تقسیم در تقسیم کا عمل

تحریر: غضنفر حنیف

اگر ہم برصغیر پاک وہند کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج ختم ہونے کے قریب اس خطے میں فرقہ وارانہ فکر کی بنیاد پڑی ۔ہندوستان وپاکستان کے قیام کے بعد بنگلہ دیش کا الگ ہونا اس خطے کی تاریخ کے سینے پر ایک گہرا گاؤ ہے ایک وقت تھا کے علامہ اقبال اپنی شاعری میں سارے جہاں سے اچھا ہندوستا ن ہمارا کا زکر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف بعد میں علامہ صاحب نے اس خطے کے مسلمانان کے لئے الگ وطن کا تصور پیش کیا جس کی عملی شکل پاکستان کی شکل میں سامنے آئی ابتدائی دودہائیوں کے بعد پھر سے اس خطے میں تقسیم کا عمل تاریخ کا حصہ ہے جس سے انکار ممکن نہیں ۔اگر ہم غیر جانبداری کی بنیاد پر ایسے عوامل کا شعوری تجزیہ کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ صدیوں کی تاریخ میں جب توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوتا ہے کسی ایک ملک کے بطن سے دوسرے ممالک جنم لے سکتے ہیں ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کے دنیا میں ملک بنتے ہیں اور کچھ ممالک مٹ بھی جاتے ہیں یہ تاریخ کا اپنا ایک عمل ہے جس میں قوموں کی نیک نیتیاں انھیں عروج کی طرف لے جاتے ہیں تو دوسری طرف قوموں میں اگر فرقہ وارانہ سوچ سرایت کر جائے تو ملک مٹ بھی جاتے ہیں ۔قرقہ وارانہ سوچ ہمیشہ قوموں کو منفی ڈگر کی طرف لے جاتی ہے جہاں ترقی کے تمام تر راستے مسدود ہوجاتے ہیں ۔پاکستان بننے کے بعد دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس خطے میں کچھ حالات اس سمت محو سفر ہوئے کے جہاں عدم برداشت کے فلسفے نے جنم لیا جہاں بھائی چارے نے پنپنا تھا وہاں ایک دوسرے سے دوری اختیار ہونے لگی  مذہبی تفرقہ بازی نے اپنے خون خوار پنجے ایسے گاڑھے کہ محبت کے بجائے نفرتوں نے جنم لینا شرو ع کیا جہاں مسجدوں  تک کے نام دیئے جانے لگے یہ دیوبندی کی مسجد ہے ،بریلوی کی ہے ،اہل حدیث کی ہے ،اہل تشیع کی ہے اور یوں عوام تقسیم ہونے لگے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا ۔جب معاشرہ استقامت سے عاری ہوتا ہے تو معاشی ابتری ساتھ ساتھ جنم لیتی ہے جہاں باہم اتفاق ناپید اور نفاق کا بول بالا ہونے لگتا ہے ۔جہاں قومیں معاشی بنیادوں پر ابتری کی طرف محو سفر ہوکر بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہیں ۔پاکستان میں سیاسی جماعتوں سے لیکر مذہبی جماعتوں میں گروہ بندیوں نے جنم لینا شروع کیا پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ تقسیم ہوئی اور اس طرح دیگر سیاسی تنظیموں میں گروپ بندیوں نے ملک کو سیاسی طور پر کمزور کیاساتھ مذہبی گروہ بندیوں نے مذہبی طور پر ملک کی تعمیر وترقی کو غیر فعال کیا جو پاکستان کی عام عوام کے لئے نقصان کا موجب بنا ْ۔اگر ہم دنیا میں کوالٹی برانڈ کی بات کریں تو دنیا بھر سے کوکا کولا اور پیپسی طرز کے مشروبات منافع کما رہے ہیں اور اپنے ملکوں کو طاقتور بنانے میں اہم کردار  ادا کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں شیزان نامی ایک عالمی طرز کے برانڈ کو نست ونابود کیا گیا یہی نہیں حکیم سعید صاحب  فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھے جن کا ہمدرد دواخانہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی منفرد کمپنی ہے جو ہربل ادویات کے علاوہ مشروبات بنانے میں بھی عالمی معیار کی حامل کمپنی ہے ۔پاکستان کے ایک سائنسدان ڈ ٖاکٹر عبدالسلام جو نوبل انعام یافتہ تھے انھوں نے آواز کی ریز کو دریافت کیا جس کی بنیاد پر آج انڈرائیڈ فون دنیا بھر کی مارکیٹ سے سب سے زیادہ منافع سمیٹ رہا ہے ۔کیا یہ ممکن ناتھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی اس شاہکار دریافت کو اپنے پاس رکھ کر سائنس کے میدان میں قدم رکھا جاتا اور دنیا کو مسخر کرنے کا سہرا اپنے سر پر سجایا  جاتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ عظیم دریافت بھی  فرقہ واریت کی نذر ہوگئی ۔مالی فوائد وہ لے کر جارہے ہیں جو شریک سفر بھی نہیں تھے اور جو محو سفر تھے وہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے اس دنیا سے دوسرے جہاں منتقل ہوچلے۔کراچی جو غریبوں کا ان داتا تھا جو روشنیوں کا شہر آج وہی شہر بوری بند لاشوں پر ماتم کدہ بن رہا ہے ۔اسی ملک کا شہر لاہور جو دلوں کا شہر ہے جہاں محبت پلتی ہے  وہاں کبھی سانحہ ماڈل ٹاؤن اور حال ہی میں یتیم خانہ چوک پرظلم جبر تشدد کا رقص  اس شہر کا مقدر ٹھہرا آخر کس کی نظر اس خطے کو لگی کے جہاں محبت ،اخوت بھائی چارہ فرض ہونا چاہیے وہاں نفرتیں پل رہی ہیں انسان انسان کو کھائے جارہا ہے ادویات سے لے کر خوراک تک سب کچھ ملاوٹ شدہ جو نسل نو کا قاتل ہے ایسی  خرابیوں کو کون پروان چڑھا رہاہے ۔اس پر سوچنا بہت ضروری ہے ارباب اختیار کا فرض بنتا ہے کہ اس نازک وحساس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس پر تمام سیاسی جماعتوں اور مذہبی مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں اور ایک نئے دور کا آغاز کریں جہاں سیاسی ہم آہنگی اور مذہبی بھائی چارہ  پنپ سکے جو آج کے عہد کا آنے والی نسلوں کے لئے امن سکون کا باعث ہو  اگر اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا تو کل پاکستان کی ہر گلی میں فرقہ واریت کی بنیاد پر لوگ اپنے اپنے مذہبی اور سیاسی مسلک کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے سے علیحدگی کا اعلان کرتے پھر رہے ہوں گے ۔عدم برداشت کی کیفیت نے اس خطے کا امن برباد کردیا ہے۔ اس ملک کے باسی آخر مجبور ،محکوم اور مقروض کیوں ہیں کیا کبھی ہم نے اس سوال کا جواب کھوجنے کی کوشش کی ہے اگر کی ہوتی تو اس کا سدباب ضروری ہے۔جب تک اس خطے سے مذہبی فرقہ واریت اور عدم برداشت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے جاتے یہاں کی نسلیں مقروض ہی پیدا ہو کر موت کی آغوش میں جاتی رہیں گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *