دوالمیال (تاریخی توپ کا انعام حاصل کرنے والا گاؤں)

تحریر:ریاض احمد ملک (چکوال)

دوالمیال ضلع چکوال( سابقہ ضلع جہلم) تحصیل چوآ سیدن شاہ کی سر سبز و شاداب وادیء کہون کا مشہور اور اہم گاؤں ۔ ایک تاریخی گاؤں۔ تاریخ رقم کرنے والا گاؤں۔ دوالمیال  یعنی  دولمی آل  ’’ دولمی بابائے دوالمیال  کی اولاد ‘‘  ۔ جس میں سکونت پذیر ہے قطب شاہ عون کے بیٹے مزمل علی کلگان کی پشت سے نسبت رکھنے والے دولمی بزرگ کی اولاد۔

اعوان قوم کا گاؤں دوالمیال، غازیوں، شہیدوں اور عسکریانِ تیغ بکف کی سر زمین۔ یہ آرٹلری کے گنروں، شاہ زوروں ، شہسواروں ۔ اہلِ حرب۔ اہلِ علم۔ اہلِ تعلیم۔اہلِ فکر۔اہلِ ہنر۔اہلِ نظر۔تدبر سے پر۔علماء  فضلاء اور فقیرانِ کجکلاہوں کی دھرتی۔ یہ توبر۔ پربت۔آدوالا۔ یہ تاریخی سنگی کی پہاڑی۔ جابہ کے چاندی جیسے چشمے۔بل کھاتے ہوئے  رکھ رام ہلاوں کے کوہستانی راستے۔ یہ بادِ  صر صر ۔ یہ بادِ نسیم۔ یہ بادِ صبا۔ یہ دل کی تنہائیاں۔ چہروں پہ نمایاں محنت اور مشقت کی سلوٹین۔ محبتوں سے بھرے دل۔ یہ سونا اگلنے والے کھیت۔ یہ ہنستے بستے سر کے کھیت۔یہ لہلہاتے میرے گندم کے کھیت۔ پھلاہی کے زرد زرد پھول۔کہو کے گہرے سبز پتے۔ سنہتوں کے پھیلے ہوئے سبزہ زار۔ کٹاس کاپوتر پانی۔ کٹاس کی متبرک جھیل۔ جس کی مشابہت روتی ہوئی آنکھ سے۔ جو واقعی ایک روتی ہوئی آنکھ ہے  اور اس آنکھ سے نکلنے والا پانی سیراب کر رہا ہے چوآ کو۔ جس سے علاقہ کی واٹر سپلائیاں بھی ہیں۔جھیل کا شفاف پانی۔ علاقہ کے لئے آبِ حیات۔ یہ ترٹا بند کے آثار۔ یہ نکہ پہاڑی اور اس نکہ پہاڑی کی چوٹی پر  شیروں والی یونانی شہزادوں ۔سرداروں۔شہسواروں اور پیادوں کی تاریخی قبور۔ وہاں چقماق کے ٹکڑوں کی بھرمار۔ اور بے شمار آثار یونانی دور کی یاد دلاتے ہیں۔ سنگی کی پہاڑی جس پر کبھی ہیون سیانگ کے سفر نامے میں تحریر کردہ سنگھا پورہ یا سنہا پورہ کا شہر آباد تھا۔

کوروؤں کے دشوار گزار راستے۔ ترٹا بند(ڈیم) دوالمیال کے ٹوٹے ہوئے حصے۔ کالے کٹھوں کی پہاڑوںمیں مٹکتے ہوئے اڑیال اور جنگلی جانوروں کی دنیا۔ نیلے آسمان کو چومتا ہوا 3000 فٹ کی بلندی رکھنے والا پربت۔ جگہ جگہ بکھری ہوئی سرسوں کی زرد  زرد چادر۔ پہاڑوں پر خوشنماسبز ہ۔ خوشبودار کھوی گھاس کی بھینی بھینی قہوہ نما خوشبو۔

دامنِ قریہء دوالمیال میں شفاف پانی کا تالاب (وڈی بنھ) جس کے مغربی کنارے پر نصب شدہ توپ ۔ اعلیٰ خدمات کا اعزاز۔ اس قریہ کے غازیوں ۔ جیالوں۔ اور بہادروں کی پہچان بھی ہے۔اور منہ بولتا ثبوت بھی۔ آن بھی ہے اور شان بھی ہے۔ وقار اور طرہء امتیاز بھی۔فوجی جوانوں کا نشان بھی ۔ محبتوں ۔الفتوں ۔پرخطر راستوں پر جان جوکھوں میں ڈالنے کا آستان بھی۔دوالمیال کا ہر خوشنما نظارہ۔ ہر رخِ زیبا۔ ہر دلکش منظر اسی ’’ توپ والے مشہور گاؤں  دوالمیال ‘‘  کا پتہ دیتا ہے۔

اور ساتھ ہی دوالمیال  کی سب سے اونچی چوٹی پرپُر شکوہ دوالمیال کا 1927 ء میں پتھروں اور چونے کے امتزاج سے مرقع مینار جو ضلع جہلم اور چکوال میں اپنی نوعیت کا  پہلا مینار جس کی تعمیر قدرت کا خاص نشان ۔اعوان قوم کی محنتوں اور مشقتوں کا ثمر۔ مولوی کرمداد صاحب ۔ بابا کپتان غلام محمد صاحب کی دعاؤں کا معجزہ ۔جنہوں نے اس کی تعمیر میںخاص دعاؤں کا التزام کیا اور ان کی بنیادیں اپنے ہاتھوں سے کھودیں۔

یہ ان کی عزم و ہمت کا نشان ہے۔ اس مینار کو بھی دوالمیال کے ایک بزرگ مستری غلام محمد نے بنایا تھا۔یہ اس کے خاص ہمت اور حوصلے کی بدولت پایہء تکمیل تک پہنچا۔ اس کے پاس اس وقت 16 لکڑی کے بالے اور16 ہی لکڑی کے پھٹے تھے۔ جس پہ اس نے تقریباــ 90 فٹ اونچا مینار بنا دیا اس پر وہ لگا تار دو سال کام کرتا رہا۔ اور1929 میں یہ مینار مکمل ہوا۔

اس بستی کے غیور باسیوں۔ بہادر غازیوں اور جوانمرد شہیدوں نے ہمیشہ وطنِ عزیز پر اٹھنے والی آنکھ کا تعاقب کیا۔اور وطنِ عزیز کو اپنا خونِ جگر پلا کر اس کی سرحدوں کی حفاظت کی۔ہر سیکٹر،ہر زون اور ہر سرحد پر اس گاؤں کے لوگوں نے بہادری کے جوہر دکھائے۔ثبات کے ساتھ۔دلیری اور بہادری کے ساتھ داستانیں رقم کیں۔ حریت کی ، وفا کی  ، انا کی ، جہاد کی  ، چراغِ راہ نما کی  ، ہر طرف  ۔ہر مقام۔ اور ہر جگہ  پر روشنی کی کرن بن کر اجالے پھیلائے۔ یہ حقیقت وضاحت کی محتاج نہیں کہ کوئی شہر۔ کوئی بستی۔ کوئی قریہ۔کوئی مدینہ۔ کوئی جگہ اپنی ذات میں کچھ نہیں ہوتی ۔صرف جغرافیائی نقشے پر ایک نقطہ ایک جگہ کا نام ہوتا ہے۔جو کر ئہ ارض پر تین خطوط کے درمیان کسی جگہ پر ہوتا ہے۔بس یہی اس کی حقیقت ہے۔ اصل میں ملک ۔شہر۔بستی۔ قریہ۔ کا اپنے رہنے والوں اور اپنے بسنے والوں کے کار ہائے نمایاں ہی ان کی میراث ہوتی ہے۔ اس دیہہ کے فرزندوں نے مختلف شعبہ جات میں یاد گار خدمات سر انجام دیں ہیں۔یہاں کی نامور شخصیات نے سیاسی، سماجی۔ تمدنی۔ مذہبی۔زندگی کو ایک نئی روشنی بخشی۔

ضلع چکوال کی تحصیل چوآ سیدن شاہ کی سر سبزو شاداب وادی ـ’’  واد ئ کہون  ‘‘ کا مشہور  اور اہم تاریخی گاؤں ’’  دوالمیال  ‘‘۔ ایک چھوٹا سا قریہ جو نہ صرف پاکستان بھر میں مشہور بلکہ کامن ویلتھ ملکوں میں مشہور۔چوآسیدن شاہ سےمغرب کی جانب 10 کلو میٹر کے فاصلے پر اور کلر کہار سے بجانبِ مشرق 23 کلو میٹر پر وادیئِ کہون میں فخر سے سر بلند کئے ہوئے ہے۔

توپ انعام یافتہ گاؤں

دوالمیال ایک تاریخی گاؤں توپ انعام یافتہ گاؤں۔ پاکستان میں اور تمام کامن ویلتھ ممالک میں ’’ توپ والا گاؤں ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

پہلی جنگ، عظیم میں دوالمیال گاؤں سے 460 افراد نے شرکت کی جن میں 100 سے زیادہ وائسرائے کمشنڈ آفیسرز تھے۔ جنہوں نے مختلف محاذ جنگ پر اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔حیران ہونے کی کوئی بات نہیں قیادت ہمیشہ تعلیم کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ــ’’ تاریخ جہلم۔مرزا محمد اعظم بیگ مطبوعہ 1889ء دوالمیال گاؤں میں گورنمنٹ پرائمری سکول کی ابتداء 1857ء میں ہو گئی تھی اور دوالمیال سے چار میل کے فاصلے پر ڈلوال گاؤں میں بیلجیئم مشن ہائی سکول ڈلوال کا اجراء 1900 ء میں ہو گیا تھا۔ اس طرح اس تعلیمی انقلاب نے دوالمیال کے لوگوں میں تعلیم حاصل کرنے شعور کو جلا بخشی اور اس تعلیم کے میدان میں انہوں نے اپنے آپ کو جھونک دیا۔ پہلی جنگِ عظیم میں اس تعلیم کی بدولت  دوالمیال کے 100 سے زیادہ وائسرائے کمشنڈ آفیسرز موجود تھے۔ اور ان میں سے سب سے سینئیر آفیسر کپتان ملک غلام محمد تھے۔  پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے پر بہادری کے صلہ میں دولت ِ مشترکہ کے تمام ممالک میں صرف دو توپیں  جنگی انعام کے طور پر دی گئیں جن میں ایک یورپ میں سکاٹ لینڈ کے ایک گاؤں کو ملی اور دوسری  ایشیاء میں دوالمیال گاؤں کو ملی۔ جس کو دوالمیال  کے سب سے سینئیر آفیسر کپتان ملک غلام محمد نے جہلم سے بڑے اعزاز کے ساتھ اس انوکھے بہادری کے انعام کو حاصل کیا اور یہ توپ بذریعہ ٹرین جہلم سے چکوال۔ پھر بیل گاڑیوں پر چکوال سے دوالمیال لا کر کپتان ملک غلام محمد نے دوسرے آفیسرز کے ہمراہ دوالمیال میں نصب کر کے اس گاؤں کی تاریخ میں  ایک نیا باب رقم کیا۔ جو اب بھی بڑی آب و تاب کے ساتھ دامنِ قریہ میں بڑے تالاب کے مغربی کنارے پر نصب ہمارے آباؤ اجداد کی بہادری کی ترجمان اور منہ بولتا ثبوت ہے۔

دوالمیال کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس وقت کے انڈین آرمی چیف آف سٹاف فیلڈ مارشل برڈوؤڈ نے بھی دوالمیال تشریف لا کر اس توپ کو سلامی دی۔گورنر پنجاب اور وائسرائے ہند  لارڈ ولنگڈن نے بھی دوالمیال کے تاریخی گاؤں اور دوالمیال کی انعام یافتہ اس بارہ پاؤنڈز ۔1816ء کی بروم گن فاؤنڈری کانسی پور کی بنی ہوئی اس انعامی توپ کو سلامی دینے کے لئے حاضری دی اور دوالمیال کے افسران اور جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس انعامی توپ کی ضلع چکوال میں سب سے اعلیٰ اور تاریخی اہمیت  اس بات سے بھی واضح ہو جاتی ہے کی جب ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی۔ڈپٹی کمشنر چکوال نے تاریخ چکوال تصنیف کی  تو چکوال میں  سب سے اہم تاریخی Relic کو ہی تاریخِ چکوال کے سرِ ورق پر نمایاں کرنا مقصود تھا۔ اور اس تاریخ کے سرِورق  پر دوالمیال کی انعامی توپ کو زینت بنا کر اس تاریخی توپ کی اہمیت کو اور بھی واضح کر دیا۔کہ ضلع چکوال میں سب سے اہم Historical Relic دوالمیال کی توپ ہے۔ اور اہالیانِ دوالمیال کو اس پر بجا طور پر فخر ہے۔

دوالمیال گاؤں کے جنرل

1۔  میجر جنرل نذیر احمد ملک  (علاقہ بھر کا پہلا میجر جنرل۔ پاکستان کے پہلے جرنیلوں میں شمار۔ 1948 کی کشمیر جنگ کے ہیرو۔ اس جنگ میں Div 9  کی کمانڈکی)پاکستان بننے کے بعد پہلے میجر جنرل کا عہدہ حاصل کرنے کا اعزاز، ریٹائر ہونے کے بعد میئرلاہور کارپوریشن کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔

2۔  لیفٹیننٹ جنرل محمد صفدر ملک ( علاقہ بھر کا پہلا لیفٹیننٹ جنرل۔ سابقہ گورنر پنجاب )

3 ۔   لیفٹیننٹ جنرل محمد آصف

4۔  وائس ایڈمرل ملک محمد شفقت جاوید

5۔ وائس ایڈ مرل ملک محمد عبدالعلیم

پہلی جنگِ عظیم کی یادگار

دوالمیال کے گورنمنٹ پرائمری سکول کی تاریخی عمارت جو 1857 میں تعمیر ہوئی تھی اور یہی ہمارا المیہ ہے کہ اس تاریخی عمارت کو جو ہمارا تاریخی ثقافتی ورثہ تھا۔ اس کو محفوظ کرنے کی بجائے اس کو گرا دیا گیا۔ یہ عمارت جو پانچ کمروں پر مشتمل تھی۔ اور چونے کے پتھروں کو تراش کر ا سے تعمیر کیا گیا تھا ۔ایک نہایت ہی مثالی اور نایاب تاریخی دیدہ زیب عمارت اور تعمیر کا اک نادر نمونہ تھی۔لیکن اس کو 2000ء میں گرا کر ایک اینٹوں سے بلڈنگ تعمیر کر دی گئی۔ اس کے صحن میں سرخ رنگ کے پتھروں سے ایک پہلی جنگِ عظیم کی یادگار تعمیر ہے۔ جس کو 1925ء میں مستری محمد خان ( والد حاجی عبدالغنی) نے تعمیر کیا تھا۔یہ سرخ پتھر ڈلوال سے لائے گئے تھے۔ یہ بہت ہی خوبصورت یادگار تعمیر کی گئی ہے۔ لیکن اب جب سکول کی نئی بلڈنگ تعمیر کی گئی تو ٹھیکیدار نے اس کی ایک سیڑھی کو فرش میں دفن کردیا ہے۔ لیکن بر وقت سالٹ رینج آرکیالوجیکل اینڈ ہیریٹج سوسائٹی دوالمیال کی مداخلت سے اور تحصیل ناظم اور ضلع ناظم کے بر وقت ایکشن پر اس یاد گار کو دفن ہونے سے بچا     لیا گیا۔

اس یادگار پر ایک سفید سنگِ مرمر پر مندرجہ ذیل عبارت درج ہے۔

DUL M I A L

From This Village

460 men went to

The Great War

19-14 -1919 .

of  these  9 gave

their lives up

توپ کے انعام کا اعلان اور دوالمیال آمد

پہلی جنگِ عظیم کے بعدحکومتِ برطانیہ نے محتلف اعزازات کا اعلان کیا۔ جن میں دو توپوں کے انعام کا بھی اعلان، ایک توپ براعظم یورپ  کے ملک سکاٹ لینڈ کے ایک گاؤں کو ملی اور دوسری توپ  براعظم ایشیا میں دوالمیال گاؤں کے لئے اعلان کیا گیا۔ اس کے پیچھے یہ محرکات تھے کہ کسی گاؤں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جنگ میں شمولیت۔ وائسرائے کمشنڈ آفیسرز کی زیادہ تعداد۔ مختلف محاذوں پر بے مثال بہادری  دکھانے والوں کی تعداد وغیرہ۔دوالمیال میں سے پہلی جنگِ عظیم میں شامل ہونے والوں کی تعداد 460  تھی ۔ جو اس وقت کے حساب سے کسی گاؤں سے سب سے زیادہ تھی۔ 100  سے زیادہ  وائسرائے کمشنڈ آفیسز دوالمیال سے پہلی جنگِ عظیم میں شامل تھے۔ اور بڑی بے جگری سے ہر محاذ پر بہادری کے جوہر دکھائے۔ اور اس طرح  دوالمیال کو دولتِ مشترکہ کے براعظم ایشیا میں  توپ کے انعام کا مستحق ٹھہرایا گیا۔اور  ڈپٹی کمشنر جہلم نے  دوالمیال میں آکر تمام گاؤں کے بہادر سپوتوں کو اکٹھا کیا اور اس انعام کی خبر اور مبارک باد دی اور اس وقت دوالمیال کے سینیئر ترین آفیسر کپتان ملک غلام محمد تھے ان کو مبارک باد دی  کیونکہ آپ ہی نے آرمی کے وفد کو دوالمیال کی ملٹری خدمات کے  اور جنگِ عظیم اول میں کارہائے نمایاں سر انجام دینے پر ایک توپ کے انعام  پر قائل کیا تھا، کیونکہ آپکی تمام ملٹری سروس آرٹلری کی تھی اس لئے وہ چاہتے تھے کہ دوالمیال کو توپ کے انعام سے نوازا جائے ۔ڈی سی جہلم اس انعامی توپ کو تمام ملٹری اعزاز کے ساتھ حاصل کرنے کے لئے کپتان صاحب کو جہلم مدعو کیا۔ اس انعام کے سنتے ہی تمام گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اور علاقہ کہون میں بھی لوگ بہت خوش ہوئے اور ایک دوسرے کو مبارک باد  دینی شروع کر دی۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا جو دوالمیال کے حصہ میں آیا۔ کیونکہ براعظم ایشیا میں دوالمیال کو اس اعزاز کے لئے چنا گیا۔ 1925 ءکو کپتان ملک غلام محمد صاحب دوالمیال سے ہمراہ چند دوسرے آفیسرز کے دوالمیال سے جہلم تشریف لے گئے۔تا کہ  ڈی۔ سی  جہلم سے اپنے عظیم انعام کو حاصل کیا جائے۔ جہلم پہنچنے پر دوالمیال کے اس وفد کی خوب پذیرائی ہوئی۔ اور فرسٹ پنجاب رجمنٹ سنٹر میں اس توپ کے انعام کو کپتان ملک غلام محمد کے حوالے کرنے کی ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت  ڈی سی جہلم نے کی اور اس میں وی آئی پی گیسٹ کپتان ملک غلام محمد صاحب تھے۔  اس توپ کو بڑے اعزاز کے ساتھ ڈی سی جہلم نے کپتان ملک غلام محمد صاحب کے حوالے کیا۔

جہلم سے یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر انگریز کرنل نے اس توپ کو جہلم ریل گاڑی پر لدوایا۔ اور یہ توپ بذریعہ ریل بمع کپتان ملک غلام محمد اور ان دوسرے افسران کے ساتھ  چکوال روانہ ہوئی۔ اور ریلوے سٹیشن پرباقاعدہ ملٹری اعزاز اور سلامی سے توپ کو چکوال روانہ کیا گیا ۔ اور بہت تعداد میں دور دراز سے لوگ اس توپ  اور بابا کپتان ملک غلام محمد کو دیکھنے جہلم ریلوے سٹیشن پر آئے ہوئے تھے۔اور یوں بذریعہ ریل گاڑی اس تاریخی توپ نے اس دوالمیال کی تاریخ رقم کرنے والے وفد کے ہمراہ جہلم سے چکوال تک کا سفر کیا۔اور چکوال کے ریلوے سٹیشن پر پہنچ گئی۔ اور اس کو چکوال کے پلیٹ فارم پر اتارلیا گیا۔ چکوال سے اب اس توپ کا سفردوالمیال کی جانب شروع ہونا تھا ۔وفد کی ہر رکن کی دعائیں اس توپ کے سنگ تھیں ۔ خاص کر کپتان ملک غلام محمد  صاحب کی دعائیں اور دعاؤں کے ساتھ اس وفد کو دلی خوشی بھی تھی کہ وہ تاریخی اعزاز کواپنے گاؤں دوالمیال لے کر جا رہے ہیں۔ بیل گاڑیوں پر لدی ہوئی توپ خراماں خراماں پنے سفر پر رواں دواں۔کچی سڑک پر بیل گاڑیاں ہچکولے کھاتی ہوئیں پہاڑی اور میدانی سفر کوطے کرتی ہوئیںعزمِ مصمم کے ساتھ  چوآسیدن شاہ پہنچ گئی۔ اب چکوال سے چوآ سیدن سیدن شاہ توپ پہنچ اب اگلا  مرحلہ توپ کو دوالمیال گاؤں پہنچانے کا تھا۔ دوالمیال میں  خاص طور پر پیغام بھیجا گیا کہ تازہ بیلوں کی جوگیں لے کر چوآ سیدن شاہ پہنچیں  تاکہ توپ کو  چوآ سیدن شاہ کی بڑی چڑھائی ( صاحب کی ڈھکی) سے اوپر چڑھایا جا سکے۔ اور اس کو دوالمیال گاؤں میں یعنی منزلِ مقصود تک پہنچایا جا سکے۔  لوگوں نے دوالمیال سے اچھے اچھے ، تگڑے تگڑے  بیل کی جوگیں ۔جلسہ والے بیل لئے اور چوآ سیدن شاہ کی طرف روانہ ہو گئے۔تمام گاؤں چوآ سیدن شاہ امڈ آیا تھا ۔اپنے بیلوں کے ہمراہ اور چشم ِ زدن میں چوآ سیدن شاہ کی چڑھائی کو عبور کیا۔۔ دیکھنے والے لوگوں نے دیکھاکہ جب ’’ اعوان  ‘‘ کوئی کام کرنے پر آتے ہیں تو ہر مشکل کو عبور کرنے کے لئے منصوبہ ان کے ذہنوں میں خود جنم لیتا ہے۔

چڑحائی چڑھنے کے بعد۔ یہ توپ اپنے سفر میں  دوالمیال کی جانب رواں ۔جمِ غفیر ہمراہ اور راستے میں لوگ جوق در جوق  توپ کو دیکھنے کا شوق دل میں لئے شامل ہو رہے تھے۔ یہ وہ سماں تھا جو دوالمیال کی تاریخ نے نہ کبھی پہلے دیکھا تھا اور نہ آئندہ ایسا سماں دیکھا جائے گا۔  توپ اپنا سفر جہلم سے طے کر کے اپنی منزلِ مقصود دوالمیال میں پہنچ چکی تھی۔ بابا کپتان زندہ باد کے نعرے لگا ئے جارہے تھے۔ لوگوں کا جمِ غفیر گاؤں کی گلیوں سے گذر کراس توپ کے پیچھے رواں دواں اور ہر ایک دل میں اللہ کے شکر کاورد کہ توپ جو انعام میں اس گاؤں کو ملی اپنا سفر طے کر کے آج اس انعام یافتہ گاؤں میںپہنچ گئی ہے۔۔ہر کوئی تعجب کی نگاہ سے ایک دوسرے کو دیکھ رہا تھا کہ اس توپ نے اس گاؤں کو تاریخی شہرت سے نوازا ہے۔ اور اس گاؤں کا نام دنیا میں لوگوں کی زبان پر آگیا ہے۔ اور توپ والے گاؤں سے مشہور ہو گیا۔پہلی جنگِ عظیم کی سو سالہ تقریبات 2014-2019منائی گئیں تو اس دوران دنیا بھر کے مشہور ٹی وی چینلز نے دوالمیال کی توپ اور دوالمیال کی ملٹری تاریخ کو ٹیلی کاسٹ کیا اور دوالمیال آ کر دوالمیال میوزیم جس میں دوالمیال کی تمام تاریخ کو Preserveکیا ہوا ہے وہاں سے ویڈیو بنا کر ایک دفعہ سو سال کے بعد پھر دوالمیال کی تاریخ کو اجاگر کیا۔ یہ سب توپ کے انعام کی بدولت ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *