ہفت روزہ لاہور کا اجراء ثاقب زیروی کی زبانی

لاہور میں کافی ہاؤس نامور ادیبوں اور شاعروں کی فکری جولا نگاہ کا کام دیتا تھا۔ مولانا چراغ حسن حسرت، عبداللہ بٹ، احسان دانش اور بعض دوسرے نامور ادیبوں اور شاعروں سے کافی کے کپ پر علمی گپ شپ رہتی۔ ایک دن ایسی ہی ایک نشست میں مولانا چراغ حسن حسرت نے (جو امروز اخبار کو خیرآباد کہہ چکے تھے) باتوں باتوں میں یہ تجویز پیش کی کہ’’شیرازہ جیسا ایک ہفتہ نامہ ہونا چاہیے جو نیم سیاسی سا ہو لیکن ’’لاہور‘‘ کی علمی و ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا احاطہ         بھی کرے۔‘‘

پھر مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا ’’اگر آپ جم کرڈیسک پر بیٹھنے کی حامی بھرلیں تو میں شیخ غلام علی اور فلاں فلاں سے دس پندرہ ہزار روپے جمع کر لونگا۔ کچھ عرصے کے بعد یہ ہفت نامہ اپنی جگہ بنا لے گا۔‘‘ مَیں نے حامی بھری تو نام تجویز ہونے شروع ہوئے اور بالآخر ’’لاہور‘‘ نام طَے پایا۔ کہنے لگے! ’’آپ کل ہی ’’ڈیکلریشن‘‘ کے لیے درخواست دے دیں۔‘‘

جو دے دی گئی اور کوئی دو ماہ بعد ڈیکلریشن بھی مل گیا۔ لیکن اسی عرصہ میں مولانا ریڈیو پاکستان کی ملازمت اختیار کرکے کراچی چلے گئے۔ میں نے ڈیکلریشن مل جانے کی اطلاع کے ساتھ آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں استفسار کیا تو جواب ملا کہ ’’اب آپ اسے نکالیں میری دعائیں آپ کے ساتھ رہیں گی۔‘‘

اسی اثناء میں مجھے وکالت تبشیر میں تبادلے کا حکم نامہ مل گیا۔ مَیں ربوہ چلا گیا اور ’’لاہور‘‘ ڈمی چھپتا رہا جس پر ایڈیٹروں کی حیثیت سے تین نام ہوتے تھے۔ علامہ لطیف انور، عاطر ہاشمی اور ثاقب زیروی۔ اسی اثناء میں ایک ’’ڈمی‘‘ پر ایک ڈاکٹر سے متعلق ایک سخن گسترانہ بات ہوگئی ایک طنزیہ قطعہ کی صورت میں جس کا دوسرا شعر یوں تھا کہ

ایمان کو میراث سمجھنے والے

اخلاص تیرے باپ کی جاگیر نہیں

چونکہ اس قطعہ کا عنوان ’’ڈاکٹر‘‘ سے تھا۔ ایک ڈاکٹر صاحب جو اکثر و بیشتر ہماری معمولی معمولی باتوں کی بھی شکایتیں کرتے رہتے تھے اس قطعہ کی شانِ نزول اپنا وجود سمجھے اور روتے ہوئے پرچہ لے کر ’’قصرِ خلافت‘‘ میں پہنچ گئے۔ جواب ملا ’’تم نے بھی تو کوئی کسر نہیں چھوڑی اب ایک لوہار کی بھی برداشت کرو۔‘‘

یوں حضور کو پتہ چل گیا کہ میرے پاس ایک ڈیکلریشن ہے۔ چند روز بعد مجھے   بلوایا اور فرمایا۔’’معلوم ہوا ہے تمہارے پاس ایک ہفت نامے کا ڈیکلریشن ہے      تو اسے نکالو۔‘‘

عرض کیا ’’وہ ڈیکلریشن لاہور ڈسٹرکٹ کا ہے پرچہ ربوہ سے نہیں لاہور ہی سے نکل سکتا ہے۔‘‘

فرمایا ’’ہاں ’’لاہور‘‘ ہی سے نکالو۔‘‘ مَیں تمہیں ایک سال کی رخصت دیتا ہوں۔ بتاؤ پیسے کتنے چاہئیں۔‘‘

عرض کیا ’’صرف دعا چاہیے۔ پیسے نہیں۔ مَیں کوشش کروں گا کہ حضور کے ارشاد کی تعمیل احسن طور پر ہوسکے۔‘‘

’’لاہور‘‘ میں جی پی او کے سامنے بینک سکوائر کی ایک عمارت میں اکثر نشست رہتی تھی ایک دن ایک شریکِ محفل چودھری شکراللہ خان ایڈووکیٹ (جن کی ’’میڈیسنز‘‘ کی ایک دوکان تھی) نے مجھ سے کہا کہ ’’رسائل و جرائد میں تمہارے مضامین سے طبیعت بہت متاثر ہے تم اپنا پرچہ کیوں نہیں نکالتے؟‘‘

مَیں نے بتایا کہ ’’ایک ہفتہ وار کا ڈیکلریشن بھی میرے پاس ہے مگر صرف ڈیکلریشن کافی نہیں باقاعدہ پرچہ نکالنے کے لئے ’’سرمایہ‘‘ درکار ہے اور وہ میرے پاس نہیں۔‘‘ کہنے لگے۔ ’’اس کا ایک پورا پرچہ تو نکال کر دیکھو۔ مَیں آپ کو اس کے لیے دو صد روپے پیش کرتا ہوں میری ’’میڈیکوز‘‘ کا اشتہار اس میں لگا دینا۔‘‘

اُن دنوں پانچ روپے فی رم نیوز پرنٹ تھا۔ مَیں نے 24 صفحے کا ایک پرچہ  20×30/4   شائع کیا جو چٹان، قندیل اور آفاق کے لگّے کا تھا۔ پہلا صفحہ یعنی سرورق بانی پاکستان کی شبیہ سے اور آخری صفحہ گورنر جنرل پاکستان کی تصویر سے مزیّن تھا۔ میرے تمام احباب پرچہ دیکھ کر اور پڑھ کر بہت محظوظ و متاثر ہوئے اور مَیں چالیس پچاس کاپیاں لے کر بھائی جان چودھری عبد اللہ خان کے پاس کراچی چلا گیا۔ پرچہ دیکھ کر کہنے لگا۔ ’’ایسے ’’لاہور‘‘ کو تو باقاعدہ ہونا چاہیے۔ بتاؤ کتنے پیسے ہوں تو یہ باقاعدہ چھپنے لگے گا؟‘‘

آل راؤنڈر تو مَیں تھا ہی پھر جوانی کا جوش، مَیں نے کہا۔ ’’بھائی جان! اگر تین ہزار روپے جمع ہوجائیں تو میں اسے بند نہیں ہونے دوں گا۔‘‘

کہنے لگے ’’پروگرام کیا ہے؟‘‘

عرض کیا کہ ’’آج رات خواجہ ناظم الدین صاحب (گورنر جنرل) بالقابہ کے پاس گزاروں گا۔ کل آپ کے ہاں اور پرسوں واپسی۔‘‘

مَیں گورنر جنرل ہاؤس چلا گیا۔ محترم خواجہ صاحب کی خدمت میں پرچہ پیش کیا۔ بہت خوش ہوئے اور ہنستے ہنستے اندر تشریف لے گئے اور پانچ دس منٹ کے بعد اسی طرح ہنسی بکھیرتے ہوئے واپس آئے اور فرمایا

’’شاہ بانو (ہماری بیگم) ’’لاہور‘‘ کے اس پرچے سے بہت متاثر ہوئی ہیں اور انہوں نے کہا کہ ثاقب صاحب کی خدمت میں ہماری طرف سے نذرانے کے طور پر پانچ صد روپے پیش کیے جائیں۔ اور یہ لیجئے ان کے پانچ صد روپے‘‘ (جنہیں مَیں نے شکریہ کے ساتھ وصول کیا)کچھ دیر تک مندرجہ مضامین پر تبصرہ فرماتے فرماتے ایک دم پھر ہنس پڑے اور فرمایا

’’اور ہم تو شاہ بانو کے میاں ہیں ان سے دوگنا ہدیہ پیش کریں گے اور یہ لیجئے ایک ہزار روپے‘‘

گویا نصف رقم مجھے اسی اقامت گاہ پر مل گئی۔ مَیں اگلے دن بھائی جان (چودھری عبداللہ خاں) سے ملا تو کہنے لگے۔’’مَیں نے تیرا سو کے تین ڈرافٹ اشتہارات کے وصول کر لئے ہیں۔‘‘ مَیں نے عرض کیا’’ڈیڑھ ہزار روپے میرے پاس خواجہ صاحب محترم اور ان کی بیگم کا عطیہ ہے۔‘‘

یہ سُن کر اپنے اچکن اور کُرتے کی جیبیں کھنگالنے لگے اور تھوڑی دیر بعد کہا ’’یہ لو دو سو روپے میری طرف سے۔ اب تین ہزار میں سے کچھ خرچ مت کرنا واپسی کا کرایہ اور سفر خرچ مَیں دوں گا۔ ’’اللہ تمہاری زبان مبارک کرے اور یہ کبھی       بند نہ ہو‘‘۔

(منقول تجربات جو ہیں امانت حیات کی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *