(تاریخ کے جھروکوں سے) ظفراللہ خان کاش سب لوگ تمہاری طرح ہوں

تحریر: محیی الدین عباسی

چودھری ظفراللہ خان کو پنجاب کونسل کے انتخاب اور کامیابی کے دوران جو حالات پیش آئے آپ نے اپنی کتاب تحدیثِ نعمت میں بیان کیا ہے علاوہ ازیں اس کامیابی کے بعد آپ کی سیاسی قدوقامت میں بیش بہا اضافہ ہوتا چلا گیا اور آپ ایک عالمی سطح کے لیڈر کے طور پر تاریخ کا حصہ بن گئے۔ بقول چودھری جہان خان صاحب ’’ظفراللہ خان کاش سب لوگ تمہاری طرح ہوں‘‘ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

پنجاب کونسل کے انتخاب میں حصہ لینے کی تیاری: 1926ء کے اگست میں والد صاحب ڈسکہ میں تشریف فرما تھے کہ ان کی طبیعت پھر ناساز ہوگئی۔ اس سال بھی مجالسِ قانون ساز کے انتخابات ہونے والے تھے۔ 1923ء کے انتخابات میں چودھری سر شہاب الدین صاحب ضلع سیالکوٹ کے حلقے سے چودھری جہان خاں صاحب گورایہ کے مقابلے میں پنجاب کونسل کے رکن منتخب ہوئے تھے اور بعد میں کونسل کی صدارت پر فائز ہوئے تھے۔ 1926ء میں ان کی یہ خواہش تھی کہ وہ ضلع سیالکوٹ سے بھی امیدوار ہوں اور ضلع گورداسپور سے بھی۔ اور دونوں حلقوں میں کامیاب ہوجانے کی صورت میں ایک نشست خالی کردیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے پھر امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں عریضہ ارسال کیا جس میں علاوہ دیگر امور کے یہ بھی ذکر کیا کہ ظفراللہ خاں کو کچھ نہ کچھ فائدہ مجھ سے پہنچتا رہتا ہے۔ حضرت نے خاکسار کو قادیان طلب فرمایا۔ حاضرِ خدمت ہونے پر چودھری صاحب کا عریضہ پڑھنے کے لئے دیا اور دریافت فرمایا کہ اگر چودھری صاحب تم سے رنجیدہ خاطر ہوں تو تم کس قدر مالی فائدے سے محروم ہوجاؤگے خاکسار نے عرض کیا کہ انڈین کیسیز کے دفتر سے جو کام بھیجا جاتا ہے اس سے چند سو روپے ماہوار کی آمد ہوجاتی ہے۔ لیکن رزق تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ چودھری صاحب ہمیشہ خاکسار کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے رہے ہیں اس لئے خاکسار ان کا ممنون ہے اور ان کا احترام کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاکسار ان کا کسی رنگ میں محتاج نہیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ چودھری صاحب نے 1923ء میں پختہ وعدہ کیا تھا کہ وہ آئندہ ضلع سیالکوٹ سے انتخاب کے لئے امیدوار نہیں ہوں گے۔ اس الیکشن میں ان کا ارادہ ضلع گورداسپور سے امیدوار ہونے کا بھی ہے۔ اس حلقے میں ہم ان کی ہر طرح مدد کرنے کو تیار ہیں اور ممکن ہے یہاں سے وہ بلامقابلہ ہی منتخب ہوجائیں۔ لیکن ضلع سیالکوٹ کے متعلق انہیں اپنے عہد پر قائم رہنا چاہیئے۔ فرمایا کہ انہیں یہ جواب لکھنے سے پہلے میں چاہتا تھا کہ تم سے بھی دریافت کرلوں۔ لاہور واپس آنے کے بعد جب انڈین کیسز کے دفتر سے مجھے کچھ کام بھیجا گیا تو میں نے واپس کردیا اور کہہ دیا کہ آئندہ مجھے کام نہ بھیجا کریں۔ دوسرے دن چودھری جہان خان صاحب میرے مکان پر تشریف لائے اور دریافت فرمایا ظفراللہ خان کیا وجہ ہوئی تم نے انڈین کیسیز کے کام کے متعلق کہلا بھیجا ہے کہ آئندہ تمہیں نہ بھیجا جائے۔ میں نے عرض کیا میں آپ کے ساتھ کار میں بیٹھ جاتا ہوں آپ ڈرائیور کو ارشاد فرمائیں کہ کار نہر کے کنارے کنارے لے چلے وہاں میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ آپ کے سوال کا جواب عرض کردوں گا لیکن اگر آپ نے کچھ فرمانا ہو تو میرا جواب سُن لینے کے بعد فرمائیں۔ مسکرا کر فرمایا بہت اچھا۔ میں نے ان کے اس خط کا ذکر کیا جو انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں ارسال کیا تھا اور کہا کہ اس میں آپ نے فرمایا کہ مجھے آپ سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے اس بات سے مجھے کوئی رنج تو نہیں ہوا کیونکہ جو کچھ آپ نے لکھا وہ امرِ واقعہ ہے لیکن آپ کے اس فقرے نے میرے ذہن میں خیالات کی ایک رُو جاری کردی ۔ انسان کا اندازہ اپنی ذات کے متعلق صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ میرا ندازہ اپنے متعلق یہ ہے کہ میں حتی الوسع حفظِ مراتب کا خیال رکھتا ہوں اور جس شخص کو اللہ نے جس مقام پر کھڑا کیا ہو اس کے کچھ واجبات مجھ پر عاید ہوتے ہیں انہیں مناسب طور پر ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مثلاً سر شادی لال چیف جسٹس ہیں۔ بہت سے امور میں مجھے ان کے طرزوطریق سے اختلاف ہے۔ ان کی بعض کمزوریاں تو آشکار ہیں۔ میں ان کی عدالت میں پریکٹس کرتا ہوں۔ سال میں اوسطاً ایک مرتبہ میں چند منٹوں کے لئے ان میں خدمت میں حاضر ہوآتا ہوں۔ ممکن ہے ان کو اس سے حیرت بھی ہوتی ہو کہ میں نہ ان کی خوشامد کرتا ہوں نہ کوئی غرض پیش کرتا ہوں۔ لیکن میں کسی خوف یا طمع کی وجہ سے ان کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتا۔ میرے دل میں کسی انسان کا خوف ہے نہ کسی سے کوئی طمع ہے۔ آپ میرے بچپن سے میرے ساتھ حسنِ سلوک کرتے رہے ہیں۔ میں اس کی قدر کرتا ہوں اور آپ کا ممنون ہوں۔ آپ نے مجھے آپ سے فائدہ پہنچنے سے متعلق جو کچھ لکھا اس سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ میں خود اپنا امتحان کرلوں کہ کیا جیسے میں سمجھتا ہوں میرے دل میں آپ کا احترام آپ کے گذشتہ حسنِ سلوک کی وجہ سے اور والد صاحب کے دوست ہونے کی وجہ سے ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جسے میں احترام سمجھتا ہوں اس کی حقیقت آئندہ کے طمع کی خاطر خوشامد کی ہے۔ میں نے ایڈین کیسیز کاکام اس لئے بند کردیا ہے کہ جلبِ منفعت کا پہلو ہمارے تعلقات سے خارج ہوجائے۔ اگر آئندہ بھی میرے جذبات آپ کے متعلق وہی رہیں جو اب تک ہیں تو میں سمجھ لوں گا کہ میرا اندازہ اپنے متعلق صحیح تھا۔ اور اگر ان میں فرق آگیا تو میں سمجھوں گا میرا نفس مجھے فریب دیتا ہے۔ چودھری صاحب نے میری بات خاموشی سے سنی اور جب میں ختم کرچکا تو صرف اتنا فرمایا ’’ظفراللہ خاں کاش سب لوگ تمہاری طرح ہوں۔‘‘

جب 1926ء کے انتخابات کا سلسلہ شروع ہوا تو معلوم ہوا کہ میرا مقابلہ چودھری جہاں خانصاحب گورایہ کے ساتھ ہوگا۔ چودھری صاحب ضلع سیالکوٹ کے ایک خوش خلق، مہمان نواز، بارسوخ زمیندار تھے۔ ڈسٹرکٹ بورڈ کے رُکن ہونے کی وجہ سے ضلع بھر کے سرکردہ زمینداروں کے ساتھ ان کا متواتر میل جول اور باہم مشورہ رہتا تھا۔ ان کے رشتہ داری اور برادری کے تعلقات بھی بہت وسیع تھے۔ 1923ء میں چودھری سر شہاب الدین صاحب کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے انہیں انتخاب کے سلسلہ میں معتدبہ اخراجات برداشت کرنے پڑے تھے اس لئے انہیں یہ احساس ضرور ہوگا کہ انتخاب میں امیدوار کو بہت کچھ گرم سرد حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ ان کی طبیعت اس طرف مائل تھی کہ اگر آپس میں سمجھوتے کے ساتھ کسی فیصلے کی صوت پیدا ہوجائے تو یہ طریق مناسب ہوگا۔ اس انتخاب میں اگرچہ امیدوار تو میں تھا لیکن چودھری جہان خاں صاحب جانتے تھے کہ میری تائید جس قدر ہوگی وہ میرے والد صاحب کے تعلقات اور رسوخ کی وجہ سے ہوگی۔ ضلع سیالکوٹ کے نارووال کے علاقے میں چودھری فتح الدین صاحب ذیلدار مدّو کاہلوں ایک بارسوخ اور باتدبیر زمیندار تھے۔ انہوں نے کسی ملاقات کے دوران میں چودھری جہان خانصاحب سے کہا کہ انتخاب کی سردردی کی بجائے کیوں نہ کوئی صورت سمجھوتے کی اختیار کرلی جائے۔ چودھری صاحب نے فرمایا اگر آپ کے ذہن میں کوئی صورت ہوتو فرمائیں۔ چودھری فتح الدین صاحب نے کہا قرعہ اندازی سے فیصلہ کرلیا جائے۔ چودھری جہان خانصاحب نے فرمایا مناسب ہے۔ لیکن قرعہ اندازی ذپٹی کمشنر صاحب کریں۔ چودھری فتح الدین صاحب نے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیئے۔۔اس کے بعد چودھری فتح الدین صاحب نے والد صاحب سے کہا۔ میں نے چودھری جہان خانصاحب کو قرعہ اندازی پر رضامند کرلیا ہے آپ بھی رضامندی دیدیں والد صاحب فرمایا مجھے تو یہ طریق پسندیدہ معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن چونکہ آپ چودھری جہان خاں صاحب کو اس طریق پر آمادہ کرچکے ہیں اور میرے انکار کردینے سے آپ کی سبکی ہوگی اس لئے میں بھی رضامندی دے دیتا ہوں۔ چنانچہ والد صاحب نے خاکسار کو ارشاد فرمایا کہ چودھری جہان خاں صاحب کے ساتھ ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس جاکر قرعہ اندازی کرلو۔ میں نے جب مسٹر ہرن ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ذکر کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ ہم دونوں کو اپنے بنگلے پر بُلوایا دو دیا سلائی کی ڈبیہ خالی کرکے ایک میں میرے نام کا پُرزہ ڈال دیا اور دوسری میں چودھری جہان خاں صاحب کے نام کا۔ اپنے جمعدار اردلی سے کہا ان میں سے ایک اٹھا لو اور اس میں جو پرزو ہے وہ نکالو جو پرزہ جمعدار نے نکالا اس پر میرا نام تھا لہٰذا چودھری جہان خاں صاحب انتخاب سے دستکش ہوگئے۔

اس کے تھوڑا عرصہ بعد والد صاحب کی طبیعت ناساز ہوگئی حرارت کے ساتھ کھانسی رہنے لگی۔ والدہ صاحبہ کے اطلاع دینے پر میں ڈسکے گیا اور والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو لاہور لے آیا ڈاکٹر محمد یوسف صاحب نے معائنہ کیا اورWET PLURESY تشخیص کیا۔ بہت توجہ سے علاج کرتے رہے فجزاھا اللّہ احسن الجزاء۔ کچھ دن بعد پھیپھڑے سے پانی نکالا جس سے بفضل اللہ کچھ افاقہ ہوا لیکن پھر تکلیف بڑھنا شروع ہوگئی۔ اس مرحلے پر ڈاکٹر محمد یوسف صاحب کو بعض فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں شملے کا سفر پیش آگیا۔ ان کی غیر حاضری میں ڈاکڑ یار محمد خانصاب علاج کرتے رہے۔ دو تین دن بعد پھر پانی نکالنے کی تجویز ہوئی۔ لیکن اب کی بار بجائے افاقے کے کمزوری بڑھنا شروع ہوگئی۔ 31؍اگست منگل وار کی صبح کو بعد نمازِ فجر والدہ صاحبہ نے مجھے اپنا ایک خواب سنایا خواب کی تعبیر واضح تھی اور والدہ صاحبہ نے بھی یہی تعبیر بتائی کہ تمہارے والد جمعہ کا دن شروع ہوتے ہی فوت ہوجائیں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ ابھی سے سب تیاری کرلی جائے۔ چنانچہ تفصیلی ہدایات دیں جن کی تعمیل کردی گئی۔ یہ دن ہم سب کے لئے سبق آموز بھی تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم کے نشانات کے ظاہر کرنے والے بھی تھے۔ دل درد سے پُر بھی تھا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر کلیتہً راضی بھی تھا۔ کچھ تفصیل ان ایام کی میری کتاب ’’میری والدہ‘‘ میں بیان کی گئی ہے۔ یہاں اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اور مجھے ہمت بھی نہیں پڑتی۔ والدہ صاحبہ کے خواب کے مطابق 2 ستمبر 1926ء بعد نمازِ مغرب جب اسلامی شمار سے جمعہ کا دن شروع ہی ہوا تھا ہم اس سراپا شفقت بزرگ ہستی کی ہدایت اور رفاقت سے محروم ہوگئے یغفراللہ لہ ویجعل الجنة العلیا مثواہ۔ والدہ صاحبہ کی ہدایات کے مطابق سب انتظام ہوچکا تھا دو بجے شب ہم ان کے جنازے کو لے کر روانہ ہوئے طلوعِ آفتاب کے وقت قادیان پہنچے۔ اسی رات حضرت صاحب باوجود رستے کی خرابی کے ڈلہوزی سے قادیان تشریف لائے۔ 4 ستمبر 9 بجے صبح اپنے ناظراعلیٰ کا جنازہ پڑھایا اور سلسلہ کے پہلے ناظر اعلیٰ مقبرہ بہشتی میں خاص صحابہ کے قطعہ میں دفن ہوئے۔

پنجاب کونسل کے انتخاب میں کامیابی: والد صاحب کی وفات کے بعد مجھے اطلاع ملی کہ چودھری اکبر علی خاں صاحب سکنہ کوٹلی نوناں تحصیل ڈسکہ انتخاب میں امیدوار ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پہلے تو میں نے اس اطلاع کو باور نہ کیا۔ چودھری صاحب کے میرے ساتھ خاندانی اور ذاتی بہت دوستانہ تعلقات تھے اور وہ میرے معاونین میں سے تھے بیشک ان کی طبیعت مزاح کی طرف مائل تھی لیکن یہ معاملہ سنجیدہ تھا اور بہرصورت انہیں کامیابی کی کوئی امید نہیں ہوسکتی تھی۔ معلوم ہوا کہ ان کا موقف یہ ہے کہ قرعہ اندازی سے فیصلہ کرنا کہ کون امیدوار ہو درست نہیں اور رائے دہندگان کو اپنی رائے کے اظہار کا موقعہ ملنا چاہیئے۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ انہیں کامیابی کی توقع نہیں وہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ میرا انتخاب ہی مناسب ہوگا لیکن قرعہ اندازی کے طریق کو پسند نہ کرتے تھے۔ اصولاً تو ان کا مؤقف درست تھا اور جب وہ انتخاب میں حصہ لینے پر مصر تھے تو انہیں باز رکھنے کا کوئی طریقہ نہ تھا۔ وقت آنے پر انہوں نے درخواست دیدی۔ اس لئے انتخاب کی کارروائی لازم ہوگئی اور ہمیں انتخاب کا بکھیڑا جھیلنا پڑا۔ اس سے مجھے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ضلع سیالکوٹ کے سرکردہ زمیندار اصحاب کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات مضبوط ہوگئے۔ انتخاب کی بھاگ دوڑ کے سلسلہ میں ایک لطیفے کا ذکر دلچسپی کا باعث ہوگا۔ ماجرہ کلاں کے ’’سفید پوش‘‘ چودھری جہان خاں صاحب نے خواہش کی کہ میں ان کے ہمراہ ان کے گاؤں جاکر وہاں کے رائے دہندگان سے ملوں۔ چنانچہ ایک شام میں اور چودھری قاسم علی خاں صاحب ذیلدار ان کے ہمراہ ان کے گاؤں گئے اور رات ان کے ہاں مہمان رہے۔ دوسری صبح انہوں نے دیہہ کے مالکان کو اپنے دیوان خانے میں بلا لیا اور میرا ان سے تعارف کرایا اور میرے آنے کی غرض بیان کی اتنے میں ناشتہ آگیا۔ میزبان نے فرمایا تمہارا وقت قیمتی ہے ناشتہ کرلیں گفتگو جاری رہے گی ناشتہ ختم ہوا تو مالکان دیہہ میں سے ایک نے مسکراتے ہوئے حاضرین سے کہا ’’بھائیو میں تو کہتا ہوں پرچی (ووٹ) اسی چودھری کو دینی چاہیئے‘‘۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ رائے تو ہماری بھی یہی ہے لیکن تمہارے مشورے کی کوئی خاص وجہ ہے اس نے کہا ’’ وجہ یہ ہے کہ ہم سب زمیندار ہیں اور جب ہمیں بیل خریدنا ہوتا ہے تو علاوہ اور باتوں کے ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بیل چرنے (کھانے) میں کیسا ہے جو بیل اچھی طرح چرتا ہے وہ کلبہ رانی بھی خوب کرتا ہے۔ میں اس چودھری کو کھاتے دیکھتا رہا ہوں یہ چرتا خوب ہے چلے گا بھی خوب‘‘۔ اس پر ایک قہقہہ بلند ہوا اور ہنستے ہنستے محفل برخاست ہوئی۔ چودھری اکبر علی صاحب صرف اتنا ادعا کرتے تھے کہ ان کی ضمانت ضبط نہیں ہوگی۔ انتخاب کا نتیجہ نکلا تو اس کے برعکس ان کی تائید میں آراء کی اس قدر کمی رہی کہ ان کا زرِ ضمانت ضبط ہوگیا۔(تحدیثِ نعمت صفحہ 227 تا 231)

علاوہ ازیں اس کامیابی کے بعد آپ نے برصغیر ہند و پاک اور عالمی سطح پر جو خدمات سرانجام دیں ان کا احاطہ کرنا ناممکن ہے لیکن مختصراً ذکر کردیتا ہوں۔ تحدیثِ نعمت میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ قائد اعظم نے 1929ء دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرو رپورٹ کے جواب میں 14 نکات پیش کئے جو کہ تحریکِ پاکستان میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اس میں ایک علیحدہ مملکت ریاست کا ذکر قابلِ ستائش ہے۔جو بعد میں  23 مارچ  1940ء میں قراردادِ پاکستان لاہور میں پیش کی گئی تھی۔ اور 2 مارچ کو مسلم لیگ کے اجلاس میں یہ پاس کی گئی تھی۔ آپ نے اسلامی ممالک کی آزادی کے لیے اقوامِ متحدہ میں بھرپور آواز اٹھائی اور ان کو آزادی دلوائی۔ کشمیر کے حوالے سے قضیہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ کی مجلسِ امن میں بھرپور کیس لڑا اور ان کے حق میں ایک قرارداد پاس کروائی۔ آج بھی پاکستانی حکومت اسی حوالے سے ہر سال اقوام متحدہ کے اجلاس میں اس کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔ آپ 1948ء سے 1956ء تک جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بطور نمائندہ پاکستان پیش ہوتے رہے۔ 1962ء میں اقوام متحدہ کے 17ویں سالانہ اجلاس کی صدارت کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی اسمبلی کے ایک خاص اجلاس کی بھی آپ نے صدارت فرمائی یہ جون 1963ء میں طلب کیا گیا تھا اور یہ چوتھا خاص اجلاس تھا جو ایک مسئلہ پر غور کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کی تجویز تھی کہ میں پاکستان کے بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ کا منصب سنبھالوں یا وزارتِ دفاع یا امورِ خارجہ۔ لیکن قائداعظم چاہتے ہیں کہ وزارتِ خارجہ کا قلمدان سنبھالوں لہٰذا قائداعظم کی خواہش پر آپ کو وزیرِ خارجہ مقرر کیا گیا اور آپ 1948ء تا 1954ء تک اس منصب پر قائم رہے۔ مزید براں آپ کو 1970ء میں عالمی عدالتِ انصاف (ہیگ ہالینڈ) کی صدارت کے لئے منتخب کیا گیا اور آپ کئی سال اس عدالت میں بطور جج بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ چودھری صاحب فرماتے ہیں۔

نیست از فضل و عطائے او بعید

کور باشد ہر کہ از انکار دید

قادر است و خالق و ربّ مجید

ہر چہ خواہد مےکند عجزش کہ دید؟

اس کی قدرتوں کی انتہا نہیں۔ اس انتخاب سے 36 سال قبل میری والدہ صاحبہ مرحومہ نے ایک مبشر خواب دیکھا تھا جو ان کی وفات کے 32سال بعد اس انتخاب سے پورا ہوا۔ فالحمدللہ۔(تحدیثِ نعمت صفحہ700)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *