درس القرآن

مَنِ اهْتَدٰی فَاِنَّمَا یَهْتَدِی لِنَفْسِهٖ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یُضِلُّ عَلَیْهَا  وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰی    وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ  رَسُوْلًا  ؁

وَ اِذَآ  اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا؁

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ    وَ كَفٰی بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیرًۢ ؁

ترجمہ:     جو ہدایت پا جائے وہ خود اپنی جان ہی کے لئے ہدایت پاتا ہے اور جو گمراہ ہو تو وہ اسی کے مفاد کے خلاف گمراہ ہوتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اُٹھائے گی۔ اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں (اور وہ حجت تمام کردیں)۔

اور جب ہم ارادہ کرلیتے ہیں کہ کسی بستی کو تباہ کردیں تو اُس کے خوشحال لوگوں کو حکم دے دیتے ہیں (کہ من مانی کارروائیاں کرتے تھے پھریں) پھر وہ اس میں فسق و فجور کرتے ہیں تو اس پر فرمان صادق آ جاتا ہے تو ہم اس کو ملیامیٹ کر دیتے ہیں۔

اور کتنے ہی زمانوں کے لوگ ہیں جنہیں ہم نے نوح کے بعد ہلاک کیا اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے (اور) اُن پر نظر رکھنے کے لحاظ سے بہت   کافی ہے۔

تفسیر:   وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا:  مسند احمد بن حنبل میں کچھ ایسی حدیثیں ہیں جن سے عوام ناواقف ہیں۔ فرمایا جو لوگ بہرے ہیں یا جنہوں نے انبیاء و رُسل کا زمانہ نہیں پایا۔ یا وہ بچے تھے یا بہت بوڑھے تھے۔ یہ جنابِ الٰہی میں اپنے اپنے عُذر پیش کریں گے کہ ہمیں کچھ خبر نہ تھی۔ وہاں بھی اللہ تعالیٰ رسول بھیج دے گا۔ بغیر رسول کے عذاب نہیں دیا جاتا۔ ابنِ جریر میں بھی ایسی حدیثیں ہیں۔

فَفَسَقُوْا فِيْهَا:  وہ جن کو حکم دیا جاتا ہے ہمارے حکموں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ:  بدیاں کرتے کرتے وہ حالت پہنچ جاتی ہے۔ جس پر فردِ جرم لگ جائے۔

وَ كَفٰى بِرَبِّكَ:   نحو کا نقطہ آپ کو سُنائے دیتا ہوں۔ كَفٰى بِرَبِّكَ کے معنے کہتے ہیں۔ كَفٰى رَبُّكَ ہیں۔ پس كَفٰى رَبُّكَ کیوں ہوا۔ یہ ب کیوں بڑھی؟

(علمِ نحو کی لغوی تعریف یہ کہ یہ وہ علم ہے جس کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے اس، فعل، حرف کے آخر کو معرب اور مبنی کے اعتبار سے اور بعض کلمات کو بعض سے ملانے کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔)

نحویوں نے لکھا ہے کہ جب مدح یا ذم کا کوئی مقام ہوتا ہے تو پھر ایک جملہ کے دو جملے بنا لیتے ہیں۔ اِکْتَفِ بِرَبِّکَ تُو کفایت کر اپنے ربّ سے۔ كَفٰى رَبُّكَ قَامَ بِاَخِیْکَ مدح کے مقام میں بولیں گے۔             (حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ 527-528)

تفسیر:   سورۃ القلم میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ہم جب انبیاء کے دشمنوں کو مہلت دیتے ہیں تو اس لیے دیتے ہیں کہ ان کے گناہ کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ان کو کوئی بچا نہیں سکتا۔ اس سورت میں بیان قوموں کا ذکر ہے جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار مہلت دی گئی لیکن جب ان کے گناہوں کا پیمانہ بھر گیا تو ان کی پکڑ کی گھڑی آگئی۔                 (اُردو ترجمہ قرآن صفحہ 1066)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جس بہت بڑے عذاب سے بنی نوع انسان کو ڈرانے کا ارشاد فرما دیا ہے اس کا تعلق دنیا کی کسی خاص مذہبی جماعت سے نہیں بلکہ بحیثیت انسان ہر ایک کو متنبہ کیا گیا ہے۔ جب وہ واقعہ ہوگا تو دنیا کے لحاظ سے بھی انسان سمجھے گا کہ گویا زمین و آسمان اس پر پھٹ پڑے ہیں انسان کی بعثتِ ثانیہ میں بھی یہ انتباہ ایک دفعہ پھر پورا ہوگا کہ نہ اس کا کوئی زمینی تعلق اسے بچا سکے گا نہ آسمانی تعلق اور جہنم اس کا انجام ہوگا۔          (قران کریم اُردو ترجمہ صفحہ 1066)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *