معلم کا رویہ

تحریر:غلام شبیر

طالب علم کی سکول یا تعلیم سے وابستگی، عدم وابستگی کے پیچھے خاندانی پسِ منظر، اس کے ہم جَولیوں کے ساتھ ٹیچر کا ہاتھ شامل ہے۔ اگر گھر میں والدین ذمے دار ہیں تو سکول میں ٹیچر اس کی پڑھائی میں دل چسپی کا ذمے دار ہے۔اگر چِہ بہت سے طالب علم  ذاتی طور پر تعلیم میں دل چسپی نہیں لیتے، لیکن اس کے ساتھ ٹیچر کا رویہ بھی تعلیم میں عدم دل چسپی کی وجہ ہو سکتا ہے۔جہاں استاد کا نرم رویہ طالب علم کو تعلم میں شامل رکھتا ہے وہیں استاد کے رویے میں دُرُشتی کلاس میں طلَباء کے تعلّم پر نہ صرف برا  اثر ڈالتی ہے، بَل کہ طلَباء میں  شرمندگی کا احساس پیدا کرتی ہے۔اگر استاد طالب علم کی کوشش پر تعریف ہی کر دے یا اس کی ہمت باندھے تو اس میں نہ صرف کام کی لگن پیدا ہوتی ہے بل کہ وہ ٹیچر کو آئیڈیلائز کرنے لگتا ہے۔ لرننگ کا اس وقت دیر پا اثر ہوتا ہے جب داخلی رغبت کا سہارا ہو نہ کہ کسی وقتی بیرونی تقویت کا دباؤ۔

جیسے کہانی، ناول داخلی رغبت میں ممد و معاون ہیں اسی طرح طلباء کو ان کے سوالات بارے ٹھوس مدلل انداز میں جواب دینا ان کو اپنے جوابات تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے لرننگ کا عمل آگے بڑھتاہے۔ٹیچر کا طالب علم سے رویہ دو طرفہ رد عمل لے کر آتا ہے اگر ٹیچر طلباء سے ربط میں جڑ جاتا ہے تو نہ صرف با اعتماد طلباء بل کہ ڈرے سہمے طلباء بھی اپنا پوٹینشنل تلاش کرلیتے ہیں؛ بَہ صورتِ دیگر طالب علم نفسیاتی گھٹن کا شکار ہو کر ادھوری شخصیت لے کر آگے بڑھتے ہیں۔طالب علم والدین کی اتنی نہیں مانتے  جتنی کہ استاد کی۔ایک استاد اگر قول کا پکا نہیں ہو گا تو طلباء ایسے ٹیچر پہ اعتبار نہیں کرتے: مثال کے طور اگر ایک استاد طلباء کو ہوم ورک دیتا ہے پر چیک نہیں کرتا تو طلباء یہ یقین کر لیتے ہیں کہ ٹیچر ایسے کہتے ہیں کہ میں چیک کروں گا پر کرتے نہیں، تو طلباء سوشل لائف میں یہی مائنڈ سیٹ لے کر چلیں گے کہ ٹرخا ٹرخا کر وقت پاس کیا جائے۔جو ٹیچر بار بار کہے کہ کام مکمل کرو ورنہ مرغا بنا کر ماروں گا یا سٹک سے سزا دوں گا یا خوف ناک بن کر کہے کہ پنکھے سے الٹا لٹکا دوں گا تو طلباء  بوکھلاہٹ میں آ کر جو بھی کوششیں کریں گے  وہ بے ربط ہو کے کریں گے، دل جَمعی کے ساتھ نہیں کریں گے۔

طلباءکی ضروریات، دل چسپیوں کے پیشِ نظر ان کی انفرادیت کا احساس ٹیچر کو ہونا ضروری ہے، کیوں کہ ہر طالب علم ایک علیحدہ خاندانی پسِ منظر، سماجی حالات، اور نفسیاتی امتیاز کا آئینہ دار ہے تمام طلباء کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے رہنا دانش مندی نہیں۔

استاد کے طالب علم کی تحصیلِ علم میں  کہے گئے جملے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر استاد  صرف یہ کہہ دے کہ مجھے یقین ہے کہ تم اسے اچھا کر سکتے ہو یا اس سے اچھا کر سکتے ہو تو طالب علم  میں اس بھروسے کے نتیجے میں جو تحریک پیدا ہوتی ہے وہ اس کی ایسی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔ اب اگر استاد کام کے مکمل نہ ہونے پر طالب علموں پر چیخنا چلانا شروع کر دے تو طلباء عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں۔

استاد کو ایجنٹ بھی کہا جاتا ہے جو کلاس میں چل پھر کر طلباء کو پیش آنے والے مسائل کا جائزہ لیتا ہے اور سیکھنے کے عمل میں بننے والی رکاوٹوں کو سمجھتا ہے اور اس بارے اپنا کردار ادا کرتا ہے؛ اب اگر استاد کرسی پر بیٹھا حکم صادر کر دے کہ یہ کردو وہ کر دو تو ایسا  آدمی استاد کم ڈکٹیٹر زیادہ ہوتا ہے۔طلباء ایسے تعَلّم کا بھر پُور جواب دیتے ہیں جو ان کی موجودہ صورتِ حال سے مطابقت رکھتاہو۔ اگر استاد روایتی  گِھسے پٹے طریقۂِ تدریس کو اپنائے اور کسی قسم کے امدادی اوبجیکٹس یا میٹریل کو خاطر میں نہ لائے تو ایسا تعلّم شارٹ ٹرم، لانگ ٹرم اسائنمنٹ کو تو حاصل کرنے میں مدد گار ہو سکتا ہے، پر ان میں تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوں کو زنگ آلود ضرور کر دے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *