بھارتی سپریم کورٹ میں قرآن کریم سے متعلق دائر کی گئی درخواست اور ہمارا ردعمل

تحریر :  ڈاکٹرطارق احمدمرزا

لطیفہ ہے کہ ملا نصیرالدین چوپال میں چارپائی ڈال کر چادر تانے سورہے تھے کہ بچوں کو شرارت سوجھی۔ان میں سے ایک نے انہیں جھنجھوڑ کر جگایا اور چیختے ہوئے بتایا کہ فلاں بچہ آپ کی ریش مبارک استرے سے صاف کرکے لے گیا ہے۔ملا نصیرالدین ہڑبڑا کر اٹھے۔ آنکھیں ملتے ہوئے دیکھا، دُور ایک بچہ(طے شدہ پروگرام کے مطابق) بھاگتا جا رہا تھا۔ پھر کیا تھا آپ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، بے نقط مغلظات سناتے،شور مچاتے ہوئے آپ نے  بھی اسی سمت دوڑ لگادی۔مگر بچے نے بھلا کہاں ہاتھ آنا تھا۔ڈیڑھ دو کلومیٹر دوڑنے کے بعد تھک ہارکر آپ ہانپتے کانپتے ایک درخت کے سہارے کھڑے ہوگئے مگر واویلا جاری رکھا۔آخر ایک دیہاتی وہاں سے گزرا،ماجرا پوچھا توجواب سن کربمشکل ہنسی پہ قابو پاتے ہوئے بولا ملا جی آپ اتنے عالم فاضل شخص ہیں پہلے اپنے چہرے پہ ہاتھ تو پھیر کر دیکھ لیتے، ریش مبارک تو اسی طرح سے    موجود ہے !۔

بدقسمتی سے برصغیرکے، خصوصاً بھارتی مسلمانوں نے کچھ اسی قسم کا ردعمل بھارتی سپریم کورٹ میں وسیم رضوی کی طرف سے دائر کردہ ایک ایسی درخواست کی خبر ملنے پر دکھایا ہے جس میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ قرآن کریم کی 26 ایسی آیات کو حذف کروائے جو ان کے نزدیک نعوذ باللہ مسلمانوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔اس احمقانہ درخواست پر بھارت میں مسلمانوں نے جس طرح سے احتجاجی جلسے جلوس نکالنے شروع کردیئے ہیں اور حتیٰ کہ وسیم رضوی کے سر کی قیمت بھی مقرر کردی ہے تو یہ رد عمل بھی ایک بالغ نظر عقلمند مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔کیونکہ کم از کم اتنا علم تو ہونا چاہیئے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے،اسی نے نازل کی ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی بڑے کھلے کھلے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہوا ہے۔پس جب آپ اس قسم کا ردعمل دکھاتے ہیں تو آپ کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ پر بھروسہ نہیں۔آپ کو شک ہے کہ کہیں واقعتاً ایک ملک کی سپریم کورٹ اس قسم کا حکم بھی جاری کردے گی اور خاکم بدھن اس پر پوری دنیا میں عملدرآمد بھی شروع ہو جائے گا۔ کلمہ ایمان یعنی “آمنت باللہ” کی پہلی شق اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے جس کی ہر مسلمان (اقرارباللسان )اور(تصدیق بالقلب )کرتا ہے لیکن محض اقرارِ لسانی ہواور تصدیقِ قلبی نہ ہو تویہی نمونہ ظاہر ہوتا ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔

یادکریں جب ابرہہ ہاتھیوں کا لاؤ لشکر لے کر خانہ کعبہ کو تہس نہس کرنے کی نیت سے مکہ پر حملہ آور ہوا اور پہلے کچھ لوٹ مار شروع کی تو حضرت عبدالمطلب جو نبی پاک حضرت خاتم النبیین ﷺ کے دادا تھے اس کے سپہ سالاروں کے پاس آئے اور کہا کہ تم لوگوں نے میری جو بکریاں اور اونٹ وغیرہ قبضہ میں لے لئے ہیں میں انہیں لینے آیا ہوں ۔اس پر ان فوجیوں نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اس کو اپنی بکریوں کی پڑی ہوئی ہے ، خانہ کعبہ کی حفاظت کی کوئی فکرنہیں جسے مسمار کرنا ہمارا اصل مقصد ہے۔

یہ بات سن کر آپ نے فرمایا کہ میں جس چیز کا مالک ہوں اسی کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں ، خانہ کعبہ کا مالک خدا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا !۔

اور پھر تاریخ نے ان کی بات سچی ثابت کرکے دکھا دی۔اسی طرح سے  پندرہ سو سال ہو گئے،قرآن کریم بھی ، جس کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے کیا ہوا ہے،محفوظ چلا آتا ہے۔ ظاہری کتاب کی شکل میں بھی،سافٹ وئرکی صورت اور انٹرنیٹ پر بھی  اور ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں حفاظ کرام کے دماغوں میں بھی۔تاریخ میں کئی ایسے واقعات ہیں جب قرآن میں تحریف، یا اس کی الہامی حیثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہی۔ابھی گزشتہ صدی کا ایک واقعہ ہے کہ ہندوستان میں ایک شخص کو یہ سوجھی کہ قرآن کا نسخہ مختلف کاتبوں کے پاس باری باری لے کر گیا اور کہا کہ اگر وہ قرآن کریم میں موجود “خاتَم النبیین” میں موجود لفظ “خاتَم” کی زبر مٹاکر زیر لگادیں تاکہ اسے “خاتِم” پڑھا جائے، تو وہ اس کا بھاری معاوضہ دے گا لیکن سب نے انکار کردیا۔ گھر واپس آکر یہ مذموم حرکت کرنے کا خود فیصلہ کرلیا لیکن قلم اٹھایا ہی تھا کہ اسی وقت قرآن کریم کے محافظ خدا نے اس کی روح قبض کرلی اور وہ ایک نشان عبرت بن گیا ۔قارئین کرام میرے دل میں بھارتی مسلمانوں کے جذبات نہایت مکرم بلکہ مقدس ہیں۔لیکن ان سے یہ عاجزانہ درخواست ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت کے الٰہی وعدہ کوسمجھیں اس پر اپنا ایمان پختہ کریں۔۔ جتنا زیادہ منفی ردعمل دکھائیں گے، اس وسیم رضوی نامی شخص کو دنیا بھر خصوصا مغرب میں موجود اسلام دشمن طبقہ میں شہرت اور اہمیت دلانے کا باعث بنیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جلوس نکالنے یا قتل کے فتوے جاری کرنے کی بجائے جن 26 آیات کو وسیم رضوی نے متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے ان کی سیاق وسباق کے حوالہ سے اس طرح کی درست تشریح پیش کریں جو اسلام کا اصل یعنی امن اور سلامتی کا پیغام دینے والی اور غلط فہمیاں زائل کرنے والی ہو۔ اس حوالہ سے راقم کے مشاہدہ میں بات بھی آئی ہے کہ بعض لکھنے والے (جو جلوسوں میں شامل نہیں ہوتے،لکھتے ہیں اور بظاہر”سکالر”دکھائی دیتے ہیں) بجائے اس کہ وسیم رضوی اور اس کے ہم خیال طبقہ کومذکورہ آیا ت کے بارہ میں درست آگہی فراہم کریں، وہ ہندودھرم کی کتابوں یا بائیبل وغیرہ سے اسی قسم کی عبارات ڈھونڈ ڈھونڈ کر پیش کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں کہ دیکھو ان کی کتابوں میں بھی یہی لکھا ہے۔ حالانکہ وسیم رضوی نہ تو ہندو ہے اور نہ ہی عام یا انتہا پسند ہندؤوں نے اس کے اس قابل صد مذمت اقدام کی حمایت کی ہے بلکہ بریت کااظہار کیا ہے۔ میری حقیر رائے میں اگر دونوں طرف سے الزامی جوابات اسی طرح سے لگائے جاتے رہے کہ تم بھی تلوار کا ذکر کرتے ہو ہم بھی تلوار کاذکر کرلیں تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑی۔ ان باہمی الزامات کو سننے یا دیکھنے والی نوجوان نسل ، جس کا ادیان عالم اور ان کی مقدس کتابوں  کے بارہ میں زیادہ علم نہیں وہ تو اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ کیا ہندو،کیا عیسائی اور کیا مسلمان،سبھی ایک جیسے ہیں ، سبھی تلوار اور قتال کی تعلیم کے حامل ہیں۔اور سیکولر طبقہ جو یہ کہتا چلا آرہا ہے کہ مذہب بنیادی طور پر ہے ہی جملہ فساد کی جڑ،تو یہ  بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔

تو ایسے میں جیسا کہ آج سے سو برس قبل برصغیر میں یہ تحریک شروع کی گئی تھی کہ مختلف مذاہب کے ماننے والے بجائے ایک دوسرے پرالزامی حملے کرنے کے،ایسے اجلاسات اور کانفرنسیں منعقد کرنا شروع کریں جن میں اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں اور سوالات کے جوابات دے کران کے بارہ میں پھیلائی گئی غلط فہمیاں دور کی جائیں نہ کے دوسروں پراعتراض۔آج کا نوجوان اس میں  دلچسپی نہیں رکھتا کہ آپ دوسروں کی کتابوں سے کیا کچھ نکال نکال کردکھانے میں کمال رکھتے ہیں ،بلکہ یہ جاننے کی خواہش رکھتا ہے کہ آپ اپنے مذہب کی وکالت میں کس حد تک حق کے متلاشیوں کو مطمئن کر پاتے ہیں۔جہاں تک وسیم رضوی کی اس درخواست کے قانونی پہلوؤں کا تعلق ہے تو ان کا جائزہ لیتے ہوئے قانونی ماہرین نے بتایا ہے کہ  ابھی تو یہ بھی طے ہونا ہے کہ اس قسم کی درخواست بھارتی سپریم کورٹ سماعت کے لئے قبول بھی کرتی ہے یا نہیں۔عموماً جب کسی “کتاب” کے خلاف عدالت میں درخواست دی جاتی ہے تو اس میں دوسری  پارٹی یعنی “فریق مخالف” کتا ب کا مصنف ہوتا ہے کیونکہ عدالت کے لئے مصنف کا نکتہ نظر بھی سمجھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے،یکطرفہ فیصلہ تو نہیں دیا جاسکتا۔وسیم رضوی نے کتاب کے مصنف یعنی خالق( اللہ تعالیٰ) کو تو پارٹی ٹھہرایا نہیں بلکہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ آیات پہلے تین خلفاء راشدین کی تخلیق کردہ ہیں۔ لیکن انہیں بھی مدعا علیہ پارٹی نہیں ٹھہرایا( ویسے وہ بھی اب دنیا میں موجود نہیں) بلکہ لگ بھگ ساٹھ عدد بالکل ہی غیرمتعلق قسم کے افراد اور اداروں کوفریق بنایا ہے جووسیم رضوی کی قابل رحم دماغی حالت کی غمازی کرتا ہے۔اس میں علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور حتیٰ کہ اردوادب کی ایک انجمن اور کچھ مدرسہ جات کو بھی فریق ٹھہرایا ہے جس کی کوئی تک ہی نہیں بنتی۔ پھر یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کیا درخواست گزار صرف انڈیا میں موجود قرآن کریم کی کاپیوں میں تحریف کروانا چاہتا ہے یا دنیا بھر کی۔تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان کی سپریم کورٹ کو اس قسم کا ” مینڈیٹ”حاصل ہے؟۔ دنیا بھر میں ایک ہی قرآن ہر ملک اور ہر خطے میں پایا جاتا ہے ۔کیا درخواست گزار دنیا کے دوسو سے زائد ممالک میں جاکر اس قسم کی درخواستیں وہاں کی عدالتوں میں دینے کا ارادہ رکھتا ہے؟۔اور یا پھر کیا دنیا بھر کی حکومتیں بھی بھارتی عدالت کے ماتحت آتی ہیں؟۔

جن مدرسوں کاذکر کیا گیا ہے کیا وہ “مدرسے” چل کر عدالت میں ” بیان ” حلفی دینے آئیں گے۔کیا مدرسے بولتے ہیں؟َ۔ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی۔یہ بات خوش آئیند ہے کہ کچھ مسلمان بھارتی وکیل اس درخواست کے قانونی پہلوؤں کا بغور جائزہ لے کر عوام الناس کو سوشل میڈیا پر شعوروآگہی بہم پہنچا رہے کہ تشویش کی ضرورت نہیں ، خاطر جمع رکھیں اور اپنے معمولات جاری رکھیں۔اس قسم کی بے تکی درخواستیں پہلی پیشی پر ہی ناقابل سماعت قرار دے دی جاتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وسیم رضوی نے اپنی درخواست میں اس بات کا کوئی تاریخی دستاویزی ثبوت بھی پیش نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ قرآن مجید میں کوئی غیر الہامی عبارات داخل کی جاچکی ہیں۔اور پھر ساتھ ہی اس  بات کا اعتراف بھی وسیم رضوی نے اسی درخواست میں یہ کہتے ہوئے کیا ہے کہ اصل میں قرآن نہیں بلکہ اس کی مختلف طریق پر کی گئی تفاسیرہیں جو کہ متضاد قسم کی سوچ کے پروان چڑھنے کا باعث بن رہی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ آپ نے کسی بھی تفسیر یا مفسر کا ذکر یا حوالہ پیش نہیں کیا۔گویا پوری درخواست بے بنیاد مفروضوں پر مشتمل اور تضادات کا مجموعہ ہے ۔ اس پر معزز عدالت ان کی درخواست یہ کہتے ہوئے خارج کر سکتی ہے کہ پھر اصل درخواست ان مفسرین کے خلاف  دینی چاہیئے تھی نہ کہ قرآن کریم کے متعلق۔ جملہ معروف اور اکابر مفسرین بھی اب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں پس لگتا ہے کہ آپ کا بیچارہ دماغ ہی ہے جس میں کم علمی کی وجہ سے تضاد اور کنفیوژن اچھی خاصی مقدار میں پیداہو چکا ہے۔وسیم صدیقی صاحب آیئے اور قرآنی انواروعلوم اور ان کے اسلوب سے خود کو آشنا کرنے کی کوئی سبیل ڈھونڈ یئے۔

نورِ فرقاں ہے جو سب نُوروں سے اَجلا نکلا

پاک وُہ جس سے یہ اَنوار کا دریا نِکلا

ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نُور

ایسا چمکا ہے کہ صد نیّرِ بَیضا نکلا

زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دُنیا میں

جن کا اِس نُور کے ہوتے بھی دل اعمٰی نکلا

جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں

جن کی ہر بات فقط جھُوٹ کا پُتلا نکلا !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *