کیا ہمارے معاشرے میں صنفی امتیاز موجود ہے؟

تحریر :  فوزیہ فوزی پاکستان

یہ موضوع نہ صرف قابل غور ہے بلکہ قابل فکر بھی ہے۔اب نہیں بلکہ بہت پہلے بھی مرد اور عورت کے حقوق پر آواز اٹھائی گئی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس آواز میں شدت آئی ہے۔ یہ امتیاز صرف ہمارے معاشرے میں ہی نہیں یورپ میں بھی دکھائی دیتا ہے۔مگر بات ہم اپنے معاشرے کی کریں گے۔

پڑھا تھاکہ عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے جاری کی جانے والی صنفی امتیاز کے ممالک کی فہرست میں پاکستان ان آخر سے دوسرے نمبر پر ہے فہرست میں شامل 145 ممالک میں پاکستان کا نمبر 144 واں ہے ۔

کہتے ہیں کہ پاکستان کی کل آبادی میں خواتین کا تناسب 52 فیصد کے قریب ہے۔ مگر عملاً تین سے پانچ فیصد خواتین کی عملی زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ مردوں کو خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کو قبول کرنے میں دشواری ہے۔ اور بہت سے تشدد پسند ذہنیت کے افراد کا عورت پہ تشدد بڑھتا جا رہا ہے۔ مرد اور عورت دونوں بشریت اور انسانیت میں برابر ہے یعنی جس طرح مرد کے عورت پر کچھ حقوق ہے اسی طرح عورت کے مرد پر حقوق ہے جن کی ادائیگی دونوں پر ضروری ہے اللہ نے مرد کو جہاں جسمانی قوت اور طاقت سے نوازا ہے وہی عورت کو رحم دل بنایا ہے۔جہاں مرد کو اپنے جذبات پر قابو رکھ کر صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت دی ہے وہیں عورت کو حیض،حمل،ولادت،نفاس اور بچے کو دودھ پلانے کے مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں اکثریت بچپن سے ہی لڑکے کی پیدائش پر مٹھائی تقسیم کرتی ہے اور لڑکی پر صبر شکر کیا جاتا ہے۔ لڑکی کو باپردہ رہنے اور نظر نیچی رکھنے پر زور دیا جاتا ہے اور لڑکا کس کے تعاقب میں رہتا ہے۔کچھ خبر نہیں ہوتی۔ بڑے ہونے تک لڑکے کو ہمیشہ فوقیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے مرد ہمیشہ خود کو عورت سے برتر سمجھتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کی عورت کیا زمانہ جاہلیت کی طرح پاؤں کی جوتی سمجھی جاتی ہے؟

بہت سے گھرانے ایسے ہیں۔جہاں اب بھی عورت سےجانور کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔جانوروں کی طرح بیچا جاتا ہے۔دل بہلانے والا ایک کھلونا سمجھا جاتا ہے۔عورت کو محض ایک اشتہار بنا کر پیش کرنا مردانگی ہے؟ کیا عورت ہمیشہ انسانوں اور رومانوی غزلوں کا موضوع ہی رہے گی؟عورت کوئی بے جان چیز نہیں ہے بلکہ جذبات و احساسات رکھنے والی ایک ہستی ہے مردوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عورت ان کے گھر میں سکون کا باعث ہے۔ بچوں کی ماں ہے۔ان کی خاطر تکلیفیں برداشت کرتی ہے۔ مرد کی بہت سی باتوں کی عورت گواہ ہوتی ہے۔وہ اس کے اخلاق کا معیار جانتی ہے۔ اگر مرد عورت سے صحیح سلوک نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ صلح صفائی سے نہیں رہتا اس کے حقوق ادا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کیسے ادا کرے گا۔کس منہ سے اللہ سے رحم مانگے گا۔جبکہ وہ خود اپنی بیوی پر ظلم کرنے والاہے۔ دراصل صنفی امتیاز ہماری جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے یہ بھی درست ہے کہ امتیاز ہر معاشرے کا حصہ رہا ہے۔ اور جہاں تعلیم کا فقدان ہو گا وہاں ایسی ہی سوچ جنم لے گی۔تعلیمی میدان میں مرد اور عورت کو یکساں مواقع دینے چاہیئں۔ تعلیم کی کمی اور اپنے حقوق سے بے خبری خواتین کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ جب تک اپنے حقوق کا علم نہ ہو گا وہ اپنے لیے ہر غلط فیصلے کو آسانی سے قبول کر لیں گی۔ معاشی طور پر بھی کمزور ہونے کی وجہ سے خواتین ہر فیصلے کو قبول کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

آج کی آفس ورکنگ وومن میرے خیال میں مرد سے زیادہ محنت کرتی ہے۔ وہ گھر بھی چلائے۔ بچوں کا بھی خیال کرے اور کمانے کے لئے گھر سے باہر بھی جائے۔اور اگر گھر ہی رہے پھر بھی بچوں کے گھر کے ساس سسر کے کام کرتی ہے۔صنف نازک ہونے کے باوجود کوہلو کے بیل کی طرح کاموں میں لگی رہے تو اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا ایسا بھی غلط نہیں۔ ایک عورت ہونے کے ناطے مجھے اس آواز کے ساتھ آواز ملانی چاہیئے۔ لیکن اگر میں دینی لحاظ سے اسلام کو سامنے رکھ کر بات کروں۔ تو قرآن کریم نے اقتصادیات کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے۔ اللہ نے عورت کو باحیا اور با پردہ رہنے کا حکم دیا ہے۔ مرد کو عورت پر نگران مقرر کیا ہے۔جسمانی لحاظ سے بھی عورت اندرونی طور پر مرد کے مقابلے میں کمزور ہے۔ اور دماغی لحاظ سے بھی عورت جذبات سے کام لیتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کمتر سمجھا جائے۔اس کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کی جائے۔اس کے وجود کو اہمیت نہ دی جائے۔قوام کے لحاظ سے مرد کی ایک فضیلت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ مرد کو ہر پہلو سے عورت پر فضیلت حاصل ہے۔سب سے پہلے تو لفظ قوام کو دیکھتے ہیں۔قوام کہتے ہیں ایسی ذات کو جو اصلاح احوال کرنے والی ہو، جو درست کرنے والی ہو، جو ٹیڑھے پن اور کجی کو صاف سیدھا کرنے والی ہو،چنانچہ قوام اصلاح معاشرہ کے لئے ذمہ دار شخص کو کہا جائے گا۔پس قوامون کا حقیقی معنی یہ ہے کہ عورتوں کی اصلاح معاشرہ کی اولین ذمہ داری مرد پر ہوتی ہے اگر عورتوں کا معاشرہ بگڑنا شروع ہو جائے ان میں کج روی پیدا ہو جائے ان میں ایسی آزادیوں کی رو چل پڑے جو ان کے عائلی نظام کو تباہ کرنے والی ہو۔ یعنی گھریلو نظام کو تباہ کرنے والی ہو ،میاں بیوی کے تعلقات کو خراب کرنے والی ہو، تو عورت پر دوش دینے سے پہلے مرد اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو نگران مقرر فرمایا تھا۔ کیونکہ انہوں نے اپنی بعض ذمہ داریاں اس سلسلے میں ادا نہیں کیں۔یوں کہنا چاہیئے کہ اگر عورتوں میں بعض برائیاں پیدا ہوئی ہیں تو تمھاری نا اہلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں ۔ اسلام نے عورت کو ایک عظیم معلمہ کے طور پر پیش کیا ہے صرف گھر کی معلمہ کے طور پر نہیں بلکہ باہر کی معلمہ کے طور پر بھی۔ ایک حدیث میں حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ سے سیکھو اور جہاں تک حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ کی روایات کا تعلق ہے وہ تقریباً آدھے دین کے علم پر حاوی ہیں۔بعض اوقات اپ نے علوم دین کے تعلق میں اجتماعات کو خطاب فرمایااور صحابہ کرام بکثرت آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس دین سیکھنے کے لئے آپ کے دروازے پر حاضری دیا کرتے تھے۔ پردہ کی پابندی کے ساتھ آپ رضی اللہ تعالی عنہ تمام سائلین کے تشفی بخش جواب دیا کرتی تھیں۔ ۔

تو یہ ہے عورت کے مقام کا وہ حسین تصور جو اسلام نے پیش کیا ہے۔ جس سے ایک سلجھی ہوئی قابل احترام شخصیت کا تصور ابھرتا ہے۔

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” تم میں سے بہتر وہ شخص ہےجس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہے۔ بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں! دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو۔ اور عمدہ معاشرت رکھتا ہے۔ نہ یہ کہ ہر ادنی بات پہ زدوکوب کرے۔

دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ خاوند عورت کے لئےاللہ تعالیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سوا کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ پس مرد میں جلالی اور جمالی رنگ دونوں موجود ہونے چاہئیں۔ صرف یہ نہیں کہ ہر وقت جلال ہی دکھاتا رہے عورت کے یہ حقوق ہیں جو اسلام قائم کر رہا ہے اور آج مغرب کی آزادی کے علمبردار عورت کی آزادی کے نعرے لگاتے ہیں جس میں آزادی کم اور بے حیائی زیادہ ہے اور بعض لوگ ان کے ان کھلے نعروں کے جھانسے میں آکر آزادی کی باتیں کرنی شروع کر دیتے ہیں آزادی تو آج سے چودہ سو سال پہلےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوائی تھی۔ جس کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے بخاری کی روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں کہ ہمارا حال یہ ہوگیا تھا “کہ ہم اپنے گھروں میں اپنی عورتوں سے بے تکلفی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈرنے لگے تھے کہ کہیں یہ شکایت نہ کردیں۔

اگر اللہ نےمرد کو یہ اہمیت دی کہ نبوت و رسالت ہمیشہ مردوں کو منتخب کیا تو دوسری طرف جنت ماں کے قدموں تلے رکھ کر عورت کو بھی ماں کی حیثیت سے مرد پر فوقیت دی۔ ۔ یہ بھی سچ ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کے لئے عورتوں کی فوج بنا کر نہیں بھیجی جا سکتی۔مرد کو سربراہی حاصل ہے پر دونوں اپنی اپنی جگہ مستقل حیثیت اور مقام رکھتے ہیں ۔ عورتوں کو صنف نازک کہا گیا ہے۔ بلکہ عورتیں بھی خود کو صنف نازک تسلیم کرتی ہیں کہ بعض قوی مردوں سے کمزور ہوتی ہیں۔مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ تو جب اللہ تعالی نے کہہ دیا کہ میں تخلیق کرنے والا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ میں نے کیا بناوٹ بنائی ہوئی ہےمرد اور عورت کی اور اس فرق کی وجہ سے میں کہتا ہوں مرد کو عورت پر فضیلت ہے تو اعتراض ہوتا ہے کہ دیکھو جی اسلام نے مرد کو عورت پر فضیلت دے دی۔عورتوں کو تو خوش ہونا چاہیئے کہ یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مرد پر زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے۔اس لحاظ سے بھی کہ اگر گھریلو چھوٹے چھوٹے معاملات میں عورت اور مرد کی چھوٹی چھوٹی چپقلشیں ہو جاتی ہیں۔ ناچاقیاں ہو جاتی ہیں۔تو مرد کو کہا کہ تمھارے قویٰ مضبوط ہیں،تم قوام ہو،تمھارے اعصاب مضبوط ہیں۔ اس لئے تم زیادہ حوصلہ دکھاؤ۔ اب یہ باتیں مردوں کو سمجھنی چاہیں ۔نہ کہ ان باتوں پر فخر محسوس کر کے عورت کو کمتر سمجھا جائے۔

اسلامی معاشرے میں عورت کا ایک بلند مقام ہے۔ انھیں اپنے مقام کو پہچاننا چاہیئے۔ اگر ایسا نہ کیا تو اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ ان کی آئندہ نسلیں ایمان پر قائم رہیں گی۔ خواتین دینی اور دنیاوی علوم لازمی حاصل کریں۔ ان کا صرف یہی مقام نہیں ہے کہ مارکیٹ میں جا کر کچھ چیزیں لے آئیں۔ بیچ آئیں اور آپ کے بچوں کو سنبھالیں۔۔ بلاشبہ بچوں کی ذمہ داری زیادہ ماں پر ہے۔ مگر معاشرے انھیں ان کا مقام دیا جائے۔کیونکہ کسی بھی قوم کے بنانے یا بگاڑنے میں عورت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اس لئے بھی کہ مستقبل کی نسلیں اس کی گود میں پرورش پا رہی ہوتی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ مرد کو اس بات کا احساس ہو ۔ نسلوں نے اس کی گود سے پروان چڑھنا ہے۔ عورت کے حقوق کو پامال کرنا ۔ اس پہ گندی نظریں ڈالنا ،اس سے نا انصافی کرنا موجودہ دور میں اس کی بےشمار مثالیں ملتی ہیں ۔ اور ملتی کیا ہیں ۔ روز میڈیا پر نشر ہوتی ہیں ۔عزتوں کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ کسی بھی ادارے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عورت کی کیسے حق تلفی کی جاتی ہے۔ کسی مرد نے کبھی عورت کے لئے آواز بلند نہیں کی۔۔جب عورت کے جائز حقوق غصب کیئے جائیں گے۔ ظلم کی انتہا کی جائے گی۔ برابری تو کیا اس کی اپنی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔ تو تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اس دور کی عورت اپنے بچوں اور حقوق کی خاطر آواز بلند کرے گی۔ اب یہ اس کی سوچ ہے کہ کس طرح اور کیسے وہ یہ کام کرتی ہے۔

دوسری طرف مساوی حقوق کی بات کرنے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کیا مردوں کی جگہ عورتوں کی فوجیں بنا کرجنگوں میں بھیجی جا سکتی ہیں ؟ غرض کہ عورتوں میں مردوں کی نسبت قویٰ کمزور ہیں۔ مگر مردوں کو عورتیں کے جو حقوق ہیں وہ دینا ضروری ہیں۔

عورت مارچ کا جو نعرہ لگایا گیا میں سمجھتی ہوں طریقہ کار غلط تھا۔ جہاں عورت کے حقوق غصب کئے جائیں وہاں اخلاقی و سماجی حدود کے دائرے میں رہ کراور حکمت سے آواز بلند کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ ظلم کو روکا نہ جائے تو یہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مگر دھونس سے اپنے حقوق لینے کی بات کرنا کسی ذی شعور خاتون کو زیب نہیں دیتا۔

کیا عورت اور مرد کبھی برابر ہو سکتے ہیں ، ،اس کی وضاحت احادیث سے میں پہلے ہی بیان کر چکی ہوں ۔ بعض مرد علمی لحاظ سے اور قوت فیصلہ میں عورت سے کم ذہین ہوتے ہیں۔ مگر مرد ہیں اس لئے ان کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔۔کسی دفتر میں فیکٹری میں ہر کرسی پر زیادہ تر مرد کا اختیار ہوتا ہے۔ اور جہاں عورت کا اختیار ہو اس دفتر میں سازشی ذہن عورت کو شکست دینے میں سرگرم رہتے ہیں ۔ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر اس معاملے پر بات چیت ہو ۔ ایسا ممکن اسی وقت ہو سکتا ہے کہ اونچی کرسیوں پر بیٹھنے والوں کا دل پاؤں میں نہ دھڑکتا ہو۔ کہ ان کے دل کی آواز سننے کے لئے پاؤں میں جھکنا پڑے۔ بس مرد اور عورت دونوں حقوق و فرائض کا خیال رکھیں۔ اپنے اندر اسلام کو زندہ رکھیں تو ایسے حالات دیکھنے کو نہ ملیں کہ خواتین بینرز اٹھائے سڑکوں پر نظر آئیں۔ اور نہ صرف اپنے لئے ہنسی ٹھٹھے کا سامان پیدا کریں بلکہ اپنے بزرگوں کے لئے پریشانی اور بچوں کے لئے ایسی بری مثالیں چھوڑیں ۔ پردے کی حدود میں رہ کر پروقار طریقے سے اپنے حقوق کے لئے آگے آنے اور آواز اٹھانے میں کوئی برائی نہیں۔ ۔

سورۃ الاحزاب میں ہے۔ کہ  ترجمہ: یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔ اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور اجر عظیم تیار کئے ہیں ۔

مرد اور عورت کی برابری کی اس سے زیادہ عظیم الشان آیت کہیں دکھائی نہیں دے گی۔ دنیا کی کسی مذہبی کتاب میں آپ کو نظر نہیں آئے گی۔اس میں مردوں اور عورتوں کے حقوق کو بالکل برابر کر دیا ہے۔ سب کی نیکیوں پر خدا کی یکساں نظر ہے اس لئے یہ خیال کرنا کہ مردوں کو عورتوں پر کوئی فضیلت ہے یا عورتوں کو مردوں پر کوئی فضیلت ہے یہ تصور اسی ایک آیت سے کلیۃ باطل ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *