پبلک سروس کمیشن! یا ٹھہرا ہوا پانی؟

تحریر: محمد اظہار الحق

پنجاب پبلک سروس کمیشن میں جو کچھ ہوا آپ میڈیا میں پڑھ اور سُن چکے ہوں گے!

لیکچرر، تحصیلدار، اکاؤنٹس افسر، سمیت خالی اسامیاں پُر کرنے کے لیے جو امتحانات کمیشن نے لینے تھے، یا لیے، ان کے پرچے لاکھوں میں فروخت ہوئے۔ اسے لطیفہ سمجھیے یا ٹریجڈی کی انتہا کہ اینٹی کرپشن کے محکمے کی اسامیوں کے پرچے بھی بیچے گئے۔ جن دو امیدواروں نے انسپکٹر اینٹی کرپشن لگنے کے لیے امتحان میں ٹاپ کیا، انہوں نے بھی پرچے خریدے تھے۔ لیکن یہ جو کچھ آپ نے پڑھا یا سنا یہ تو صرف مکھن ہے جو اوپر کی سطح پر آ گیا۔ نیچے کیا ہے؟ لسّی یا کچھ اور؟

پبلک سروس کمیشن ایک ادارہ ہے جو سرکاری محکموں کو افرادی قوت مہیا کرتا ہے۔ اس کام کے لیے امتحان لیتا ہے۔ تحریری اور زبانی بھی۔ مقابلے کے امتحان بھی یہی ادارہ لیتا ہے۔ وفاق میں کمیشن کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کہا جاتا ہے۔ صوبے میں کمیشن صوبے کے نام کے حوالے سے جانا جاتا ہے‘ جیسے پنجاب پبلک سروس کمیشن، سندھ پبلک سروس کمیشن وغیرہ! جو سوال سب سے پہلے ذہن میں ابھرتا ہے، یہ ہے کہ خود ان اداروں کی، یعنی فیڈرل اور صوبائی پبلک سروس کمیشنوں کی افرادی قوت کہاں سے آتی ہے؟ جو افراد پبلک سروس کمیشن چلاتے ہیں، امیدواروں کے امتحان لیتے ہیں، انٹرویو لیتے ہیں، وہ خود کہاں سے لیے جاتے ہیں؟ کیا ان کے لیے پریس میں کوئی اشتہار دیا جاتا ہے؟ کیا کوئی امتحان ہوتا ہے؟ کیا کوئی کمیٹی ان کا انتخاب کرتی ہے؟ کیا کابینہ یا منتخب اسمبلی اس پروسیس میں کوئی کردار ادا کرتی ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔آپ یہ جان کر یقینا حیران ہوں گے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن، پنجاب پبلک سروس کمیشن اور دوسرے صوبوں کے پبلک سروس کمیشنز کے ممبر نوکر شاہی کے ریٹائرڈ ارکان سے لیے جاتے ہیں اور ان کا انتخاب صرف اور صرف سفارش، ذاتی شناسائی، اور اپروچ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ شریف خاندان کی حکومت کے دوران جو پولیس افسر ان سے ذاتی وفاداری نبھاتے تھے، انہیں ریٹائرمنٹ پر پنجاب پبلک سروس کمیشن کا ممبر بنا دیا جاتا تھا۔ یہی کچھ پیپلز پارٹی کے زمانوں میں ہوتا رہا۔ آمریت کے ادوار میں بھی ذاتی واقفیت واحد معیار تھی۔ اب بھی یہی طریق کار ہے (طریق کار تو اسے کہا ہی نہیں جا سکتا)۔ وفاق میں بھی یہی ہوتا رہا ہے۔ یہی ہو رہا ہے۔ جو بیوروکریٹ ریٹائر ہوتا ہے، اگر اس کی رسائی اوپر کی سطح تک ہے تو اسی شام اس کی تعیناتی ہو جاتی ہے۔ اس کی کئی مثالیں موجودہ حکومت کے عہد میں بھی ملتی ہیں۔ جن کی رسائی نہیں ہے، وہ چُپ چاپ، دفتر سے اپنا سامان اٹھاتے ہیں اور گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ کس نمی پرسد کہ بھیّا کیستی؟

اس کا حل یہ نہیں کہ تمام ریٹائرڈ افسروں کو باری باری وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشنوں میں تعینات کیا جائے۔ یہ افسر اپنی ملازمت کی میعاد پوری کر کے ساٹھ سال کی عمر پر پہنچ کر ریٹائر ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہر ماہ ایک معقول رقم پنشن کے طور پر ان کے بینک اکاؤنٹ میں پہنچ جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر دوران ملازمت بیرون ملک تعیناتیوں کے مزے بھی اُڑا چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مزید پانچ سال کے لیے پبلک سروس کمیشن کی ممبری انہیں سونپنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ اس ممبری کے دوران بھی اپنے بڑھاپے کو سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔ کوئی گھر کی تعمیر کرتا ہے۔ کوئی بچوں کی شادیوں میں مصروف رہتا ہے۔ ممبری کی سہولیات انہی ذاتی کاموں کے لیے بروئے کار لائی جاتی ہیں۔ کمیشن کے امور میں بہتری لانے کے لیے تخلیقی صلاحیتیں، اگر ہوں بھی تو، استعمال کرنے کا ان کے پاس وقت ہوتا ہے نہ جذبہ نہ شوق! پینتیس چالیس سال کی سرکاری ملازمت ان کے تخلیقی جوہر کو پہلے ہی مار چکی ہوتی ہے۔ یوں بھی کمیشن کی ممبری انہی افسروں کو پیش کی جاتی ہے جو تخلیقی صلاحیتوں کے بجائے دوسری صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ ان دوسری صلاحیتوں میں اصحاب اقتدار کو خوش رکھنے کی صلاحیت سب سے زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ سی ایس ایس کا انٹرویو لیتے وقت یہ گئے گزرے بزرگ اپنے زمانے سے باہر نہیں نکلتے۔ خود انہوں نے انٹرویو ہوچی منہ کے زمانے میں دیا ہوتا ہے۔ ہم عصر مسائل کا ادراک کم ہی رکھتے ہیں۔ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل، نئے دور کے نوجوان امیدوار، ان ممتحن حضرات کے علم کے آگے بے بس بھی ثابت ہو سکتے ہیں‘ اور ہوتے بھی ہیں۔انصاف کا راستہ یہ ہے کہ اس سارے قصے میں نجی شعبے کو شامل کیا جائے۔ ایک بورڈ کی تشکیل کی جائے‘ جو براہ راست، ریاست کے سربراہ، یعنی صدر مملکت کو جوابدہ ہو۔ اس بورڈ میں پورے ملک کی نمائندگی ہو۔ صنعت کار، ماہرین زراعت، پروفیسر، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، اس بورڈ کے ممبر ہوں۔ یہ بورڈ اُن امیدواروں کے انٹرویو لے جو پبلک سروس کمیشن کے ممبر بننا چاہتے ہیں۔ اُس سے پہلے میڈیا میں وسیع پیمانے پر اشتہار دیے جائیں۔ سرکاری اور نجی، دونوں شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے درخواستیں طلب کی جائیں۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہوں۔ پچاس پچپن سے کم عمر کے ہوں۔ عصری مسائل کا شعور رکھتے ہوں تا کہ ملک کو چلانے کیلئے ان نوجوانوں کا انتخاب کریں جن کا وژن، تعلیم، سوچ کا انداز جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ایک بات یقینی ہے کہ جب بھی اس قسم کی تبدیلی کا ڈول ڈالا جائے گا، سب سے زیادہ مخالفت بیوروکریسی کا وہ حصہ کرے گا جو اوپر تک رسائی رکھتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن ان معمر افسروں کو سر سبز چراگاہوں کی طرح نظر آتے ہیں‘ جہاں ریٹائرمنٹ کے بعد یہ حضرات پانچ پانچ سال کے لیے ایک انتہائی مراعات یافتہ زندگی گزارتے ہیں۔ جب نوجوانوں کو کمیشن کا ممبر لگایا جائے گا تو وہ کچھ منصوبہ بندی کریں گے، کچھ اصلاحات لائیں گے، عشروں کے اس ٹھہرے ہوئے پانی میں کچھ کنکر پھینکیں گے جس سے ارتعاش پیدا ہو گا۔ مکھی پر مکھی مارنے کے بجائے کچھ تبدیلی لائیں گے۔ موجودہ حکومت تبدیلی کا وعدہ کر کے آئی تھی۔ امید تھی اس قسم کے کلیشے ان کی نظروں میں ترجیح حاصل کریں گے، انقلابی اقدامات کئے جائیں گے کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد‘۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! کچھ بھی نہیں ہوا! گلی سڑی بیورو کریسی جب مستقبل کی بیورو کریسی کا انتخاب کرے گی تو جو نتیجہ نکلے گا وہی ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں۔ کچہریوں، تحصیلوں، پٹوار خانوں اور تھانوں کی حالت دیکھ لیجیے۔ خلق خدا دھکے کھا رہی ہے۔ رشوت کے بغیر کام ہو جانے کا تصور بھی ناممکن ہے، شیر شاہ سوری اور اکبر نے اپنے اپنے زمانوں میں نئے سسٹم متعارف کرائے تھے۔ پھر انگریز آئے تو انہوں نے اپنے استعمارانہ مفادات کا تحفظ کیا۔ بندوبست دوامی رائج کیا۔ وفادار جاگیرداروں کا گروہ کھڑا کیا۔ ان کی آل اولاد کے لیے ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جہاں تعلیم کم اور پبلک ریلیشننگ زیادہ ہوتی تھی۔ انگریز چلے گئے‘ مگر انگریزی نظام بدستور قائم ہے۔ بیوروکریسی اُس زمانے میں کم از کم ملکہ کی وفادار تھی کیونکہ ملکہ بمنزلہ ریاست تھی۔ آج بیوروکریسی کسی کی وفادار نہیں۔ ریاست کی تو بالکل نہیں۔ نئے زمانے کے نئے تقاضے ہیں۔ کاش کوئی ایسی  حکومت آئے جو پاکستان کو لارڈ کلائیو کے زمانے سے نکال کر آج کے دور میں لے آئے۔

آئیے! دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *