تاریخ کا ایک دردناک باب

تحریر:شکیل چوہدری

غلام قادر روہیلہ برصغیر کی تاریخ میں ایک انتہائی سفاک اور سنگدل شخص گزرا ہے۔ اس کا تعلق افغانوں کے قبیلہ روہیلہ سے تھے جو روہیل کھنڈ کے باسی تھے۔ وہ 1788ءمیں مرہٹوں کے ساتھ لڑتا ہوا مارا گیا۔ تاریخ ہندوستان، مغلوں اور پٹھانوں کی نبرد آزمایوں سے بھری پڑی ہے۔شاہ عالم ثانی 1759 ءسے لیکر اپنی وفات 1806 ء تک تخت دہلی پر کٹھ پتلی حکمران رہا۔ غلام قادر روہیلہ کے ہاتھوں 1787 ء میں اندھا ہوا۔ غلام قادر نے 1787 ء میں جب اس کی عمر کوئی 27 سال تھی، دہلی پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا۔غلام قادر نے یہ حیلہ تراشا کہ اس کا مقصد شاہ عالم کو ہٹا کر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ چنانچہ ”اسلام کی خدمت“ کے اس جذبے سے سرشار ہوکر غلام قادر نے اپنے دوست اسماعیل کے ساتھ فوج اور سامان جنگ سے لیس ہوکر دلی پر چڑھائی کردی۔ غلام قادر کی فوجیں یکم جولائی 1877 ء کو دلی کے گرد و نواح میں پہنچیں اور انہوں نے اسلامی حکومت قائم کرنے کے بجائے لوٹ مار، قتل و غارت گری شروع کردی۔مہاراجا سندھیا نے خود مصائب میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی افواج کا کچھ حصہ شاہ عالم کی مدد کے لیے بھیجا۔ شاہ عالم کی فوج نے افلاس زدہ ہونے کے باوجود مقابلہ کیا لیکن اسے کیا کیجیے کہ خود شاہ عالم کے معتمد اعلیٰ افسران غلام قادر سے مل گئے تھے۔انہوں نے نہ صرف شاہی افواج کو غلط راستہ دکھایا بلکہ سندھیا کی بھیجی ہوئی فوج کی بھی حوصلہ افزائی نہ کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سندھیا کی فوج نے دلی سے کوچ کیا اور شاہ عالم بے یارو مدد گار رہ گیا۔ غلام قادر کی فوجوں نے چار ہفتے تک دلی اور اطراف میں قتل و غارت کیا جس کی مثال صرف احمد ابدالی کے حملوں کے دوران میں ہی مل سکتی ہے۔ آخر کار 30 جولائی کو غلام قادر محل شاہی کے دروازے پر آیا اور درخواست کی کہ وہ شہنشاہ کی خدمات میں باریابی کا خواہش ہے۔غلام قادر نے قرآن کی قسم کھائی کہ اس کا مقصد صرف مغل شہنشاہ سے اظہارِ وفاداری ہے۔ محل شاہی کے پاسبانوں نے شاہ عالم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ دھوکا ہے، فریب ہے۔ غلام قادر کو محل کے اندر نہ آنے دیا جائے، لیکن شاہ عالم کے بعض مشیر ایسے بھی تھے جنہوں نے یہ مشورہ دیا کہ غلام قادر نے قرآن کی قسم کھائی ہے لہٰذا اس پر اعتبار نہ کرنا اسلامی نظریات کے خلاف ہوگا اس لیے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی جائے۔معلوم نہیں ان مشیروں کی رائے ان کے بھولپن پر مبنی تھی یا سازش پر، لیکن شاہ عالم نے اس رائے پر عمل کیا اور غلام قادر کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ جوں ہی محل کے دروازے کھلے، نہ صرف غلام قادر داخل ہوا بلکہ اس کے ساتھ دو ہزار سپاہی بھی شاہی محل میں داخل ہو گئے۔ غلام قادر کی فوج کے محل میں داخل ہونے پر کہرام مچ گیا۔ شہزادہ اکبر نے کہا کہ یا تو مجھے لڑ کر مرجانے کی اجازت دیجیے ورنہ میں خودکشی کرلوں گا۔ شاہ عالم نے بہ مشکل اسے روکا اور کہا کہ مشیت ایزدی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ غلام قادر دربارِ عام سے ہوتا ہوا دربارِ خاص میں پہنچا اور شہنشاہ سے مطالبہ کیا کہ اسے روپے کی ضرورت ہے لہٰذا جتنی دولت محل میں ہے وہ اسے دے دی جائے۔ شہنشاہ نے کہا کہ میرے پاس جو کچھ تھا وہ میں دے چکا ہوں، اب میرے پاس کچھ نہیں ہے۔غلام قادر اس جواب سے مطمئن نہیں ہوا۔ چنانچہ شہنشاہ کو ایک مسجد میں قید کر دیا گیا اور محل کی تلاشی کا کام شروع کر دیا گیا۔ دوسرے دن بادشاہ کو مسجد سے ہٹا کر محل کے اس حصے میں قید کر دیا گیا جہاں مجرموں کو رکھا جاتا تھا۔ غلام قادر کے سپاہیوں نے اب محل کے حرم کی تلاشی شروع کی۔ محل کے فرش، دیواروں اور چھتوں کو توڑا گیا لیکن اس میں وہ خزانہ نہ ملا جس کی غلام قادر کو تلاش تھی۔ شہنشاہ کی بیگمات اور کنیزوں کی تلاشی لی گی لیکن چند زیورات کے علاوہ کچھ نہ ملا۔اگلے دن محل کے در و دیوار چیخ و پکار سے گونج اٹھے۔ شہنشاہ کے ملازمین کو ہولناک اذیتیں دی جارہی تھیں۔ انہیں آگ پر اُلٹا لٹکایا جارہا تھا۔ ان کے ہاتھوں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جارہا تھا۔ لیکن اس کے باوجود افلاس زدہ محل میں وہ خزانہ نہ ملا جس کی غلام قادر کو تلاش تھی۔ آخر جب اذیت رسانی کے تمام طریقے ناکام ہو گئے تو غلام قادر نے شہنشاہ سے کہا کہ وہ جس طرح بھی ہو خزانے کا پتا بتائے۔ شاہ عالم نے کہا کہ تم نے سارا محل دیکھ لیا گیا ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ خزانہ میرے پیٹ میں ہے؟

غلام قادر نے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو حقیقت کی تلاش میں خنجر کو بھی استعمال کرنا پڑے گا۔ اور آخر کار غلام قادر نے شہنشاہ کے جسم پر خنجر بھی استعمال کیا جس کے محل میں وہ قرآن کی قسم کھا کر داخل ہوا تھا۔ غلام قادر نے خنجر کیونکر استعمال کیا اس کی مختصر داستان مشہور انگریز مصنف مائیکل ایڈورڈز نے اس طرح بیان کی ہے۔ ”10 اگست کے دن جب غلام قادر، شاہ عالم کے بیان سے مطمئن نہیں ہوا تو اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس کمینے کو زمین پر گرا دو اور اسے اندھا کردو۔چنانچہ مغل شہنشاہ کو ٹھوکر مار کر تخت سے گرایا گیا اور اس کی آنکھوں میں سوئیاں ڈالی گئیں۔ شہنشاہ درد و کرب سے چیختا رہا۔ آخر جب سوئیاں اس کی آنکھوں میں اچھی طرح پیوست ہوگئیں تو غلام قادر نے شہنشاہ سے پوچھا: ”کہو اب تمہیں کچھ دکھائی دیتا ہے!“ شہنشاہ نے جواب دیا: ”ہاں مجھے تمہارے اور اپنے درمیان میں قرآن دکھائی دیتا ہے۔“

۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *