ء 1992کا ورلڈکپ

تحریر:  رؤف کلاسرا

ایک وقت آتا ہے جب ہر حکمران کو محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ کر کے دیکھ لیا لیکن بات نہیں بن رہی تو پھر ایسا کیا کیا جائے کہ عوام واہ واہ کر اٹھیں اور جن مسائل کا وہ شکار ہیں ان سے وقتی طور پر اُن کی توجہ ہٹ جائے؟سب کو شوق ہوتا ہے کہ عوام کو لگے کہ وہ عوامی حکمران ہیں۔ جنرل ضیا کو لگا کہ وہ سائیکل پر سوار ہو کر عوام کو پیغام دیں کہ وہ کتنے سادہ اور عام انسان ہیں‘ نواز شریف کو شوق چرایا کہ وہ عوام میں جا کر کھلی کچہر یاں منعقد کیا کریں۔ شاید انہیں لگا ہو کہ اگلے زمانوں میں بادشاہ ایسے دربار لگاتے تھے۔ نواز شریف نے سوچا ہوگا کہ وہ اس شاہی روایت کو دوبارہ شروع کریں۔ فیصل آباد میں ایک ایسی کھلی کچہری میں ایک افسر کو موقع پر نواز شریف نے ہتھکڑی لگوا دی تھی ‘ بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر اسے رہا کیا گیا۔ وہی نواز شریف لندن میں ہر آنے جانے والے کو بتاتے تھے کہ کیسے جنرل محمود اورجنرل اورکزئی نے 12 اکتوبر1999 ء کو انہیں وزیراعظم ہاؤس سے گرفتار کر کے ان کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا کر ایک جہاز پر کراچی بھیج دیا تھا۔ نواز شریف کو ہوسکتا ہے کبھی محسوس ہوا ہو کہ شاید وہ کرما تھا جس نے ان سے انتقام لیا ‘کہ انہوں نے ایک افسر کو ہتھکڑی لگوائی اور بعد ازاں خود وزیراعظم ہاؤس سے گرفتار ہوئے اور ہتھکڑیاں لگیں۔

جنرل مشرف کو شوق ہوا کہ ٹی وی پر لائیو کالز لی جائیں تاکہ عوام کو محسوس ہو کہ بادشاہ سلامت ان سے براہ راست مخاطب ہیں اور وہ بات کررہے ہیں۔ اب خان صاحب کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ ایسا کیا نیا کریں کہ ان پر بڑھتی ہوئی تنقید کو کم کیا جاسکے۔ ان کو یہ بھی یقین ہے کوئی بھی ہو‘ وہ اسے اپنی گفتگو اور لاجک سے چارم کرسکتے ہیں۔ وہ اپنی اسی خوبی کی وجہ سے وزیراعظم بن گئے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ جو Edge انہیں اپوزیشن میں ملا ہوا تھا وہ اب حکومت میں بھی ملے گا اور وہ جب چاہیں گے عوام کو مطمئن کر لیں گے۔ اس لیے پہلے تو انہوں نے ٹی وی اینکرز سے ملاقاتیں شروع کیں۔ اینکرز کو یہ کہا کہ ان پر پہلے سو دن تنقید نہ کریں‘ پھر چھ ماہ‘ پھر سال اور پھر پانچ سال۔ جب خان صاحب کو لگا کہ پرانا چارم اب کام نہیں کررہا اور اینکرز اور صحافی کچھ ایسے سوالات کرنا شروع ہوگئے ہیں جن کے ان کے پاس جوابات نہیں تو انہوں نے اینکرز سے ملاقاتیں بند کر کے کہا کہ اب درجہ دوم اینکرز کو بلایا جائے۔ دو تین دفعہ بات بنی لیکن پھر وہی مسئلہ کہ وہ اینکرز بھی خان صاحب کی بات نہ سمجھ پائے۔ چارم وہاں بھی کمزور پڑ گیا۔ فیصلہ ہوا کہ اینکرز کو پرے کریں کیوں نہ چینل کے ڈائریکٹرز نیوز اور پروگرامز کو بلایا جائے‘ ان پر چارم استعمال کیا جائے۔ پھر پروگرامز کے پروڈیوسرز کی باری لگی۔ اب سوچا گیا اب نیا کیا کریں؟ اچانک خیال آیا کہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو بلا لیتے ہیں تاکہ وہ سوشل میڈیا پر لگے رہیں۔ ان بے چاروں کو چائے تک نہ پوچھی گئی۔جو سارا دن خان صاحب کیلئے زمین آسمان ایک کیے ہوئے تھے وہ مایوس لوٹے کہ بندہ چائے ہی پوچھ لیتا ہے۔ اس کے بعد فیصلہ ہوا کہ اب یوٹیوبرز کو بلا کر چارم ان پر چلایا جائے۔ ان سے ملاقاتیں بھی ہوگئیں تو سوچا گیا اب کیا نیا کیا جائے ؟تو میرے جیسے کسی سیانے نے کہا ‘سر جی عوام سے براہ راست بات کریں‘ ان کی فون کالز لیں۔ یوں اب عوام سے براہ راست بات کی گئی‘ لیکن ایک بات کا خیال رکھا گیا کہ کالز لائیو نہیں ہوں گی بلکہ ریکارڈ کر کے انہیں اچھی طرح ایڈیٹ کیا جائے گا تاکہ کوئی ایسا سوال نہ چلا جائے جو بعد میں مسئلہ بنا دے۔ اس معاملے کو ہینڈل کرنے کیلئے درجن بھر وزیراور افسران بھاگ دوڑ میں لگ جاتے ہیں۔

یوں وزیراعظم کے اس لائیو شو کے نام پر ریکارڈ کیے گئے پروگرام میں کوئی ایسا سوال نہ تھا جس پر وزیراعظم کے ماتھے پر پسینہ آتا یا انہیں لگتا کہ عوام کن مشکلات کا شکار ہیں اور پانی اب ناک سے اوپر ہونے لگا ہے۔ وہی سوالات سامنے آئے جن سے وزیراعظم کو تکلیف نہ ہو‘تاہم ایک سوال مزے کا تھا کہ جناب آپ خود وزیراعظم ہیں اور کرکٹر ہیں لیکن آپ کے دور میں ہی کرکٹ تباہ ہوگئی ہے۔ عمران خان صاحب نے وہی پرانی بات دہرائی کہ سب چیزیں ایک دن میں ٹھیک نہیں ہوسکتیں ‘ وقت لگتا ہے‘ برسوں کا گند ہے سمیٹنے میں وقت لگے گا۔اب سوال یہ ہے کیا واقعی عمران خان کرکٹ کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں؟ کیاوہ واقعی چاہتے ہیں کہ 1992ء ورلڈ کپ ٹیم کے بعد کوئی اور کپتان بھی ورلڈ کپ جیتے‘ جیسے وہ جیتے تھے ‘یا یہ اعزاز صرف ان کے نام کے ساتھ جڑا رہنا چاہیے کہ ایک ہی کپتان تھا جو ورلڈ کپ لایا؟

عمران خان صاحب کے دور میں بورڈ اور ٹیم جن لوگوں کے حوالے کئے گئے ان میں کوئی بھی پروفیشنل کوچ نہیں ہے۔ ابھی جس کو کرکٹ ٹیم کا سلیکٹر لگایا گیا ہے اس کو شاید ہی پاکستان میں کوئی جانتا ہو۔ وقار یونس نے کبھی کوچنگ کورس نہیں کیا‘ جیسے عاقب جاوید نے کہا ہے کہ کمنٹری باکس سے اُٹھ کر کوچ لگ جاتے ہیں‘کوچنگ سے اُٹھ کر کمنٹیٹر اور اگر دونوں کام نہ ہوں تو وہ آسٹریلیا میں بنائے اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ کسی اور ٹیم کی کوچنگ نہیں کی۔ مصباح الحق کا سب کو علم ہے وہ اچھے کھلاڑی ضرور تھے لیکن اچھے کوچ نہیں نکلے۔ نہ کوئی بیٹسمین ڈھونڈ سکے نہ باؤلر اور جو حالت باؤلنگ‘ بیٹنگ کی نیوزی لینڈ میں ہوئی وہ سامنے ہے۔ وسیم اکرم اور وقار یونس پر الزام لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے بعد کوئی باؤلر پیدا نہیں ہونے دیا۔شعیب اختر کے ساتھ جو بدترین سلوک وسیم اکرم نے کیا وہ سب کو معلوم ہے۔عامر سہیل نے اس بارے میں لب کشائی کی اور اپنے ایک انٹرویو میں بہت اہم سوالات اٹھائے تھے۔ عامر سہیل کا کہنا تھا‘ پاکستان کو جان بوجھ کر 1992ء کے بعد کرکٹ ورلڈ کپ نہیں جیتنے دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 1996ء‘1999ء اور 2003ء کے ورلڈ کپ جیت سکتا تھا لیکن ایک کھلاڑی نے نہیں جیتنے دیے اور اس طرح کے حالات ٹیم کے اندر پیدا کیے گئے کہ یقینی جیت کو بھی ہار میں بدل دیا گیا۔ مقصد وہی تھا کہ بس پاکستان میں ایک ہی ٹیم بنی تھی جو 1992ء کی تھی۔ اس سے پہلے نہ کوئی ٹیم تھی‘ نہ کپتان‘ نہ اس کے بعد ایسی ٹیم بنے گی ۔ عامر سہیل کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں تحقیقات ہونی چاہئیں کہ کون اس کھلاڑی کو استعمال کررہا تھا اورڈوریں ہلا رہا تھا کہ پاکستان 1992ء کے بعد ورلڈکپ نہ جیت سکے اور اس کا فائدہ کس کو ہوا؟ عامر سہیل نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جس نے ورلڈ کپ نہیں جیتنے دیے‘ اس کی انہی ”خدمات‘‘ کے صلے میں اسے صدارتی ایوارڈ بھی دیا گیا۔

بہرحال ڈھائی سال میں جو کرکٹ ٹیم کی حالت ہوگئی ہے اور جس طرح بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کے عہدے دار چنے گئے ہیں اس سے عامر سہیل کی باتوں میں کچھ وزن لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی‘ کہیں نہ کہیں بیٹھ کر یہ پلاننگ کرتا رہا ہے اور ابھی تک کررہا ہے کہ 1992 کی ٹیم ‘ کپ اور کپتان کو ہی یاد رکھا جائے۔ عمران خان صاحب یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ ان کے وزیراعظم بننے میں ورلڈ کپ کا ہاتھ ہے‘ کرکٹ پاکستانیوں کا جنون ہے اور ان کے دور میں ہی کرکٹ ٹیم نیچے گئی ہے۔ ہر بات پچھلوں پر ڈال دینے سے کام نہیں چلے گا۔ وزیراعظم بن کر انہوں نے ایسے لوگوں کو بورڈ اور کرکٹ ٹیم میں لگوایا ہے جو اسے روز بروز نیچے لے جارہے ہیں۔عامر سہیل کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ عمران خان صاحب کو اس کھلاڑی کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے 1992ء کے بعد کوئی ورلڈ کپ نہیں جیتنے دیا۔ بشکریہ روزنامہ دنیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *