کشمیری نوجوان جو کھلونا پستول کی مدد سے انڈین طیارہ لاہور لے آئے

تحریر :شاہد اسلم

جنوری کی ایک سرد صبح ہے اور پورا شہر برف میں لپٹا ہوا ہے۔ دو کم عمر نوجوان ایک بریف کیس ہاتھ میں لیے 26 دیگر مسافروں سمیت ایک چھوٹے فوکر طیارے میں سوار ہوتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں یہ طیارہ فضا میں بلند ہو جانب منزل گامزن ہو جاتا ہے۔

طیارے میں ساتھ ساتھ بیٹھے اِن دونوں نوجوانوں کا سفر بے چینی کے عالم میں گزر رہا ہے، مگر اس بے چینی کے باوجود وہ آپس میں محو گفتگو ہیں۔ طیارہ اب اپنی منزل کے انتہائی قریب ہے اور لینڈنگ سے چند ہی لمحے قبل ایئر ہوسٹس تمام مسافروں سے سیٹ بیلٹ باندھنے کی گزارش کرتی ہے۔مگر اسی اثنا میں ان میں سے ایک نوجوان دوڑتا ہوا کاک پٹ میں داخل ہوتا ہے اور کپتان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر طیارے کا رُخ کسی اور ملک کی طرف موڑنے کو کہتا ہے۔اسی دوران دوسرا نوجوان ہینڈ گرنیڈ ہاتھ میں تھام کر مسافروں کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے اور انھیں تنبیہہ کرتا ہے اگر کسی نے چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو وہ ہینڈ گرنیڈ چلانے سے گریز نہیں کرے گا۔بظاہر یہ دونوں نوجوان ایک کھلونا پستول اور لکڑی سے بنے ہینڈ گرنیڈ کی مدد سے طیارے کو ہائی جیک کر لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اسے زبردستی ایک پڑوسی ملک لے جاتے ہیں جہاں وہ جیلوں میں قید اپنے کچھ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔آپ سوچ رہے ہوں گے یہ مناظر ہالی وڈ کی کسی ایکشن تھرلر فلم کے ہیں لیکن ایسا نہیں کیونکہ یہ مناظر آج سے 50 برس قبل پیش آنے والے طیارہ ہائی جیکنگ کی اُس واردات کے ہیں جس کے متعلق بہت سے سوالات اور ابہام کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی جواب طلب ہیں۔50 سال قبل یعنی 30 جنوری 1971 کو دو کشمیری نوجوانوں، چیئرمین جموں کشمیر ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی محمد ہاشم قریشی اور ان کے دور کے رشتہ دار اشرف قریشی، نے ایک انڈین فرینڈشپ فوکر طیارہ (گنگا)کو سرینگر ایئرپورٹ سے جموں جاتے ہوئے ہائی جیک کر لیا اور بعد میں اسے زبردستی پاکستان کے شہر لاہور لے گئے۔

ہاشم قریشی کی عمر اس وقت فقط ساڑھے 17 سال جبکہ اشرف قریشی کی عمر 19 سال تھی۔گنگا جہاز سروس سے ریٹائر ہو چکا تھا لیکن ہائی جیکنگ کی اس واردات سے محض چند ہفتے قبل اچانک اسے دوبارہ اڑان بھرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

طیارہ ہائی جیکنگ کی اس واردات کے پیچھے ممکنہ عوامل اور اس ہائی جیکنگ کے مستقبل پر اثرات کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہائی جیکنگ کا یہ منصوبہ کب اور کیسے بنا؟

طیارہ ہائی جیکنگ کا منصوبہ کب اور کس نے بنایا؟

سنہ 1968 میں جب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور کشمیر کی آزادی کے لیے چلائی جانے والی مسلح تحریک کے روح رواں مقبول بھٹ کو انڈیا کے ایک افسر امر چند کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تو وہ جیل توڑ کر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھاگ آئے۔اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد 16سال کا ایک نوجوان ہاشم قریشی بھی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ملنے پاکستان آیا۔پشاور میں اپنے قیام کے دوران ہاشم قریشی کی ملاقات مقبول بٹ سے ہوئی۔ مقبول بٹ سے متاثر ہو کر ہاشم نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی۔ اس تنظیم کا مقصد کشمیر کو پاکستان اور انڈیا دونوں سے آزاد کروانا تھا۔اس جماعت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے یہ نوجوان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے سرینگر واپس چلا گیا۔ کچھ ماہ بعد یہ نوجوان سیالکوٹ کے راستے دوبارہ پاکستان آیا لیکن اس مرتبہ پاکستان میں داخل ہونے کا جو اس نے طریقہ اپنایا وہ غیر قانونی تھا جس میں معاونت خود انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ایک اہلکار نے کی، جو ہاشم قریشی کو لال چوک سرینگر میں ملا اور بارڈر پار کروانے کے بدلے میں مقبول بٹ کے متعلق معلومات لینا چاہتا تھا۔بی ایس ایف کی مدد سے بارڈر عبور کرنے کے بعد ہاشم قریشی مقبول بٹ سے ملے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے ہونے لگا۔18 جون 1969 کو مقبول بٹ، ہاشم قریشی اور امان اﷲ خان ڈاکٹر فاروق حیدر کے گھر راولپنڈی میں کھانے کی میز پر جمع تھے کہ اچانک ریڈیو پر خبر نشر ہوئی کہ اریٹریا کی آزادی کی جنگ لڑنے والے تین نوجوانوں نے ایتھوپیا کے مسافر طیارے پر ہینڈ گرنیڈ اور ٹائم بمبوں سے حملہ کر دیا ہے کیونکہ ایتھوپیا نے اس وقت اریٹریا پر قبضہ کیا ہوا تھا اور وہاں آزادی کی مسلح تحریک چل رہی تھی۔وہیں بیٹھے بیٹھے مقبول بٹ کے ذہن میں بھی یہ خیال آیا کہ انھیں بھی اپنی آزادی کی آواز پوری دنیا میں پہنچانے کے لیے کچھ ایسا ہی منصوبہ بنانا چاہیے اور ایک طیارہ اغوا کرنا چاہیے۔سرینگر میں موجود ہاشم قریشی نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا چونکہ اُس مجلس میں موجود چار لوگوں میں سب سے کم عمر اور نوجوان وہ تھے اس لیے مقبول بٹ نے انھیں دیکھتے ہوئے پوچھاکہ ہاشم کیا تم یہ کر لو گے؟

(کیوں نہیں، میں کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی جان تک قربان کر سکتا ہوں) ہاشم قریشی کے اس جواب پر اسے خوب داد ملی جس کے بعد طیارہ ہائی جیک کرنے کا منصوبہ ترتیب پانے لگا۔جب منصوبہ بن گیا تو ہاشم قریشی کو طیارہ ہائی جیک کرنے کی تربیت دینے کے لیے ڈاکٹر فاروق حیدر کے برادر نسبتی جاوید منٹو کا انتخاب ہوا جو ایک سابقہ پائلٹ تھے۔جاوید منٹو فوکر جہاز کے متعلق تمام معلومات دینے کے لیے، یعنی پائلٹ کہاں بیٹھتا ہے، کاک پٹ میں پائلٹ کو قابو کیسے کرنا ہے اور جہاز پر سوار مسافروں کو کیسے ڈیل کرنا ہے، ہاشم قریشی کو چکلالہ ایئرپورٹ راولپنڈی اپنے ساتھ لے جاتے رہے۔اس کے علاوہ ہاشم قریشی کو ہینڈ گرنیڈ چلانے اور بم بنانے کی تربیت بھی دی گئی۔ ٹریننگ مکمل ہو جانے کے بعد منصوبے کے مطابق انھیں ایک ہینڈ گرنیڈ اور پستول کے ساتھ واپس سرینگر روانہ کر دیا گیا۔ہاشم قریشی نے سرینگر واپسی کے لیے پھر سیالکوٹ بارڈر کا انتخاب کیا جہاں پر بی ایس ایف نے انھیں پکڑ لیا اور ان کے قبضے سے پستول اور ہینڈ گرنیڈ برآمد کر لیے۔ دوران حراست ہاشم قریشی نے بی ایس ایف اہلکاروں کو مقبول بٹ کے منصوبے کے متعلق آگاہ کر دیا کہ اسے کس طرح پاکستان میں ایک انڈین طیارہ ہائی جیک کرنے کی تربیت دی گئی ہے اور اس مشن میں سرینگر سے دو اور لوگ بھی اس کا ساتھ دیں گے۔ہاشم قریشی کے مطابق(اصل میں سرینگر واپسی کے وقت مقبول بٹ نے بتایا تھا کہ اگر بارڈر پر پکڑا جاؤں تو انھیں اپنے مشن کے متعلق بتا دوں اور کہوں کہ میرے ساتھ دو اور لوگ بھی شامل ہیں جو سرینگر میں ہیں، اس طرح بی ایس ایس والے اسے ماریں گے نہیں بلکہ باقی لوگوں کا کھوج لگانے کے لیے اس کے ساتھ نرمی برتیں گے۔)

ہاشم قریشی بتاتے ہیں کہ بالکل ویسے ہی ہوا اور بی ایس ایف کے لیے کام کرنے پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد نہ صرف انھیں چھوڑ دیا گیا بلکہ انھیں یہ بھی بتایا گیا کہ انھیں بی ایس ایف میں بطور سب انسپکٹر بھرتی بھی کر لیا گیا۔ان کے بقول یقیناً وہ (بی ایس ایف میں بھرتی) سب جعلی تھا لیکن بی ایس ایف نے دونوں مشتبہ ہائی جیکروں کی شناخت کے لیے انھیں سرینگر ایئر پورٹ پر تعینات بھی کیا جہاں وہ تسلسل کے ساتھ جاتے رہے اور جہاز میں سوار ہونے کے بارے میں مسلسل ریکی کرتے رہے تاکہ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکیں۔دوسری طرف رہائی کے فوری بعد ہاشم قریشی نے اپنے دور کے رشتہ دار اشرف قریشی کو سارے منصوبے کے متعلق نہ صرف آگاہ کیا بلکہ روزانہ ورزش کے بہانے قلعہ ہاری پربت پر طیارہ ہائی جیکنگ کی تربیت بھی دیتے رہے۔ابھی ایک اور مشکل تھی کہ چونکہ پستول اور ہینڈ گرنیڈ تو بی ایس ایف نے قبضے میں لے لیے تھے اور مقبول بٹ سے بھی دوبارہ اسلحہ نہیں پہنچ سکا تھا اس لیے اسلحے کا انتظام کیسے کیا جائے اس کے لیے ہاشم قریشی نے ایک اور منصوبہ بنایا۔ان دنوں سرینگر میں اخبارات میں ایک اشتہار آتا تھا کہ چور اور ڈاکوؤں سے بچنے کے لیے اصل جیسی نظر آنے والی پستول خریدیں۔ہاشم قریشی بتاتے ہیں کہ اخبار میں اشتہار پر دیے گئے پتہ پر انھوں نے ایک پستول کا آرڈر دے دیا اور قریبی ایک دکان کا پتہ لکھوا کر وہاں منگوا لیا۔ دس بارہ دن بعد وہ نقلی پستول موصول ہوگئی جس پر جب کالا رنگ کیا گیا تو وہ ایسے ہی نظر آنے لگی جیسے اصلی ریوالور ہو۔اب ہینڈ گرنیڈ کا کیا کیا جائے۔ اس کے لیے ہاشم قریشی نے کاغذ پر اشرف قریشی کو ہینڈ گرنیڈ کی تصاویر بنا کر دکھائیں کہ وہ کس طرح کا دکھائی دیتا ہے جس پر اشرف قریشی کہنے لگے کہ یہ تو لکڑی کے(بیئر مگ) جیسا ہے، اسے ہم خود بنا لیں گے، ذرا بھی مشکل نہیں ہوگی۔چند دنوں میں ہی لکڑی کا ہینڈ گرنیڈ بھی بن گیا اور تین سے چار مختلف رنگ ملا کر لوہے کا رنگ بن گیا جسے اس کے اوپر چڑھایا گیا تووہ بالکل اصلی ہینڈ گرنیڈ نظر آنے لگا۔ان دنوں انڈیا کی اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے صاحبزادے راجیو گاندھی بھی بطور پائلٹ سرینگر آتے جاتے رہتے تھے اور کچھ ایسی اطلاعات تھیں کہ راجیو گاندھی بطور پائلٹ 30 جنوری کو سرینگر آ رہے ہیں۔

بقول ہاشم قریشی انھوں نے بھی 30 جنوری کا دن ہی ہائی جیکنگ کے لیے مختص کر لیا تاکہ اسی جہاز کو وہ ہائی جیک کریں جس کے پائلٹ راجیو گاندھی ہوں۔ وہ مزید بتاتے ہیں چونکہ بی ایس ایف ان پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی اس لیے انھیں چکما دینے کے لیے جہاز میں سوار ہونے کا طریقہ یہ نکالا کہ ان کے لیے ٹکٹ اشرف نے محمد حسین کے نام سے جبکہ اشرف کے لیے ٹکٹ خود انھوں نے خریدا۔30 جنوری 1971 کو ہفتہ کا دن تھا اور یہ دونوں نوجوان تیار ہو کر ایئرپورٹ آ گئے لیکن انھیں یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ راجیو گاندھی کسی وجہ سے نہیں آ سکے لیکن منصوبے کے مطابق وہ دستیاب جہاز میں سوار ہوگئے۔اشرف کے پاس ایک بریف کیس تھا جس میں نقلی ہینڈ گرنیڈ اور پستول تھی اور وہ ان چیزوں کے ساتھ بھی باآسانی جہاز میں سوار ہوگیا کیونکہ ہاشم قریشی پہلے ہی یہ ریکی کر چکے تھے کہ مسافروں کی جہاز میں سوار ہوتے وقت کوئی خاص چیکنگ نہیں ہوتی۔

جہاز تقریباً ساڑھے گیارہ بجے سرینگر ایئر پورٹ سے جموں کے لیے اڑان بھر گیا۔ چونکہ ان دنوں سرینگر اور جموں کے درمیان آدھے، پونے گھنٹے کی فلائٹ تھی اور جیسے ہی ایئرہوسٹس نے یہ اعلان کیا کہ مسافر سیٹ بیلٹ باندھ لیں جہاز تھوڑی دیر میں جموں اترنے والا ہے توہاشم قریشی تیزی سے سیٹ سے اٹھ کر کاک پٹ میں چلے گئے اور جا کر نقلی پستول بائیں طرف بیٹھے ہوئے جہاز کے کپتان کیپٹن ایم کے کاچرو کے سر پر رکھ دی اور اسے کہا کہ جہاز کو پاکستان لے چلے۔پائلٹ اوبرائے دائیں طرف بیٹھے تھے اور وہ بالکل بھی دیکھ نہ سکے کہ پستول اصلی ہے یا نقلی۔جہاز اب اپنی نئی منزل کی جانب مڑ چکا تھا۔ہاشم قریشی بتاتے ہیں کہ میرے کاک پٹ میں داخل ہوتے ساتھ ہی اشرف بھی اپنی سیٹ سے اٹھے اور ہینڈ گرنیڈ ہاتھ میں تھامے کاک پٹ کے دروازے پر چلے آئے جہاں ہم دونوں کی کمر ایک دوسرے کی طرف تھی تاکہ وہ پائلٹس کو کنٹرول کر سکیں اور اشرف سارے مسافروں کو۔ہاشم قریشی کے مطابق اشرف نے ہاتھ میں گرنیڈ تھامے سب مسافروں کو کہہ دیا کہ وہ ہاتھ اوپر کر لیں ورنہ وہ اسے چلا دیں گے۔جہاز میں انڈین فوج کے ایک کپتان بھی بیٹھے ہوئے تھے جنھوں نے اشرف سے سوال کیا کہ یہ کون سا گرنیڈ ہے جس پر اشرف نے برجستہ کہا کہ(ابھی چلا کر دکھا دیتا ہوں پھر تمھیں خود ہی پتا چل جائے گا کہ کون سا ہینڈ گرنیڈ ہے جس پر وہ بھی ڈر گیا اور اس نے دوبارہ کوئی بات نہ کی۔)

(میں جہاز کو جہلم کے اوپر سے راولپنڈی لے جانا چاہتا تھا لیکن انتہائی سرد موسم اور برف باری کی وجہ سے دریا دیکھ نہ سکا۔ میں نے پائلٹ کو کہا کہ جہاز راولپنڈی لے چلے جس پر اس نے کہا کہ پٹرول کم ہے اسے ہم لاہور تک لے جا سکتے ہیں کیونکہ وہ نزدیک ہے) ہاشم قریشی کے مطابق وہ جہاز کو لاہور لے جانے پر مان گئے۔ہاشم قریشی کے بقول ایک وقت آیا جب انھوں نے نیچے آبادی دیکھی تو پائلٹ سے پوچھا یہ کہاں لے جا رہے ہو تو وہ پنجابی میں کہنے لگا(منڈیا غصہ نہ کر میں توانوں دھوکہ نہیں دِتا، اسی لاہور ہی جاندے واں پے) یعنی نوجوان غصہ نہ کرو تمھیں کوئی دھوکہ نہیں دیا گیا، آپ کو لاہور ہی لے کر جا رہے ہیں۔

جہاز چلتا رہا پھر کچھ دیر بعد کو پائلٹ اوبرائے نے وائرلیس پر کوڈ ورڈ کے ذریعے ایئر ٹریفک کنٹرولر کو پیغام بھیجا کہ لاہور، لاہور۔ لیکن دوسری طرف سے ایک سردار صاحب کی آواز آئی کہ نہیں یہ لاہور نہیں امرتسر ہے۔ہاشم قریشی کہتے ہیں کہ اس چالاکی پر انھوں نے ایک زور دار تھپٹر اوبرائے کو جڑ دیا کیونکہ وہ جہاز کو دھوکے سے امرتسر لے جانا چاہ رہا تھا۔(اس کے بعد میں نے اس سے واکی ٹاکی بھی چھین لی۔)

ہاشم قریشی کے بقول پھر جیسے ہی لاہور اترنے کے لیے پاکستان کے کنٹرول ٹاور سے رابطہ ہوا تو انھیں بتایا کہ ہم دو (کشمیری مجاہدین) ہیں اور ہم نے انڈین جہاز کو ہائی جیک کر لیا ہے اور اس میں عملے کے علاوہ مسافر بھی ہیں اور ہمیں اترنے کی اجازت دی جائے۔کنٹرول ٹاور نے متعلقہ حکام سے رابطے کے بعد اترنے کی اجازت دی اور جہاز تقریباً ڈیڑھ بجے دوپہر لاہور ایئر پورٹ پر اُتر گیا جہاں ہر طرف سکیورٹی کے لوگ تھے جنھوں نے جہاز کو گھیرے میں لے لیا۔لاہور پولیس کے اس وقت کے ایس ایس پی عبدالوکیل خان اور ڈی ایس پی ناصر شاہ کے علاوہ سکیورٹی اور انتظامیہ کے دیگر لوگ بھی موقع پر پہنچ چکے تھے۔ہاشم قریشی بتاتے ہیں کہ سکیورٹی کے لوگوں میں سے کچھ ہمارے پاس آئے جن سے انھوں نے پوچھا کہ(کیا یہ لاہور ہی ہے؟) انھوں نے کہا جی ہاں یہ لاہور ہی ہے۔(میں نے کہا میں کیسے مان لوں کہ آپ لوگ سچ کہہ رہے ہیں؟)

اشرف قریشی کے بقول وہ اپنے سروس کارڈ دکھانے لگے اور پاکستان کا جھنڈا بھی دکھایا۔(میں نے کہا یہ سب تو جعلی بھی بن سکتا ہے جس کے بعد وہ کلمہ پڑھ کر سنانے لگے جس کے بعد ہمیں یقین ہوگیا کہ ہم لاہور ہی میں اترے ہیں۔)

ہائی جیکروں سے مطالبات پوچھے گئے تو جواب ملا کہ انھوں نے یہ سب(کشمیر کی آزادی)کے لیے کیا ہے اور ان کے کچھ ساتھی جو انڈیا کی قید میں ہیں انھیں مسافروں اور جہاز کو چھوڑنے کے بدلے رہا کروانا ہے۔اشرف قریشی کہتے ہیں کہ(ہمیں کہا گیا کہ عورتوں اور بچوں کو چھوڑ دیں اور باقی لوگوں کو بیشک قید میں رکھیں جس پر میں نے جواب دیا کہ نہیں سب سے پہلے ان کی بات مقبول بٹ سے کروائی جائے۔)

سکیورٹی والے مجھے لاؤنج میں لے گئے مگر مقبول بٹ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا جس کے بعد میری بات ڈاکٹر فاروق حیدر سے کروائی گئی جو اس وقت راولپنڈی میں تھے۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں(فیروز) ہوں اور ہم (پرندہ) لے آئے ہیں آپ لاہور آ جائیں۔اشرف قریشی کا کوڈ نام فیروز تھا اور آپریشن کا کوڈ نام پرندہ تھا۔طیارے کے اندر عورتیں ڈر جبکہ بچے بھوک اور پیاس کی وجہ سے رو رہے تھے۔ ہائی جیکروں کی درخواست پر انتظامیہ نے فوری پانی مہیا کیا جو مسافروں کو دیا گیا۔ ہاشم اور اشرف نے آپس میں مشورہ کر کے لینڈنگ کے دو گھنٹے کے اندر اندر عورتوں اور بچوں کو چھوڑ دیا۔

اشرف قریشی بتاتے ہیں کہ کوئی گھنٹے، ڈیڑھ گھنٹے بعد سکیورٹی کے لوگ دوبارہ آئے اور کہا کہ ڈاکٹر فاروق حیدرنے پیغام بھیجا ہے کہ باقی مسافروں کو بھی چھوڑ دیں اور جہاز پر قبضہ جمائے رکھیں۔ہم نے اُن کی بات مان لی کہ یہ تو ہم سے دھوکہ نہیں کریں گے اور شام تک سب مسافروں کو چھوڑ دیا، اب ہمارے قبضے میں صرف گنگا جہاز رہ گیا تھا۔

ہاشم قریشی کے بقول (تمام مسافروں کو رہا کر کے صرف جہاز پر قبضہ رکھنا یقیناً ایک بچگانہ بات تھی جس سے ہماری سودے بازی کی پوزیشن کمزور ہوئی لیکن تب ہم بھی تو بچے ہی تھے نا۔)

تمام مسافروں کو سخت سکیورٹی کے حصار میں لاہور کے ایک ہوٹل میں لے جایا گیا جہاں وہ چند دن ٹھہرے اور پھر انھیں انڈیا بھیج دیا گیا۔رات نو بجے کے آس پاس مقبول بٹ، جاوید ساغر، کے خورشید اور دیگر بھی لاہور پہنچ گئے۔ ہاشم قریشی بتاتے ہیں کہ ایئر پورٹ پر اس قدر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو چکا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دو، تین مرتبہ لاٹھی چارج کرنا پڑا تاکہ لوگوں کو جہاز سے دور دھکیلا جا سکے۔

نامور قانون دان اور گنگا طیارہ کیس میں ہاشم قریشی کے وکیل عابد حسن منٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ 30 جنوری کی شام تک ہی طیارہ ہائی جیکنگ کی خبر لاہور سمیت پورے پاکستان میں پھیل چکی تھی اور اگلی صبح تک پاکستان کے دور دراز علاقوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے بھی لوگ ایئرپورٹ پہنچ چکے تھے تاکہ ان نوجوانوں کو دیکھ سکیں جو انڈیا کا جہاز ہائی جیک کر کے لاہور لائے تھے۔عابد حسن منٹو کے مطابق ان کی دلچسپی اس لیے بھی اس معاملے میں زیادہ تھی کیونکہ ڈاکٹر فاروق حیدر کا نام بھی اس ہائی جیکنگ میں آ رہا تھا جو ان کی ایک کزن کے خاوند تھے۔ہاشم قریشی یاد کرتے ہوئے دعوی کرتے ہیں کہ 31 جنوری کو پاکستانی حکام نے جاوید ساغر اور ہمارے ایک اور ساتھی کو بھی جہاز کے اندر آنے کی اجازت دے دی تاکہ ہم اگر رات کو سو بھی جائیں تو یہ لوگ جہاز پر قبضہ جمائے رکھیں۔ہاشم کے مطابق 31 جنوری کو ہی پاکستان کی سکیورٹی ایجنسی کے لوگ آئے اور جہاز میں موجود ڈاک (خطوط) لے کر چلے گئے۔ کیونکہ یہ فلائٹ دہلی سے سرینگر تک چلتی تھی اسی لیے انڈین فوج کی ڈاک ترسیل بھی اسی فلائٹ سے ہوتی تھی اور ہاشم کے بقول وہ شاید ڈاک پڑھنا چاہ رہے تھے۔ہاشم کے مطابق اگلے روز یعنی یکم فروری کو پاکستانی فوج کے دو افسران ڈاک لے کر واپس آ گئے اور کہنے لگے اس کی سیلیں صحیح بند نہیں ہوئیں اور باآسانی پتا چل جائے گا کہ یہ کھولی گئیں ہیں اس لیے آپ اسے جلا دیں جس کے بعد انھوں نے ڈاک کو جلا کر کشمیری ڈش(وازوان )گرم کی جسے دونوں افسران سمیت ہائی جیکروں نے کھایا۔ہاشم قریشی کے بقول اسی روز انھوں نے دو فوجی افسروں میں سے ایک کے پیٹ پر پستول رکھ کر مذاق مذاق میں کہا کہ(ہینڈز اپ)تو انھوں نے ڈر کے مارے ہاتھ کھڑے کر دیے۔(بعد میں میں نے انھیں بتایا کہ یار یہ نقلی ہے۔)

فوج کے افسر یہ سن کر حیران ہوئے اور پوچھنے لگے کہ(کیا واقعی یہ نقلی پستول ہے۔) ہاشم قریشی کہتے ہیں اس روز پہلی بار انھوں نے خود پاکستانی سکیورٹی اداروں کو بتایا کہ گنگا ہائی جیکنگ نقلی پستول اور ہینڈ گرنیڈ سے کی گئی تھی، اس سے پہلے سب بے خبر ہی تھے۔

دو فروری کو بڑے دلچسپ واقعات ہوئے

پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو جنھیں دسمبر 1970 کے الیکشن میں مغربی پاکستان سے اکثریت ملی تھی وہ عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب جنھیں مشرقی پاکستان سے اکثریت ملی تھی سے ملنے ڈھاکہ گئے ہوئے تھے تاکہ ممکنہ انتقال اقتدار پر بات کر سکیں۔دو فروری 1971 کو جب ذوالفقار علی بھٹو ڈھاکہ سے واپس لاہور پہنچے توانھیں بتایا گیا کہ دو کشمیری نوجوان انڈیا کا طیارہ ہائی جیک کر کے لاہور لے آئے ہیں۔نامور سینیئرصحافی خالد حسن نے اپریل 2003 میں(فرائیڈے ٹائمز)میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ وہ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھے۔

خالد حسین کی تحریر کے مطابق جب وہ (بھٹو) لاہور پہنچے تو عوام کی ایک کثیر تعداد اُن کے استقبال کے لیے موجود تھی جو بار بار انھیں ہائی جیکروں سے ملنے پر اصرار کر رہی تھی۔خالد حسن نے لکھا کہ بھٹو نے خود اُن سے کہا (کہ دیکھو خالد مجھے نہیں پتا کہ یہ سب کیا ہے اور یہ کون لوگ ہیں اس لیے میں کوئی بات نہیں کروں گا) لیکن بھیڑ نے انھیں ہائی جیکروں کی طرف دھکیل دیا جہاں وہ ان سے ملے اور ان کا حال احوال بھی پوچھا۔

2فروری کو بانی پاکستان کے سابق پرنسپل سیکریٹری کے ایچ خورشید، جو بعد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر بھی بنے، کو لاہور ایئر پورٹ بلایا گیا جہاں مقبول بٹ سمیت وہ ہاشم قریشی سے ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں کہا جا رہا ہے کہ طیارے کو آگ لگا دیں۔اشرف قریشی کے بقول مقبول بٹ نے انھیں مشورہ دیا کہ جہاز کے شیشے توڑ کر نیچے آ جائیں کیونکہ اس کی مرمت کو چار، پانچ روز لگ جائیں گے اور اتنے دنوں تک اس واردات کے ذریعے پبلیسٹی ملتی رہے گی۔جیسے ہی وہ ملاقات ختم ہوئی اور وہ لوگ باہر نکلے ایس ایس پی لاہور عبد الوکیل اور دوسرے سکیورٹی اہلکار ہاشم قریشی کے پاس دوبارہ گئے اور کہا مقبول بٹ نے پٹرول بھیجا ہے تاکہ طیارے کو آگ لگا دیں۔

ہاشم قریشی کے مطابق انھوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ لوگ ان سے جھوٹ بول رہے تھے اور یوں 80 گھنٹے جہاز پر قبضہ رکھنے کے بعد انھوں نے جہاز کو آگ لگا دی۔انھیں سروسز ہسپتال لاہور لے جایا گیا جہاں وہ کچھ روز تک زیر علاج رہے۔ ہاشم قریشی کے بقول پاکستان کے ہر طبقہ فکر کے لوگ ان سے ملنے ہسپتال آتے رہے اور طیارہ ہائی جیک کرنے پہ شاباش دیتے رہے۔جونہی ہاشم قریشی ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے وہ مقبول بٹ سمیت دیگر قائدین کے ساتھ مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع میر پور کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں گوجرانوالہ اور راولپنڈی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جلوسوں کی شکل میں ان کا استقبال کیا۔ لیکن جشن کے یہ مناظر زیادہ دیر تک چلنے والے نہیں تھے۔

اس وقت کی مارشل لا حکومت نے گنگا ہائی جیکنگ کے پیچھے چھپے محرکات کا پتہ چلانے کے لیے ایک یک رکنی کمیشن تشکیل دے دیا جس کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور العارفین کو سونپی گئی۔کمیشن نے چند دنوں کی انکوائری کے بعد رپورٹ میں لکھا کہ گنگا ہائی جیکنگ بنیادی طور پر انڈیا کی سازش تھی اور ہاشم قریشی انڈین ایجنٹ تھے جنھیں اس واردات کو انجام دینے کے لیے بی ایس ایف میں بھرتی بھی کیا گیا۔ کمیشن کے مطابق یہ سارا کچھ پاکستان پر پابندی لگوانے کے لیے کیا گیا تاکہ مشرقی پاکستان میں جاری شورش پر قابو پانے میں مشکلات رہیں۔اس کمیشن کی رپورٹ کے نتیجے میں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی جنھیں پاکستان میں چند ہفتے قبل تک ہر طرف سے داد شجاعت مل رہی تھی وہ اچانک ریاست اور ریاستی اداروں کے لیے ناپسندیدہ چہرے بن گئے جنھیں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مقبول بٹ، ڈاکٹر فاروق حیدر، امان اﷲ خان، جاوید ساغر اور دیگر قائدین سمیت اس سازش کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔بقول اشرف قریشی انھیں فروری کے آخری ہفتے میں حراست میں لیا گیا اور اہلکار انھیں ٹانڈا ڈیم یہ کہہ کر لے گئے کہ تھوڑی پوچھ گچھ کرنی ہے۔اس کے بعد ہاشم قریشی کے لیے قید و بند کا وہ سلسلہ شروع ہوا جسے تھمتے تھمتے تقریبا نو سال لگے۔ ہاشم قریشی اور اشرف قریشی سمیت دیگر قائدین پر طیارہ ہائی جیک کرنے، اسے جلانے سمیت مختلف الزامات کے تحت کارروائی کا آغاز ہوا اور کیس کے ٹرائل کے لیے ایک مخصوص عدالت تشکیل دی گئی۔جب ٹرائل شروع ہوا تو انھیں کوئی وکیل نہیں مل پا رہا تھا جس کا حل نکالنے کے لیے ٹرائل کورٹ نے سینیئر قانون دان عابد حسن منٹوسمیت دیگر وکلا کو طلب کیا۔عابد حسن منٹو بتاتے ہیں کہ وہ اپنے گھر تھے جب ایک روز انھیں رجسٹرار آفس سے فون آیا اور انھیں سپیشل کورٹ میں پیش ہونے کا کہا گیا۔جب وہ کورٹ میں پیش ہوئے تو حیران کن طور پران کے سامنے ایک یا دو نہیں بلکہ 09 ملزمان کھڑے تھے جنھیں کہا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے جس وکیل کی چاہیں خدمات حاصل کر لیں، جس کا انتظام ریاست کے ذمے ہوگا۔عابد حسن منٹو کہتے ہیں کہ ہاشم قریشی نے ان کا انتخاب کیا اور پھر وہ سپریم کورٹ تک ہاشم قریشی کے وکیل کے طور پر پیش ہوتے رہے۔

دسمبر 1971سے مئی 1973 تک کیس کا ٹرائل چلا جہاں ٹرائل کورٹ نے تمام شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد ہاشم قریشی کو ہائی جیکنگ کا مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے انھیں جاسوسی سمیت مختلف الزام ثابت ہونے پر مجموعی طور پر 19 سال قید کی سزا دی گئی جب کہ ان کے شریک ملزم اشرف قریشی کے علاوہ مقبول بھٹ اور دیگر کو عدالت برخاست ہونے تک کی سزا دی گئی۔عابد حسن منٹو کے عزیز اور کیس کے ایک ملزم ڈاکٹر فاروق حیدر وعدہ معاف گواہ بن جانے کی وجہ سے سزا سے بچ نکلے۔ہاشم قریشی اس فیصلے پر آج بھی حیران ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک جرم جو اشرف اور ان دونوں نے مل کر انجام دیا ان میں سزائیں مختلف کیسے؟

اشرف قریشی رہائی کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد وہیں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے جس کے بعد 2012 میں ان کی وفات ہوگئی۔دوسری طرف ہاشم قریشی کو رہائی کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا تھا۔ انھوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی جس کا فیصلہ ہونے میں کئی سال گئے۔ سزا کے دوران ہاشم قریشی کو مختلف جیلوں میں قید رکھا گیا جن میں راولپنڈی ،کوٹ لکھپت ،کیمپ جیل میانوالی ،فیصل آباد اور اٹک جیل شامل ہیں۔قید و بند کے دوران ہاشم قریشی کی ملاقاتیں عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب سمیت پاکستان کے اہم سیاسی کارکنوں سے بھی ہوئیں۔مئی 1980 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی فل بینچ جن میں جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس کرم علی اور جسٹس ریاض شامل تھے انھوں نے ہاشم قریشی کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد انھیں رہائی ملی۔رہائی کے بعد وہ کچھ سال مزید پاکستان میں رہے لیکن بعد میں بیرون ملک چلے گئے جہاں انھوں نے ہالینڈ میں مستقل سکونت اختیار کی اور سنہ 2000 میں سرینگر واپس آتے ہوئے نئی دہلی میں گرفتار کر لیے گئے۔گرفتاری کے بعد انڈین حکام نے بھی ان پر پاکستانی ایجنٹ ہونے اور گنگا ہائی جیکنگ کا مقدمہ دائر کر دیا جس کا فیصلہ گذشتہ 20 سال گزرنے کے باوجود بھی نہیں ہو پایا جبکہ وہ اس کیس میں اب بھی ضمانت پر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس کیس میں پہلے ہی پاکستان میں سزا بھگت چکے ہیں اور عالمی قوانین کے تحت ایک ہی کیس میں دو مرتبہ سزا نہیں ہو سکتی اس لیے انڈیا اس کیس کے فیصلے میں مسلسل تاخیر کررہا ہے۔ہاشم قریشی کہتے ہیں کہ وہ شاید واحد شخص ہوں گے جن پر انڈیا پاکستان کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتا ہے اور پاکستان انڈین ایجنٹ ہونے کا۔ ہاشم قریشی کے بقول(یہ [ایجنٹ یا ڈبل ایجنٹ ہونے کے] الزامات بڑا مضخکہ خیز ہیں۔)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *