گلدستۂ اردو ادب

ایک دفعہ مولانا ظفر علی خان کے نام مہاشہ کرشن ایڈیٹر “پرتاب” کا دعوت نامہ آیا جس میں لکھا تھا:

فلاں دن پروشنا فلاں سمت بکرمی میرے سُپّتر ویریندر کا مُونڈن سنسکار ہوگا۔ شریمان سے نویدن ہے کہ پدھار کر مجھے اور میرے پریوار پر کرپا کریں۔ شُبھ چنتک کرشن۔( فلاں دن میرے بیٹے ویریندر کی سر مُنڈائی ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ تشریف لا کر مجھ اور میرے خاندان پر مہربانی کریں۔ )

مولانا نے آواز دی سالک صاحب! ذرا آئیے گا۔ فرمایا کہ مہربانی کرکے اس دعوت نامے کا جواب آپ میری طرف سے لکھ دیجیے۔

برسات کے دن ہیں، بارش تھمنے کا نام نہیں لیتی، میں کہاں جاؤں گا، معذرت کر دیجیے۔  میں نے اُسی وقت قلم اٹھایا اور لکھا:

جمیل المناقب، عمیم الاحسان، معلّی الألقاب، مدیرِ پرتاپ السلام علیٰ من اتّبع الھُدیٰ!

نامۂ عنبر شمامہ شرفِ صدور لایا. از بس کہ تقاطرِ امطار بحدّ ہے کہ مانع ایاب ذہاب ہے۔ لہٰذا میری حاضری متعذّر ہے. العُذر عند کِرام النّاسِ مقبول۔

الرّاجی الٰی الرّحمة والغُفران

ظفر علی خان

مہاشہ کرشن نے یہ خط پڑھنے کی کوشش کی. کچھ پلے پڑنا تو درکنار، وہ پڑھنے میں بھی ناکام رہے. آخر مولانا کو دفتر “زمیندار” ٹیلی فون کر کے پوچھا:

مولانا! آپ کا خط تو مل گیا لیکن یہ فرمائیے کہ آپ آسکیں گے یا نہیں؟

اس پر مولانا ظفر علی خان نے بے اختیار قہقہہ لگایا اور مہاشہ جی سے کہا کہ:

آپ کا خط میں نے ایک پنڈت جی سے پڑھوایا تھا۔ آپ بھی کسی مولوی صاحب کو بلوا کر میرا خط پڑھوا لیجیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *