برصغیر میں اردو صحافت کا آغاز: چند جھلکیاں

تحریر:اقدس علی ہاشمی

ہندوستان میں اردو کی مطبوعہ صحافت کا آغاز اس بحرانی دور میں ہوا جب پورا ملک سماجی اور تہذیبی بدلاؤ سے گزر رہا تھا۔ انگریزوں کا اقتدار مستحکم ہو گیا تھا اور وہ اپنی تہذیب اور روایات کو نافذ کرنے کے درپے تھے۔ اس کشیدہ صورت حال میں اردو اخبارات نے مختلف حصوں میں اپنے بال و پر نکالنے شروع کیے۔ کہیں انہوں نے حکومت سے مقابلہ کیا تو کہیں اس کی ہمنوائی کی۔اردو کے ان اخبارات کا موضوعاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ اخبارات سیاسی خبروں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل بھی اٹھاتے تھے۔ ان کی بڑی تعداد تحریک آزادی میں حصہ لے کر جذبہ حب الوطنی کو پروان چڑھا رہی تھی اور دار و رسن کی آزمائش سے بھی گزر رہی تھی۔بعض محققین کا خیال ہے کہ اردو کا پہلا اخبار ”جام جہاں نما“ نہیں بلکہ ٹیپو سلطان شہید ؒ کا ”فوجی اخبار“ تھا جو انہوں نے اپنی شہادت سے پانچ سال اور جام جہاں نما سے کم و بیش اٹھائیس سال قبل 1894ء یہ اخبار میں جاری کیا تھا۔ یہ اخبار خاص طور پر فوجیوں کے لے تھا۔ اس میں جہاد کے متعلق مضامین اور وطن کے دفاع سے متعلق مختلف لوگوں کی تحریر شائع ہوتی تھیں۔ سقوط سرنگا پٹنم کے بعد انگریزوں نے اس اخبار کی تمام فائلوں اور ساز و سامان کو نذر آتش کر دیا تھا۔ اس وقت تک پورے ملک میں کوئی بھی اردو اخبار موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد اردو اخبار دہلی، روز نامہ اردو اخبار، پیسہ اخبار، منادی، اسلامی فریٹرنٹی، آزاد ہند اور الہلال وغیرہ کی صورت میں اردو صحافت کا یہ کارواں چلتا رہا۔اس دور میں اخبار نکالنا ایک ذریعہ تھا سچائی کے اظہار اور اعلان کا، اس وقت حق بات کہنا اور لکھنا بہت سے صحافیوں کی موت کا باعث بنا۔ ان صحافیوں میں مولوی محمد باقر سرفہرست ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آزادی کی تاریخ اگر لکھی گئی ہے تو اس میں صحافیوں کا خون بھی شامل ہے۔ ذیل میں یکے بعد دیگرے ان گیارہ خبروں کا جائزہ لیتے ہیں جنہوں نے ایک عہد ساز جان کو جنم دیا اور بعد میں آنے والے پرچوں اور تصور صحافت کے لئے راہیں ہموار کیں۔

فوجی اخبار

ہندوستان میں اردو کا پہلا اخبار جاری کرنے کا سہرا سلطان ٹیپو کے سر ہے ہے۔ 1894ء میں ٹیپو سلطان نے ‏ اردو اخبار جاری کروایا جس کا نام ”فوجی اخبار“ تھا۔ یہ اخبار خاص طور پر فوجیوں کے لئے تھا۔ اس میں دفاع اور جہاد سے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے تھے۔ اس میں فوج کی نقل و حرکت اور افسروں کے تعین اور تبادلے کی اطلاعات درج ہوتی تھیں۔ فوج کے متعلق احکامات بھی شائع کیے جاتے تھے۔ یہ اخبار سلطان کی شہادت تک مسلسل شائع ہوتا رہا۔ سقوط سرنگا پٹنم کے بعد انگریزوں نے اخبار کی تمام فائلوں اور ساز و سامان کو نذر آتش کر دیا تھا۔ فوجی اخبار نے آنے والے دور میں صحافت کے لئے راہ ہموار کی۔ یہ اخبار ہفت روزہ تھا۔

مراۃ الاخبار

راجہ رام موہن رائے کی ادارت میں کلکتہ سے جاری ہونے والا ( 20 اپریل 1822ء) ہفت روزہ اخبار تھا۔ رام موہن رائے پر فلسفہ ویدانت کا گہرا اثر تھا تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے ”ستی“ کی رسم کے خلاف مہم چلائی۔ 1828ء میں گورنر جنرل ہند لارڈ ولیم بنٹنک نے اس رسم کو قانوناً بند کر دیا۔ وہ ہندوستان خصوصاً ہندوؤں کے لیے مغربی تعلیم کے بڑے حامی تھے۔ ان کو احساس تھا کہ اپنے خیالات اپنے ہم وطنوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ صحافت ہی ہے۔ انہوں نے پریس آرڈیننس کے پریویو کونسل میں دائر کی گئی اپیل رد کیے جانے پر احتجاجاً اپنا اخبار 4 اپریل 1823ء کو بند کر دیا۔

جام جہاں نما

27 مارچ 1822ء کو کلکتہ سے ہر ی دت کے زیر ادارت جاری ہوا۔ زیادہ تر خبریں مقامی انگریزی اخباروں سے ترجمہ کر کے دی جاتی تھی۔ دیسی ریاستوں کے حالات خبرناموں سے اخذ کیے جاتے تھے۔ یورپی قارئین اس اخبار کو اردو زبان پر مہارت حاصل کرنے کے لیے پڑھتے تھے۔ اخبار کی زبان سادہ اور انداز بیان سلجھا ہوا تھا، پہلے ایڈیٹر کا نام منشی سدا سکھ تھا۔ چھاپنے کی ذمہ داری ”ولیم پیٹرس لاپ کنس اینڈ کمپنی“ کے سپرد تھی۔ جام جہاں نما کشیدہ صورتحال کے باوجود دہلی کے لوگوں کی فرنگی حکام سے بیزاری کو دلیری سے شائع کرتا تھا۔ 23 جنوری 1828ء کو اخبار کو بند کر دیا گیا۔

دہلی اردو اخبار

مولانا محمد حسین آزادؔ کے والد مولوی محمد باقر نے 1837ء میں دہلی سے شائع کیا۔ یہ دہلی کا پہلا اردو اخبار تھا۔ اس اخبار کے ذریعے ہمیں اس عہد کی سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ ادبی اور علمی سرگرمیوں کا حال بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس اخبار کا پہلا نام ”اخبار دہلی“ تھا لیکن 10 مئی 1840ء کو اس کا نام ”دہلی اردو اخبار“ ہو گیا۔ اس اخبار میں کھل کر انگریز سرکار اور ان کے اقدامات کی مخالفت کی جاتی تھی اور اسی ضمن میں جنگ آزادی کی ناکامی اور مغلیہ سلطنت کی تاراجی کے ساتھ انگریزوں کی جانب سے مولوی محمد باقر کو شہید کر دینے کے بعد بالآخر اس اخبار کی زندگی بھی 13 ستمبر 1858ء کو ختم ہو گی۔

روزنامہ اردو اخبار

کلکتہ سے 1858ء میں مولوی قدیر الدین احمد نے جاری کیا۔ اس اخبار نے نوزائیدہ اردو صحافت کے لیے ایک مخصوص مزاج اور آہنگ پیدا کیا جس میں توانائی بھی تھی اور بو قلمونی بھی۔ اس میں روزمرہ کی علاقائی ، سیاسی اور ثقافتی خبریں شائع ہوتی تھیں۔ جنگ آزادی کے حالات و واقعات اور اس دوران پیش آنے والے واقعات و حادثات اخبار کا حصہ تھے۔ اس زمانے میں چند دیگر اخبارات بھی چل رہے تھے لیکن روزانہ کی بنیاد پر بہت کم پرچے نکل رہے تھے جن میں روزنامہ اردو اخبار بھی شامل ہے۔ کچھ عرصہ بعد اس کا نام بدل کر ”اُردو گائیڈ“ کر دیا گیا۔ اس میں اردو اور فارسی کالم بھی شائع ہوتے تھے۔

اخبار عام

پنڈت مکند رام یکم جنوری 1871ء کو لاہور سے جاری کیا۔ پنڈت گوپی ناتھ پہلے ایڈیٹر تھے۔ پنجاب کی اردو صحافت میں جدید دور کا آغاز اسی اخبار سے ہوا۔ پرچے میں سماجی اور معاشرتی اصلاح پر تحریریں چھپتی تھیں۔ تاریخی اور علمی مضامین کے علاوہ مسلمانوں کی تعلیم کے لیے بالعموم اور خواتین کی تعلیم کے حصول کے لیے بالخصوص زور دیا جاتا تھا۔ ملکی اور غیر ملکی اخبارات کی اہم خبروں کو جن میں سیاسی اور سماجی حالات کا تذکرہ ہوتا تھا بھی پیش کیا جاتا تھا۔ اکثر اشتہارات کے لیے چار صفحات پر مشتمل الگ ضمیمہ نکلتا تھا جن میں بیوہ خواتین کی شادی اور سماجی مسائل درج ہوتے تھے۔

پیسہ اخبار

یہ ایک اردو روزنامہ تھا جو فیروزوالا سے جنوری 1887ء کو منشی محبوب عالم نے جاری کیا۔ مولانا ظفر علی خان کے ”زمیندار“ جاری کرنے پر اس کا ستارہ گردش میں آ گیا۔ اس کے اداریے بہت اہم ہوتے تھے۔ سماجی اور سیاسی ہر طرح کے مسائل زیر بحث آتے۔ مسائل کا تجزیہ بالکل آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہوتا، معتدل فکر کا حامل ہونے کے باوجود مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں پرجوش ہوتا تھا۔ حکومت کو خارجہ پالیسی کے بارے میں صلاح و مشورہ بھی دینے سے نہیں چوکتا تھا۔ ”پیسہ اخبار سٹریٹ“ لاہور اسی کی یادگار ہے۔

منادی

خواجہ حسن نظامی کے زیر ادارت دہلی سے 1909ء میں جاری ہوا۔ ”منادی“ روزنامہ تھا جو 1974ء تک شائع ہوتا رہا۔ ان کے صاحبزادے خواجہ حسن ثانی نظامی اس کے مدیر ہیں ، خواجہ حسن نظامی نے ایک مرتبہ اپنے اخبار میں لکھا کہ میں ڈاکٹر اقبال کو ہندوستان کا عظیم شاعر نہیں سمجھتا۔ انہی دنوں ڈاکٹر اقبال کے گھٹنوں میں درد ہو گیا، خواجہ صاحب نے ان کو اپنا روغن فاسفورس بھیجا جس سے ان کو افاقہ ہو گیا۔ انہوں نے خواجہ صاحب کو خط لکھا کہ مجھے افاقہ ہوا ہے۔ خواجہ صاحب نے وہ خط اپنے اخبار میں شائع کروا دیا کہ اس تیل کے متعلق شاعر اعظم کی کیا رائے ہے۔ علامہ اقبال نے اخبار پڑھ کر کہا کہ ”شکر ہے خواجہ صاحب کے روغن فاسفورس نے مجھے شاعر اعظم تو بنا دیا“ ۔

اسلامک فریٹرنٹی

”اسلامک فریٹرنٹی“ مولانا برکت اللہ بھوپالی کے زیر ادارت 1910ء میں ٹوکیو جاپان سے جاری ہوا۔ وہ ایک بھارتی انقلابی تھے جن کی ہمدردیاں پان اسلامی تحریک کے ساتھ تھیں۔ وہ بھارت سے باہر رہ کر اپنی پرجوش تقاریر اور بیانات اپنے اخبارات کے ذریعہ عوام تک پہنچاتے تھے۔ انقلاب تحریروں کے ذریعے تحریک آزادی میں حصہ لیتے رہے۔ مستقبل پر نظر رکھنے والے ایک رہنما کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف انقلاب کا پرچار کیا بلکہ اس کے پس پردہ عوامل پر بھی نگاہ رکھی۔ انہوں نے سیکولر نظام حکومت کا تصور اس وقت پیش کیا جب یہ کم ازکم ہندوستانی عوام کے لئے اجنبی تصور تھا۔ اس اخبار نے انقلابی تحریروں کے ذریعے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔

آزاد ہند

مدراس سے 1922ء میں محمد لطیف فاروقی کی ادارت میں جاری ہوا۔ اس اخبار میں مسلم مسائل کا تجزیہ اور ان پر تبصرہ خاص زاویے سے کیا جاتا تھا جس میں وقتی جذباتیت، جوش و ولولہ، احتجاج اور مظلومیت کا غلبہ رہتا تھا۔ جب اردو پر توجہ دینے کی بجائے ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں کو ترجیح دی جانے لگی تو ”آزاد ہند“ نے مسلمانوں کے مسائل اور ان کے تدارک بالخصوص زبان کے لیے آواز اٹھائی۔ جب سانحۂ جلیانوالہ باغ پیش آیا تو ملک میں انگریزوں کے خلاف ہیجان برپا ہو تو مسلم صحافت ایک نئے بامقصد اور مثبت دور میں داخل ہو گئی چنانچہ اس صورتحال میں ”آزاد ہند“ نے اپنا بیانیہ بھرپور طریقے سے جاری رکھا۔

الہلال

13 جولائی 1912ء کو مولانا ابوالکلام آزاد نے ”الہلال“ کی بنیاد رکھی۔ اخبار نے برطانوی راج پر تنقید کے ذریعے اپنا پیغام مسلم اقوام تک پہنچایا۔ اخبار نے ہندوستان کی تحریک آزادی کی وجوہات کی توثیق بھی کی اور ہندوستانی مسلمانوں کو تحریک میں شامل ہونے کی تلقین بھی کی۔ اخبار نے برطانوی راج پر تنقید کے علاوہ الٰہیات، سیاسیات، جنگوں اور سائنسی پیشرفت سے متعلق متعدد امور کا احاطہ کیا۔ ستمبر 1913ء میں ”الہلال“ کے دو ہزار کی ضمانت طلب کی گئی لیکن تب بھی یہ جاری رہا۔ آخرکار اخراجات کا دباؤ بڑھنے کے سبب 18 نومبر 1814ء کو اخبار بند ہو گیا۔

ادارتی نوٹ:    جماعت احمدیہ قادیان کا ترجمان الفضل اخبار جون1913ء کو جاری ہوا اور آج تک یہ احمدیہ جماعت کا مرکزی روز نامہ چلا رہا ہے۔یہ ان کے دو خلفاء کے دور حضرت حکیم مولوی نو ر الدین اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود صاحب کی زیر قیادت جاری ہوا ۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے اس اخبار کی اجازت دی اور نام تجویز کیا ۔ الفضل اخبار برصغیر کے اہم اخبارات کی طرح لوگوں میںہر دلعزیز سمجھا جاتا تھا۔اس میںمعیاری اور اصلاحی مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔اس اخبار نے اپنے صدسالہ دور میں کئی رنگ بدلے۔ پہلے یہ ہفت روزہ تھا پھر ہفتہ میں دو بار اور بالآخر روزنامہ جاری ہے۔پہلے یہ ہندوستان میں اس کے بعد پاکستان اور اب یہ لندن سے جاری ہو رہا ہے۔علاوہ ازیں جماعت احمدیہ کے کئی رسائل ،اخبارات جاری کیے گئےہندوستان اور پاکستان سے ۔پاکستان سے کئی رسائل جبری بندش اور تنگ نظری کا شکار ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *