ایس۔ اے۔صہبائی

ایس۔ اے۔ صہبائی پاکستان کی ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت جو اپنی ہستی میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ صہبان عارف صہبائی کہیں ہمیں روحانیت کے درخشندہ ستاروں میں مخدوم سبحان کی حیثیت میں نظر آتےہیں تو کہیں صحافتی دنیا کے افق میں قائد صحافت سے لیکر میڈیا انڈسٹری کے قابل احترام استاد، صحافی، دانشور، کالم نگار، ادیب شاعر، اینکر پرسن ،سوشل ورکر، موٹیویشنل اسپیکر اور ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ کی حیثیت سے گولڈ میڈلسٹ اور بے شمار ایوارڈز اور تنظیموں کے بانی چیئرمین صدر اور مینیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے زبان زد عام ایس۔ اے۔ صہبائی کے نام سے دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان کی ملٹی ٹیلینٹڈ شخصیت کا نام ہے۔صہبان عارف صہبائی کا نام عالم روحانیت کی معروف ہستی بانی سلسلہ توحیدیہ نقشبندیہ حضرت خواجہ عبدالحکیم انصاری نے رکھا۔ صہبان عارف صہبائی یکم ستمبر 1971پشاور ائیر فورس ہاسپٹل میں رات 2بجے ائیر فورس کے منجھے ہوئے ریڈار مکینک کاپل ٹیک الحاج احمد خان سبحان کی زوجہ بیگم نسیم اختر کے بطن سے دنیا میں تشریف لائے گویا آسمانی پرواز کے تخیلاتی اڑن کٹھولے پر ایس۔ اے۔ صہبائی بچپن سے ہی محو پرواز رہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب سے حاصل کی جبکہ گریجوایشن پنجاب یونیورسٹی سے اور ایم۔ بی اے ہیومن ریسورس میں یونیورسٹی آف ویژول سائنسز UVSامریکہ سے حاصل کی۔ ایس۔ اے۔ صہبائی نے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز روزنامہ وطن سے رپورٹر کی حیثیت سے شروع کیا بعدازاں پاکستان کے تمام معروف صحافتی اداروں میں نیوز ایڈیٹر سے لے کر ایڈیٹوریل انچارج ایڈیٹر اور ایڈیٹر انچیف کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پاکستان کی نامور صحافتی شخصیات بالخصوص مجید نظامی، مجیب الرحمن شامی، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر شاہدمسعود،  مبشر لقمان، ضمیر جعفری اور بہت سے پاکستان کے منجھے ہوئے صحافیوں ادیبوں شعراء اور سماجی شخصیات کے ساتھ خدمات سرانجام دیتے رہے اور صحافت ادب اور سماجی خدمات کے اعتراف میں گولڈ میڈلز لیجنڈ ایوارڈ پلرزآف پاکستان ،سلام پاکستان ایوارڈز اور سوونیئرز وصول کر چکے ہیں۔

ایس۔ اے۔ صہبائی بانی /چیئرمین جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان ،ورلڈ اسلامک میڈیا اور انٹرنیشنل پریس کونسل فار پیس لو اور متعدد ادبی، سماجی اور صحافتی تنظیموں کے بانی اور مینیجنگ ڈائریکٹر رہے اور متعدد ممالک میں یو این ہیومن رائٹس ایمبیسڈرز کی حیثیت سے War against Terrorismکے لیے خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ایس۔ اے۔ صہبائی اپنی شہرہ آفاق کتاب عشق سمندر میں جہاں اپنی روحانی پرواز کا تذکرہ کرتے ہوئے عرش الٰہی کی سیر کرتے ہیں وہیں مسجد نبویﷺ میں رسالتماب حضور اکرم ﷺکے دربار میں دیدار مصطفی ﷺ کا شرف حاصل کرتے ہیں وہیں دنیائے اسلام اور عالم روحانیت کی جلیل القدر بزرگ ہستیوں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے لیکر حضرت پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے روحانی ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہیں وہیں دوسری جانب اپنی دوسری کتاب دھرتی کا خادم بن کر پاکستانی افواج اور ہیروز آف پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پاکستان کے نامور شعراء کے پاک سر زمین پر مشتمل سحر انگیز کلام کو دھرتی کا خادم کے نام پر مشتمل اپنی کتاب میں لڑی کی حیثیت سے پرو دیتے ہیں وہیں عالمی تناظر میں دنیا کو ماحولیاتی آلودگی سمیت دہشتگردی کے عذاب سے بچانے کے لیے میرا گھر میری جنت کتاب لکھ ڈالتے ہیں جس پر انہیں یونائیٹڈ نیشن کے ایمبیسڈر کی حیثیت سے دنیا کی سیاحت بالخصوص سینٹرل افریقہ میں کافی وقت گزارنے کا موقع ملا۔ دنیا ئے عالم بالخصوص پورپی ممالک کی پٹرولیم میں دلچسپی صہبان عارف کو آئل فیلڈ کی دنیا میں لے گئی اور یوں ایس۔ اے۔ صہبائی نے پاکستان سے سوڈان کا سفر کیا اور زندگی کے سبھی شعبوں کے نام نہاد کرپٹ ڈان مافیا سے نمٹنے کے لیے اپنا سفر نامہ سوڈان سے ڈان تک لکھ ڈالا مگر اپنی طبعی شرافت نزاکت اور کائناتی حسن وجمال کے باعث ڈان کی دنیا سے نکل کر گیت میرے من کے لکھ ڈالی اور شوبز کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔

آج ایس۔ اے۔ صہبائی کا نام پاکستان کی معروف روحانی ادبی صحافتی سماجی اور ثقافتی شخصیات میں ہوتا ہے جو کہ صحافت میں ولایت اور شیوہ پیغمبری اور نیشن بلڈنگ کے قائل ہیں بقول ایس۔ اے۔ صہبائی مثبت میڈیا قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے بالخصوص پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے کرپٹ مافیا کے خلاف علم جہاد بلند کرتے ہوئے میڈیا پر لگے بلیک میلنگ کے بدنما داغ کو پاکستانی میڈیا کے ماتھے سے ختم کر کے پاکستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *