عورت مارچ : حقوق کا مطالبہ کس سے اور کیوں ؟

تحریر:ابن قدسیؔ

گائے کا نام آتے ہی ذہن میں ایک شریف ،بلامانس اور ہر لحاظ سے فائدہ مند جانور کا تصور ابھرتا ہے  ۔اس کے دودھ اور گوشت کے فوائد کی ایک لمبی فہرست ہے اور ان کو بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہونگے ۔شاید اس کی انہیں خوبیوں کی بنا ءپر کسی معاشرے میں اسے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اسے متبرک وجود کے طور پر اپنایا گیا اور  اس  کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسے تکلیف پہنچانے والے کو سخت گناہ گار سمجھا گیا ۔یہ سڑکوں پر آزاد پھرے لیکن کوئی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔لیکن اس فائدہ مند وجود کے سڑکوں پر آزاد پھرنے سے معاشرے کو ابتلاء  پیش آیا ۔ہندوستان کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ وہاں اسی  شریف اور بھلے مانس گائے کو دیوی دیوتا کا درجہ دے کر اسی کے نام پر انسانوںکا خون بہایا جاتا ہے ۔ اس کے پیشاب کو دنیا کی متبرک چیز اور انسانی خون کو ناپاک قرار دے دیا ۔وہ انسانی خون کسی مسلمان کا ہی ہوتا ہے ۔

غلط عقیدہ اور غلط سوچ کا  کم عقلی اور بے وقوفی سے گٹھ جوڑ ہوجائے تو معاشرہ  کو اس کے بڑے بھانک نتائج بھگتنے پڑتے ہیں ۔غلط عقیدہ  بہت خطرناک ہوتا ہے اسی لحاظ سے غلط سوچ بھی کم  نہیں ہے ۔ایک جانور جسے خدمت انسانیت کے لیے پیدا کیا گیا اور اس کی تخلیق اس طرح کی گئی کہ مخلوقات میں اسے ایک امتیازی خصوصیت حاصل ہو لیکن اسے قتل انسانیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یہ صرف غلط عقیدہ اور غلط سوچ کا ہی نتیجہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ کم عقلی اور بے وقوفی کا بھی پورا حصہ ہے ۔تخلیق کو اس کی اصل سے ہٹانے کا نتیجہ ہے ۔انسان خود جب کوئی چیز بناتا ہے تو اس تخلیق کی کوئی وجہ ہوتی ہے ،کسی غرض کے لیے کوئی چیز بنائی جاتی ہے ۔ایک چھوٹی سی مثال ہے ۔ایک چھری کاٹنے کے لیے بنائی جاتی ہے اور اس کی غیر معمولی اہمیت ہے اگر اس کو ہم اپنی زندگیوں سے نکال دیں تو شاید ہمارے کھانے کی صورت اور ہیئت ہی بدل جائے اور انسانی رہن سہن پر اس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہونگے ۔اب اگر کوئی یہ مظاہرے شروع کر دے کہ چھری سے ہاتھ اور گلا کٹ سکتا ہے اس لیے آئندہ سے چھری  سے کوئی کام نہیں لیا جائے گا بلکہ بنانے والے کو سزا دی جائے ۔پلے کارڈ اٹھا کر اس پر یہ لکھا کر مظاہر ہ کیاجائے “ہماری چھری ہماری مرضی “اب چھری کوئی کام نہیں کرے گی۔ اسے  ہر وقت کچن میں مصروف رکھا جاتا ہے ۔ گھر کے کام لیے جاتے ہیں ۔اس کے کوئی حقوق نہیں ۔اس لیے آئندہ چھری سے کاٹنے پر پابندی ہے ۔اب ا س طرح کے مظاہرہ اور باتوں کو  پاگل پن کا ہی نام دیا جاسکتا ہے ۔ایک غلط سوچ کے ساتھ کم علمی اور کم عقلی کی یہی صورت بنے گی ۔اس  کے ساتھ ہی ایک دوسری سوچ بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔   نعرہ یہی ہوگا ۔ “ہماری چھری ہماری مرضی ” نتیجہ یہ ہوگا کہ چھری ہماری ہے ہم نے بنائی ہے ۔کاٹنا اس کی خوبی ہے ۔اب اس سے جو مرضی کاٹا جائے اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔کاٹتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کیا کاٹا جا رہا ہے ۔ وہ کوئی سبزی ہے یا پھل ،یا کسی کا گلا ۔چھری بنی ہی کاٹنے کے لیے اس لیے ہم اپنی مرضی سے جو مرضی کاٹیں ۔ ایسی غلط سوچ رکھنے والے کم علم اور کم عقل انسان کو بھی پاگل قرار دے کر پکڑا جائے گا ۔

ایک انسانی تخلیق کسی مثبت سوچ کے تحت ہوتی ہے اور اسی مثبت سوچ کو مدنظر رکھ کر کیا گیا استعمال ہی مثبت نتائج نکالتا ہے ورنہ اس کے نتائج مثبت نہیں ہوتے ۔دیا سلائی سے آگ لگائی جاتی ہے ۔کھانا پکانے کے لیے آگ لگائی جائے تو ٹھیک ورنہ کسی کے گھر کو بھی آگ لگائی جاسکتی ہے ۔کسی بچے کے  ہاتھ میں دیاسلائی چلی جائے تو ممکن ہے اپنی کم عقلی سے کوئی بڑا نقصان کر لے ۔لیکن کسی بچے کے غلط استعمال سے دیا سلائی یا آگ کی افادیت پر سوالات نہیں اٹھائے جائیں گے یا اس سے جلانے کا کام نہیں لیا جائے گا یہ نعرہ نہیں لگایا جائے گا”ہماری دیا سلائی ہماری مرضی “اور پھر یہ کہا جائے کہ دیا سلائی سے آئندہ جلانے کا کام نہیں لیا جائے گا ۔بے چاری اچھی بھلی پیاری سی دیا سلائی جلنے کے بعد کالی ہوجاتی ہے ۔اس پر یہ ظلم نہیں ہونے دیاجائے گا ۔آئندہ آگ جلانی ہے تو کسی اور طریق سے ہوجلاؤ لیکن دیا سلائی سے جلانے کا کام نہیں لیا جائے گا ۔دیکھا جائے تو دیا سلائی بنائی  ہی آگ جلانے کے لیے اگر اس سے آگ جلانے کا کام نہیں لینا تو پھر اس کا کیا کرنا ہے ۔ انسان اپنی تخلیقات کے حوالے سے بہت محتاط ہوتا ہے۔اس کے استعمال کو تفصیلی ہدایات کے ذریعہ بتاتا ہے ۔اس کے اچھے اور مثبت استعمال پر زور دیتا ہے اور اس کے درست استعمال کے بھر پور فوائد سے آگاہ کرتا ہے ۔ جب انسان اپنی تخلیقات میں اس اصول پر کارفرما ہے اور اسی اصول کو عقل وفہم کی علامت قرار دیتا ہے تو پھر  اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں منفی اور غیر حقیقی اصولوں کو اپنانا  نا انصافی ہوگی ۔ انسانی تخلیقات میں انسانوں کے وضع کردہ اصولوں کو اپنانا ہی اصلی حقیقت ہے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ  اصولوں کو اپنانا عین انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔انسانی تخلیق کے حوالے سے بیان کردہ اصولوں سے روگرردانی تخلیق سے ناانصافی تو پھر اللہ تعالیٰ کے اپنی مخلوق کے حوالے سے بیان کردہ اصولوں سے انحراف بھی ناانصافی ہی ہوگی ۔انسانی معاشرے میں اس شخص کی عقل پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے جوکسی تخلیق کے حوالے سے بنائے اصولوں کے برخلاف اپنی مرضی کے اصول اس پر لگائے گا ۔ایک گاڑی کو بھی اس کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے کوئی نہیں جو اس میں پٹرول کی جگہ پانی ڈال کر شور مچائے کہ (میری گاڑی میری مرضی) اور پھر کہے کہ اب گاڑی اسی طرح چلے جیسے پہلے چلتی تھی تو لوگ اس کی عقل پر ماتم ہی کریں گے ۔یا ایک سڑک جس پر ٹریفک آرہی اور وہ اس پر جانا شروع کردے اور گاڑی پر بڑا سا بورڈ لگا دے کہ “میری گاڑی میری مرضی “تو اس کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا ۔گاڑی سے گاڑی کا کام لو اور ریل گاڑی سے ریل گاڑی کا اور ہوائی جہاز سے ہوائی جہاز کا ۔وہاں قطعاً انسان  کی اپنی مرضی نہیں چلتی بلکہ جو اپنی مرضی چلائے گا وہ نقصان میں جو بنانے والے کی مرضی کے مطابق چیز استعمال کرے گا وہی  فائدہ میں رہے گا ۔ایک حدیث ہے ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا فَضَرَبَهَا ، فَقَالَتْ : إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحَرْثِ ، (صحیح بخاری ،حدیث نمبر 3471،کتاب:کتاب انبیاء علیہم السلام کے بیان میں باب:باب)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ”ایک شخص  ( بنی اسرائیل کا )  اپنی گائے ہانکے لیے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہو گیا اور پھر اسے مارا۔ اس گائے نے  ( بقدرت الٰہی)  کہا کہ ہم جانور سواری کے لیے نہیں پیدا کئے گئے۔ ہماری پیدائش تو کھیتی کے لیے ہوئی ہے۔“

انہیں الفاظ کے ساتھ یہ حدیث ایک اور جگہ بھی ہے ۔

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  صَلَاۃً، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ، فَقَالَ: ((بَیْنَا رَجُلٌ یَسُوقُ بَقَرَۃً إِذْ رَکِبَہَا فَضَرَبَہَا، قَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِہٰذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَۃِ۔

(مسند احمد ،حدیث نمبر 11573،کتاب:خلافت و امارت کے مسائل  باب:ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ  ، سیدنا عمررضی اللہ عنہ  اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا :  ایک دفعہ ایک آدمی گائے کو ہانکے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا اور اس نے اسے مارا، آگے سے گائےنے بول کر کہا کہ ہمیں سواری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا، ہمیں تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔  کتنا زبردست پیغام موجود ہے ۔گائے کی بظاہر شکل ویسی ہے جیسے سواری والے جانور کی ہے ۔چار ٹانگیں اسی طرح بیٹھنے کی جگہ لیکن پیغام یہ دیا گیا کہ جو مخلوق جس کام کے لیے بنائی گئی اس سے وہی کام لیاجائے تو فائدہ ہوگا ورنہ نقصان ہی ہوگا ۔گائے دودھ اور گوشت کے لیے ہے اگر اس پر سواری کرنی شروع کر دی جائے تو دیگر فوائد سے محروم ہوجاؤ گے ۔سواری کے لیے اور جانور مل جاتے ہیں جو گائے سے بہتر سواری کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں لیکن ان جانوروں سے وہ فوائد نہیں جو گائے سے حاصل ہوتے ہیں ۔ اس لیے جس کام کے لیے جو چیز بنی ہے اس سے وہی فائدہ اٹھانا چاہیے۔وہاں اپنی مرضی نہیں چلانی چاہیے ۔اگر کسی نے قصور وار ٹھہرانا ہے  تو ٹھہرا دے لیکن عورت مارچ میں شریک بے ہودہ ڈانس کرتی ،پلے کارڈ پر بے معنی ، بے مقصداور قابل شرم نعرے لکھواکر سڑکوں پر خجل خوار ہونے والے عورت نما ٹولے کو دیکھ کراوپر لکھا گیا مضمون ذہن میں آجاتا ہے ۔

عورت کا رشتہ ماں کی صورت ذہن میں آئے تو ایک متبرک ہستی کے طور پر آتا ہے۔ جس کی بے انتہا شفقتوں اور مہربانیوں کے بعد ایک مرد اپنے پاؤں پر کھڑاہوتا ہے ۔ جس کی  آغوش جنت کی ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی ہے ۔ جس کی خدمت سے دنیا وآخرت کی حسنات نصیبا بنتی ہیں ۔ ماں کے سجدے میں گرے آنسو بیٹے کو شیر بنا دیتے ہے اور وہ پہاڑ سے ٹکرانے کی ہمت پیدا کرلیتا ہے ۔ماں تربیت کرے اور بیٹے کو عورت کے حقوق ادا کرنے سکھائے تو وہ  مرد فرض سمجھ کر  عورت کے حقوق اد اکرتا ہے ۔ماں کی خدمت تو ویسے ہی عبادت سمجھ کر کی جاتی ہے ۔پھر سمجھ نہیں آتا کہ اس عورت (ماں) کو بیٹے سے کیا حقوق چاہیئیں اور کس قسم کی آزادی درکارہوئی کہ اسے سڑکوں پر نکل کر نعرے لگانے پڑے ۔جب مرد(بچہ ) ماں کی گود میں تھا اور اسے مکمل اختیار تھا جیسے مرضی اس کی تربیت کرے ۔اس وقت اس کی تربیت کرتی تو بعدمیں گھر بیٹھ کر اس سے خدمت کروا سکتی تھی اور مرد (بیٹا )ماں کی خدمت جنت کمانے کے لیے کرتا ۔عورت (بہن) تو بھائی کا مان اور عزت ہوتی ہے ۔بھائی سے اٹکیلیاں اور شرارتیں تو چلتی ہیں ماں سے کم ہی سہی لیکن بہن کا بھائی کے لیے پیار بھی کسی پیمانہ سے ناپا نہیں جاسکتا ۔ایک ہی ماں کے پیٹ سے جنم لینے کی وجہ سے محبت اور پیار کا ایک بے مثال رشتہ ہوتا ہے ۔ اس عورت (بہن ) کوبھائی سے کیا حقوق چاہیئیں اور کس قسم کی آزادی درکار ہے کہ اسے سڑکوں پر نکل کر لوگوں کے سامنے ڈانس کرنا پڑے ۔عورت (بیوی ) پر معاشرے کی بقا اور دوام کا انحصار ہوتا ہے۔سوسائٹی میں امن وسکون اور راحت اسی عورت(بیوی) کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ وہ مرد (خاوند) کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی اور حالات کا مقابلہ کرتی ہے ۔ وہ  اپنے مرد کو اپنی محبت اور پیار سے گرویدہ کرکے معاشرہ میں اس مرد کے مثبت کردار پر بے شمار اثرات مرتب کرتی ہے ۔تھوڑی سی قربانی، صبر  اور ہمت دکھائے تو جو نتائج نکلیں گے وہ اس قربانی ،صبر اور ہمت سے کہیں بڑھ کر ہونگے جو عورت نے دکھائی ہوتی ہے ۔مرد اپنی صحت ،اپنے آرام ،اپنے سکون کی قربانیاں دے کر بھی سمجھتا ہے کہ بیوی کی قربانی اور صبر کا حق ادا نہیں ہوا ۔ناز ونخرے بھی اٹھاتا ہے ۔وہ اپنا سکون اور اپنی راحت  اپنے گھر میں پاکر دن بھر کی  تھکان سے بے پروا ہوجاتا ہے اور پھر اگلے دن کمر ہمت کس کر اپنے جنت نما گھر کو خوشحال بنانے کے لیے زمانے اور حالات کا مقابلہ کرنے نکل جاتا ہے ۔یہاں عورت (بیوی )کو کچھ قربانی کرنی پڑتی ہے ۔کیونکہ عورت کا یہ رشتہ خونی نہیں ہوتا ۔خونی رشتہ میں قدرتی لگاؤ موجود ہوتا ہے وہ ٹوٹتے ٹوٹتے ٹوٹتا ہے لیکن اس رشتہ میں مضبوطی قائم کرنی اور رکھنی پڑتی ہے۔عورت کی طبیعت میں موجود پیار ،نرمی ،محبت ،ایثار ،قربانی ،صبر ،لگاؤ جیسی عظیم الشان خوبیاں اس رشتہ کو مضبوط کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں ۔مرد کی ایک بہت بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کے اندر یہ عظیم الشان خوبیاں عورت کی نسبت کم ہوتی ہیں۔زمانے کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا دل سخت ہوتا ہے جس وجہ سے یہ خوبیاں مرد کے دل میں پہنچ کر اپنی مقدار کم کر لیتی ہیں لیکن عورت کے دل میں ان خوبیاں کی مقداربہت زیادہ ہوتی ہے ۔اس لیے ان خوبیوں کی وجہ سے وہ اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے ۔اس کے لیے اسے سڑکوں پر بینر اٹھا کر بے ڈھنگا ناچ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ان خوبیوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے گھر کی ملکہ بن سکتی ہےاور اپنے مرد کے دل کی بھی ۔ایک دفعہ مرد کے دل کی ملکہ بن گئی تووہ عورت کے لیے زمانے سے لڑجاتا ہے ۔اپنا خون خواہ محنت مزدوری کی شکل میں بہائے یا واقعی اسے اپنی عورت کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ دینا پڑے تووہ دے دیتا ہے ۔محبت ،پیار ،الفت میں بڑی طاقت ہوتی ہے ۔لیکن یہ طاقت سڑکوں پر کھوکھلے نعرہ لگانے اور دوسروں کو دکھانے سے حاصل نہیں ہوتی ۔یہ دل کا معاملہ ہے اسے دل تک رکھنا چاہیے ۔

عورت (بیٹی )تو ہوتی ہی آنگن کا پھول ، باپ کے دل کی پری ۔اس حوالے سے عورت (بیٹی )کو حقوق لینے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی بس تھوڑا سا نخرا دکھائے تو باپ کا دل پگل جاتا ہے ۔اس کے لیے گھر سے باہر قدم رکھنے کی ضرورت نہیں ۔بیٹی باپ سے حقوق مانگنے کے لیے کسی اور کے پاس جائےتو یہ بات ویسے ہی باپ کو بری لگتی ہے ۔اور یہ باپ جیسے عظیم  رشتے کی توہین بھی ہے ۔اب آتے ہیں دوسرے رخ کی طرف ۔مرد (بچہ )کو ماں کی آغوش جنت نما ٹھکانہ لگتا ہے ۔ہوش سنبھالنے پر  اسے رشتوں کا احساس ہوتا ہے ۔اسے جب  یہ لگے کہ اس کی ماں اسے اس کی بہن پر ترجیح دیتی ہے تو لا شعور میں اسے عورت (بہن ) ایک کمتر رشتہ کے طور پر محفوظ ہوجاتی ہے۔ پھر تھوڑا بڑا ہوا تو وہ اپنی ماں کی اآنکھوں سے اپنے  باپ کی ماں یعنی ساس اور بہنوں یعنی پھوپھیوں کی برائیاں نظر آتی ہیں تو اس ذہن میں عورت کے لیے احترام اور احساس لاشعوری طور پر کم ہوجاتا ہے ۔پھر اپنی مظلومیت کے لیے روتے دھوتے دیکھ کر اس کی ماں اپنی عزت وتوقیر داؤپر لگا دیتی ہے ۔ماں کو  باپ کے ساتھ بدکلامی کرتا دیکھ کر اس کے اندر یہ “فن ” بھی بیدار ہو جاتا ہے کہ کس طرح رشتہ کی پاسداری ختم کرنی ہے ۔اس کی ماں اسے یہ نہیں بتاتی کہ حقوق کی ادائیگی کس طرح کرنی ہے ۔ عورت خواہ وہ ماں ،بہن ،بیوی ،بیٹی کے روپ میں ہو کس طرح اس کے حقوق کا خیال رکھنا ہے ۔پھر وہی مرد سڑکوں پر عورت کو یہ نعرہ لگاتے دیکھے کہ ان کے حقوق ادا کیے جائیں تو اسے احساس ہوتا ہے کہ میری ماں نے مجھے یہ سب کچھ نہیں سکھایا جب میری سیکھنے کی عمر تھی۔اب یہ عورتیں کون ہیں جو عورت کے حقوق کی بات کر رہی ہیں ۔وہ دل ہی دل میں دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت نما مخلوق کو عقل اور سمجھ دے ۔اللہ تعالیٰ نے انہیں جو خوبیاں دی  ہیں اگر وہ ان کا درست اور بروقت  استعمال کریں تو  معاشرے  میں  موجود ایک ایک بچہ مرد بن کر عورت کے ہر رشتہ کے حقوق ادا کرے ۔اگرعورت اپنی  عظیم الشان خوبیاں کی بدولت بچے کے شعور ، لاشعور اور تحت الشعورمیں عورت  کے حقوق کی ادائیگی محفوظ کر دے تو اسے یوں بے توقیر نہ ہونے پڑے ۔ان عظیم الشان خوبیوں کی بدولت عورت بلند وبالا مقام پر کھڑی ہوتی ہے اسے زمین بوس ہونے کی  ضرورت نہ پڑے۔عورت اگر اپنے مقام اور حیثیت کو سمجھ لے تو اسے خود اپنے وجود پر فخر ہو۔اصل بات اپنے مقام اور حیثیت کو سمجھنے کی ہے ۔ جس عظیم مقصد کے لیے عورت کی تخلیق ہوئی ہےوہ  مقصد انسانیت کی بقا ء ہے ۔انسانیت کے دوام کا انحصار عورت پر ہے اس لیے اس کے  بے شمار حقوق خود خالق نے مقرر اور بیان کر دیے ہیں پھر کن حقوق کی تلاش میں یہ عورت  یوں سڑکوں پر بے توقیر ہو رہی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *