غزل

نسیم ساز اعظم گڑھ انڈیا

بہت مشکل ہے شہر اجنبی میں

تمہیں ڈھونڈھے گا کوئی کس گلی میں

خدا جانے کہاں سے آ بسی ہے

یہ حیوانوں کی فطرت آدمی میں

نہ پہنچیں گی دعائیں آسمان تک

اگر ہوگا دکھاوا بندگی میں

ابھی سے ہار کر ہمت نہ بیٹھو

مراحل اور بھی ہیں زندگی میں

جسے کہتے ہیں الفت کا خزانہ

یہ ملتا ہے کہاں اب ہر کسی میں

میں سچ کہتا ہوں یہ ممکن نہیں ہے

کوئی تجھ سا ملے گا اس صدی میں

یہ حسرت ساز اب ہوتی ہے مجھکو

رہا ہوتا میں ماں  کی گود  ہی میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *