اسٹیٹ کی گم شدہ رِٹ

تحریر: جمیل احمد بٹ

مذہب کے نام پرایک سیاسی گروپ کے ہاتھوں تین چار دن جس طرح پورا ملک یرغمال بنا رہا ۔ عوام مسائل کا شکار رہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے روک تھام کے بجائے خود ان کے ہاتھوں تختۂ مشق بنے  اور قابل ِ ترس حالت کو پہنچے۔ملک میں امن و امان کے قیام کے ذمہ دار وزیر، دیگر حکومتی ترجمان اور خو د سربراہ حکومت منہ چھپائے پھرے۔یہ سب ملک پر حکومتی رٹ کی کھلی نفی تھی۔اور جائے عبرت۔

واقعات کی ڈور

یکم اگست ۲۰۱۵ ء کو آغاز کے بعدسے اس گروہ نے بتدریج اپنی طاقت میں اضافہ کیا۔اکتوبر ۲۰۱۷ ء میں لیکشن ایکٹ میںعمالِ حکومت کے حلف نامہ میں ایک معمولی ردوبدل کو ختم ِ نبوت پر حملہ کہہ کر فساد برپا کیا گیا۔ نومبر دسمبر ۲۰۱۷ ء میںفیض آباد میں ۲۰ دن دھرنا دیا گیا۔اور راولپنڈی اور اسلام آباد کے لکھوکھا شہریوں کی زندگیاں اجیرن کر کے انہیں عذاب میں مبتلا رکھا گیا۔پھر ۲۰۱۸ ء میں مذہبی عدم رواداری اور تعصب کی شکار ایک مسیحی خاتون کاسالوں جیل کاٹنے کے بعد عدالت سے رہائی کے حکم پر  پُر تشدد مظاہروں کا سلسلہ برپا کیا گیا۔ اسی سال اس گروپ نے الیکشن میں بھی حصہ لیا اور کافی ووٹ حاصل کئے گوا س کی نمائندگی صرف سندھ اسمبلی میں ہو سکی۔اور پھر ۲۰۲۰ ء میں فرانس کا وہ واقعہ ہؤا جس پر ایک بار پھربڑا جلوس نکالا گیا اوراسے فیض آباد میں ایک دھرنے میں بدلا گیا۔

ہمدرد و مددگار

ان مددگار نادیدہ طاقتوں کے علاوہ جو اپنے مقاصد کی خاطر اس گروہ کو معرض وجود میں لائیں،اسے میڈیا،سیاست دانوں اور حکومتوں کی مدد بھی حاصل رہی۔ سوشل میڈیا پر اس کی سرگرمیوں کی مسلسل تشہیر سے اس کی مقبولیت عام ہوئی۔ اور میڈیا اس کی قابل گرفت سرگرمیوں سے صرف ِنظر کر کے بالواسطہ مدد دیتا رہا۔

آج کی حکومت کے سربراہ اور وزیر داخلہ ۲۰۱۷ء کے دھرنے میں وقتی مفاد کے خاطر اعلانیہ فسادیوں کے ساتھ تھے۔ پھر گزشتہ حکومت نے اس دھرنے کوختم کرانے کے لئے جس طرح جھک کر اس گروہ کی شرائط پر معاہدہ کیا اس نے اس کو ایک نئی طاقت دی۔اسی دھرنے کے اختتام پر باوردی صاحبا ن  ِ اقتدار کا ان قانون شکنوں کو سرپرستانہ طور پر تھپکی دینا، بر سر عام انعامی  لفافے تقسیم کرنا اور فریق بن کر معاہدہ کروانے نے بھی اس گروپ کے اعتماد کو بڑھایا۔ پھرموجودہ حکومت نے پہلے دباؤ  میں آکر نومبر ۲۰۱۸ ء میںاس گروہ  سے معاہدہ کر کے ،باوجود  عدالت کے بے گناہ قرار دینے کے فیصلہ کے، آسیہ بی بی کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگائی۔تاہم جس طرح ۱۷نومبر ۲۰۲۰ء کوگھٹنے ٹیک کر  ناقابل عمل شرائط پر اس گروپ سے معاہدہ کیا گیا۔ اس سے ملنے والی طاقت نے اسے انتہائی خود سر کردیااور نوبت آج کے دن کو پہنچی۔

اس گروپ کی سرگرمیوں کا ایک رخ احمدیوںاور ان کی بیوت پر حملے رہا ہے۔ ان غیر قانونی حرکات سے صرفِ نظر کرکے حکومتیں در پردہ  ان سرگرمیوں کی حامی رہی ہیں۔ حکومتی ایماء پر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اکثر خاموش تماشائی بنے رہے ہیںاور بجائے شر پسندوں کو روکنے کے خود مظلوموں کو گرفتار، ان کے گھروں اور عبادت گاہوں کو سیل کرتے رہے ہیں۔میڈیا  بھی ان غیر قانونی  سرگرمیوں کو بالارادہ چھپا کر در پردہ  اس گروپ کی حمایت کرتا رہا ہے۔ایک حق گو ٹی وی ٹاک شوکو چھوڑ کر شاذ ہی اس ظلم کو موضوع  بنایا گیا ہے کہ کس طرح ایک قانون پسند مذہبی جماعت کے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے افراد کو قتل کیا گیا۔ان کے گھروں کو جلایا گیا اور ان کی عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ان پر لکھے اللہ اور رسول  ﷺ  کے ناموں کی بے حرمتی کی گئی۔اور وہ عوام بھی جن کی آنکھوں کے سامنے اللہ اور اس کے رسول  ﷺ کی بے حرمتی ہوئی لیکن اپنی مرضی سے لاعلم رہ کر وہ جاہلوں کی بات پر کان دھرے رہے اوراس سحر میں گرفتار رہے کہ گویا یہ اللہ اور رسول  ﷺ ان کے نہیں ہیں۔

پرانی ڈگر

پاکستان میں گروہوں کی مذہب کو استعمال کر کے سیاست کرنے کی ایک پرانی تاریخ ہے۔ساتھ ہی ارباب ِ اقتدار کی ان گروہوں کو بنانے، ان کی سرپرستی کرنے اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا سلسلہ بھی پہلو بہ پہلو چل رہا ہے۔ملکی آبادی کی  بھاری اکثریت کا غربت کی سطح سے نیچے  ہونا اور بالکل جاہل ہونا  وہ خام مال ہے جواس کاروبا رکے لئے وافرطور پر دستیاب ہے۔وقتی مفاد کے لئے بنائے گئے یہ گروہ گزرتے وقت کے ساتھ طاقتور ہوکر سرکشی پر اتر آتے اور قابو سے نکل جاتے ہیں۔ اور پھر بالآخر ان کا  بزورقلع قمع کرنا پڑتاہے۔ ایسا بار بار ہؤا ہے۔

ٹی ایل پی پہلوں سے مختلف نہ تھی۔اس کا قیام اوربتدریج پھیلاؤ  نیا نہ تھا۔ پھر اس کا اپنا طریق  ِ واردات بھی اس عرصہ میں یکساں رہا۔ اس کے  لاقانونیت  کے مظاہرے پہلے بھی تھے۔اس کے ہاتھوں شہریوں کی مشکلات میں مبتلا ہونا پہلے بھی تھا۔اس سے جھڑپوں میں قانون نافذ کرنے والے اہل کار پہلے بھی زخمی ہوتے تھے۔ٹی ایل پی نے کچھ نیا نہیں کیا توپھر اچانک کیا ہؤا کہ بات  اس پر پابندی تک آن پہنچی ؟اورایسا کیا ہؤاکہ اس کا انجام اتنی جلد آگیا؟

امکانات

ممکنہ وجوہات میں سے تین یہ ہو سکتی ہیں:

مفاد پرستی:   ٹی ایل پی الیکشن کمیشن میں ایک سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹرہے اور ۲۰۱۸ء کے الیکشن میں اس نے قریباً بیس لاکھ  ووٹ حاصل کئے اور سندھ اسمبلی میں نمایندگی بھی۔اس کے بعد جس طرح وہ مذہبی کارڈ کھیلتی رہی ہے اس سے اس کی عوامی مقبولیت میں اور بھی اضافہ ہؤا ہے۔ جیسا کہ بانی ٔ تحریک کے جنازے میںبڑی حاضری سے ظاہر ہے۔ اس کا یہ بڑھتا ہؤا ووٹ بینک باقی سیاسی پارٹیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔اور اس کی طاقت توڑنا سب کے مفاد میں ہے۔بطور ِ خاص موجودہ حکومت کے۔ایک اورمخالف بڑی سیاسی جماعت ، جس کاووٹ بینک گزشتہ الیکشن میں اس کے ہاتھوںمتاثر ہؤا تھا،کے اراکین کا موجودہ ہنگامے میں شمولیت  اورمعاونت نے بھی حکومت سے محاذ آرائی میں اسے پیچھے نہ ہٹنے  دیا اور یوںاسے اس انجام کو پہنچانے میں اپنا حصہ ڈالا۔

پس پردہ  بازی گر:  ہمارے خطہ میں بہت سے نظر آنے والے سیاسی مہروں کی ڈور تھامے ،ان کے پس پردہ بازی گروں کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ اس وقت ویسے بھی کئی محاذ کھلے ہوئے ہیں۔ امریکہ کا بھارت کی مدد سے ،سیپیک کے راستے چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے کوشاں ہونا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ٹی ایل پی کی بڑھتی ہوئی طاقت کسی بھی پلڑے کا وزن  بڑھا سکتی ہے۔ گو اس کا دیگر مذہبی جماعتوں کی طرح بھارت کی طرف جھکاؤ واضح ہے۔ ایسے میں دوسرے فریق کا یہ چاہنا فطری ہے کہ حکومت کی مدد سے اس کی طاقت کو توڑا جائے۔

سب تدبیروں سے بڑھ کر تدبیر کرنے والا:  جولائی ۲۰ ۲۰ء سے ملک میںبے گناہ احمدیوں کے خلاف ظلم و بربریت کی ایک نئی مہم جاری  ہے۔ پیپلز کالونی گجرانوالہ میں احمدیوں کے پانچ گھر جلائے گئے جہاں ایک خاتون اور دو بچیوں کی شہادت  ہوئی۔پھر پشاور میں یکے بعد دیگرے معراج احمد صاحب، پرفیسر نعیم الدین خٹک صاحب، ۸۲ سالہ محبوب احمد خان صاحب اور فروری ۲۰۲۱ء  میں ڈاکٹر عبد القادر صاحب شہید کئے گئے۔ نومبر ۲۰۲۰ء میں ننکانہ میں ۳۱ سالہ ڈاکٹر طاہر محمود صاحب کی شہادت ہوئی۔ اور پھر اس سال۲۰۲۱ء میں پہلے گرمولہ ورکاں ، گجرانوالہ اور پھر مظفر گڑھ میں احمدیہ بیوت الذکر پر حملے اور ان پر لکھے اللہ اور رسول  ﷺ کے ناموں کی بے حرمتی کی گئی۔ ان واقعات کی بعض ویڈیوز میں لبیک کے نعرہ زن کارکن نمایاں ہیں۔

احمدی اس ظلم، عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ اور اللہ رسول  ﷺکے ناموں کی بے حرمتی پر ایک مقبول بندہ کے ہر جمعہ کو دعا کی تحریک پر دکھے دلوں کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکے اور اس سے مدد کے طالب رہے۔اللہ پر زندہ ایمان اور ا س کے آگے جھکے ہوئے دعا گو افراد کا اپنی دعاؤں کا شرف ِ قبولیت پاتے دیکھنا کوئی نیا تجربہ نہیں ہے۔

سب سزاوار

اس بے حرمتی میں فریق ٹی ایل پی ،پولیس اورحکومت سب کوسزا ملی۔ٹی ایل پی کے ہاتھوں پولیس پر تشدداور ہلاکتیں، حکومت اور عمالِ حکومت کی رسوائی اور جگ ہنسائی اور پھر حکومت کے ہاتھوں ٹی ایل پی پر چارج شیٹ اور پابندی۔

اس گرفت میں سب شامل ہیں۔یہ مذہبی جماعت اور اس کے بے لگام اراکین تو نمایاں ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں میں سے بعض کا ان کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ اور یرغمال بننا، بعض کاجان سے جانا، کئی سو کا زخمی ہونا  بھی ایک سزا تھی جو انہیں ان کے ہاتھوں پہنچی جن کی غیر قانونی سرگرمیوں کی یہ نگرانی کرتے تھے۔

پھراس حکومت کو بھی سزا ملی جس کی اس گروہ سے ہمدردیاں چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ اور جو درپردہ مسلسل اس کو شہ دیتی آئی ہے۔اب اسے اچانک اس حمایت سے ہاتھ اٹھا کر اپنی ساکھ کی قربانی دینی پڑی ۔اور وہ بھی جگ ہنسائی اور چار دن منظر نامہ سے فراررہنے کے بعد۔اور اس کے ایک وزیر کو ٹی ایل پی کی حمایت میں اپنے گزشتہ پبلک بیانات کے اور ہمیشہ سے مذہبی کارڈ کا کھلاڑی ہونے کے باوجود اس حمایت سے دستکش ہونا پڑا۔گو پنجاب حکومت اور کابینہ کی آڑ میں چھپنے کی کوشش تو بہت کی لیکن ان کا دہرا معیارسب نے دیکھ لیا۔اور سب سے بڑھ کر جس کی رِٹ کھلے بندوں پامال ہوئی۔اور پھر عوام نے بھی ذلت دیکھی۔تکلیفیں  اٹھائیں۔اپنے بیماروں کو اسپتال کے لئے لے کر نکلے اور قبرستان جا پہنچے۔دیہاڑی داروںنے بے روزگاری کی سزا بھگتی۔ اورسب بار بار دنوں اور ہفتوں خوف و حزن کے سیاہ سایوں میں گھروں میں مقید رہائی کی خبر کی آس لگائے  بیٹھے رہے۔

ان عوام الناس میں سے بہت سے وہ ہیں جو احمدیوں کے ساتھ رہتے رہے، ان کے گھروں میں آئے گئے۔  دفتروں، کاروبار وں اور تجارتوں میں ان سے معاملے کئے اوردیکھا کہ کس طرح احمدی آں حضرت  ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔ بات بات پر ان کی زبانیں ان کا نام لیتی ہیں ان کی فرمائی ہوئی باتیں دہراتی ہیں۔ان کے گھروں میں کلام اللہ طاقوں میں سجا اور الماریوں میں بند نہیں رہتا بلکہ گھر کے سب بڑے چھوٹے ہر روز اس کی تلاوت کرتے ہیں ۔اور اس پر عمل کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔اس سب کے باوجود جب مذہبی کاروباریوں کی زبانی وہ کسی احمدی پر توہین ِ رسول  ﷺ یا توہین ِقرآن کا الزام سنتے ہیں تو بجائے آگے بڑھ کر گواہی دینے کے کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور یہ الزام سراسر جھوٹ ہے۔ وہ اس جھوٹ کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیںیا چپ رہ کر اس جھوٹ کے نتیجہ میں ہونے والے ظلم اور زیادتی کو خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں۔

اپنی بزدلی اور کم ہمتی کے باعث باوجود اکثریت ہونے کے یہ عوام دین کا کاروبار کرنے والی تھوڑی سے جمیعت کے ہاتھوں یرغمال ہے ۔ کس مپرسی کی موجودہ زندگی ان پراسی کی سزا میں عذاب  ِ الٰہی کے طور پر نازل ہے۔یہ عذاب انہیں اس وقت تک بھگتنا ہے جب تک کہ وہ سچ کی خاطر آواز نہیں بلند کرتے۔

پابندی کوئی حل نہیں

یوں تو ملک میں۷۸  دہشت گرد تنظیمیں اس سے پہلے کالعدم کی جا چکی ہیں۔ لیکن پابندی لگائی جانے والی سیاسی جماعتوں میں سے یہ تیسری جماعت ہے۔ جماعت اسلامی،  نیشنل عوامی پارٹی اور یہ تحریک لبیک پاکستان۔ پہلی جماعت پر پابندی کا حکم سپریم کورٹ نے ختم کر دیا تھا۔جب کہ دوسری پر قائم رہا۔

لیکن سب جانتے ہیں کہ پابندی کوئی دیر پا حل نہیں۔حل وہی نتیجہ خیز ہوگا جس سے ان کے پیدا کردہ مسائل حل ہوںگے یعنی  معاشرے سے عدم برداشت، دوسروں پر اپنی رائے کا ٹھونسنا،قانون شکنی اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا،مخالف رائے رکھنے پر کفر اور قتل کے فتوے جاری کرنااور ہر چھوٹی بڑی بات پر تشدد کی راہ اپنانا  جیسی سماجی برائیوں کا خاتمہ ۔خلاصتاًمسئلے دو ہیں۔

مذہب کا سیاسی استعمال:  پہلا مسئلہ  مذہبی سیاست ہے۔ہے۔کئی سیاسی جماعتیں مذہب کا کارڈ اقتدار میں آنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ۱۲۷ سیاسی جماعتوں میں ٹی ایل پی سمیت بہتیری مذہبی جماعتیں ہیں۔جن کا مقصد مذہب کی سیڑھی سے اقتدار کے آنگن میں اترناہے۔ اس غرض سے عوام کے مذہبی جذبات سے کھیل کر ملک میں دنگا فساد ان کا طریق ہے۔اس مسئلہ کا سادہ سا حل ملک میں غیر مذہبی سیاسی نظام کا قیام ہے۔ اگر حکومت مذہب سے لاتعلق ہو جائے تو سیاسی جماعتوں کے پاس مذہب کامیدان نہ رہے گا اورپھر وہ مجبور ہوں گی کہ عوامی مسائل پر سیاست کریں۔ پس  ا صل حل ریاست اور مذہب کا الگ  الگ کیاجانا ہے۔ اور ایسی قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے کہ مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کرنے کی ممانعت ہو۔مذہبی ناموں کے ساتھ

سیا سی جماعتوں کے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن  منسوخ کی جائیں۔اور ان کی سیاسی جماعتوں کے طور پر کام کرنے کی ممانعت ہو۔ مولویوں مفتیوں اور حفاظ کا میدان عمل مذہب ہو اور ان کے سیاسی جماعتوں کے عہدیدار ہونے پر پابندی ہو۔اور قوم کو  ’سیاست صرف سیاست کے ساتھ ‘ کا  نعرہ دیا جائے۔

مذہبی اجارہ داری:  دوسرا مسئلہ بعض مذہبی جماعتوں کے مذہب پر اجارہ داری کے دعویٰ ہیں۔کئی معاملات کے خود ساختہ محافظ بن کرکئی انجمنین قائم ہیں اور خوب کھا کما رہی ہیں۔ان کا طریقِ کار مخالف عقیدہ رکھنے والوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرنا ، ان کے قابل احترام بڑوں کے خلاف گالی گلوچ کرنا  اور نفرت انگیز تقریریں کرنا اور لٹریچر چھاپنا، لوگوں کوان کے بائیکاٹ پر اکسانا اور ان کے کفر اور قتل کے فتوے دینا ہے۔

اس مسئلہ کا حل قانون کی عمل داری اور عدالتوں کا انصاف فراہم کرنا ہے۔ فی ا لوقت کیونکہ ریاست اور مذہب گڈ مڈ ہیں اس لئے قانون کے نفاذ میں سیاسی مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں۔اور انصاف کی راہ میں بھی کئی روڑے ہیں۔ اس لئے حکومت اور مذہب کے الگ الگ ہونے سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

حرف ِ آخر

تحریک لبیک پر پابندی ایک وقتی بات ہے۔ سیاست کی بازی گری اس سے نکلنے کی راہ تلاش کر لے گی۔ یا پھر اسی قسم کے کسی اور جن کو بوتل سے نکال لیا جائے گا۔اور یہی تاریخ پھر دہرائی جائے گی۔اس لئے حالات کا بدلنا خود عوام الناس کے ہاتھ میں ہے۔قرآن سچ کو نظر انداز کرنے والوں کو اندھے، بہرے اور گونگے کہتا ہے۔اس لئے  بہتری کی راہ خود دیکھنے، خود سننے اور پھر سچ بولنے میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *