سول سرونٹس قواعد 1964میں تبدیلیاں

تحریر:آصف بٹ

وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 1964ءمیں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کی ہدایت پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قواعد میں ترامیم اور سفارشارت کی تیاری شروع کردی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ 1964ءکے قواعد فرسودہ ہو چکے ہیں اور موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جن ترامیم کے لئے تجاویز کی تیاری کا ٹاسک سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر اعجاز منیر کو دیا گیا ہے ان میں سول سرونٹس کے اہلِ خانہ کو کاروبار و سرمایہ کاری کی مشروط اجازت، میڈیا پر بیان دینے اور مضامین لکھنے، سیاسی وابستگی ظاہر کرنے کی شرط اور تحائف کا مخصوص حصہ ادا کرکے رکھنے کی اجازت دینا وغیرہ شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے کی جا رہی سول سروسز ریفارمز پر تو شاید کسی کو بھی اعتراض نہ ہو لیکن قواعد میں ترامیم کرتے وقت چند چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔ سیاسی وابستگی ظاہر کرنے کی شرط رکھیں گے تو بیوروکریٹس میں غیرجانبداری کا جو بچا کھچا لبادہ ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ آپ کسی افسر کو کہیں گے کہ وہ تحریری طور پر ڈیکلریشن دے کہ اس کی کس سیاسی جماعت سے وابستگی ہے تو کونسا شیر جوان ہوگا جو پی ٹی آئی کی حکومت میں یہ جرأت کرے گا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرے؟ موجودہ حکومت کو کچھ بیوروکریٹس نے ہیINSECURE کر رکھا ہے خاص طور پر پنجاب میں کام کرنے والی طاقتور بیوروکریسی میں زیادہ تر افسروں کی ہمدردیاں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی دوسرے صوبے کی نسبت پنجاب میں چیف سیکرٹری، آئی جی، انتظامی سیکرٹری اور حتیٰ کہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنروں کی سب سے زیادہ تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ اب اس حوالے سے قانونی پہلو یہ ہے بطور سول سرونٹ نوکری لگتے وقت یہ حلف لیا جاتا ہے کہ ’’وہ صرف ریاست کا وفا دار ہوگا اور کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں رکھے گا‘‘، یہ حلف باقاعدہ تحریر شدہ ہے۔ پاکستان میں برطانوی پارلیمانی جمہوریت کی طرز کا نظام رائج ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی 1948ءمیں بیورو کریسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ریاستِ پاکستان کے ملازم ہیں، اس لئے آپ کی کسی پارٹی سے وفاداری نہیں ہونی چاہئے۔ قائداعظم نے پارٹیوں سے وابستگیاں بنانے کے خواہشمند افسروں کو (DISCOURAGE) کیا۔ موجودہ حکومت قواعد میں ترامیم کرکے بیوروکریسی سے سیاسی وابستگی کے حوالے سے کوئی ڈیکلریشن سائن کرواتی ہے تو یہ پاکستان میں رائج جمہوری نظام اور آئین کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہوگا۔ سب کو معلوم ہے کہ درون خانہ ہر بیورو کریٹ کی کسی نہ کسی جماعت سے AFFILIATION ہوتی ہے لیکن سول سرونٹس قواعد میں اس طرح کی MODIFICATION کرنے سے بیورو کریسی مکمل طور پر سیاست زدہ ہو جائے گی۔حکومت کو اس PARANOIDسے نکلنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ بیوروکریٹس کسی اور سیاسی جماعت کا INTEREST WATCHکر رہے ہیں۔ افسروں سے ریاست کے لئے کام لینے کا اپنا مضبوط اور شفاف میکانزم بنائیں۔ حکومت کی طرف سے میڈیا پر بیان دینے، خاص طور پر سوشل میڈیا اور مضامین لکھنے کے حوالے سے 1964ءکے سول سروسز کنڈکٹ رولز میں ترامیم خوش آئند ہیں۔

1964ءکے قواعد میں میڈیا پر بیان کی حد تک تو اصول وضع کئے گئے تھے لیکن سوشل میڈیا چونکہ اس وقت نہیں تھا اس لئے اس کا ذکر نہیں۔ اس حوالے سے ترامیم کا سلسلہ تو چل رہا تھا کیونکہ جو چاہتا تھا سوشل میڈیا پر لکھ دیتا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں اس پر کنٹرول کے لئے ایک احتساب اور ویجیلنس سیل بنایا گیا لیکن وہ صرف اس لئے غیرفعال رہا کہ قواعد میں ترامیم درکار تھیں۔ حکومت کسی افسر کے خلاف سوشل میڈیا پر لکھنے کے بعد قانون نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی نہیں کر سکتی تھی۔ اس ترمیم سے اچھی بات یہ ہوگی کہ ہر افسر سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومت کو ایک انڈر ٹیکنگ دے گا کہ وہ سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف کوئی بات نہیں کر سکے گا۔ گویا حکومت افسر کو مشروط اجازت بلکہ ایک قسم کا سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کا لائسنس دے گی۔ قواعد میں ان ترامیم کے بعد قانون کی خلاف ورزی پر افسروں کے خلاف کارروائی ہوگی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بےلاگ تبصرے نہیں ہو سکیں گے۔ اس سے قبل سول سرونٹس یہ کہہ سکتے تھے کس قانون کے تحت پوچھا گیا ہے کیونکہ سوشل میڈیا ریگولیشنز EXISTہی نہیں کرتیں۔ کنڈکٹ رولز میں DEFINEDقوانین کے تحت ہی افسروں کو پکڑا جا سکتا ہے۔ یہ قانون میں ایک گرے ایریا تھا جس کوFILLکرنا ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *