنے والوں کی طرح ہیں، آج قلعے کی فصیلوں کا مادی وجود نہیں ہے لیکن یہ کتاب پاکستان کے خوشحالی کے قلعے کی غیرمادی فصیلیں پہچاننے اور ان کو ڈھانے کی حکمتِ عملی پیش کرتی ہے۔

اس کتاب ’’دو پاکستان‘‘ میں 2017سے 2047تک کے تیس سالہ عرصے میں پیداوار کی مالیت یعنی جی ڈی پی میں آٹھ گنا اضافے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔ ذرا سوچئے کہ اس اضافی دولت سے پاکستان کی کیا صورت ہو سکتی ہے لیکن اس روشن مستقبل کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں اور یہی خوشحالی کے قلعے کی فصیلیں ہیں۔ کاظم سعید کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی علم کی صدی ہے اور اس میں دیرپا معاشی ترقی کے لئے دو بنیادی عوامل درکار ہیں۔ ایک علم و ہنر سے لیس افرادی قوت اور دوسرا جدید پیداواری نظام۔ ہمارے مردوں میں سے اسی فیصد اپنے گھرانوں کے لئے کما رہے ہیں لیکن خواتین میں سے صرف تیس فیصد ہی کما رہی ہیں جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح چھیالیس فیصد ہے۔ ہماری دو کروڑ خواتین افرادی قوت میں شامل ہی نہیں! اگر 2047میں ہماری خواتین میں سے پچاس فیصد کام کر رہی ہوں تو پاکستان کی افرادی قوت پندرہ کروڑ کے تعاقب میں ہو گی جو آج کے امریکہ کے قریب ہے۔ ہمیں اپنی خواتین کے لئے کمانے کے سلسلے میں بےپناہ آسانیاں کرنا ہوں گی جن کی تفصیل کتاب میں موجود ہے۔

اس کتاب میں جو حکمتِ عملی تجویز کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں خوشحالی کے قلعے کے اندر اور باہرپاکستانیوں کی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہئے، آج ہمارے پاس قلعے کے اندر کے پاکستانیوں کی تعلیم اور جدید صلاحیتیں ہیں اور قلعے کے باہر کے پاکستانیوں کی تعداد ہے۔ایک طرف جدید شعبوں کو فروغ دینا ہو گا اور دوسری طرف کم ہنریا بے ہنر پاکستانیوں کے لئے تیز ترصنعتی پھیلائو یا انڈسٹریلائیزشن کو عمل میں لانا ہو گا یہاں وہ صنعتیں ہمارے کام کی ہیں جن کو چین نے تیس برس پہلے یہ سفر شروع کرتے وقت بے پناہ فروغ دیا تھا اور اب اس کی معیشت ان شعبوں سے ترقی کر کے آگے جا رہی ہے مثال کے طور پر کھلونے، الیکٹرونک مصنوعات کی اسمبلنگ، ملبوسات کی سلائی ، زراعت پر مبنی صنعتیں، زراعت اور تعمیرات میں استعمال ہونے و الی مشینری وغیرہ۔

’’دو پاکستان ‘‘ میں 2047کے لئے وضع کئے گئے اہداف حاصل کرنے کی خاطر 2020ء سے 2030ء تک کی یہ دہائی سب سے اہم ہے۔ 2030ء تک ہر پاکستانی بچے کے لئے معیاری اسکول اور مناسب اساتذہ کا انتظام ضروری ہے ۔ اس کے ساتھ ہی 2030ء تک مستحکم مالی بنیاد والا نظام تحفظ صحت قائم کرنا ہے ۔2030ء تک بھوک اور جبری مشقت کا خاتمہ بھی ہم پر لازم ہے ۔مغل دور میں غریبوں کی سرکاری امداد کےلئے تلادان کی رسم تھی، لنگر تھے لیکن یہ طریقے حکمرانوں کےلئے غریبوں کی دعائیں حاصل کرنے سے تعلق رکھتے تھے، ہر گھرانے تک خوشحالی حاصل کرنے سے نہیں ۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ آج پاکستان میں غربت ہم سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ہر گھرانے کی غربت کی سطح کے بارے میں اعدادوشمار بھی موجود ہیں اور ہر گھرانے تک مالی وسائل پہنچانے کےلئے انفراسٹرکچر بھی ، نہیں ہے تو ہر گھرانے تک تعلیم، ہنر اور طبی سہولیات پہنچانے کا نظام ،اس ضمن میں آج ہر پاکستانی گھرانے تک خوشحالی پہنچانے کےلئے جس سطح کے مالی تقاضے درکارہیں‘ ان کے لئے موزوں وسائل پیدا کرنا ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہے۔آخر میں کاظم سعید کہتے ہیں کہ ہر پاکستانی گھرانے تک خوشحالی پہنچانے کا مقصد پاکستانی خواتین کی تعلیم سے منسلک ہے۔ دنیا بھر میں معاشی خوشحالی پھیلانے میں جتنی بھی کامیابیاں ہوئی ہیں ان سے یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ کوئی قوم اپنی ترقی کےلئے جس عمل سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہے وہ یقیناً تمام خواتین کو تعلیم دینا ہے ۔تمام مسائل کے باوجود پاکستانی خواتین کی صلاحیتوں کے بارے میں آج کوئی ابہام نہیں رہا ہے ۔ملک کی ترقی میں ان کے شانہ بشانہ کام کرنے کےساتھ ہر پاکستانی گھرانے تک خوشحالی ہماری فکر میں تازگی اور ہمارے ارادوں میں فولاد بھرنے کی منتظر ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *