رمضان المبارک اور اس کی برکات

مدیر اعلیٰ محیی الدین عباسی

رمضان المبارک اپنی پوری برکتوں کے ساتھ شروع ہورہا ہے۔ اس مبارک مہینہ میں خدا تعالیٰ اپنے خاص افضال اور برکات نازل فرماتا ہے۔ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کی حاجتوں اور ضرورتوں کو پورا فرما تا ہے اور انہیں قرب خاص سے نوازتا ہے۔

روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ روزہ عبادت ہے جس سے انسانی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے روزہ کی اہمیت کے سلسلہ میں بیان فرمایا ہے کہ سارے مذاہب اور تمام شرائع میں روزہ فرض ہوتا رہا ہے۔ گویا روزہ سارے مذاہب کی ایک مشترکہ اور بنیادی عبادت ہے۔ اسلام میں جو روزہ کی شکل ہے وہ کامل ہے اور اسے کامل روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ تندرست اور مقیم ہونے والے ہر بالغ مرد اور عورت پر فرض ہے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے پینے وغیرہ سے اجتناب کرے۔ خدا کے حکم کے مطابق دن بھر بھوکا اور پیاسا رہے اور ذکر الٰہی میں مشغول رہ کر دن بسر کرے۔ اس طرح روزہ داروں کو احساس ہوگا کہ ان کے غریب بھائی سال بھر کس طرح بھوک کی سختیاں برداشت کرتے ہیں۔ ان محتاجوں کے لئے ہمدردی پیدا ہوگی اور وہ اپنے بنی نوع بھائیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی طرف خاص طور پر توجہ کریں گے۔ اس عمدہ احساس کے ساتھ ساتھ کھانا پینا ترک کرنے سے ان کی روحانی قوتوں میں بیداری پیدا ہوگی اور وہ روح کی طرف زیادہ توجہ دے سکیں گے۔ انہیں پتہ چلے گا کہ جس طرح کھانے اور پینے کے بغیر جسم کا بقاء ناممکن ہے اسی طرح روحانی غذا کے بغیر روح کی زندگی اور نشوونما بھی ممکن نہیں۔ اسی طرح روزہ اجتماعی اور انفرادی طور پر بہت سی برکات لاتا ہے۔ رمضان المبارک سے اسلامی معاشرہ میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور ایک ماہ کی یہ روحانی تربیت سال بھر کے لیے عموماً روحانی خوراک کا کام دیتی ہے۔ کیونکہ سحری کے لئے عورتیں اور مرد اٹھتے ہیں اس لیے رمضان کے ایام میں نمازِ تہجد کا اہتمام بھی آسانی سے ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلمان پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ رمضان کے مبارک مہینہ میں تہجد کی نماز کی برکات سے بھی عام طور پر مستفید ہوتے ہیں۔ اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس نے ایک طرف فطرتی قویٰ کی روحانی طاقتوں کو اُبھارنے کے لیے مختلف عبادتیں مقرر فرمائی ہیں تو دوسری طرف یہ بھی حکم دیا ہے کہ کسی انسان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ اس لئے جو لوگ رمضان میں مسافر ہوں یا بیمار ہوں ان کو ان ایام میں روزہ رکھنے سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ شریعت کی دی ہوئی رعایتوں سے فائدہ اٹھانا مناسب ہے مگر دین کی سہولتوں کے باوجود جو لوگ فرض روزہ نہیں رکھتے وہ سخت گنہگار ہیں۔ انہیں اس زندگی کے بعد سخت افسوس ہوگا کہ ہم نے قیمتی مواقع ضائع کردیئے۔ پس مومنوں کا فرض ہے کہ ہر قسم کی افراط و تفریط سے بچتے ہوئے شریعتِ اسلامی کے قانون کی پیروی میں رمضان المبارک کے روزے رکھ کر اس بابرکت مہینہ کی برکتوں سے وافر حصہ حاصل کریں۔

’’آخری عشرہ اور لیلۃ القدر‘‘

رمضان کے آخری عشرہ کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے یہ چند فضائل ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سنتِ رسولﷺ کی رُو سے کہ ہمیں یہ عشرہ کس طرح گزارنا چاہیے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آخری عشرہ میں آنحضرتﷺ ایسی عبادت کرتے تھے جو کبھی دوسرے دنوں میں نہیں دیکھی۔ ان کیفیات کو بیان کرنا انسان کی طاقت میں نہیں ہے۔ آپ ﷺ ذکرِالٰہی میں اپنے آپ کو گم کردیا کرتے اور خیر کے جتنے بھی اعلٰی پہلو ہیں مال کے علاوہ ان سارے پہلوؤں میں آنحضرتﷺ میں ایسی تیزی آئی ہوتی جیسے آندھی جھکڑ چل رہا ہو۔  بس یہ تیزی ذکرِالٰہی کی تیزی تھی، خدا کی ذات میں ڈوب جانے کی تیزی تھی۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ سے متعلق آخری عشرہ سے بڑھ کر خداتعالیٰ کے نزدیک عظمت والے اور محبوب اور کوئی دن نہیں ہیں۔

لیلۃ القدر

رمضان المبارک کی ایک مقدس رات جس کا نام لیلۃ القدر ہے۔ یہ رات بڑی برکتوں و رحمت والی اور اہمیت و عظمت والی ہے۔ اس کا بڑا اہم مقام و مرتبہ ہے۔ قرآن و احادیث اور بزرگانِ دین کے واقعات کی روشنی میں لیلۃ القدر کے لغوی معنی یہ ہیں جو لغتِ عرب کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ (1)قسمت والی رات (2)حرمت والی رات   (3)قوت والی رات (4)وقار والی رات (5)سہولت والی رات اور تقدیر کی رات۔ لیلۃ القدر کے اصطلاحاً معنی ہیں: رمضان المبارک کی وہ رات جس میں قرآنِ کریم کے نزول کی ابتداء ہوئی۔ جیسا کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے۔ انّا انزلناه في ليلة القدر (سورۃ القدر:2) یقیناً ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے۔

پھر فرمایا:  وما ادرٰك ما ليلة القدر (سورۃ القدر:3) اور اے مخاطب! تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ عظیم الشان رات جس میں تقدیریں اترتی ہیں۔ کیا شے ہے۔ آیت نمبر 2 کا مطلب یہ ہے کہ نبی کا زمانہ رات کی طرح ہوتا ہے مگر رات بھی ایسی جس میں آئندہ زمانہ کے متعلق خداتعالیٰ کے فیصلے اترتے ہیں۔ یعنی آئندہ زمانہ میں جو کچھ اس دنیا میں پیش آنے والا ہے وہ اس قرآن میں بیان کردیا ہے۔ (حوالہ تفسیر صغیر صفحہ 836۔ حضرت فضل عمر) رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات جس میں اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے لئے خاص اپنی تجلّی فرماتا ہے اور ان کو اندھیروں سے روشنی میں بدل دیتا ہے۔ جس طرح رمضان قرآن کے نزول کا مقدس مہینہ ہے اسی طرح یہ خاص رات آغازِ نزولِ قرآن کی رات ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نزولِ قرآن کی رات کو برکت والی رات قرار دیا اور فرمایا: انّا انزلنہ فی لیلة مبارکة  (سورۃالدخان: 4) یعنی ہم نے اس قرآن کو ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم نے سورۃ الدخان 5 میں لیلہ القدر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: فیھا یفرق کل امر حکیم یعنی کہ اس رات میں ہر حکمت والی بات اور امر کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ گویا یہ فیصلوں کی رات بھی ہے۔ اس لیے اسے دعاؤں اور عبادت کے ساتھ گزارنا چاہیے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہمارے حق میں ہوں اور پھر ان پر دوام اختیار کرنا چاہیے۔

لیلۃ القدر رمضان کی کس تاریخ کو آتی ہے:   اس کے متعلق متعدد متفرق روایات ہمیں ملتی ہیں۔ ایک تو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہوسکتی ہے یعنی رمضان کی 27،25،23،21 یا 29ویں رات مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات کی تاریخ کو معین نہیں فرمایا ۔ یہ قدر کی رات مختلف سالوں میں مختلف ملکوں میں اور افراد کے لیے مختلف تاریخوں پر بھی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ  وسعتِ دنیا اور فرقِ اُفق کی وجہ سے بعض ممالک ایک دن پہلے روزہ شروع کردیتے ہیں کوئی دو دن پہلے۔ اس طرح ان ملکوں کی طاق راتیں اکٹھی ہو ہی نہیں سکتی۔

لیلۃ القدر کی پہچان:   بعض روایات بزرگانِ امت کی تحریر کے مطابق رات کو بارش ہوتی ہے۔ ہوا چلتی ہے۔ اور زمین و آسمان کے درمیان نور کی لہر نظر آتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی روحانی کیفیت کو تمام لوگ ایک ہی بار یا ہر کوئی دیکھ سکے۔

کیونکہ یہ ایک روحانی کشفی نظارہ ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگ ہر رات کے انتظار اور تلاش میں ہی رہتے ہیں مگر بغیر کسی ظاہری تجلّی کے سارا رمضان گزر جاتا ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ پورے اخلاص و وفا کے ساتھ روزے رکھے۔ اور سارا رمضان خلوصِ نیت کے ساتھ دعاؤں میں لگا رہے۔ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ تاکہ اس کو کسی وقت لیلۃ القدر کی تجلی نصیب ہوجائے۔

لیلۃ القدر کے لیے خاص دعا:   حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺسے دریافت فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ یہ رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ جس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں دعا کرنا۔ ترجمہ:۔ کے اے میرے اللہ تو عفووبخشش والا ہے۔ عفووبخشش کو پسند کرتا ہے۔ پس تو مجھ سے بھی عفوودرگزر کا سلوک فرما۔ (جامع ترمذی کتاب الدعوت)

قیام لیلۃ القدر من الایمان:  لیلۃ القدر میں تہجد کے لیے اٹھنا بھی ایمان سے ہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے۔ جو لیلۃ القدر میں ایمان کی وجہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اٹھتا ہے تو جو بھی گناہ اس کے پہلے ہوچکے ہیں ان سے اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری باب 25 حدیث نمبر 35) امام بخاریؒ نے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ لیلۃ القدر کی گھڑی پانے کی خاطر جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ نماز تہجد کے لیے اٹھنا خداتعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ خوشی دل سے رمضان میں تہجد کے لیے اٹھنا رمضان کے روزے رکھنا یہ سب باتیں ایمان کی ہی وجہ سے میسر ہوتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ لیلۃ القدر ہزار مہینے سے بھی بہتر ہے۔ لہذا یہ ہزار مہینوں کے 83 سال اور چار ماہ ہفتے ہیں جو ایک انسان کی مناسب عمر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا لیلۃ القدر انسان کی ساری عمر سے بہتر ہے۔ کیا ہی وہ خوش نصیب ہے وہ انسان جس کو اپنی زندگی میں لیلۃ القدر میسر آجائے۔ اللہ کرے ہمیں اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں یہ روحانی رات نصیب ہوجائے اور ہم ہمیشہ کے لئے عبادالرحمان میں داخل ہوجائیں۔ آمین

رمضان المبارک کے ختم ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے شوال کی پہلی تاریخ کو مسلمانوں کو عید منانے کا حکم فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان کی عبادت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ آپ ﷺنے اس خوشی کے اظہار کے لئے تمام مسلمانوں کو کسی کھلی جگہ پر جمع ہوکر دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور پھر اس نماز کے بعد جائز طور پر خوشی منائی جائے اس دن روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی ہے البتہ عیدالفطر کے اگلے دن یعنی دو شوال کو ’’شش عید‘‘ کے روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ اس کے چھ روزے ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ ان روزوں کا بھی اہتمام کیا کرتے تھے اور اس کا بڑا ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو یہ تمام برکتیں اور خوشیاں جو رمضان سے متعلق ہیں عطا فرمائے اور آئندہ بھی ایسی ہزار نعمتوں کا وارث بنائے۔ آمین ثم آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *