چلی کے کانکن اور ہمارے مقامی چاہ کن

تحریر: وجاہت مسعود

قریب چالیس برس اپنے ملک کی تاریخ اور سیاست کی خاک چھاننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری قوم کی بیشتر مشکلات کی وجہ ہماری اجتماعی سیاسی ناخواندگی ہے۔ تدریسی اعتبار سے ناخواندہ غریبوں پر الزام دھرنا قطعاً ناواجب ہے۔ اس ملک کے دس کروڑ شہری دانستہ ان پڑھ رکھے گئے ہیں۔ رسمی تعلیم سے یہ محرومی ان کی مستقل غربت، محکومی اور لاچارگی کو یقینی بناتی ہے۔ کل 27 فیصد آبادی میٹرک پاس ہے۔ سکول کی سطح پر اساتذہ کی کمزور ذہنی استعداد، تعلیمی سہولیات کے فقدان اور نصاب میں من گھڑت بیانات کی مجرمانہ تلقین نے ایسا نسخہ تیار کیا ہے کہ دس بارہ برس کی یہ تعلیمی مشق بے معنی ہے۔ اسکول میں نیم خواندہ اساتذہ کے ہاتھوں جسمانی تشدد، ناپختہ تمدنی خیالات اور ناتراشیدہ شخصی رویوں کی ترشول پر مصلوب طالب علم میٹرک پاس بھی کر لے تو اس کے لئے روزگار کا کوئی امکان ہے اور نہ معاشرے میں مفید کردار ادا کرنے کا موقع۔ پندرہ کروڑ مطلق ناخواندہ اور نیم خواندہ افراد کا یہ لشکر ٹیلی وژن پر ہر شام دھاڑتے تجزیہ کاروں کے رحم و کرم پر ہے۔طرہ یہ کہ حقیقی بحران تو کالج سے شروع ہوتا ہے۔ 18 سے 24 برس تک کی دو کروڑ آبادی میں سے کالج تک رسائی پانے والوں کی کل تعداد تیس لاکھ ہے گویا متعلقہ عمر کے بمشکل 15 فیصد بچے کالج کی تعلیم پا رہے ہیں۔ اور تعلیم بھی ایسی کہ سماجی علوم میں تنقیدی درک پیدا ہوتا ہے اور نہ سائنسی فکر مرتب ہوتی ہے۔ میرے مشاہدے میں کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اساتذہ کی اکثریت کا معیار ایسا ہے کہ ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں، ہم اپنی اعلیٰ درس گاہوں میں قوم کا قبرستان تیار کر رہے ہیں۔ یہ کیسی تعلیم ہے جو ہمیں بیرونی دنیا میں اپنے ہم عصر طالب علموں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں بناتی۔ جس بچے میں ذہانت کی کرن پھوٹتی ہے، وہ لشٹم پشٹم یہ ملک چھوڑ جاتا ہے۔ اس لئے کہ ملک کا معاشی، انتظامی اور سیاسی نظام اعلیٰ ذہانت کو جذب کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ یہاں سے سیاسی نوعیت کی بحث شروع ہوتی ہے۔مغرب اور مشرق کی ان گنت اقوام عشروں پہلے سو فیصد خواندگی کا ہدف حاصل کر چکیں۔ آپ نے اپنے ملک میں تعلیم بالغاں کا لفظ آخری بار کب سنا تھا؟ گزشتہ چالیس برس میں ملکی آبادی آٹھ کروڑ سے 23 کروڑ کو جا پہنچی۔ آپ نے اپنے ارد گرد کتنے نئے سرکاری پرائمری سکول تعمیر ہوتے دیکھے؟ نجی سکول بیوپار ہیں اور دستور کی شق 25 الف میں دی گئی ضمانت کے مکلف نہیں ہو سکتے۔ خواندگی نہیں تو معیاری تعلیم کا سوال کیسے اٹھایا جائے؟ 1972 سے تعلیمی بجٹ بتدریج کم ہوا ہے۔ 2009 ء میں اعلان ہوا کہ 2015 ء تک تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کے 7 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ یہ شرح آج بھی 2.3 فیصد ہے۔

کسی سیاسی جماعت یا نام نہاد مقتدرہ کی ترجیح تعلیم نہیں۔ اس لئے کہ تعلیم بنیادی طور پر سیاسی سوال ہے۔ تعلیم قومی ترجیح بن جائے تو اقتدار کا موجودہ ڈھانچہ منہدم ہو جائے گا۔ اس ڈھانچے کے چار ستون ہیں۔ ( 1 ) بارسوخ خانوادے جن کی سیاست محض اپنے مقامی مفادات کا تحفظ ہے۔ یہ کسی اصولی یا دستوری سیاست سے تعلق نہیں رکھتے۔ ذات پات، قبیلے، عقیدے اور تھانے کی بنیاد پر انتخابی سیاست کرتے ہیں اور غیرجمہوری قوتوں کے آزمودہ ساتھی ہیں۔ ( 2 ) نچلی سطح پر مجرمانہ پس منظر رکھنے والے عناصر جو اپنے دھندے کے لئے انتظامیہ اور ریاستی اداروں کے دست نگر ہیں۔ ( 3 ) ریاستی اور آئینی اداروں کا نادیدہ گٹھ جوڑ جس میں بڑے کاروباری حلقے، مذہبی عناصر اور قلم فروش میڈیا مستقل حلیف ہیں۔ ( 4 ) قومی یا علاقائی سطح کی سیاسی جماعتیں اقتدار کے لئے دیگر تین دھڑوں کی محتاج ہیں۔اس بساط پر سیاسی شعور رکھنے والا کارکن یا رہنما کمزور ترین بلکہ ناپسندیدہ کڑی ہے۔ اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے مملو سیاسی شعور ہی جمہوری استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے اور معیاری تعلیم کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ ہماری سیاسی ناخواندگی ہی کا کرشمہ ہے کہ ہم پالیسی کی بجائے نعرے، اعداد و شمار کی بجائے وعدے اور دلیل کی بجائے گالی کو سیاسی عمل سمجھتے ہیں اور پھر دھوکا دہی کا ماتم کرتے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والا ایک غیر منتخب مشیر ہزارہ غم زدگان سے پوچھتا ہے کہ وزیر اعظم کے آنے سے آپ کو کیا ملے گا؟ وزیر اعظم کی اپنے شہریوں کے دکھ میں شرکت اس عمرانی معاہدے کی توثیق ہوتی جس کی روشنی میں شہریوں نے ریاست کو اپنے تحفظ کی ذمہ داری سونپی ہے۔5 اگست 2010 ء کو چلی کے ایک دور افتادہ علاقے Copiapó میں تانبے کی کان میں 33 کانکن سطح زمین سے 700 میٹر نیچے اور کان کے دہانے سے 5 میل اندر دب گئے۔ علاقہ ایسا کڈھب تھا کہ بازیابی بہت مشکل تھی۔ لیکن فوری طور پر تین اطراف سے سرنگیں کھودی جانے لگیں۔ چلی کا ارب پتی وزیراعظم سباسٹیئن پنیرا خود موقع پر موجود تھا۔ 70 دن کی مشقت کے بعد 50 میل لمبی سرنگ کھود کر خصوصی ٹیوب کے ذریعے سب کانکن زندہ سلامت نکال لئے گئے۔ ہر کانکن کو سطح زمیں تک لانے میں ایک گھنٹہ لگتا تھا۔دنیا بھر میں کروڑوں افراد ٹیلی ویژن پر یہ معجزہ دیکھ رہے تھے۔ شفٹ کا لیڈر سب سے آخر میں باہر آیا اور اپنے وزیر اعظم سے ہاتھ ملا کر کہا، میں اپنی امانت میں دیے گئے سب کانکن بچا لایا ہوں۔ جذباتی وزیراعظم نے جواب دیا، ’آج سے ہمارا ملک چلی تبدیل ہو گیا ہے‘ ۔چلی میں کانکنوں کو حادثہ پیش آیا تھا۔ مچھ میں کانکن قتل کیے گئے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ ساری توجہ لواحقین کے دھرنے پر ہے، کسی نے وقوعے کی تحقیقات، قاتلوں کی نشاندہی یا گرفتاری کا سوال نہیں اٹھایا۔ وزیر اعظم کے کوئٹہ نہ جانے کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ وزیراعظم قوم کے خلاف ریاست کا جرم جانتے ہیں۔ یہ کان کن اور چاہ کن کا فرق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *