سرکس کے شور میں دبے مقدمات

تحریر:  محمد بلال غوری

قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے ،اسلامی مملکت یا پھر سیکولر ریاست؟ہم جمہوریت پسند ہیں یا پھر آمریت کے دلدادہ؟عوام کی اکثریت رجعت پسندانہ خیالات کی طرف مائل ہے یا پھرروشن خیالی پر قائل؟پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے یا پھر اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت؟کیا واقعی کپتان کو لانے والے بھی ان سے تنگ آچکے ہیں یا یہ بات محض ڈھکوسلہ ہے؟ تہہ در تہہ چیستاں میں لپٹی یہ باتیں اور ان سے ملتے جلتے دیگر سوالات کے جواب تو مجھے معلوم نہیں لیکن ایک بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم من حیث المجموعی اعلیٰ درجے کے فلم بیں ہیں اور ہمیں ہر آن فلم چلانے والے ڈائریکٹرز اور اسکرپٹ رائٹرز بیحد پسند ہیں۔ہمیں ایکشن ہی نہیں ،تجسس اورتحیر سے بھرپور تماشا دیکھنے کی لت پڑ چکی ہے۔روم کے بادشاہ تو عوام کی توجہ ہٹانے کے لئےسال میں ایک آدھ بار سرکس کا بندوبست کیاکرتے تھے ،جہاںبھوکے شیروں اور گلیڈی ایٹرز کی لڑائی ہوتی،نوکیلے سینگوں والے بھینسوں اور غلاموں کا مقابلہ ہوتا،اسٹیڈیم میں ہو رہے اس دنگل میں محو لوگ اپنے مسائل بھول جایا کرتےمگر یہاں تو ہر روز’لکی پاکستانی سرکس‘کے کئی کئی شوہوتے ہیں۔کبھی کوئی مداری سر پر پہنے ہیٹ سے کسی نئے ایشو کا کبوتر نکال کر دکھاتا ہے تو کئی روز اس پر بحث وتمحیص کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔کبھی براڈشیٹ کے نا م پر فراڈ شیٹ کا میلہ سجتا ہے،سینیٹ الیکشن کے موقع پر بازی پلٹ جانے کا تصور دیکھنے والوں کو تحیر و تکدر میں مبتلا کئے رکھتا ہے،کبھی چائے والا،کبھی حریم شاہ تو کبھی پاوری گرل پر توجہ مرکوز ہوجاتی ہے،گاہے کسی متنازع شخص کو اہم عہدے پر تعینات کردیا جاتا ہے تو ناقدین یوں آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں جیسے پہلی بار کسی منظور نظر کو نوازا گیا ہو،جب یہ شخص مال بنالیتا ہے تو اسے فارغ کردیا جاتا ہے تاکہ کسی اور کو موقع دیا جائے اور پھر اس فراغت پر بھی طفلانِ انقلاب تالیاں پیٹتے ہیں ،داد و ستد کے ڈونگرے برساتے ہیں۔جمہوری تماشے کا وہ منظر تو دم بخود کردیتا ہے جب ’سلیکٹڈ‘کا طعنہ دینے والے اپنے تئیں رفعتیں پاتے ہیں اور خود ’سلیکٹڈ‘کے پاس جا کر ’سلیکٹ ‘ہو جاتے ہیں۔اعلیٰ عدالتیں بھی عوام کو مایوس نہیں کرتیں ،کبھی پاناما اور اقامہ کاشور،کبھی واٹس ایپ کا دور،کبھی گاڈفادر تو کبھی بلیک لاز ڈکشنری کی باتیں ،ڈسکہ الیکشن ملتوی کرنے کے لئے فی الفور سماعت مگر سینیٹ الیکشن کیس کی شنوائی سے یہ کہتے ہوئے گریز کہ عدالتوں کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ،اپنے معاملات پارلیمان میں حل کئے جائیں ،عام آدمی سمجھ نہیں پاتا ،کبھی جلوہ ،کبھی پردہ ،آخر ماجرا کیا ہے؟اس سرکس کے شور میں مظلوموں کی چیخیں اور آہیں دب جاتی ہیںاور معلوم ہی نہیں ہوپاتاکہ آٹے دال کا بھائو کیا ہے؟زمانہ کیسی قیامت کی چال چل چکا ہے؟عام آدمی کی زندگی کس قدر دشوار ہوچکی ہے؟سانحہ ساہیوال میں قتل ہونے والوں کے ورثا کو انصاف تو نہ مل سکا کہ وزیراعظم ابھی قطر سے نہیں لوٹے مگر سی ٹی ڈی کے جس افسر پرفرد جرم عائد کی گئی تھی اسے پاکستان کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ستارہ شجاعت سے نوازدیا گیا ہے۔پیٹرول پر حکومت کتنا ٹیکس لے رہی ہے؟بجلی اب تک کتنی بار مہنگی کی جا چکی ہے؟زرعی ملک میں بیک وقت گندم اورچینی درآمد کرنے کی نوبت کیوں آئی؟ان موضوعات کی طرف توجہ اسلئے نہیں جاتی کہ ’لکی پاکستانی سرکس‘کا میلہ بلا تعطل جاری رہتا ہے۔ایک مداری جاتا ہے تو نیا تماشا شروع ہوجاتا ہے۔لکھنے اور کہنے والے بھی اس سرکس کے جادوئی حصار سے نہیں نکل پاتے اور سیاسی موضوعات لے کرمصالحہ دارچارٹ بناتے ہیں مگر آج ایک عام آدمی کے حقیر سے معاملے کی جانب آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ مرد مومن مرد حق جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب منافقت عروج پر تھی تو 1981میں احترام رمضان آرڈیننس جاری کیا گیا۔اس آرڈیننس کی آڑ میں پولیس کو مال بنانے کا ایک نیا موقع میسر آگیا۔ہر سال احترام رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی پر لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور نذرانہ وصول کرنے کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے۔لاہور کے پان فروش جمشید کو بھی 2013 میں احترام رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔ نذرانہ نہ ملنے پرجمشید کو عدالت میں پیش کردیا گیا،جہاں اسے پانچ دن قید کی سزا سنادی گئی۔غریب پان فروش نے سزا کے خلاف اپیل کی لیکن ناقص عدالتی نظام کے شکنجے میں جکڑے ہوئے عام آدمی کو 6سال بعد انصاف ملا۔ یہ خبر کورٹ رپورٹر عابد خان نے 2019 میں رپورٹ کی لیکن جب بھی سامنے آتی ہے تو نظام عدل کا منہ چڑاتی ہے۔یہ کسی ایک شخص کا دردناک قصہ نہیں بلکہ عدالتوں میں زیرالتوا لاکھوں مقدمات کی وجہ سے لوگ انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں۔1997 میں ڈھوک علی حیدر کے علاقے میں ایک شخص محمد اسماعیل قتل ہوا،مظہرحسین کو اس واردات کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ایڈیشنل سیشن جج چوہدری اسدرضا نے 2004 میں سزائے موت سنادی۔اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل کی گئی جو مسترد ہوگئی۔مظہر حسین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔گرفتاری کے 19سال جبکہ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کئے جانے کے 6سال بعد2016 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رُکنی بنچ نے سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مظہر حسین کو باعزت بری کردیامگر بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ تو دوران حراست ہی دو سال قبل زندگی کی قید سے آزاد ہو چکا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیف جسٹس بنتے وقت اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ زیرالتوا مقدمات کے خلاف ڈیم بنانا چاہتے ہیں۔تب سپریم کورٹ میں39ہزار مقدمات زیر التوا تھے،جب وہ رخصت ہوئے تو لگ بھگ 40ہزار مقدمات زیر التوا تھے مگر سپریم کورٹ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق زیر التوا مقدمات کی تعداد48ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو بھی شامل کرلیا جائے تو تقریباً20لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔سویلین بالادستی ،ووٹ کو عزت دو اور اس جیسے گمبھیر مسائل حل نہیں ہو سکتے تو کم ازکم ان حقیر مقدمات کو ہی نمٹا دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *