ڈاکٹر جنرل (ر) مسعود الحسن نوری صاحب کے سنگ انمٹ نقوش سے بھر پور ’’قلعہ نندنہ ‘‘ اور ’’یادگاراسکندرِ اعظم ‘‘ کی سیر

تحریر:    ریاض احمد ملک دوالمیال ضلع چکوال

مکرم ڈاکٹر جنرل (ر) مسعود الحسن نوری صاحب کے پاس مجھے اپنی نئی طبع شدہ کتاب ’’ آثارِ قدیمہ کٹاس ‘‘ کو پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ اور ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف خوشی کا اظہار فرمایا بلکہ اس کے مطالعہ کے بعد میری اس کاوش کو بہت سراہا۔

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد  آپ نے ضلع جہلم  اور ضلع چکوال کی سب سے بلند ترین 3500فٹ  چوٹی  ’’ چہل ابدال  ‘‘ نزدیک بشارت، تحصیل چوآ سیدن شاہ، ضلع چکوال کی سیر کی خواہش ظاہر کی کیونکہ  اس جگہ ہمارے علاقہ کے محققین کے مطابق حضرت عیسیٰ کے چالیس حواریوں نے کافی عرصہ قیام کیا تھا اور بعد میں وہاں سے کشمیر کی طرف چلے گئے تھے۔ یہ ہماری خوش نصیبی تھی کہ اس مشکل ترین چوٹی پر  اللہ تعالیٰ نے  مجھے اور دوالمیال کے دوستوںکے ساتھ مل کر اس  ’’چہل ابدال ‘‘  کی چوٹی کی سیر مکرم ڈاکٹرجنرل (ر) مسعود الحسن نوری صاحب کے ساتھ کرنے کی توفیق ملی۔ اور اس سیر کے بعد آپ نے ڈھیروں  دعاؤں سے نوازا اور بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔اور  ٹیلیفون پر اس کتاب کے مواد کو کافی اہمیت دی اور میری اس ناچیز کاوش کوکافی معلوماتی  قرار دیتے ہوئے پسند فرمایا اور مجھ سے ٹیلیفون پر ہی بات کرتے ہوئے اپنی قلعہ نندنا اور ابو ریحان البیرونی کی قلعہ نندنا میں رہائش گاہ ،مسجد اور قلعہ نندنا میں البیرونی کی  تجربہ گاہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔ کہ میرا جی بہت چاہ رہا ہے کہ میں قلعہ نندنا کی سیر کروں جس جگہ پر  ابو ریحان البیرونی نے بہت مدت تک قیام کیا۔بلکہ نہ صرف قیام بلکہ وہاں پر بیٹھ کر دینِ اسلام کی اس علاقہ میں تبلیغ کا فریضہ بھی سر انجام دیا اور علاقہ کو دینِ اسلام کی روشنی سے منور کیا اور اس کے ساتھ تحقیق و  تالیف کا عمل بھی جاری و ساری رکھا۔اور یہاں اس قلعہ نندنا میں بیٹھ کر اپنی ایک بہت ہے معرکۃ الآرا ءکتاب ’’ کتاب الہند ‘‘ تالیف کی۔ اور ساتھ ہی اپنی ایک  تجربہ گاہ بھی بنائی ہوئی تھی جس میں بیٹھ وہ مختلف تجربات کیا کرتا تھا۔ اور اس قلعہ نندنا کی تجربہ گاہ میں بیٹھ کر اور مختلف زاویوں اور ستاروں کی گزر گاہوں پر تحقیق کا حق ادا کیا اور زمین کا قطر اور محیط بھی ماپ ڈالا۔  اب جدید دور کی تحقیق نے جو زمین کا محیط اور قطر ماپا ہے۔ اس میں صرف چندمیل کا فرق ہے۔ اور اس کے ساتھ البیرونی نے یہ بھی اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ پوٹھوہار کا یہ علاقہ زمین کا مرکز ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی ہندو کلچر اورروایات  پر بھی روشنی ڈالی  اور گراں قدر تجربات اور انکشافات بھی کئے۔ ساتھ ہی ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے  اگر یکم نومبر کو فراغت ہو تو بہتر ہے کہ اس دن اس قلعہ نندنا  اور ساتھ کے ملحقہ تاریخی مقامات کی سیر کر لی جائے۔ میںنے تو اپنی خوش نصیبی سمجھی کہ محترم ڈاکٹر صاحب نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں ان کے ساتھ قلعہ نندنا کی سیر کروں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ باغانوالہ گاؤں جو قلعہ نندنا کے پہاڑ کے نیچے آباد ہے وہاں تک تو گاڑی پہنچ جائے گی۔ لیکن آگے تقریباََ تین کلو میٹر سیدھی چڑھائی ہے اور اوپر چڑھنے کو کوئی خاص راستہ نہیں۔ایک پگڈنڈی سی ہے جس پر چڑھ کر جانا ہو گا اور اتنی مشکل چڑھائی آپ کے  لئے چڑھنا  مشکل ہو گی۔صرف باغانوالہ تک جا کر نیچے ہی سے  قلعہ کو دیکھ کر اور فوٹو لے کر آیا جا سکتا ہے  اس پر ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے کہ جب سے آپ کی کتاب ’’ آثارِ قدیمہ کٹاس ‘‘ پڑھی ہے اور اس میں البیرونی کا پڑھا ہے کہ اس نے   کٹاس  کی سِتگرا  یونیورسٹی میں مختلف علوم اورسنسکرت زبان کی تعلیم حاصل  بھی کی ہے ۔کٹاس اور قلعہ نندنا میں اور اس کے نواح میں اپنے تجربات بھی کئے ہیں اور اس کا مسکن قلعہ نندنا میں رہا ہے  تو جی چاہ رہا ہے کہ اس کو بنفسِ نفیس دیکھوں اور البیرونی کے قدموں پر قدم مار آؤں۔ اور اس جگہ پر بیٹھوں جہاں سے البیرونی بیٹھ کر سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے سماں  کا نظارہ کرتا تھا اور سورج کے راستے کی کمان کو دیکھ کر اپنے تجربات کرتااور جس کی تحقیق ساری دنیا کے لئے مشعلِ راہ ہے اور قلعہ نندنا بھی انہیں تحقیقات کا منبع ہے کیونکہ اسی قلعہ میں رہ کر ہی البیرونی نے یہ کارنامے سر انجام دیئے۔ میری خواہش ہے کہ میں اس قلعہ کو ضرور دیکھوں اور یکم نومبر کو اپنا پروگرام بنا لیں انشا ء اللہ ہم ملکر اس قلعہ کی سیر ضرور کریں گے

ڈاکٹر صاحب کے ان مصمم ارادوں اور تاریخی قلعہ نندنا کی سیر کی چاہت اور امنگ پر مجھے بہت رشک آیا ۔اور میں نے یکم نومبر کو قلعہ نندنا آپ کے سنگ دیکھنے کا پکا پروگرام بنا لیا۔اس کے ساتھ ہی میں نے ایک اور مشورہ   دیا کہ کیوں نہ اس کے ساتھ ڈاکر احمد حسن دانی صاحب کی کوششوں سے بنائی گئی ا سکندرِ اعظم کی اس  یادگار کو بھی دیکھ لیا جائے جو  جلال پور شریف کے قریب بنائی گئی ہے۔ جس کو آپ نے قبول کرتے ہوئے فرمایا ٹھیک ہے اسے بھی دیکھ ڈالیں گے ۔ اور نہایت خوشی کا اظہار کیا۔ یکم نومبر کو  ساڑھے نو بجے  پنڈدانخان  پہنچنے کا پروگرام ٹیلیفون پر ڈاکٹر صاحب سے طے پا گیا۔ اور یوں یکم نومبر کو ہماری گاڑی دوالمیال سے روانہ ہو کر جس میں نوید احمد صاحب ، مکرم عمران احمد صاحب ، مکرم عدنان شہزاد صاحب ، خاکسار (ریاض احمد ملک) شامل تھے۔ ہم مقررہ وقت پر سلطان سی این جی پنڈدادنخان پہنچ گئے۔ اور ڈاکٹر صاحب کی گاڑی بھی  بر وقت  للہہ انٹر چینج سے اتر کر مقررہ مقام پر پہنچ گئے۔

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ عطاءالرب صاحب اور ڈرائیور جلال احمد صاحب(طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ) سے تھے وہاں سے یہ پروگرام طے پایا کہ قلعہ نندنا پہلے دیکھیں گے اور بعد میں اسکندرِ اعظم کی یادگار کی سیر کی جائے گی۔یوں یہ قافلہ تاریخی قلعہ نندنا کی جانب دعا کے بعد روانہ ہو ا۔  مجھے ڈاکٹر صاحب نے از راہِ شفقت اپنی گاڑی میں بٹھا لیا اور قلعہ نندنا کی تاریخ کے بارے میں جو مجھے علم تھا میں نے آپ کو بتایا اور اس علاقہ کی تاریخ اور تاریخی مقامات کے متعلق ڈاکٹر صاحب کو بتایا۔ آپ  فرمانے لگے کہ  ملک صاحب آپ کے ساتھ سیر کرنے کا  اپنا ہی مزہ ہے۔ یہ آپ کی ذرہ نوازی کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں ان کے ساتھ سیر کروں اور قلعہ نندنا دیکھوں۔ قافلہ  منزل کی جانب  چلتا رہا اور منزل قریب آنے لگی۔ہمارے حوصلے اور عزم جواں تھے۔دل میں ایک امنگ تھی  اور اللہ پر کامل یقین تھا کہ ہم نے اس مقام پر جانا ہے جس جگہ البیرونی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دینے والے انکشافات کئے تھے اور اپنی کتاب  ’’ کتاب الہند ‘‘ تصنیف کی تھی۔ باغانوالہ کسی زمانے میں ایک مشہورتاریخی گاؤں تھا  اور اس کا قلعہ نندنا  مقامی لوگوں کے لئے بہترین دفاعی مرکز اور ہر حملہ آور کے بہت ہی اہمیت کا حامل تھا۔ اب سفر جاری  اسی قلعہ نندنا کی جانب۔ ڈھریا لہ جالپ سے ایک کلو میٹر آگے ایک سڑک شمال کی جانب غریب وال سیمنٹ فیکٹری کی طرف جاتی ہے۔قافلہ اس کی طرف مڑ گیا۔تقریباََ چار کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا بورڈ باغانوالہ کی جانب نشان دہی کر رہا تھا۔ اس کی طرف ہم نے گاڑیاں موڑ  دیں۔ ایک چھوٹی سی سڑک کافی ٹوٹی پھوٹی ہوئی۔ان پر ہچکولے کھاتی ہوئی گاڑیاں چلے جا رہی تھیں باغانوالہ کی جانب جو وہاں سے دو کلو میٹر دور تھا۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کو داد دیتا ہوں کہ انہوں کہیں پر بھی اس قلعہ کی نشان دہی کا  سائن بورڈ لگانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔جو بیشک پرانے ہوں البیرونی نے بیشک وہاں اپنے تجربات ،تصنیفات اور انکشافات سے دنیا کو حیرت زدہ کیا ہو۔ وہاں محمود غزنوی  جیسے بہادرسپہ سالار نے فتوحات کی ہوں۔ یار اُن کو ان پہاڑوں پر بنے قلعوں سے کیا غرض اگر انہوں نے کارنامے سر انجام دینے تھے تو بڑی شاہراہوں اور بڑے بڑے شہروں اور مشہور جگہوں پر جا کر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے تاکہ وہاں محکمہ آثارِ قدیمہ والوں کو آسانیاں ملتیں اور وہ اس کی دیکھ بھال بھی اچھی طرح کرتے۔ان پہاڑوں اور جن پر نہ راستہ گاڑی نہ پیدل جانے کا۔ خواہ مخواہ اس تحقیق کی تشہیر کر کے اس کو منظرِ عام پر لاکر اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ شاید  محکمہ آثارِ قدیمہ  والوں کو یہی پسند ہے کہ یہ قلعہ جو اتنی اہمیت کا حامل ہے جس کی اہمیت کا انہیں بھی احساس ہے لیکن وہ اپنی سہولتوں کو قربان نہیں کرنا چاہتے۔

اب ہمارا قافلہ باغانوالہ میں داخل ہو چکا تھا ۔ وہاں ایک گورنمنٹ پرائمری سکول کے پاس کھڑے ہو کر قلعہ نندنا کے راستے کی معلومات لیں ۔تو پتہ چلا کہ بس دو فرلانگ تک گاڑی جائے گی پھر قلعہ تک پیدل ہی جانا ہو گا۔بحر حال ان کی معلومات کے مطابق دو فرلانگ تک پہنچ گئے اور گاڑیاں روک دی گئیں۔ اور باہر اترے سامنے پہاڑی کی چوٹی پر قلعہ نندنا نظر آ رہا تھا۔جس پہاڑی چوٹی پر چڑھنے اور قلعہ نندنا دیکھنے کا عزم لئے آج ہم  ڈاکٹر نوری صاحب کے ساتھ یہاں آئے تھے۔  اتر کر جب قلعہ پر نظر دوڑائی تو راستہ کا کوئی نام و نشاں نہ تھا ۔ ایک بڑا سا نالہ جس میں اوپر سے آئے ہوئے بڑی بڑی جسامت کے پتھر پڑے نظرآئے اور ساتھ میٹھا پانی جو اوپر چشموں سے آ رہا تھا وہ بہہ رہا تھا۔ وہاں بیٹھ کر تھوڑا سا وقفہ لیا اور ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہاں تک آ گئے ہیں اب کوئی بات نہیں اس چڑھائی کی اب اوپر ضرور جائیں گے۔ اور پروگرام اوپر جانے  کا پکا بن گیا۔اب راستہ کٹھن تھا ۔ اور خوش قسمتی سے وہاں  باغاںوالہ کا ایک نوجوان عمران نامی ملا جو البیرونی کالج پنڈدادنخان میں فرسٹ  ائیر کا طالب علم تھا وہ آ گیا  اس سے قلعہ پر چڑھنے کے بارے میں معلومات  لین تو اس نے بتایا ایک راستہ مشرق سے جاتا ہے اور ایک مغرب سے دونوں ہی راستے کٹھن ہیں۔ بحرحال ہم بھی ہمت ہارنے والے  نہ تھے ہم نے بھی اوپر چڑھنے کی پکی ٹھان ہوئی تھی۔ فریش ہونے کے بعد آگے جانے کا پروگرام بنا لیا ۔ حفظ ما تقدم کے طور پر اس نوجوان سے پوچھا کہ اس گاؤں سے گھوڑا  یا خچر مل سکتا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس گاؤں میں کسی کے پاس کوئی گھوڑا اور خچر نہیں ہے۔ ہاں البتہ گدھا اور گدھی  سواری کے لئے مل سکتی ہے۔ اسی کو غنیمت جانا کہ بوقتِ ضرورت کام آئے گی۔ اس نوجوان سے کہا کہ وہ ایک گدھی کا انتظام کر دے۔  وہ اپنے گھر سے اپنی گدھی لے آیا اس کو ہم نے ساتھ چلنے کو بھی کہا کہ یہ گدھی تمہاری بات مانے گی۔ اور وہ تیار ہو گیا اور یوں یہ قافلہ راونہ ہو گیا قلعہ دیکھنے کو۔اس گدھی کو میںنے  قرونِ اولیٰ کی قدیم سواری کونام  ’’شرمیلی  ‘‘ دیا۔ کیونکہ وہ شرمیلی واقعی عادات و اطوار میں خوب شرمیلی تھی۔ جس کو ہم پنجابی میں ’’سوو ‘‘ کہتے ہیں ۔ کچھ وقت پیدل ڈاکٹر صاحب چلے لیکن بڑے بڑے پتھروں کے درمیان سے گزرنا تھا۔ اس لئے ہم نے ڈاکٹر صاحب سے درخواست کی کہ آپ اس قدیم سواری پر چڑھ ہی جائیں تاکہ چڑھائی پر پہنچتے پہنچتے آپ اس سواری کو اچھی طرح کنٹرول کر لیں۔ہماری اس درخوا ست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے آپ اس سواری پر سوار ہو گئے۔ ۔اس دشوار گزار راستے پر ایسی سواری پر سواری کرنا اتنا آسان نہیں۔ اب چڑھائی شروع ہو چکی تھی اور ڈاکٹر صاحب اس سواری کی سواری لیتے ہوئے جس کی باگ تو تھامی ہوئی تھی اس نوجوان عمران نے اور میں نے اپنا سکارف اتار کر اس شرمیلی کے گلے میں ڈال دیا اور اس کو پکڑ کر ڈاکٹر صاحب اپنا توازن قائم رکھے ہوئے تھے۔اس قافلہ کے باقی تمام لوگ تو نوجوان تھے بیچ میں  ڈاکٹر صاحب کے بعدستر کی دھائی کا معمرمیں ہی تھا۔ میں نے عمران  سے درخواست کی کہ مجھے ایک لمبی سی سوٹی توڑ کر دے دیں  تا کہ میں اس کے سہارے اوپر چڑھ سکوں ۔ اوکھا سوکھا ایسے چڑھ تو رہا تھا  لیکن اس سوٹی سے کچھ آسانی ہو جائے گی۔ اب کہاں سے سوٹی ملے ۔ کوشش اور تلاش جاری رکھی  ایک لاٹھی کے لئے۔ وہاں تو ہر جگہ وہیگڑ( ایک قسم کی ہربل جس کو غالباََ  حکمت میں ’’ سوعہ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ اور جو کافی مرضوں کے لئے اکسیر ہے۔ اور خاص کر اس کے پھولوں کی بنی ہوئی گل قند پیٹ کے امراض کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے پھولوں کا شہد سب سے اچھا مانا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ’’چو عرقہ ‘‘ کا اہم جز ہے اور قبض کشا ہے۔ اور جس جگہ یہ ہو وہاں تپ دق کی بیماری نہیں ہوتی اس میں سے گزر کر جو پانی آتا ہے اس میں جراثیم نہیں ہوتے۔ اس کے پتے پھوڑوں پر باندھنے سے افاقہ ہوتا ہے) ہی وہیکڑ لگا ہو اتھا اور تمام پہاڑ کو سرسبز بنایا ہوا تھا۔ اس پودے کوکوئی جانور نہیںکھاتا۔اور سدا بہار پودا ہے یہ سارا سال سبز رہتا ہے۔

اب وہ  میرے جیسے بابے کے لئے سوٹی کہاں سے لائیں۔ خیر انہوں نے برخورداری دکھاتے ہوئے تگ و دو ضرور شروع کر دی۔ میں یہ بھی محسوس کر رہا تھا کہ وہ تمام جوان بھی میری طرح مشکل سے ہی چڑھائی چڑھ رہے تھے اور میری طرح ان کا بھی برا حال تھا سورج خوب اپنی تپش دکھا رہا تھا اور پسینہ ٹخنوں سے نکل رہا تھا ۔ مجھے پنجابی کا  محاورہ یاد آ گیا۔ ’’ کہ پسینہ گٹیوں پیا چوئے ‘‘۔ ان جوانوں کی حالت دیکھ کر میں کچھ وقت کے لئے اپنا رونا بھول گیا ۔ بہرحال ان جوانوں کی جانب رحم کی نظر کا سوال ضرور کرنے لگا۔ہر کوئی اپنی فکر میں ایک چھوٹی سی پگڈنڈی پر اوپر چڑھنے کی تگ و دو میں تھے۔ اور ڈاکٹر صاحب کی فکر تھی ۔ اس شرمیلی کی ایک طرف ڈاکٹر صاحب کو آپ کے گارڈ نے سہارا دیا ہو اتھا اور دوسری طرف  نوید احمد صاحب نے سہارا دیا ہوا تھا اور یوں یہ پیدل سفر جاری تھا۔ اچانک میری نظر ایک چشمے کی پاس چھوٹی سی بنی دیوار پر پڑی جس کے اوپر ایک چھڑی نما  ایک ٹہنی نظر آئی ۔ میں نے عمران صاحب کو کہا اور اس نے وہ ٹہنی اٹھا کر مجھے ایک چھڑی بنادی۔ اب تو ریشمان جوان ہو گئی اور نئی سرعت سے چڑھائی چڑھنے لگ گئے۔ یہ رواں قافلہ اب قلعہ کے نزدیک پہنچ ہی گیا کہ شرمیلی نے اڑی لگا دی اور مزید آگے اوپر چڑھنے کے لئے تیار نہ تھی۔ اس کی کافی منت سماجت کی لیکن اس کی اڑی قائم غرض پھر دھکا لگا کر اس کو مزید اوپر جانے کے لئے مجبور کیا اور وہ مان گئی۔ اب ہم قلعہ نندنا میں پہنچ گئے۔ ہم بہت خوش تھے کہ آخر ہم اپنی منزل پر پہنچ  ہی گئے۔ اور ڈاکٹر صاحب بھی کافی خوش نظر آ رہے  تھے اوپر قلعہ نندنا میں پہنچ کر۔ وہاں اس قلعہ کی حالتِ زار کو دیکھ کر  حقیقت میں روناآیا پہلے اپنی قوم پر۔ پھر آثارِ قدیمہ کے محکمہ پر جنہوں نے صدیوں سے یہاں قدم نہیں رکھا۔ شروع میں ایک مسجد بنی ہوئی ہے جو البیرونی نے بنوائی  تھی۔  یہ مسجد دوکمروں پر مشتمل تھی۔ تقریباََ  ہر کمرہ 25X14 فٹ کا ہے  یہ سرخ اورپیلے ریتلے  پتھروں  کے امتزاج سے بنی ہوئی ہے۔ مشرق کی جانب ایک محراب ساتھ دیئے رکھنے کے طاق۔ ایک خوبصورت قسم کا ڈیزائن۔ لیکن ستم ظریفی یہ کہ اس کے چھت غائب ہیں۔مدتیں ہوئی ہیں کہ وہاں کسی نے نماز پڑھی ہو۔بلکہ اس کے محراب کی درمیان سے کسی نے کھدائی بھی کی ہے شاید  خزانہ ڈوھنڈنے کے چکر میں۔ اور اس کھدائی سے اس مشرق کی دیوار کو پانی کافی نقصان دے رہا ہے  اور یوں لگتا ہے کہ موسم کے تھپیڑے بہت کم عرصہ وہ سہہ سکے اور اس کی مشرقی محراب والی دیوار گر جائے۔ اس مسجد میں گائے بھینسوں کا گوبر پڑا ہوا تھا ۔گدھوں کی لید پڑھی تھی۔اور مدتوں سے غیر آباد تھی۔ اس مسجد کی  تزئین  کو قائم رکھنے کے لئے آثارِ قدیمہ کو ضرور  کچھ کرنا چاہیئے ورنہ یہ آثار کچھ ماہ کے مہمان نظر آتے ہیں۔

پھر آگے بڑھے تو قلعہ نندنا کی وہ عمارت اس مسجد سے ملحقہ نظر آئی  جس میں مندر کے آثار بھی نمایاں نظر آ رہے تھے اور اس کی اگر پرانی تصویر دیکھی جائے تو اس کی تعمیر بالکل کٹاس کے ستگرا مندر کی طرح کے تھے اس سے اغلب یہی گمان ہوتا ہے کہ وہ کٹاس کا ستگرا مندر اور نندنا کا یہ مند ر ایک ہی وقت میں بنائے گئے تھے ایک طرف سے مکمل گری  ہوئی یعنی مغرب کی سائیڈ  بالکل گری ہوئی اور مشرق والی دیوار  ابھی موجود ہے۔ یہ دو منزلہ عمارت  جسکے اوپر گنبدنما  چھت تھے۔ اس میں سے اندر سے اوپر جانے والی سیڑھیاں تھیں جو ٹوٹی پھوٹی ہوئی ہیں ۔ بہر حال ان ٹوٹی ہوئی سیڑھیوں سے ہم تو اوپر والی منزل تک نہ جا سکے لیکن عمران جو  ہمارے ساتھ باغانوالا سے آیا تھا وہ ان سیڑھیوں سے اوپر والی منزل تک چڑھ گیا۔ اس قلعہ میں باہر کی  چاروںدیواروں میں درمیان میں بیٹھنے کی ایک جگہ بنی ہوئی تھی ۔قیاس یہی ہے اس جگہ میں بیٹھ کرالبیرونی اپنے تجربات کیا کرتا تھا۔اور سورج کے راستوں کی کمان دیکھ کر اپنے تجربات اور انکشافات کیا کرتا تھا ۔اب ہم بھی وہاں اس مقام پر بیٹھے ہوئے البیرونی کی یاد کو تازہ کر رہے تھے۔ وہاں اپنی فوٹو گرافی کے شوق کو ہم سب نے پورا کیا اور ان یادوں کو تصویروں میں ڈھالا۔ اور داد  دی اس قلعہ کے معماروں کو کہ کس ترتیب سے اور کس مضبوطی سے ان کو جوڑ کر اس مضبوط قلعہ کی تعمیر کی کہ ہزاروں سال بعد بھی ستم ہائے زمانہ سہہ کر بھی وہ دیواریں ابھی بھی قائم ہیں۔ اس مقام سے ساتھ کے پہاڑوں کا حسین منظر نظر آیا۔اور خوب ہم نے نظارے کئے اس علاقہ کے۔ اس سے دریاکے نظارے کئے جا سکتے ہیں اور تمام علاقہ کو خوب اچھے طریقے سے دیکھا جا سکتا ہے۔  وہاں سے ایک کنجور پتھر میں ایک فاصل بھی نظر آیا جس کی تصویر بھی اتاری اور اس کو محفوظ بھی کیا۔یہ غالباََ کوئی otanical fossel B تھا۔ اس کی عمر تقریباًدو کروڑ سال سے کم نہیں ہو گی۔ تقریباََ ایک فرلانگ کے فاصلہ پر  پہاڑی چوٹی پر اسی قسم کی ایک اور عمارت بھی ابھی تک موجود ہے۔  جہاں سے مشرقی علاقہ پر پوری نظر رکھی جاسکتی ہے ۔

قلعہ کی تاریخ اور تفصیل :  ’’ یہ قلعہ ’’ نندنا ‘‘  یا  ’’ نستا ‘‘ کہلاتا تھا۔410 ھ میں سلطان محمود نے راجہ جے پال کے خلاف جنگ کی اور اس قلعہ پر قبضہ کر لیا  شہر کو باغانوالہ کہتے ہیں  جو  اب چھوٹا سا قصبہ رہ گیا ہے س۔ اس قلعہ پر کئی دور آئے تھے۔تیرھویں صدی میں قمر الدین کرمانی نے جلال الدین خوازم کے قلعہ دار کو شکست دے کر قبضہ کر لیا۔ 1221ء میں چنگیز خان نے سندھ وادی پر قبضہ کیا۔تو اس کے ایک آفیسر طور طائی نے قلعہ پر قبضہ کیا اور تمام آبادی کو تہ تیغ کر دیا۔ چھ ماہ بعد سلطان التمش نے قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ ‘‘   (طبقاتِ اکبری )

’’ نندنا  کا مطلب ہے  ’’  اندر کا باغ  ‘‘  (Indra’s Garden )  ‘‘       ( طبقاتِ ناصری صفحہ539 ۔گیزیٹیر ضلع جہلم1904ء)

قلعہ نندنا  مشتمل تھا ۔ مندر۔ قلعہ اور ایک گاؤں پر۔ نندنا کا  اسلوبِ تعمیر کشمیری ہے۔۔مندر جس پلیٹ فارم پر بنا ہو ا ہے۔وہ بہت قدیم لگتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرانے آثار پر اس کی یہ تعمیر ہوئی ہے۔یہ مند اس علاقہ اور ضلع میں بنائے گئے مندروں سے مختلف اسلوبِ تعمیر کا حامل ہے ۔جس کا بڑا اندر داخل ہونے کا صدر دروازہ مغرب کی جانب ہے حالانکہ اس ضلع میں اور کٹاس میں بنے ستِگرا مندروں کا منہ اور صدر دروازہ کا رخ مشرق کی جانب ہے۔ اس مندر کی مناسبت سکیسر میں بنے ’’ ایمب مندر ‘‘ سے ملتی جلتی ہے۔ جنوب کی جانب قلعہ کے دو گول نما فصیل کی برجیاں (  Bastions) کے آثار موجود ہیں۔ اور فصیل کی آثار بھی ملتے ہیں ۔ سلطان محمود غزنوی نے اس قلعہ پر  404ھ ، 1008ء میں حملہ کیا ۔ ان پہاڑیوں کو  ’’ بالیاتھ کی پہاڑیوں‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ اور وقت جے پال جو انند پال کا بیٹا تھا وہ لاہور کا حکمران تھا اور یہ قلعہ اس کے زیرِ نگیں تھا۔محمود غزنوی نے اس قلعہ پر قبضہ کر لیا اور جے پال کشمیر کی جانب بھاگ گیا۔ محمود غزنوی اس قلعہ میں اپنا نائب چھوڑ کر اس کا تعاقب کرتے ہوئے کشمیر پہنچ گیا اور وہاں اس پر فتح حاصل کر کے محمود غزنوی 410ھ میں دوبارہ قلعہ نندنا آیا۔البیرونی نے اس وقت اس قلعہ میں رہنے کی درخواست کی اور محمود غزنوی نے اسے اجازت دے دی اور خود واپس چلا گیا۔(گیزیٹیر ضلع جہلم1904ء)

قلعہ نندنا کے مختلف ادوار :   جنرل کنگھم نے لکھا ہے کہ یہ قلعہ تین ادوار سے گذرا ہے۔: ( حوا لہ  ’’ تاریخ جلالپور شریف گرجاکھ‘‘ )

پہلے دور میں پنڈتوں نے علاقہ میں اپنی بالا دستی قائم کی۔ اس دور کے مندر جو مخروطی طور پر قائم کئے گئے تھے۔اور جس کی تعمیر پر جو پتھر استعمال ہوئے ان پر پیپل کے پتا کے نقوش چھاپے گئے تھے۔اس زمانہ کے چند ایک سکے ابھی تک موجود ہیں ۔ جن پر پیپل کے پتا کے نشان چھاپے گئے تھے۔جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پنڈتوں کی بالادستی بڑی مضبوط تھی۔

دوسرا دور   راجہ جے پال جو پال خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس کا تھا۔اس دور کے مندر علیحدہ نشان دہی کر رہے ہیں اب بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعمیر میں شاہانہ انداز رکھا گیا۔

تیسرا دور   سلطان محمود غزنوی کا تھا۔سلطان نے 1014  ء میں قلعہ پر حملہ کیا  اور ساتویں دن فتح سے ہمکنار ہوا۔  اس میں موجود مسجد اس دور کی ہے ۔جو کہ کبھی فنِ تعمیر کا ایک شاہکار تھی ۔ فتح کے بعد سلطان کے ایک مصاحب برہان الحق البیرونی نے قلعہ میںسلطان محمود غزنوی سے اس قلعہ میں قیام کی اجازت چاہی جو کی بخوشی سلطان نے منظور کر لی۔ اور البیرونی نے اس  قلعہ کو اپنی رہائش گاہ بنا لیا۔  البیرونی نے اس قلعہ میں اپنی تحقیق کو جاری رکھا اور اپنی مشہور کتاب ’’ کتاب الہند ‘‘ بھی یہیں تصنیف کی۔ اور کرہ ئِ ارض کی  پیمائش کی اور ثابت کیا زمین کا قطر  15836508میل ہے۔پیمائش کے اوزار جن کو  ’’ اضطرلاب ‘‘ کہا جاتا تھا۔ان کی شکلیں عجیب و غریب تھیں اوتر ہندوؤں نے ان کو کمانیں پکارا۔ (’’ تاریخ جلالپور شریف گرجاکھ‘‘ )

قلعہ نندنا میں زیادہ آبادی شودروں پر مشتمل تھی۔ جو کہ پنڈتوں کے رحم و کرم پر زندگی گذارتے تھے شودروں میں سے سب سے پہلے ایک خاندان  ’’ بدھو ‘‘ نے اسلام قبول کیا۔ اس خاندان ’’ بدھو ‘‘ کی ایک بیٹی چمبیلی کے نام سے پکاری جاتی تھی۔مذہب اسلام چونکہ سادہ خوبصورت اور پاکیزہ فطرت تھا جس پر چمبیلی نے اس کو دل سے قبول کیا۔اور وہ پہلی مبلغہ قرار پائی ۔پروہت رام دیال نے جو ذہنی طور سے اس نئے مذہب سے نفرت کرتا تھا۔ چمبیلی کو زہر دلوا دی جو کئی دن سے بے ہوش رہی۔۔البیرونی جو علمِ طب کا ماہر تھا چمبیلی کا علاج کیا اور صحت یاب ہو گئی۔اس طریقہ علاج سے شودر اتنے متاثر ہوئے  کہ کئی خاندان مسلمان ہو گئے۔

(’’ تاریخ جلالپور شریف گرجاکھ‘‘ )

قلعہ نندنا میں پانی کی شدید قلت تھی پانی دور سے لانے کی ذمہ داری شودروں پر تھی۔ جنہیں کوڑوں کے سائے میں لے جا کر پانی لانا پڑتا۔ پنڈتوں کا عقیدہ تھا  کہ کوہستانِ نمک میں پانی کا تمام ذخیرہ کٹاس راج کے نیچے ہے۔اور یہ پوتر پانی جو کی شیو مہاراج کی آنکھوں سے جاری ہو ا ہے یہ آنسو پابتی کے فراق میں تھے۔اس واسطے یہ مقدس پانی سوائے ہندوؤں کے کوئی اور مذہب استعمال نہیں کر سکتا۔اس عقیدہ کو باطل کرنے کے لئے البیرونی نے قلعہ میں جو چٹانیں موجود تھیں ان کا مطالعہ کیا اور ان پر تحقیق کی اور ایک دن چمبیلی کو ہمراہ لے  جا کر ایک چٹان کے نیچے کھودنے کو کہا۔ چمبیلی نے تھوڑا ہی کھودا تھا کہ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا دہارا بہہ نکلی  جس پر پروہتوں نے البیرونی کو     ’’  ودیا ساگر ‘‘ کا خطاب دیا۔(’’ تاریخ جلالپور شریف گرجاکھ‘‘ )

’’اس قلعہ کا حدود اربعہ تقریباََ18کلو میٹر تھا ۔۔۔اس کا صدر دروازہ سنگِ سرخ سے بنا ہو ا تھا اور 25 فٹ بلند تھا ۔۔۔ پہاڑی چوٹیوں کے درمیان جہاں یہ قلعہ بنایا گیا ہے یہاں سے ایک سرنگ بنائی گئی تھی جو قلعہ کسک میں زیرِ زمین جاتے ہوئے قلعہ کی  مشرقی اور عمودی دیوار کے اندر جا کرختم ہو جاتی ہے۔فی الوقت یہ سرنگ امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ 6 کلو میٹر کا فاصلہ زیرِ زمین تھا اس میں سے گھڑ سوار بھی سفر کر سکتے تھے۔آن کی ّآن میں ادھر سے ادھر آ جا سکتے تھے۔ اور ایک دوسرے تک خبر پہنچا دیتے۔ اس طرح جنگی نقطہ نگاہ سے قلعہ نندنا اور قلعہ کسک کی اہمیت اور بھی واضح ہو جاتی تھی۔ جنوبی ہند کی جانب سے آنے والی یلغار کو نندنا کے مرکز سے روکا جاتا تھااور شمال سے یلغار کو قلعہ کسک کے ذریعے روکا جاتا تھا۔یہ دونوں قلعے ایک ہی عرصہ میں بیک وقت تعمیر کئے گئے۔‘‘  ( سالٹ رینج میں آثارِ قدیمہ۔صاحبزادہ سلطان علی ذوالفی گیلانی۔اسد علی پرنٹر راولپنڈی،مئی 1998  ء)

اس  کے بعد واپسی کا سفر شروع ہو ا  وہی چشمہ جس کو  البیرونی نے  چٹانوں کا مطالعہ کر کے دریافت کیا تھا۔جاتے ہوئے مشرقی راستہ استعمال کیا گیا ۔واپسی پر مغربی راستہ اپنایا گیا کہ شاید یہ پہلے راستہ سے سہل ہو۔ لیکن یہ ہماری خام خیالی تھی یہ اس سے بھی کٹھن راستہ تھا۔ بہر حال کہتے ہیں کہ مشکلیں ہے ہوتی ہیں آسانیوں کی دلیل۔ یہ ضرور ہوا کہ اب چشمے کے پانی کے ساتھ چلتے آئے ۔ اور یہ سفر بھی کٹ کیا  ہمارا بھی اور ڈاکٹر صاحب کا بھی کبھی شرمیلی پر سواری کر کے کبھی پیدل چل کر۔دعائیں بھی ساتھ کرتے رہے کہ ڈاکٹر صاحب خیر خیریت سے نیچے گاڑیوں تک پہنچ جائیں۔ڈاکٹر صاحب کی ہمت کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس عمر میں اس قلعہ نندنا پر چڑھ کر اس کی سیر کی۔ بلکہ یہ کہنا موزوں ہے کہ ان کی ہمت کی بدولت ہم نے بھی اس قلعہ کی سیر کر لی۔ اب ہم اپنی گاڑیوں کے پاس پہنچ چکے تھے۔ اور عمران باغانوالہ کا شکریہ ادا کیا اور خاص کر اس کی سواری شرمیلی کو بھی ہم نے تشکرانہ نگاہوں سے دیکھا اور اس کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے ایک سپیشل  یاد گار فوٹو بنوائی۔ اور وہاں سے اگلی منزل کے لئے روانہ ہوئے۔ تقریباََ 20  کلو میٹر پر جلالپور شریف پہنچے پل سے پہلے  اسکند رِ اعظم کی یاد گار کی سائن بورڈ تھا جس کو بمشکل پڑھا جا سکا کیونکہ اس کے اوپر الیکشن والوں نے اپنے اشتہاروں کی تہہ چڑھا رکھی تھی۔ پتہ نہیں وہ الیکشن میں کامیا ب ہوئے یا نہیں لیکن اس سائن بورڈ کو چھپانے میں وہ کامیاب ضرور ہوئے۔  جلال پور شریف کا قدیم نام  گرِجاکھ ہے۔ یہ لفظ سنسکرت کا ہے۔  ’’  گِر  ‘‘ معنی پہاڑ ،  اور  ’’  جاکھ  ‘‘ معنی آبادی یا پہاڑی۔ پس گرجاکھ کا مطلب ہوا  ’’ پہاڑوں کے دامن میں بسنے والی آبادی‘‘ ۔ گرجاکھ ، یہ آبادی پہاڑ کے دامن میں تھی۔ جلال پور شریف کے قریب  ’’ چہڑ بلہوں ‘‘ میں ایک قبرستان موجود ہے  جو قدیم قبرستان ہے۔ قبرستان کے غرب کی جانب آبادی میں داخل ہونے کا رستہ تھا۔تنگ گلہاں گزرنے کے بعدآپ ایک بڑے مکان کے دروازے پر پہنچیں گے۔جس کا دروازہ جنوب کی سمت  ظاہر ہوتا ہے۔مکان کے اندر داخل ہونے پر احساس طاری ہو گا کہ ہم کسی عبادت گاہ  میں داخل  ہو رہے ہیں۔جہاں دیوتاؤں کی قربانی دی جاتی  ہو گی۔پھر آپ مغرب کی طرف چلتے ہوئے آپ کی نظر  ایک مسجد پر ٹھہرے گی۔ جس کی دیواریں سرخ تراشیدہ پتھر سے تعمیر کی گئی تھیں  ۔مخربی دیوار مین محراب۔ سامنے کی دیوار پر کچھ ایسے نقوش جن سے ثابت ہو گا کہ یہاں برآمدہ ہو گا ۔۔ اس مسجد کو سلطان محمد تخلق کے عہد میں بنایا گیا تھا۔مسجد سے باہر آ کر آپ مغرب کی سمت چلیں تو کشادہ آبادی میں داخل ہوں گے اور یہ سلسلہ باغانوالہ تک چلتا جائے گا۔( تاریخ جلالپور شریف ’’گِرجاکھ‘‘، غلام نبی قاضی،جہلم پرنٹنگ پریس جہلم، بارِ اول 1982ء)

’’ گِرجاکھ ‘‘ دنیا بھر کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک شہر ہے۔ موجودہ جلال پور سے 3/4 گنا بڑا تھا۔ آئینِ اکبری میں  ابو الفضل نے صوبہ سندھ ساگر کا ذکر کرتے ہوئے  لکھا ہے کہ گرجاکھ صوبہ سندھ ساگر میں ایک بہت بڑا قدیم ترین شہر ہے۔غالباََ یہ صحیح ہے کہ موجودہ جلال پور۔ جلال الدین اکبر کے نام سے رکھا گیا ۔ ’’ منگلا ڈٹی‘‘ کی چوٹی پر جنجوعہ قلعہ کو ابھی تک گرجاکھ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔یہ درست ہے کہ شہر گرجاکھ مغرب کی طرف بڑی مسافت تک پھیلا  ہوا تھا۔ کیونکہ جو آبادی پہاڑ سے لے کر نیچے آباد ہوئی ہے۔اگر برساتی نالے ایک دوسرے کے درمیان نہ ہوتے تو ابھی تک جلالپور باغانوالہ تک ہوتا۔ ’’ ڈیویڈروس ‘‘ نے لکھا ہے۔ پنڈدادنخان کسی زمانہ میں بڑا گنجان کار تھا ۔اس ضلع میں قلعوں اور مندروں کے کھنڈرات کثرت سے دکھائی دیتے ہیں ۔آج بھی دارا پور کے جنجوعہ راجپوتوں کے شہر گرجاکھ کی عظیم فصیلیں اور ان کے پتھر دیکھے جا سکتے ہیں ۔باغانوالہ کے قدیم مندروں اور قلعوں کے نشانات موجود ہیں ۔جو اسی قبیلہ کی ملکیت میں تھے۔اس علاقہ میں سلوئی۔ چوآ کے خوبصورت باغات۔کسک کے قلعہ میں رنجیت سنگھ نے چھ ماہ تک جنجوعہ راجپوتوں کے آخری سلطان کا محاصرہ کئے رکھا۔ مگر پانی کی فراہمی نہ ہو سکنے سے ہتھیار ڈال دئیے۔( جنرل کنگھم۔گیزیٹیر ضلع جہلم 1904 ء)

اس موڑ سے  دو کلو میٹر پر وہ خوبصورت’’ اسکندرِ اعظم کی یاد گار‘‘ بنی ہوئی ہے جس کو ڈاکٹر احمد حسن دانی نے یونانی سفارت خانے اور دوسرے معاو نین کی مالی معاونت سے بنوایا ہے۔ بہت ہی خوبصورت اولمپک ستونوں والی تعمیر۔یہ وہ جگہ ہے جہاں پر سکندر ِ اعظم نے بیٹھ کر پورس پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ یہ یاد گار تو بنا دی ڈاکٹر احمد حسن ڈانی نے ۔لیکن اب وہاںتالے نظر آئے اس کو سنبھالنے والے اور اس تعمیر کو دکھانے والے غائب۔ بادلِ نا خواستہ  باہر سے ہی فوٹو لیتے رہے اور دل کو تسکین پہنچاتے رہے۔تصویر کشی کرنے کے بعد واپسی کا سفر جاری کیا اب پیٹ میں چوہے ناچ رہے تھے بھوک کی وجہ سے۔قافلہ کے منتظمین سے گزارش کی کہ کچھ تو خیال رکھیں ہماری بھوک کا ،تو جواب ملا کہ سٹنڈرڈ کا ہوٹل نہیں مل رہاہے اب پنڈدادنخان جا کر کھانا کھایا جائے گا۔ یہ خبرسن کر دل کو سکون ملا کہ ان کے پروگرام میں کھانابھی شامل ہے۔

’’ پنجاب کے شمال مغرب کے حصہ میں کوہستانِ نمک کا سلسلہ ہے۔ اس کے ساتھ مہا بھارت کی بہت سی روایات وابستہ ہیں۔ سکندرِ اعظم نے ضلع راولپنڈی میں  ’’ اوہند ‘‘ کے مقام پر دریائے سندھ عبور کیا۔ ’’ تک شیلا ‘‘ کے مہاراجہ نے اس کی اطاعت قبول کر لی۔ پھر  گرجاکھ  (جلال پور) سے دریائے جہلم عبور کیا اور بالائی پنجاب کے راجپوت راجہ پورس یا پورو کو شکست دی۔ دو شہروں کی بنیاد رکھی۔  ’’  نکایا  ‘‘ اور  ’’  بُکے فالس  ‘‘۔ نکایا کو آج کل  ’’مونگ ‘‘ کہتے ہیں ۔ جو فتح کی خوشی میں آباد کیا۔ اور  بُکے فالس موجودہ دلاور ۔ یہ دونوں شہر گرجاکھ سے چھ میل مشرق کی جانب واقع  ہیں۔‘‘     (’’ تاریخ جلالپور شریف گرجاکھ‘‘ )

اب قافلہ واپس پنڈدادن خان شالیمار ہوٹل کے سامنے رکا۔ اور وہاں ڈاکٹر صاحب کو کھانا کھلایا چار بج چکے تھے اب ہماری صوابدید پر تھا کہ ہم لنچ کریں یا ڈنر۔شالیمار والوں کا بھلا ہو کہ انہوں نے مصالحے ذرا کم ہی رکھے اور کھانا زیادہ مزیدار تھا یا ہمیں بھوک زیادہ لگی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے  بھی کھانے کی کافی تعریف کی اور خوب سیر ہو کر کھایا۔ بلکہ مرغ سے زیادہ فرائی دال آپ کو زیادہ مزے دار لگی اور آپ نے مزید فرمائش کی مجھے بھی بہت مزیدار لگی تھی تو میں نے بھی حامی بھری اور پھر فرائی دال کو مزے لے کر کھایا۔ اب سیر اختتام کو پہنچ چکی تھی۔ کھانے سے فارغ ہوکر ڈاکٹر صاحب کو دعاؤں کے سنگ الوداع کیا اور وہ پنڈدادن خان للہہ انٹر چینج کی جانب روانہ ہو گئے اوہ ہم اپنی گاڑی میں دوالمیال کی جانب اور  اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈاکٹر صاحب اور ہم بھی بخیرو عافیت اپنی منزل پر پہنچ گئے۔یہ سیر ہمارے دلوں میں ایک انمٹ نقوش چھوڑ گئی۔اور یہ لمحے ہماری زیست کے گولڈن لمحات تھے جو ہم ڈاکٹر صاحب کے ساتھ گزارے۔ جاتے جاتے ہم نے آپ کو قلعہ ملوٹ دیکھنے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ جو انہوں نے صدقِ دل سے قبول فرمائی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو لمبی زندگی سے نوازے اور یوں ہی وہ انسانیت کی خدمت کرنے کے ساتھ خوش و خرم  رہیں اور یوں ہی سیر و سیاحت کرتے رہیں۔  اور ہمیں بھی اپنی سیر میں شامل کرتے رہیں۔(آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *