آخر ہندو لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہوتی ہیں؟

تحریر: چانڈیو انور عزیز

تھر سے آ کر کراچی میں ایک ملٹی نیشنل ادارے میں کام کرنے والے نریندر کمار پرمار کا کہنا ہے کہ ”یہ قربانی مسلمان لڑکا یا لڑکی بھی دے سکتے ہیں، مگر شاید اسلام میں داخل ہونے والے دروازے کو انٹر لاک لگا ہوا ہے، جس میں اندر داخل تو ہوا جاسکتا ہے، مگر واپس نہیں نکلا جاسکتا۔ اس لئے عشق کا امتحان صرف ہندو لڑکی کو ہی پاس کرنا پڑتا ہے۔“ یاد رہے کہ لاڑکانہ کی آرتی بائی کے اغوا ہونے کی خبروں کے بعد جب پورے معاملے کو کھنگالا گیا تو پتا چلا کہ ”آرتی کو اغوا نہیں کیا گیا، بلکہ اس کو بھگایا گیا ہے، ممکن ہے ورغلا کر بھگایا گیا ہو، بعد میں مجبور ہو گئی ہو کہ اب تو واپسی کے راستے بھی بند ہو گئے ہیں، ایسی لڑکیاں اگر میاں مٹھو جیسے لوگوں سے بچ جائیں تو دارالامان کے نظر ہوجاتی ہیں۔ جو بھی کوئی اچھی جگہ نہیں سمجھی جاتی۔سندھ کی سول سوسائٹی کی طاقتور آواز اور ہندو کمیونٹی میں بہت زیادہ اثر رکھنے والی ایڈووکیٹ کلپنا دیوی کا کہنا ہے کہ ”لاڑکانہ کا ہندو ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا کہ کوئی ان کی لڑکیوں کو اٹھا کر لے جائے، سندھ کی سماجی وایومنڈل میں ہندو اس دھرتی کا اصل وارث اور معزز شہری ہے اور سمجھا جاتا ہے۔ ان کی عورت پر ہاتھ ڈالنے والا یا تو نسلی طور پر سندھی نہیں ہو گا یا پھر دھرتی کا حلالی بیٹا نہیں ہو گا۔“ کلپنا دیوی کو یقین ہے کہ ”آرتی بائی نے خود گھر سے بھاگ کر شادی کرنا چاہی ہے، اور شادی کرنے کے لئے اس کے پاس سب سے مشکل امتحان مذہب کی تبدیلی کا تھا، جس پر بھی وہ راضی ہو گئی۔“

کلپنا دیوی کا کہنا ہے کہ اس پورے کیس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ سامنے مسلمان لڑکا بھی لاڑکانہ شہر کا نہیں بلکہ کراچی شہر کا اردو اسپیکنگ تھا، جس کو پہلے تو ہندو لڑکی مسلمان بنا کر جنت کمانے کا شوق چڑھا، مگر جب اس کو اس معاملے کی نزاکت کا پتہ چلا تو اس نے خود ہی ہاتھ کھڑے کر دیے۔ ہاں اگر اس جگہ پر کوئی کراچی شہر کا ہی سندھی اسپیکنگ لڑکا ہوتا تو پہلے ہی آرتی کو واپس رشتے داروں کے حوالے کرتا یا پھر شادی کر کے اسٹینڈ لیتا، اور ساتھ ہی کسی درگاہ کو بیچ میں لے آتا۔ایڈووکیٹ کلپنا کماری کا کہنا ہے کہ ”شادی ایک سماجی مسئلہ اور رسم ہے، جس کو مذہبی بنا کر الجھایا گیا ہے، امریکا، یورپ یہاں تک کہ بھارت میں ہندو مسلم جوڑوں کے درمیاں شادیاں ہو رہی ہیں، جس میں کسی کی مذہب تبدیل کرنے کی بھی شرط حائل نہیں ہے، وہ سماج بہت ترقی یافتہ اور ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ پاکستان سے باہر بھارت، یورپ اور امریکہ میں رہنے والے ہندو اور مسلمان بغیر مذہب تبدیل کیے آپس میں شادیاں کر رہے ہیں، یا کم سے کم قانونی معاملات درست کرنے کے لئے پیپر میریج کی طرح پیپر پر مذہب تبدیل کر کے شادیاں کر رہے ہیں۔ وہاں یہ عام بات ہے۔ ہم۔ خود ایسی فیملیز کو جانتے ہیں جہاں مسلمان لڑکیاں ہندو نوجوانوں کے ساتھ شادیاں کر چکی ہیں۔ اور نہایت خوش زندگی گزار رہی ہیں۔“  لاڑکانہ کی ایڈووکیٹ کلپنا دیوی اور عمرکوٹ کے گووند رام مالہی اس بات پر متفق ہیں کہ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ ”تمام ہندو مسلم سندھی اب آپس میں شادیاں کرنا شروع کریں، اس میں ہندو برادریوں کو زیادہ اعتراض بھی نہیں ہو گا، اگر ہم سب کو ساتھ ساتھ رہنا ہے تو یہ ایک دن ہو گا اور ہو کر رہے گا، دنیا میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی صورتحال ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ ہاں مگر ہمارے مسلمان بھائی اس وقت شاید ایسا نہ کر پائیں، کیونکہ مذہب تبدیلی کی شرط مسلمانوں کی پاس ہے، ہندو کے پاس نہیں، مگر یہ یک طرفہ ٹریفک اس وقت سندھی سماج کو بہت نقصان پہنچا رہی ہے۔“

سندھی اخبار عوامی آواز کے سینیئر صحافی دوست حفیظ چنہ نے اس سلسلے میں ایک دلچسپ قصہ سناتے ہیں کہ ”دادو شہر کے ایک ہمارے قوم پرست کامریڈ دوست کو ساتھ پڑھنے والی ایک ہندو لڑکی سے عشق ہو گیا، دونوں قوم پرست پارٹی کی رکن اور نہایت آزاد خیال نوجوان تھے، اور سچ بات ہے کہ دونوں بغیر مذہب تبدیل کیے آپس میں شادی کرنا چاہتے تھے اور اپنے اپنے مذاہب پر رہتے ہوئے ساری عمر ایک ساتھ گزارنے کے لیے تیار بھی تھے۔ مسلمان لڑکا اپنے گھر والوں کو اس بات پر راضی کرتا رہا کہ وہ ہندو لڑکی سے محبت کرتا ہے اس لئے اس کو اس کے دھرم سمیت قبول کرتا ہے۔ جب علاقے کے مولوی صاحب نے فتویٰ دیا کہ وہ لڑکا کا مذہب تبدیل کیے بغیر اس سے شادی نہیں کر سکتا تو لڑکا خود ہندو فیملی کے پاس گیا اور کھل کر بات کی کہ وہ اس فتویٰ کے باوجود لڑکی کا دھرم تبدیل نہیں کرے گا، اور اگر آپ پھر بھی اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں تو اب کے بار میں اپنا مذہب اسلام تبدیل کر کے ہندو بننے کے لئے تیار ہوں، آپ اپنے پنڈت اور مہاراج سے پتا کریں کی کیا یہ ممکن ہے اور کیسے  ممکن ہے۔“

دو دن کے غور و خوض کے بعد ہندو پنچایت یا لڑکی کے خاندان والوں نے کامریڈ کو بلا کر بتایا کہ ”آپ اور ہم پاکستان میں رہتے ہیں کوئی امریکہ یا یورپ میں نہیں، اس لئے اگر ہندو لڑکی مسلمان ہو گئی تو یہ صرف ہمارا سماجی نقصان ہو گا، اور اگر مسلمان لڑکا ہندو بن گیا تو نہ یہاں نہ وہ خود زندہ بچے گا اور نہ اس کا خاندان، ساتھ ساتھ ہندو خاندان کے لیے بھی عذاب شروع ہو جائے گا۔“ لہٰذا اس عشق کو یادگار قصہ بنا کر چھوڑ دیا گیا، اور یہ شادی نہ ہونے دی گئی۔ لڑکا اور لڑکی چونکہ لکھے پڑھے اور قوم پرست کامریڈ تھے اس لئے بات کو سمجھ گئے، اس لئے گھروں سے بھاگ جانے یا کسی میاں مٹھو یا پیر سرہندی کے ہتھے چڑھنے کے بجائے، آپس میں لمبی جدائی تیاگنے کے لئے تیار ہو گئے۔

مگر ان عام ہندو لڑکیوں کا کیا جائے جن کا صرف شادی لئے زبردستی مذہب تبدیل کیا جاتا ہے؟

اور کچھ ہندو لڑکیاں خود ہی گھر سے بھاگ کر آخر کیوں مسلمان لڑکوں سے شادی کر لیتی ہیں، اور خود ہی مذہب کی قربانی بھی دینے پر تیار ہوجاتی ہیں؟

مختلف نوعیت میں مختلف اور نہایت دلچسپ جوابات سامنے آتے ہیں۔سندھ میں مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو اپنی بیٹیوں کو زیادہ لاڈ اور پیار سے پالتے اور ان کا ہر کہا مانتے ہیں۔ ہندو خاندان میں عورت کی اہمیت اور طاقت زیادہ ہے، اور وہ فیصلہ کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ ہندو خاندان اپنے لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دیتے ہیں، سماجی قدغنیں بہت کم ہیں، سماجی آزادی اور سوچ کی آزادی ملی ہوئی ہوتی ہے۔ پردے کا تصور نہ ہونے اور ہار سنگھار کی مکمل آزادی کی وجہ سے ہندو لڑکیاں سماج میں خاص اور دلکش لگتی ہیں، اور ذہنی طور پر زیادہ بالغ ہوتی ہیں۔

اکثر ہندو خاندانوں میں بہن کی اتنی اہمیت ہے کہ تمام کزنز تایا زاد بہن، چچا زاد بہن، ماموں زاد بہن، خالہ زاد بہن، پھوپھی زاد بہن حتیٰ کہ کچھ برادریوں میں تو پوری گوت یا برادری کی لڑکیاں بھی اصل بہن کی طرح مانی جاتی ہیں، اور اس میں سے کسی سے بھی شادی نہیں ہو سکتی۔ ہندو شوہر کے لئے ایک بیوی کے ہوتے دوسری شادی کرنا بھی ممکن نہیں۔ جبکہ عورت ودھوا/ بیوہ ہو جائے تو دوسری شادی بھی بہت مشکل بلکہ ناممکن سمجھی جاتی ہے۔ایک طرف اجتماعی طور پر لڑکی گھر لکشمی ہوتی ہے دوسری طرف اس کی انفرادی طور پر ذاتی زندگی مشکل بھی گزار سکتی ہے۔ اکثر ہندو خاندانوں میں زیادہ جہیز کی شرط اور پھر تمام عمر پیسے اور سامان دینے والے معاملات بھی کافی گمبھیر ہیں۔ہندو لڑکیاں اپنی تمام رشتے دار لڑکوں سے اظہار محبت بھی نہیں کر سکتیں، خیالی محبتیں پالتی ہیں، اس صورت میں پڑوس، شہر، کلاس فیلوز اور دفتر کے مسلمان دوست ان کے محبوب بن جاتے ہیں۔ تعلیمی اور سماجی اداروں میں کسی مسلمان لڑکی کے بجائے ہندو لڑکی سے بات کرنا، قریب رہنا، مذاق کرنا، دوستی رکھنا، تحفہ دینا یا ان سے تحفہ وصول کرنا قدرے آسان اور ممکن ہے۔ہندو عورت وفادار اور سچی دوست ہوتی ہیں اس لئے مسلمان لڑکے ان پر مسلمان لڑکی کے مقابلے میں زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔ ہندو سماج میں کی ایک اچھائی یہ ہے کہ محض عورت کے نام پر غیرت کو نام نہاد تصور اور محبت کو گناہ کے بجائے ثواب سمجھا جاتا ہے۔ہندو لڑکیاں بچپن سے اسکولوں میں اسلامی تعلیم حاصل کرتی رہتی ہیں، ایک ہی سماج میں رہنے کے سبب اس لئے ان کے لیے اسلامی معاملات کوئی نہیں بات نہیں ہوتے اور نہ ہی کوئی چیز حیران کن ہوتی ہے۔

تعلیمی اداروں میں ہندو دھرم کی تعلیم نہیں ہوتی، اور ہندو علیحدہ سے اپنے تعلیمی ادارے یا مدرسہ اسٹائیل مذہبی تعلیم کے ادارے بھی نہیں بناتے، اس لئے لڑکیاں اپنے دھرم کی تعلیم سے بہرہ مند بھی نہیں ہو سکتی۔مندرجہ بالا اور اس سے ملتے جلتے اور مسائل بھی ایسے ہیں جو ہندو لڑکیوں کو مسلمان لڑکوں کے لیے آسان ہدف بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔یہ تو رہا تصویر کا ایک رخ، دوسرا رخ ان مسلمان لڑکوں، درگاہوں، پیروں اور رہنماؤں کا ہے جو ہر وقت ہندو خاندانوں کو جان بوجہ کر ٹارگٹ بنا کر ایسے کارروائیاں کرتے ہیں، جس سے ہندو اپنی ملکیتیں چھوڑ کو چلے جائیں، اور وہ آسانی سے ان پر قابض ہوجائیں۔ ایسے معاملات میں کچھ ایسے بھی کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں ہندو عورتوں کو بلیک میل اور ہندو مردوں کو اغوا کر کے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔پاکستان بننے کی پوری تحریک میں ایسا کہیں بھی نہیں کہا اور لکھا گیا تھا تقسیم کے بعد لوگوں کو بھی ہجرت پر مجبور کیا جائے گا، سندھ تو ہزاروں سالوں سے ہندوؤں کا وطن رہا ہے، صرف بھارت سے آئے مسلمانوں کو بسانے کے لئے دھرتی کے مالک ہندوؤں کو صرف اس لئے وطن بدر کیا جانے لگا کہ ان کی ملکیتوں پر قبضہ کیا جائے۔ پھر ایسا ہوا کہ جو نہیں جانا چاہتا تھا ان کو بھی وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

یہ ظلم اب بھی جاری ہے، اب بھی ہر سال کئی سندھی ہندو وطن چھوڑ کر بھارت چلے جاتے ہیں، وہاں پر ان سے اور مظالم شروع ہو جاتے ہیں۔ بھارت جانے والے ہندوؤں پر جاری مظالم پر پاکستان سرکار ضرور بولتی ہے مگر خود اس وطن میں ان پر جاری سماجی اور درگاہی ظلم و استبداد پر ریاست کی خاموشی اچھی بات نہیں۔سندھ کا دانشور طبقہ اس بات کو سچ سمجھتا ہے کہ سندھ میں میاں مٹھو اور پیر سرہندی اور ان جیسے اور ملاؤں کو ریاستی اداروں نے خود ہی کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ وہ ہندو عورتوں کو زبردستی مسلمان بنانے کی فیکٹری چلاتے رہیں، ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ دوسری طرف دارالامان کے اندر ان ہندو لڑکیوں کی نہ صرف برین واشنگ کی جاتی ہے مگر ان کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے کہ وہ نہ اپنی مان باپ کے گھر واپس جا سکتی ہیں اور نہ ہی ان کو وہ لڑکا قبول کرتا ہے جس کے لئے اس لڑکی نے گھر چھوڑا تھا۔سرکاری اداروں میں کام کرنے والے اور ایسے واقعات پر کڑی نظر رکھنے والے ہندو افسر، وکیل، ڈاکٹر اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ جس طرح پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی بھی شہری 18 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور بینک اکاؤنٹ حاصل نہیں کر سکتا، اب تو شادی کی عمر بھی سندھ میں 18 سال متعین کی گئی ہے۔ جبکہ مذہب تبدیل کرنا ڈرائیونگ لائسنس بنوانے سے کمتر یا غیر اہم عمل تو ہو نہیں سکتا۔مذہب چونکہ انسان کا بنیادی حق ہے اس لئے اگر وہ چاہتا ہے تو اسے تبدیل بھی کر سکتا ہے۔ مگر مذہب تبدیلی کے عمل کی شفافیت کے لئے یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ روایتی درگاہی طریقے کے بجائے، سائنسی / جدید طریقہ مذہبی اقلیتوں کو مطمئن کر کے جلد از جلد رائج کیا جائے۔ اگر کوئی شخص اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہے تو اس کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ قانونی راستہ اختیار کرتے عدالت/ مجسٹریٹ کو درخواست دے کہ وہ مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

اگر اس کے والدین کو اس معاملے پر اختلاف ہو تو بھی عدالت اس کا موقف سنے، بہرحال فرد کو اپنی مرضی اور پسند کا مذہب یا مسلک رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر سرکار اور قانون اس سلسلے میں کوئی خاص طریقہ کار وضع نہیں کریں گے تو ہر درگاہ اور پنڈت ملاں اپنی حکومتیں قائم کردیں گے۔ سندھ کے ہندو، مذہب تبدیلی سے متعلق بل سندھ اسمبلی میں دوبارہ پیش کیے جانے کے منتظر ہیں اور مذہب تبدیلی اور جبری مذہب تبدیلی سے متعلق ایک بل قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی سے واپس اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کرنے کے لئے ایم این اے لال مالہی کوشاں ہیں۔ سندھ اور وفاق میں اس متوقع قانون سازی سے پاکستانی مذہبی اقلیتوں کو بھی اطمینان ہو گا۔ اس قانون کی جبری خلاف ورزی کو قابل سزا بنانے سے مذہبی اقلیتوں کو تحفظ اور برابری کا احساس بھی ہو گا۔

ہندو لڑکیوں کے اغوا پر ان کا خیال تھا کہ ”چونکہ اغوا کے تقریباً 100 فیصد واقعات میں ہندو لڑکیوں کو پہلے ہی پانچ دس دن غائب کیا جاتا ہے، ایسی مبہم / مشکوک حرکت کو اغوا سے کم جرم نہیں سمجھا جاسکتا۔ ایک ہفتہ بعد لڑکی گم ہونے کی ایف آئی آر داخل ہوتے ہی کسی مدرسے یا درگاہ کی سند یا فتویٰ سامنے لاکر کہا جاتا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے نکلی ہے۔ اس سے بڑا ظلم یہ ہوتا ہے کہ اکثر لڑکیوں کے نام بھی اسلام کی عظیم پاکباز عورت شخصیات حضرت خدیجہ، عائشہ، فاطمہ، زینب وغیرہ کے ناموں پر رکھے جاتے ہیں، جس سے معاملہ قانونی سے بدل کر جذباتی بھی بن جاتا ہے۔ہندو اہل دانش کا کہنا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس معاملے پر کھل کر بحث کی جائے، اور قانون میں ’زبردستی مذہب تبدیلی‘ کی وصف بھی شامل کی جائے۔ اور لوگوں کو اسلام میں داخل کرنے اور خارج کرنے کا طریقہ کار اور اختیار ریاست اپنے پاس رکھے تا کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو ہر کسی کی دادرسی بھی آسان ہو سکے اور دنیا میں پاکستان کا قومی وقار بھی مجروح نہ ہو پائے۔

”آخر ہندو لڑکیاں ہی مسلمان کیوں ہو رہی ہیں؟“ اس سوال کا سب سے جذباتی جواب سندھ کے شہر غوث پور کے ڈاکٹر جگدیش کمار کا تھا جس کا کہنا ہے کہ ”ہندو لڑکیوں کا اغوا اور زبردستی مذہبی تبدیلی اصل میں سندھ کی تاریخی حیثیت اور وحدت پر حملہ ہے، پوری دنیا میں یہ ظلم صرف پاکستان میں ہی ہو رہا ہے، ورنہ ترکی، مصر، لبنان انڈونیشیا، ملائیشیا حتیٰ کہ فلسطین اور سعودی عرب میں بھی عیسائی اور باقی غیر مسلم لڑکیاں مسلم سماج میں رہتی ہیں آخر وہ کیوں مسلمان نہیں ہو رہیں۔ ان کو مسلمان لڑکوں کا حسن اور کردار کیوں نہیں گرماتا۔“

بچپن سے مذہبی کتابیں پڑھنے کا شوق رکھنے والے ڈاکٹر جگدیش کمار کو اس بات پر غصہ ہے کہ کچھ نیم دانشور اس عمل کو ہندو سماج کے اندر کی توڑ پھوڑ اور ہندو روایات کے ساتھ نتھی کرنے کی سازش کر رہے ہیں، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ہندو ازم پوری دنیا میں کا سب سے آسان اور سستا ترین مذہب ہے، جس میں روزانہ کی عبادت معاف بھی ہے، حتیٰ کہ عبادت کے لیے کوئی وقت بھی مقرر نہیں، جب بھی جہاں بھی بھگوان یاد آ جائے بس دل مین یاد کرو، آواز سے جے جے کار کرلو یا پھر ایک دیا جلا کر جہاں چاہے ماتھا ٹیک دو، سمجھ لو عبادت قبول ہو گئی اور مکتی مل گئی۔ہندو ازم میں تو ویدوں کا حفظ کرنا، تیرتھ یاترا کا مہنگا خرچہ کرنا، مندر بنوانے سے سورگ کا مل جانا، لمبے روزے رکھنا حتیٰ کہ کاشی کا طواف اور کمبھ میلے میں جانا بھی کوئی لازم اور فرض نہیں، یہ سب فرد کی مرضی پر مبنی ہے، اتنے آسان، سستے اور انسانی مزاج اور ماحولیات سے قریب تر مذہب سے کوئی کیسے بغاوت کر سکتا ہے۔ اگر واقعی ہندو لڑکیاں ہندو مذہب سے باغی ہو کر یا اسلام سے متاثر ہو کر گھر سے بھاگتی ہیں اور مذہب تبدیل کرتی ہیں تو 1300 سال سندھ پر مسلمانوں کی حکمرانی رہی ہے اس دوران کتنی ہندو لڑکیوں نے گھر سے بھاگ کر مذہب تبدیل کیا یا کتنے مسلمانوں سے شادیاں کی؟ ہندو بھی مانتے ہیں کہ اسلام امن، شانتی اور رواداری کا مذہب ہے بس آج کل کے مسلمانوں نے اس عظیم مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ڈاکٹر جگدیش کمار ہندو سماج میں اک سماجی برائی کا اعتراف کرتے دکھی دل سے کہتے ہیں ”ہندو دھرم میں عورت کو نہ صرف لکشمی سمجھا جاتا ہے مگر درگا، اردھانگنی، ہنگلاج اور دیگر دیویوں کے روپ میں پوجا بھی جاتا ہے۔ مگر سندھ کے ہندو سماج کے اندر ایک بڑی سماجی برائی ہے کہ اگر ہندو لڑکی گھر سے نکلی تو پھر واپس نہیں آ سکتی۔ بھلے اس لڑکی نے کسی اور ہندو لڑکے سے بھاگ کر پسند کی شادی کی ہو یا پھر اس کو کوئی ہندو یا مسلمان لڑکا زبردستی اغوا کر کے لے گیا ہو، یا پھر وہ مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہو گئی ہو۔ ہندو سماج میں لڑکی ایک بار ہی گھر سے باہر جا سکتی ہے، جو کسی بھی صورت گھر سے نکلی اس کی واپسی کے تمام راستے بند ہو گئے۔ ڈاکٹر کا خیال ہے کہ ہندو سماج کو اس معاملے پر سوچنا اور اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ننکانہ صاحب میں دنیا بھر سے آنے والے یاتریوں کی طبی خدمت کرنے والے تھرپارکر کے ڈاکٹر سنیل کمار کافی وقت سے ہندو لڑکیوں کے زبردستی مذہب تبدیل کرنے والے معاملے پر کام کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ”ہندو برادری کے لیے لڑکیوں کے مسلمان ہونے سے زیادہ ہندو لڑکیاں مستقل طور پر گم ہونے کا مسئلہ درپیش ہے، آخر ایسا کیوں ہے کہ درگاہوں پر ہندو لڑکیاں مسلمان ہونے کے بعد گم ہی ہوجاتی ہیں، ہمیں خدشہ ہے کہ شاید ان کو مار دیا جاتا ہے یا بعد میں کہیں بیچ دیا جاتا ہے، کیونکہ کہ ہم کئی سال گزرنے کے بعد بھی ان لڑکیوں کو سماج میں کہیں آزاد دیکھ نہیں پاتے نہ ان کے بچوں کو۔ یہ سراسر ظلم ہے جس کی اجازت نہ اسلام دیتا ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی قانون۔“

اس وقت لاڑکانہ کی ہندو لڑکی آرتی بائی بھی دارالامان میں موجود ہے، اس کے والدین روزانہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں مگر اندر سے کوئی آواز نہیں آتی۔ قانون کا خاموش رہنا انصاف نہ دینے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ سندھ کی سول سوسائٹی اس وقت ہندو بھائیوں کے ساتھ ہر ممکن طور پر ہم آواز بنی ہوئی ہے مگر سرکار کی جانب سے کوئی قانونی قدم نہ اٹھانے کی وجہ سے معاملات اور پریشان کن ہوتے جا رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے پاکستان کی سول سوسائٹی، سرکار اور ریاست ایک قوم ہونے کے ناتے ہندوؤں کو اقلیت سمجھنے کے بجائے پورا اور مکمل پاکستانی سمجھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق دے، ان کو اپنے عبادت گاہوں کو بنانے، آباد رکھنے اور ان میں جانے کی مکمل اجازت دی جائے۔ ہندو بچوں کو اسکولز میں اسلامی مذہبی کتابیں پڑھانے کے بجائے ان کے اپنے دھرمی یا اخلاقیات پر مبنی کتابیں پڑھائے، ایسا نہ ہو کہ نصابی کتابیں بنانے والے کاریگر پھر بھی اپنے مذہب کو ہی اخلاقیات کو مرکز اور منبع سمجھ کر ہندو بچوں کو پھر سے دینیات پڑھا دیں۔ شہروں میں دینی مدارس کے طرح ہندو ازم کی درسگاہیں بنانے کی اجازت دی جائے۔ زبردستی مذہبی تبدیلی کو طاقت کے زور پر روکا جائے، یہ اختیار درگاہوں سے چھین کر سرکاری عدالتوں کو دیا جائے۔

کیونکہ اسلام کی رو سے تو دنیا اور آخرت میں عزت کمانے کا سب سے اچھا اور پروقار طریقہ بھی یہ ہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *