’امریکی تاریخ کی واحد بغاوت‘

تحریر:ٹوبی لکہرسٹ

ایک زمانے کی بات ہے جب امریکہ میں سیاست دانوں نے ایک ہجوم کو اس قدر ہوا دی کہ مشتعل ہجوم پر تشدد ہو گیا اور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اپنے ہی شہر کو تاراج (تباہ) کرنے لگا۔سنہ 1898 کے ریاستی انتخابات کے بعد سفید فاموں کی برتری کے نظریات کے حامل افراد نے شمالی کیرولائنا کے اس وقت کے سب سے بڑے بندرگاہ والے شہر ولمنگٹن کا رخ کیا۔ انھوں نے سیاہ فام ملکیت والے کاروبار تباہ کر دیے، سیاہ فام باشندوں کا قتل عام کیا اور سفید فام اور سیاہ فام سیاستدانوں کے اتحاد سے منتخب مقامی حکومت کو زبردستی مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔تاریخ دانوں نے اسے امریکی تاریخ کی واحد بغاوت سے تعبیر کیا ہے۔ سفید فام نسل پرستوں کے سرغنوں نے بغاوت کے ہی دن اقتدار سنبھال لیا اور ریاست کی سیاہ فام آبادی سے ووٹ ڈالنے اور دوسرے شہری حقوق چھیننے کے لیے تیزی سے قانون بنائے اور ان سب کے باوجود انھیں کسی قسم کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑا۔ولمنگٹن کی کہانی کا تذکرہ دوبارہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایک مشتعل ہجوم نے چھ جنوری کو امریکہ کے کیپٹل ہل کو نشانہ بنایا اور نومبر کے صدارتی انتخابی نتائج کی توثیق کو روکنے کی کوشش کی۔ بغاوت کے 120 سال بعد بھی یہ شہر اپنے پُرتشدد ماضی کی گرفت میں ہے۔سنہ 1865 میں امریکی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد نو متحد پورے ملک میں غلامی کا خاتمہ کردیا گیا۔ خانہ جنگی میں شمالی یونینسٹ ریاستیں جنوبی کنفیڈریسی کے خلاف تھیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں سیاستدانوں نے سابقہ غلاموں کی آزادی اور حقوق کی فراہمی کے لیے متعدد آئینی ترامیم منظور کیں اور اپنی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لیے جگہ جگہ فوج کو روانہ کیا۔لیکن بہت سے جنوبی لوگوں نے ان تبدیلیوں پر ناراضگی ظاہر کی۔ خانہ جنگی کے بعد آنے والی دہائیوں میں آزاد سیاہ فام آبادی کو معاشرے میں ضم کرنے کی بہت سے کوششوں کو پلٹنے کی کوششیں نظر آتی ہیں۔

سنہ 1898 میں ولمنگٹن ایک بڑی اور خوشحال بندرگاہ تھی جہاں سیاہ فام آبادی کا ترقی پذیر متوسط طبقہ آباد تھا۔ بلاشبہ افریقی امریکیوں کو اس کے بعد بھی روزانہ تعصب اور امتیازی سلوک کا سامنا تھا، مثال کے طور پر بینک کا سیاہ فام لوگوں کو قرض دینے سے انکار یا سود کی زیادہ شرح عائد کرنا وغیرہ۔ لیکن خانہ جنگی کے 30 سال بعد شمالی کیرولائنا جیسی سابقہ کنفیڈریٹ ریاستوں میں افریقی امریکی آہستہ آہستہ اپنا کاروبار قائم کر رہے تھے، مکان خرید رہے تھے اور اپنی آزادی کا استعمال کررہے تھے۔ یہاں تک کہ ولمنگٹن کو اس وقت سیاہ فاموں کا گھر سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس وقت ملک کا واحد سیاہ فام روزنامہ (ولمنگٹن ڈیلی ریکارڈ )وہاں سے نکلتا تھا۔ییل یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر گلینڈا گلمور نے کو بتایا:افریقی امریکی کافی کامیاب ہو رہے تھے۔ وہ یونیورسٹیوں میں جارہے تھے، ان کی شرح خواندگی میں اضافہ ہو رہا تھا اور جائیداد کی ملکیت میں اضافہ ہو رہا تھا۔

یہ بڑھتی ہوئی کامیابی نہ صرف معاشرتی بلکہ سیاسی طور پر پورے شمالی کیرولائنا میں دیکھی جا رہی تھی۔ سنہ 1890 کی دہائی میں سفید فام اور سیاہ فام کے سیاسی اتحاد نے جسے فیوژنسٹ کہا گیا مفت تعلیم، قرض سے نجات اور افریقی امریکیوں کے مساوی حقوق کے نام پر سنہ 1896 میں گورنری سمیت ہر ریاست کے ہر دفتر میں جیت حاصل کی تھی۔ سنہ 1898 تک سیاہ فام اور سفید فیوژنسٹ سیاست دانوں کے ایک اتحاد کو ولمنگٹن میں مقامی شہری حکومت کی قیادت کے لیے منتخب کیا گیا۔لیکن ڈیموکریٹک پارٹی سمیت اس کے خلاف بہت بڑا رد عمل سامنے آیا۔ سنہ 1890 کی دہائی میں ڈیموکریٹس اور رپبلکن آج کے دور سے بہت مختلف تھے۔ صدر ابراہیم لنکن کی جماعت ریپبلکن امریکی خانہ جنگی کے بعد نسلی اتحاد اور ریاستوں کو متحد کرنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی کی مضبوط حکومت کی حامی تھی۔لیکن ڈیموکریٹس امریکہ میں ہونے والی بہت سی تبدیلیوں کے خلاف تھے۔ انھوں نے ریاستوں کے لیے نسلی بنیاد پر علیحدگی اور مضبوط حقوق کا کھلے عام مطالبہ کیا۔ ولمنگٹن کی بغاوت سے متعلق ایک کتاب( اے ڈے آف بلڈ)کی مصنف اور ریاستی آرکائیوسٹ لی رائی امفلیٹ نے کو بتایا:سنہ 1898 کی ڈیموکریٹک پارٹی کو سفید فام کی بالادستی والا پارٹی کے طور پر دیکھیں۔ڈیموکریٹ سیاستدانوں کو خدشہ تھا کہ سیاہ فام ری پبلیکنز کے ساتھ ساتھ غریب سفید فام کسانوں کی پارٹی فیوژنسٹ سنہ 1898 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرلے گی۔ پارٹی رہنماؤں نے سفید فام بالادستی کی بنیاد پر انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا اور فیوژنسٹوں کو شکست دینے کے لیے اپنے اقتدار میں ہر چیز کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ مز امفلیٹ نے کہا:اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انھوں نے اخبارات، مقرروں اور دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کے استعمال کی مشترکہ کوشش کی تاکہ سفید بالادستی والے پلیٹ فارم نومبر 1898 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کریں۔وائٹ ملیشیا جنھیں ان کی وردی کی وجہ سے(ریڈ شرٹس) کے نام سے جانا جاتا تھا وہ گروہوں کی شکل میں گھوڑوں پر سوار ہوکر سیاہ فام لوگوں پر حملہ کرتے اور ووٹروں کو ڈرا تے دھمکاتے تھے۔ جب ولمنگٹن میں سیاہ فام افراد نے اپنی املاک کے تحفظ کے لیے بندوقیں خریدنے کی کوشش کرتے تو سفید فام دکان دار انھیں بندوق فروخت کرنے سے انکار کردیتے اور ان کی ایک فہرست بناتے جنھیں گن اور کارتوس مطلوب تھے۔

اس دوران اخبارات میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ افریقی امریکی سیاسی طاقت چاہتے ہیں تاکہ وہ سفید فام خواتین کے ساتھ ہم بستری کر سکیں اور عصمت دری کی وبا کے بارے میں افواہیں پھیلائی جاتیں۔ جب ولمنگٹن ڈیلی ریکارڈ کے مالک اور ایڈیٹر الیگزینڈر مینلی نے عصمت دری کے الزامات پر سوالات کرتے ہوئے ایک ایڈیٹوریل شائع کیا اور یہ لکھا کہ سفید فام خواتین اپنی مرضی سے سیاہ فام مردوں کے ساتھ سوتی ہیں تو ڈیموکریٹک پارٹی مشتعل ہو گئی اور اس نے انھیں نفرت کی مہم کا نشانہ بنایا۔سنہ 1898 میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے ایک دن قبل ڈیموکریٹک سیاستدان الفریڈ مور ویڈیل نے شعلہ بیان تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سفید فام مردو(آپ اپنا فرض ادا کریں) اور ووٹ ڈالنے والے سیاہ فام لوگوں کو تلاش کریں۔

اور اگر آپ کو کوئی مل جاتا ہے تواس سے کہو کہ وہ پولنگ چھوڑ کر چلا جائے اور اگر وہ مزاحمت کر تو اسے مار دیں، ان کے نچلے حصے میں گولی مار دیں۔ اگر ہمیں ایسا بندوق سے کرنا پڑا تو ہم کل جیت جائیں گے۔ڈیموکریٹک پارٹی نے ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ تشدد کے خوف سے بہت سارے ووٹروں ووٹ نہیں دیا جبکہ بہت سے لوگوں کو گن پوائنٹ پر پولنگ سٹیشنوں سے دور رہنے پر مجبور کیا گیا۔لیکن ولمنگٹن میں فیوژنسٹ سیاستدان برسراقتدار رہے جبکہ اگلے سال تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے تھے۔ ریاستی انتخابات کے دو دن بعد سینکڑوں مسلح سفید فام افراد شہر میں گھوڑے پر سوار پہنچے اور ولمنگٹن ڈیلی ریکارڈ کی عمارت کو نذر آتش کر دیا۔ اس کے بعد وہ سیاہ فام لوگوں کو ہلاک کرنے اور ان کے کاروبار کو تباہ کرنے کے لیے شہر میں پھیل گئے۔ دن چڑھنے کے ساتھ سفید فام لوگوں کا ہجوم بڑھتا گیا۔سیاہ فام باشندے شہر سے باہر جنگل میں بھاگنے لگے پھر ویڈیل اور اس کا گروپ سٹی ہال پہنچا اور بندوق کی نوک پر مقامی حکومت کو استعفی دینے پر مجبور کردیا۔ اسی دوپہر ویڈیل کے میئر بننے کا اعلان کیا گیا۔

پروفیسر گلمور نے کہا:یہ مکمل طور پر بغاوت تھی، ریاستی حکومت اور مقامی حکومت کے خلاف ایک مکمل بغاوت تھی۔ دو برسوں کے اندر شمالی کیرولائنا میں سفید فام بالادستی پرستوں نے تقسیم کے نئے قانون نافذ کیے جس کے تحت سیاہ فاموں سے خواندگی کے امتحانات اور پول ٹیکس کے نام پر موثر طریقے پر ووٹ دینے کا حق چھین لیا گيا۔ مبینہ طور پر رجسٹرڈ افریقی امریکی ووٹروں کی تعداد 1896 میں ایک لاکھ 25 ہزار سے کم ہوکر 1902 میں تقریبا چھ ہزار رہ گئی۔پروفیسر گلمور نے کہا:ولمنگٹن میں سیاہ فام لوگوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ایسا کبھی ہوگا۔ ریاست میں ایک ریپبلکن گورنر تھا، ان کا کانگریس مین ایک سیاہ فام آدمی تھا۔ ان کا خیال تھا کہ معاملات واقعتاً بہتر ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ معاملات جتنے بہتر ہوئے گورے لوگوں نے اتنی ہی سخت جدوجہد کی۔ڈیبوراہ ڈکس میکسویل ولمنگٹن میں نیشنل ایسوسی ایشن فار ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل کی مقامی شاخ کی صدر ہیں۔ وہ اسی شہر میں پیدا ہوئيں اور پرورش پائی لیکن انھیں اس حملے کے بارے میں اس وقت تک کوئی علم نہیں تھا جب تک کہ وہ اپنی 30 کی دہائی میں نھیں آ گئیں۔انھوں نے بتایا:یہ وہ بات تھی جو یہاںولمنگٹن میں آنے والے جانتے تھے لیکن اس کے بارے میں وسیع پیمانے پر بات نہیں کی جاتی تھی۔ یہ سکول کے نصاب میں اس طرح نہیں ہے جیسے ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بھی یہ بات تسلیم نہیں کرنا چاہتا ہے۔سنہ 1990 کی دہائی تک اس شہر کے لوگوں نے اپنے ماضی پر تبادلہ خیال کرنا شروع نہیں کیا تھا۔ سنہ 1998 میں مقامی حکام نے حملے کی 100 ویں سالگرہ منائی اور دو سال بعد حقائق کو سامنے لانے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا۔ اس وقت سے اس شہر نے واقعات کی یاد دلانے کے لیے اہم مقامات پر تختیاں لگائیں اور 1898 کی یادگار اور میموریل پارک قائم کیا جو مز ڈکس میکسویل کے نزدیک (چھوٹا لیکن اہم) قدم ہے۔اس شہر پر جو کچھ گزری اس کے باوجود اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ وہاں کے باشندے اور مؤرخین جو وہاں کے ماضی سے روشناس ہیں وہ رواں مہینے امریکی دارالحکومت میں کیپیٹل ہل پر حملے اور سنہ 1898 کے حملے درمیان مماثلت دیکھیں۔ مز ڈکس میکسویل اور ان کی این اے اے سی پی برانچ امریکی انتخابات کے بعد کئی مھینوں سے اس بات کو اجاگر کر رہی ہیں کہ ولمنگٹن میں پیش آنے والے واقعات اور آج کے واقعات کے درمیان مماثلت ہے اور آج کل امریکی سیاستدان انتخابی نتائج کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا: اس دن صبح ہم نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں ٹرمپ کی حمایت کرنے پر اپنے مقامی کانگریس مین کی یہ کہتے ہوئے مذمت کی کہ ایک ممکنہ بغاوت ہوسکتی ہے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ اس ملک میں دوسری بار کوئی بغاوت ہو۔ اور اس کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ہجوم نے امریکی کیپیٹل کی جانب مارچ کیا۔کرسٹوفر ایویرٹ ایک دستاویزی فلم ساز ہیں۔ انھوں نے 1898 میں بغاوت کے متعلق(ولمنگٹن آن فائر) نامی فلم ایک فلم بنائی۔ جب مسٹر ایویرٹ نے کیپٹل پر حملہ دیکھا تو انھیں ولمنگٹن کا خیال کوند آیا۔انھوں نے بتایا:سنہ 1898 کی بغاوت کے لیے کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ لہذا اس نے ان کے سیلاب کا راستہ کھول دیا، خاص طور پر جنوب میں افریقی امریکیوں کے شہری حقوق چھیننے کے لیے۔ واشنگٹن ڈی سی کی بغاوت کے بعد یہ سب سے پہلی چیز تھی جو میرے ذہن میں آئی کہ آپ اس طرح کی کسی اور چیز یا اس سے بھی بدتر کے لیے دروازہ کھول رہے ہیں۔سنہ 1898 کے حملے کو چھپایا نہیں گیا۔ ریاست کی یونیورسٹیوں کی عمارتوں، سکولوں اور سرکاری عمارتوں کو سبھی نے اس بغاوت کو بھڑکانے والوں کا نام دیا۔ بعد میں لوگ اس حملے میں شامل ہونے کا دعویٰ کرنے لگے تاکہ ڈیموکریٹک پارٹی میں اپنے قد کو بڑھاسکیں۔ جیسے جیسے دہائیاں گزرتی گئیں تاریخ کی کتابوں میں یہ دعویٰ کرنا شروع کیا گیا کہ حقیقت میں یہ ایک نسلی فساد تھا جسے سیاہ فام آبادی نے شروع کیا تھا اور سفید فام شہریوں نے اسے ختم کیا تھا۔مسٹر ایوریٹ نے کہا:قتل عام کے بعد بھی ان میں سے بہت سارے لوگوں نے، جنہوں نے بغاوت میں حصہ لیا اور اس کا ارتکاب کیا تھا، ان کے پورے ملک میں اور خاص طور پر شمالی کیرولائینا میں مجسمے لگائے گئے اور عمارتوں کے نام ان سے منسوب کیے گئے۔چارلس آئیکاک جو کہ سفید فام کی بالادستی کے لیے چلائی جانے والی انتخابی مہم کے منتظمین میں سے تھے وہ سنہ 1901 میں شمالی کیرولائنا کے گورنر بن گئے۔ ان کا مجسمہ اب امریکی کیپیٹل ہل میں نصب ہے جہاں چھ جنوری کو ہنگامہ آرائی کرنے والے داخل ہوئے۔مسٹر ایویرٹ اب اپنی دستاویزی فلم کا ایک سیکوئل بنارہے ہیں تاکہ یہ پتا چلائیں کہ ولمنگٹن اپنے ماضی سے کس طرح جکڑا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سارے مقامی رہنما(ولمنگٹن شہر کو 1897 کے جذبے والے دور میں واپس لانے کے لیے کام کر رہے ہیں جہاں خانہ جنگی کے بعد سفید فام اور سیاہ فام ساتھ مل کر کام کر رہے تھے کہ ولمنگٹن کو ایک نئے جنوب کے لیے مثال بنائیں گے۔)

انھوں نے کہا:ولمنگٹن بغاوت کے ساتھ سفید فام بالادستی کی تحریک کا ایک نمونہ تھا۔لیکن اب ولمنگٹن یہ بھی بتانے کے لیے ایک ماڈل بن سکتا ہے کہ ہم مل کر کیسے کام کرسکتے ہیں اور سفید فام بالا دستی کے داغ کو ختم کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *