عدل وانصاف سے رو گردانی خدا کا قہر

تحریر: ابن قدسیؔ

 

ناموس رسالت کا نعرہ لگا کر دوسرے کی جان لے لینا عشقِ رسالت  کا معیار بن گیا ہے ۔جس نے جتنی زیادہ جانیں لیں وہ اتنا ہی بڑا عاشق رسول سمجھا جاتا ہے ۔اس نام نہاد محبت کے کاروبار میں حقیقی عشق رسولﷺکی تلاش مشکل امر بنتی چلی جا رہی ہے ۔زبان سے اقرارکے مطابق عمل ہونا بہت ضروری ہے ۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ O كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ O(الصف 3-4) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم کیوں وہ کہتے ہو جو کرتے نہیں اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں ۔

نعرہ رسول کریم ﷺ کی محبت کا لگاکر اس محبت کو نعرہ تک ہی محدود کر دیا گیا ۔صرف زبان سے اظہار ہی نظر آتا ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ کی محبت یہی ہے کہ آپ ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل کیا جائے ۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (آل عمران 32) تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے ۔

اگر اللہ تعالیٰ سے بھی محبت کرنی ہے تو اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے رسول کریم ﷺ کی پیروی ۔رسول کریم ﷺ کی پیروی یہی ہے کہ آپ ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کیا جائے ۔آپ ﷺ نے امت کی اصلاح کے لیے جو جو باتیں بتائی ہیں اس کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالا جائے ۔اگر ایسا نہیں ہے تو محبت رسول ﷺکا نعرہ ایک زبانی نعرہ ہے جو عمل کے بغیر ہے ۔زبان کچھ اور کہہ رہی ہے اور عمل کچھ اور تو یہ بات اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے ۔باتیں کرنا بہت آسان کام ہے ،اس لیے دعویٰ دار بے شمار سامنے آجاتے ہیں لیکن عمل  کرنے والے کم ہوتے ہیں ۔ رسول کریم ﷺ  نے زندگی کے ہر پہلو کے حوالے سے نصائح اور ہدایات بیان فرمائی ہیں ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ۔اگر کسی امر کے متعلق واضح ہدایت بیان فرمائی ہوتو اس سے انحراف کسی صورت ممکن نہیں ۔معاشرہ میں عدل وانصاف کی اہمیت سب پر عیاں ہے ۔جس معاشرہ میں عدل وانصاف موجود ہو اس کی ہیت اور صورت قابل تحسین ہوتی ہے ۔اس لیے رسول کریم ﷺ نے عدل وانصاف کے قیام پر بہت زور دیا ۔رسول کریم ﷺ کے زمانے  میں ایک مخزومی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے عورت فاطمہ بن اسود نے چوری کی ۔ جرم ثابت ہونے کی وجہ سے سزا کے طور پر اس کے ہاتھ کاٹے جانے تھے ۔اس حوالے سے اس عورت  کی قوم میں کافی بے چینی ہوئی ۔انہوں نے اپنی قوم کی بے عزتی سمجھی ۔اس لیے انہوں نے کوشش شروع کر دی کہ کسی طریق سے سزا رکوائی جائے ۔اس کےلیے انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنھما کا انتخاب کیا کہ وہ رسول کریم ﷺ کے پاس جا کر سفارش کریں ۔چنانچہ وہ حضرت  اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور انہوں نے  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کر نے کا کہا  ( کہ اس کا ہاتھ چوری کے جرم میں نہ کاٹا جائے ) ۔ عروہ نے بیان کیا کہ جب اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! تم مجھ سے اللہ کی قائم کی ہوئی ایک حد کے بارے میں سفارش کرنے آئے ہو۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے لیے دعا مغفرت کیجئے، یا رسول اللہ! پھر دوپہر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی اس کے شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! تم میں سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ اگر ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کوئی کمزور چوری کر لیتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کر لے تو میں اس کا ہاتھ کاٹوں گا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے لیے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر اس عورت نے صدق دل سے توبہ کر لی اور شادی بھی کر لی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعد میں وہ میرے یہاں آتی تھیں۔ ان کو اور کوئی ضرورت ہوتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیتی۔(صحیح بخاری حدیث نمبر 4304،کتاب:کتاب غزوات کے بیان میں )

عدل وانصاف کے حوالے سے رسو ل کریم ﷺ کی اس واضح ہدایت کی موجودگی میں امت کو اس حوالے سے خصوصی  تگ ودو کرنی چاہیے  ۔اس وقت کی ایک معزز قوم کی عورت نے جرم کیا تو اسے معزز قوم کی وجہ سے سزا سے بچانے کی کوشش کی گئی۔اس پر رسول کریم ﷺ نے تنبیہ کی رنگ میں ایک ایسی حقیقت بیان فرمائی جس کو سننے کے بعد امت کو  اس حوالے سے بہت زیادہ محتاط رہنا چاہیے تھا  ۔تنبیہ یہ تھی کہ پہلے لوگوں کےہلاک  ہونے کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ انہوں نے عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرنے ترک کر دیے ۔جس معاشرے میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون ہو وہ کبھی  اپنے آپ کو ابتری اور لاقانونیت سے دور نہیں رکھ سکتا ۔انصاف اور حقوق میں برابری بہت ہی ضروری امر ہے اگر ایسا نہ ہو تو دو سگے بھائیوں میں بھی افتراق اور دوریاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔اسی لیے رسول کریم ﷺ نے بطور خاص یہ بھی نصیحت فرمائی کہ

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ

(سنن نسائی ،حدیث نمبر 3717،کتاب:کتاب: عطیہ سے متعلق احکام و مسائل باب:عطیہ کرنے کے بارے میں حضرت نعمان بن بشیرؓ کی روایت کے ناقلین کے لفظی اختلاف کا بیان)

حضرت مفضل بن مہلب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خطبے کے دوران میں فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو ۔ اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو ۔‘‘

امت کے بانی نے اپنی امت کو اس قدر باریکی میں جا کر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی تلقین کی۔والدین کو اپنی ساری اولاد ہی پیاری ہوتی ہے لیکن والدین  کی اولاد کے حق میں  ناانصافی اور عدل کے تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں ان کے درمیان نفرت اور دوریاں پیدا ہوسکتی ہیں ۔انصاف اور عدل کی اس قدر اہمیت ہے اوربطور خاص اس گہرائی میں بیان کرنا بتاتا ہے یہ مضمون کس قدر نازک اور ضروری ہے ۔والدین کی عدل وانصاف سے روگردانی دو سگے رشتوں کو بھی دور کر دیتی ہے تو معاشرے کے وہ افراد جن میں کوئی خونی رشتہ نہیں ہوتا وہ عدم انصاف اور عدل کی عدم دستیابی کے بعد کیسے امن وسکون سے رہ سکتے ہیں ۔

عدل وانصاف تو امت محمدیہ کا طرہ امتیاز ہے ۔یہ امت ہی عادل امت ہے ۔فرمایا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ:‏‏‏‏    وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا سورة البقرة آية 143، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَدْلًا   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.(جامع ترمذی حدیث نمبر 2961،کتاب:کتاب: تفسیر قرآن کریم، باب:باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك جَعَلناكم أمة وسطا» ”ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے“  ( البقرہ: ۱۴۳ )  کے سلسلے میں فرمایا: ” «وَسَط» سے مراد عدل ہے“  ( یعنی انصاف پسند )  ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

رسول کریم ﷺ انصاف کرنے والوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ انصاف کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے ۔ جو عدل کرتے ہیں اپنے فیصلوں میں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ اور اپنی رعایا کے ساتھ ۔‘‘

(سنن نسائی ،حدیث نمبر 5381،کتاب:کتاب: (قضا اور) قاضیوں کے آداب  و مسائل کا بیان،باب:فیصلے میں انصاف کرنے والےحاکم کی فضیلت)

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں واضح طور پر حکماً عدل وانصاف کی تاکید  فرماتا ہے کہ

اِنَّ اللہَ یَامُرُکُم اَن تُؤَدُّوا الاَمٰنٰتِ اِلٰی اَہلِہَا  ۙ  وَ اِذَا حَکَمتُم  بَینَ النَّاسِ اَن تَحکُمُوا بِالعَدلِ      ؕ    اِنَّ اللہَ  نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہٖ              ؕ        اِنَّ اللہَ کَانَ سَمِیعًۢا    بَصِیرًا ۔

(سورۃ النساء :58)

مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو  ،  اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو  ، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے  ۔

یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائدہ 9)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو انصاف کرویہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو ۔

وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (الانعام 153)

اور سوائے ایسے طریق کے جو بہت اچھا ہویتیم کے مال کے قریب نہ جاؤیہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے اور ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورے کیا کرو ہم کسی جان پر اس کی وسعت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں ڈالتے اور جب بھی تُم کوئی بات کرو تو عدل سے کام لو خواہ کوئی قریبی ہی (کیوں نہ )ہو اور اللہ کے (ساتھ کئے گئے) عہد کو پورا کرویہ وہ امر ہے جس کی وہ تمہیں سخت تاکید کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

إِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الحجرات 10)

اور اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو جو زیادتی کررہاہے اس سے لڑویہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف لوٹ آئے پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کرویقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ (الاعراف 30) تُو کہہ دے کہ میرے ربّ نے انصاف کا حکم دیا ہے ۔

مملکت خدا داد پاکستان کی سڑکوں پر لبیک یا رسو ل اللہ ﷺ کے نعرے بہت بلند آواز سے سنائی دینگے لیکن عدل وانصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک عالمی تحقیقاتی ادارے کے مطابق عدلیہ کی کارکردگی کے حوالے سے  128ممالک میں پاکستان 120 نمبر پر ہے ۔

امریکہ کے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے تحت گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں عدلیہ کی کارکردگی اور عدالتی نظاموں سے متعلق اعداد شمار جمع کیے جاتے ہیں ۔دنیا کے 128ممالک کے ڈیٹا پر مشتمل اس ادارے نے اس سال اپنی جو تفصیلات جاری کی ہیں ان میں قانون کی بالا دستی یا رول آف لاء ایک انتہائی اہم انڈیکس ہے ۔اس طرح کے کوئی اعداد وشمار سامنے آئیں تو بحیثیت قوم رد عمل یہی ہوتا ہے کہ یہ دشمنوں کی سازش ہے ایسے جیسے پاکستان میں عدل وانصاف کا بول بالا ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آتی لیکن صورتحال یہی ہے کہ قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے دن دیہاڑے 14لوگوں کو گولیاں مار کر ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں جس میں خواتین بھی شامل ہوتیں ہیں ۔گولیاں چلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے کے لیے گولیاں کھانے والوں کو دھرنا دینا پڑتا ہے ۔ ایک معتبر ادارے کے سربراہ نے دخل اندازی کی پھر کہیں جا کر ایف آئی آر درج ہوئی ۔حالانکہ ایف آئی آر انصاف کی فراہمی کی طرف پہلا قدم ہے اس کے بعد عدالتی کارووائی کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو بعض اوقات  نسل در نسل چلتا ہے ۔تاریخ پر تاریخ پڑتی چلی جاتی ہے اور انصاف ہوتا نظر نہیں آتا ۔اتنے لمبے مراحل میں بڑے لوگ تو بآسانی ادھر ادھر ہوجاتے ہیں لیکن غریب سالوں جیل میں پڑا رہتا ہے ۔بعض اوقات جرم کے نتیجہ میں ملنے والی سزا کم ہوتی ہے لیکن جیل میں فیصلہ کا انتظار لمبا ہوجاتا ہے ۔رحیم یار خان کے دو بھائی غلام قادر اور غلام سرور  کے ساتھ تواس سے  بڑا عجیب واقعہ ہو گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے  جس جرم میں  ان دونوں بھائیوں کی اپیل پر انہیں باعزت بری کیا،اس فیصلہ کے  آنے سے پہلے اسی جرم میں دو سال قبل  ان کو پھانسی ہوچکی تھی ۔اب دونوں کے گھر والے کس کا گریبان پکڑیں ۔نچلی عدالتیں ان کو پھانسی پر چڑھا دیتی ہیں اور سپریم کورٹ ان کو بری کر دیتی ہے۔بری اس وقت کیا جب ان کی ہڈیاں بھی گل سڑ گئی تھیں ۔یہ عدالتی نظام کے گلے سڑے ہونے کی نشانی ہے ۔یہ تو ہےاس نظام کی سست روی اور اس کی  فرسودگی اور بوسیدگی ۔ناانصافی کی مثالیں بھی بے شمار ہیں ۔جہاں عدلیہ کے منصفین کے فیصلہ جات پر سوالیہ نشان ہے۔ممتاز قانون دان حامد خان اپنی کتاب ‘A history of judiciary in Pakistan‘ میں لکھتے ہیں کہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں منصفین کس طرح استعمال ہوتے رہے۔تاحیات نا اہل “شریف” کے لیے چھٹی والے دن بھی عدالت کھل جاتی ہے ۔اربوں کھربوں کی کرپشن کے الزامات والا 50روپے کے اسٹام پیپر پر ملک سے باہر چلا جاتا ہے لیکن ایک غریب آدمی فیصلہ کے انتظار میں جیل میں ہی اپنی جان گنوا دیتا ہے ۔اسی ناانصافی کے فقدان کا نتیجہ ہے کہ ملکی اداروں سے منسلک افراد اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جان گنوا دیں تو ان کے گھر والوں کو بھی انصاف نہیں ملتا ۔کوئٹہ میں ایک غریب ٹریفک سارجنٹ جو  اپنی ڈیوٹی  دے رہا تھا اسے ایک بااثر ایم پی اے مجید اچکزئی نے نشے کی حالت میں کچل کے شہید کر دیا اور اس کی ویڈیو بھی وائرل ہو گی لیکن تف ہے ایسی ناانصاف عدل پہ مبنی امیروں کی عدالت پر جنہوں نے شواہد ناکافی ہونے کی صورت میں اسے باعزت بری کر دیا ہے بیچارے اہلخانہ کو مایوسیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیااور بااثر ایم پی اے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے اپنے گھر چلا گیا ۔عدلیہ کے نظام سے وابستہ کا لوگوں کا حال بھی کسی دہشت گرد سے کم نہیں ۔ سفید کوٹ اور کالے کوٹ کی معمولی با ت پر تلخ کلامی ہوتی ہے اور کالے کوٹ والے ایک جلوس بنا کر ہسپتال پر حملہ کردیتے ہیں اور وہاں علاج کے لیے آئے مریضوں پر بھی تشدد کرتے ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں ۔کوئی کارووائی نہیں ہوتی ۔ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک  اور واقعہ ہوا ۔ہائی کورٹ اسلام آباد کے حکم سے غیر قانونی تجاوزات  ہٹانے کے لیے حکم دیا گیا ۔اس کے نتیجہ میں کچھ وکلاء کے چیمبر بھی گرائے گئے جو سرکاری زمین پر بنے ہوئے تھے ۔ کالے کوٹوں والوں نے پھر جلوس نکالا اور ہائی کورٹ پر حملہ کر دیا ۔چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ کو یرغمال بنا لیاگیا۔وکلاء نے  ہائی کورٹ اسلام آبا د میں گھس کر توڑ پھوڑ کی ۔ یہ تو حال ہے اس نظام عدل سے وابستہ افراد کا ۔ان حالات میں انصاف کا کیا بول بالا ہوگا ۔ان سیاہ کاریوں کے بعد عدل وانصاف کی بات کون کرے گا ۔ججوں کو گالیاں دی جاتی ہیں ۔ان کی پینٹ اتار کے مارا جاتا ہے ۔ہراساں کرنا ڈرانا دھمکانا تو معمولی بات ہے ۔

پھر اگر کسی ادارے نے کوئی رپورٹ شائع کر دی تو رولا ڈالا جاتا ہے کہ ہمارے خلاف سازش کی جارہی ہے ۔کسی نے کوئی بیان دے دیا تو ملکی سالمیت کو خطرہ ہوجاتا ہے ۔حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں !انصاف کے نظام کو مضبوط کرو ایسا نہ ہوں کہ یہ ناا نصافیاں خدا کا قہر بن کر اس ملک پر ٹوٹ پڑیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *