اچھا خاصا جی تو رہا ہوں

وہ نئی چال ہی نہ چل جائے         یوں نہ ہو کھیل ہی بدل جائے

کتنا نازک ہے وہ پری پیکر       جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے

مطلع تو آپ پر کھل چکا ہو گا کہ بادل چھٹے ہیں تو گم آسمان نظر آنے لگا ہے۔ ہر چیز عیاں ہونے لگی ہے اور آسمان پر رات کو ستارے بھی خوب چمکیں گے اور جن سے ہاتھ ہوا ہے وہ ستارے گنیں گے یہ منظر اہل بصیرت پر تو پہلے ہویدا تھا۔ یعنی اس کی کھلی نشانیاں تو جناب زرداری کی آئیں بائیں شائیں سے ظاہر ہو رہی تھیں۔ پی ڈی ایم کو بگلہ قابو کرنے کا طریقہ سکھایا جا رہا تھا یہ طریقہ نئے لوگوں کو معلوم نہ ہو تو ان کا تجسس دور کرنے کے لئے بتائے دیتے ہیں کہ آپ بگلہ پکڑنے میں جلدی ہرگز نہ کریں کہ جلدی کے کام شیطان کے ہیں۔ پہلے تو آپ اسے پکڑنے کی دل میں ٹھان لیں۔ بگلے کو کسی اچھی جگہ پر بیٹھنے دیں۔ پھر آپ بچ بچا کر دبے پائوں اس کی طرف خرام کریں بہت احتیاط کہ قدموں کی آہٹ نہ ہو۔ یہ تو میں بھول گیا کہ آپ نے موم ساتھ لے کر جانی ہے۔ اگر نہ ملے تو موم بتی بھی چل جائے گی۔ موم بتی جلانی نہیں ہے۔ بس موم کسی طریقے سے بگلے کے سر پر رکھ آنی ہے ہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ گرم دن میں یہ کارروائی ڈالنی ہے۔ چمکدار سورج ہی سے اس کے سر پر رکھی موم پگھلے گی اور اس طرح پگلتی ہوئی موم اسے اندھا کر دے گی۔ اسے نظر آنا بند ہو جائے گا تو آپ نے بھاگ کر اس کو پکڑ لینا ہے۔ یقینا آپ میری تحریر پڑھ کر ہنس رہے ہونگے اب جس کو اللہ نے ذھن دیا ہے وہ ذھن لڑائے اپنا کام تھا آپ کو بات سمجھانا: بات ایسی ہے بتانے کی نہیں دنیا کو رو پڑے ہم بھی خریدار تک آتے آتے بہرحال ن لیگ کی حالت پر امیرمینائی کا ایک شاندار شعر صادق آتا ہے۔ اگر نواز شریف کو شعری ذوق ہوتا تو وہ یہ شعر بار بار عطاء الحق قاسمی کو سناتے یا پھر عرفان صدیقی کو: ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لئے اسی غزل کا ایک اور شعر بھی لاجواب‘’’وصل کا دن اور اتنا مختصر، دن گنے جاتے تھے جس دن کے لئے‘‘ مگر یہاں تو حاصل بھی عجیب تھا کہ آنا ہی جانے کی تمہید تھی ہائے۔ بے قدراں نال لائی تے ٹٹ گئی تڑک کر کے۔ متذکرہ غزل کا ایک اور شعر دل میں گدگدا رہا ہے۔ظالم نے بھرم ہی نہیں رہنے دیا: تھوڑی سی وضعداری تو اس دل کے واسطے اس نے تو اس میں وہم بھی پلنے نہیں دیا ویسے مزے کی بات ہے کہ جو کچھ بھی ہوا ہے یہ کوئی انہونی نہیں ہے۔ یہ حادثہ تو نہیں ہے۔ رانا ثناء اللہ فرما رہے ہیں کہ ابھی زرداری صاحب تقریر کر رہے تھے کہ سب کچھ سوشل میڈیا پر آ گیا تھا۔ بات ان کی درست ہے کہ کسی نے سب کچھ لیک کر دیا مجھے تو اس بیان پر بھی تعجب ہے کہ: راز کی کچھ حقیقت نہیں ہے فقط اک تمنا کہ بس وہ جو خود ہم بتانا نہیں چاہتے رازداں کھول دے دونوں پارٹیاں ہی اپنی اپنی مار پر تھیں کہ مولانا کو کس نے اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنا ہے۔ یہ تو درست ہے کہ پیپلز پارٹی ن لیگ مولانا اور دوسروں کو بیچ منجھدار چھوڑ گئی۔ ویسے بظاہر وہ اس کا اعلان نہیں کر رہے اور مزے لے رہے ہیں۔ ویسے تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والے زرداری پتھر ساتھ لے کر دبئی میں کافی عرصہ یقین دہانیاں کرواتے رہے۔ بلے کے دودھ پینے والا قصہ بھی انہی کے ساتھ منسوب ہے۔ ویسے بلوچ ہوتے تو بہادر ہیں اور وہ تو مرد حر بھی ہیں۔ واقعتاً کہ لوگ ہی تو تاریخ بناتے ہیں یہ سب لوگ پاکستان کے خیر خواہ ہیں مگر ہم تو عوام کا سوچتے ہیں کہ تیرا کیا بنے گا کالیے؟

عمران خاں کا بار بار بیان پڑھتے ہیں کہ انہیں مہنگائی کو کم کرنا ہے یا مہنگائی سے نمٹنا ہے آپ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے جا رہے ہیں۔ اڑھائی سال سے یہی اظہار۔ عوام بے چارے تو مرے ہوئے ہیں۔ کوئی غیبی مدد ہی آئے تو آئے ؎ آئے بکنے پہ تو حیرت میں ہمیں ڈال دیا وہ جو بے مول تھے نیلام سے پہلے بار بار یہی کہا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم اصل میں غیر فطری اتحاد تھا اس کا یہی حشر ہونا تھا تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ حکومتی جماعتوں کا اتحاد عین فطری ہے۔ کیا پی ٹی آئی ‘ متحدہ اور ق لیگ کی ایک ہی فطرت ہے۔ ویسے ان سب کی فطرت ایک ہی ہے یہ کسی وقت بھی کسی سے مل سکتے ہیں۔ جب توقع ہی اٹھ گئی غالب کیا کسی سے گلہ کرے کوئی۔ عمران خان کو یار آخری امید کہتے تھے۔ کبھی کبھی سارے تماشے سے گھن آنے لگتی ہے۔ کس کو بھولا ہو گا کہ زرداری صاحب والا کام نواز شریف بھی 2007ء میں کر چکے اور مولانا 17ویں ترمیم پر دستخط کر کے قاضی صاحب کے ساتھ بے وفائی کر چکے اور پھر سادگی دیکھیں کہ وہ عوام سے کیوں معافی مانگیں یعنی وہ جنرل کے وعدے کو نہیں جانتے تھے۔ ہم تو جنرل    ضیاء الحق کے وعدے کو بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح سے الیکشن کروائے تھے وعدہ 90دن کا تھا۔ پتہ نہیں لکھتے لکھتے میں کدھر کا کدھر نکل گیا میڈیا عوامی مسائل اجاگر کرے ۔ عوام کو تو کوئی مسئلہ ہی نہیں وہ تو خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں:

پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو حسن والوں کی سادگی نہ گئی

ایسے ایک مصرع ذھن میں آیا تو پہلا مصرع بنا لیا۔ پتہ نہیں اصل شعر کیا ہے؟

در در دھکے کھا تو رہا ہوں پل پل آنسو پی تو رہا ہوں

جینا اور کسے کہتے ہیں اچھا خاصا جی تو رہا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *